TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of (the wedlock). - کتاب نکاح کے مسائل کا بیان - Book 68 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 68 of Sahih Bukhari, with 118 chapters and 188 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

188 Hadith · 118 Chapters
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ مَوَالِيهِ وَحَقَّ رَبِّهِ فَلَهُ أَجْرَانِ ، قَالَ الشَّعْبِيُّ : خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ قَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا .
Narrated Abu Burda's father: Allah's Apostle said, any man who has a slave girl whom he educates properly, teaches good manners, manumits and marries her, will get a double reward And if any man of the people of the Scriptures believes in his own prophet and then believes in me too, he will (also) get a double reward And any slave who fulfills his duty to his master and to his Lord, will (also) get a double reward.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوحد بن زیاد نے، کہا ہم سے صالح بن صالح ہمدانی نے، کہا ہم سے عامر شعبی نے، کہا کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔ عامر شعبی نے ( اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس شخص نے باندی کو ( نکاح کرنے کے لیے ) آزاد کر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی۔
5083
Sahih
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ، بَيْنَمَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّ بِجَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَأَعْطَاهَا هَاجَرَ ، قَالَتْ : كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَنِي آجَرَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said: Abraham did not tell lies except three. (One of them was) when Abraham passed by a tyrant and (his wife) Sara was accompanying him (Abu Huraira then mentioned the whole narration and said:) (The tyrant) gave her Hajar. Sara said, Allah saved me from the hands of the Kafir (i.e. infidel) and gave me Hajar to serve me. (Abu Huraira added:) That (Hajar) is your mother, O Banu Ma'-As-Sama' (i.e., the Arabs).
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ( دوسری سند ) ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا ( کہ بادشاہ کے سامنے ) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن ( یعنی دینی بہن ) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو آجر ( ہاجرہ ) کو دے دیا۔ ( بی بی سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے ) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر ( ہاجرہ ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔
5084
Sahih
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ ، فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ : الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ .
Narrated Anas: The Prophet stayed for three days between Khaibar and Medina, and there he consummated his marriage to Safiyya bint Huyai. I invited the Muslims to the wedding banquet in which neither meat nor bread was offered. He ordered for leather dining-sheets to be spread, and dates, dried yoghurt and butter were laid on it, and that was the Prophet's wedding banquet. The Muslims wondered, Is she (Saffiyya) considered as his wife or his slave girl? Then they said, If he orders her to veil herself, she will be one of the mothers of the Believers; but if he does not order her to veil herself, she will be a slave girl. So when the Prophet proceeded from there, he spared her a space behind him (on his shecamel) and put a screening veil between her and the people.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے ) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔
5085
Sahih
(14) CHAPTER. Whoever regarded the manumission of a slave-girl as her Mahr.
جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle manumitted Safiyya and regarded her manumission as her Mahr.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی اور شعیب بن حبحاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
5086
Sahih
(15) CHAPTER. The marrying of the poor by virtue of the Statement of Allah: “If they be poor, Allah will enrich them out of His Bounty.” (V.24:32)
مفلس کا نکاح کرانا درست ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا ، فَقَالَ : وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ، قَالَ سَهْلٌ : مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا ، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا ، فَقَالَ : تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: A woman came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! I have come to give you myself in marriage (without Mahr). Allah's Apostle looked at her. He looked at her carefully and fixed his glance on her and then lowered his head. When the lady saw that he did not say anything, she sat down. A man from his companions got up and said, O Allah's Apostle! If you are not in need of her, then marry her to me. The Prophet said, Have you got anything to offer? The man said, No, by Allah, O Allah's Apostle! The Prophet said (to him), Go to your family and see if you have something. The man went and returned, saying, No, by Allah, I have not found anything. Allah's Apostle said, (Go again) and look for something, even if it is an iron ring. He went again and returned, saying, No, by Allah, O Allah's Apostle! I could not find even an iron ring, but this is my Izar (waist sheet). He had no rida. He added, I give half of it to her. Allah's Apostle said, What will she do with your Izar? If you wear it, she will be naked, and if she wears it, you will be naked. So that man sat down for a long while and then got up (to depart). When Allah's Apostle saw him going, he ordered that he be called back. When he came, the Prophet said, How much of the Qur'an do you know? He said, I know such Sura and such Sura, counting them. The Prophet said, Do you know them by heart? He replied, Yes. The Prophet said, Go, I marry her to you for that much of the Qur'an which you have.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس ( مہر کے لیے ) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہمد ہے۔ انہیں ( خاتون کو ) اس میں سے آدھا دے دیجئیے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔ کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ انہوں نے گن کر بتائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں۔
5087
Sahih
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا ، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ : وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 ، فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، ثُمَّ العَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
Narrated `Aisha: Abu Hudhaifa bin `Utba bin Rabi`a bin `Abdi Shams who had witnessed the battle of Badr along with the Prophet adopted Salim as his son, to whom he married his niece, Hind bint Al-Walid bin `Utba bin Rabi`a; and Salim was the freed slave of an Ansar woman, just as the Prophet had adopted Zaid as his son. It was the custom in the Pre-lslamic Period that if somebody adopted a boy, the people would call him the son of the adoptive father and he would be the latter's heir. But when Allah revealed the Divine Verses: 'Call them by (the names of) their fathers . . . your freed-slaves,' (33.5) the adopted persons were called by their fathers' names. The one whose father was not known, would be regarded as a Maula and your brother in religion. Later on Sahla bint Suhail bin `Amr Al-Quraishi Al-`Amiri-- and she was the wife of Abu- Hudhaifa bin `Utba--came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! We used to consider Salim as our (adopted) son, and now Allah has revealed what you know (regarding adopted sons). The sub-narrator then mentioned the rest of the narration.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس ( مہشم ) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون ( شبیعہ بنت یعار ) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو ( جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے ) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری «ادعوهم لآبائهم‏» کہ ”انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «ومواليكم‏» تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے «مولى» اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
5088
Sahih
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهَا : لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً ، فَقَالَ لَهَا : حُجِّي وَاشْتَرِطِي ، وَقُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle entered upon Dubaa bint Az-Zubair and said to her, Do you have a desire to perform the Hajj? She replied, By Allah, I feel sick. He said to her, Intend to perform Hajj and stipulate something by saying, 'O Allah, I will finish my Ihram at any place where You stop me (i.e. I am unable to go further). She was the wife of Al-Miqdad bin Al-Aswad.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ( یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا۔ اور ( ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
5089
Sahih
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A woman is married for four things, i.e., her wealth, her family status, her beauty and her religion. So you should marry the religious woman (otherwise) you will be a losers.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے عبیداللہ عموی نے، کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی ) ۔
5090
Sahih
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا : حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ ، قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا : حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْتَمَعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَاخَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا .
Narrated Sahl: A man passed by Allah's Apostle and Allah s Apostle asked (his companions) What do you say about this (man)? They replied If he asks for a lady's hand, he ought to be given her in marriage; and if he intercedes (for someone) his intercessor should be accepted; and if he speaks, he should be listened to. Allah's Apostle kept silent, and then a man from among the poor Muslims passed by, an Allah's Apostle asked (them) What do you say about this man? They replied, If he asks for a lady's hand in marriage he does not deserve to be married, and he intercedes (for someone), his intercession should not be accepted; And if he speaks, he should not be listened to.' Allah's Apostle said, This poor man is better than so many of the first as filling the earth.'
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( جو مالدار تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چپ ہو رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے۔
5091
Sahih
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا ، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ ، قَالَتْ : وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ : أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَتْ : فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا ، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ .
Narrated 'Urwa: that he asked `Aisha regarding the Verse: 'If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphans (4.3) She said, O my nephew! This Verse refers to the orphan girl who is under the guardianship of her guardian who likes her beauty and wealth and wishes to (marry her and) curtails her Mahr. Such guardians have been forbidden to marry them unless they do justice by giving them their full Mahr, and they have been ordered to marry other than them. The people asked for the verdict of Allah's Apostle after that, so Allah revealed: 'They ask your instruction concerning the women . . . whom you desire to marry.' (4.127) So Allah revealed to them that if the orphan girl had beauty and wealth, they desired to marry her and for her family status. They can only marry them if they give them their full Mahr. And if they had no desire to marry them because of their lack of wealth and beauty, they would leave them and marry other women. So, as they used to leave them, when they had no interest, in them, they were forbidden to marry them when they had such interest, unless they treated them justly and gave them their full Mahr Apostle said, 'If at all there is evil omen, it is in the horse, the woman and the house. a lady is to be warded off. And the Statement of Allah: 'Truly, among your wives and your children, there are enemies for you (i.e may stop you from the obedience of Allah)' (64.14)
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے متعلق سوال کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت «ويستفتونك في النساء‏» سے «وترغبون أن تنكحوهن‏» تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔
5092
Sahih
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, Evil omen is in the women, the house and the horse.'
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے حمزہ اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ( نحوست بےبرکتی اگر ہو تو ان میں ہو سکتی ہے ) ۔
5093
Sahih
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ .
Narrated Ibn `Umar: Evil omen was mentioned before the Prophet: The Prophet said, If there is evil omen in anything, it is in the house, the woman and the horse.
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد عسقلانی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔
5094
Sahih
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ .
Narrated Sahl bin Sa`d: Allah's Apostle said, If at all there is bad omen, it is in the horse, the woman, and the house.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( نحوست ) کسی چیز میں ہو تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہو سکتی ہے۔
5095
Sahih
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ .
Narrated Usama bin Zaid: The Prophet said, After me I have not left any affliction more harmful to men than women.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔
5096
Sahih
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ ؟ فَقِيلَ : لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، قَالَ : هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ .
Narrated `Aisha: Three principles were established because of Barira: (i) When Banra was manumitted she was given the option (to remain with her slave husband or not). (ii) Allah's Apostle said The Wala of the slave) is for the one who manumits (the slave). (iii) When Allah's Apostle entered (the house), he saw a cooking pot on the fire but he was given bread and meat soup from the soup of the home. The Prophet said, Didn't I see the cooking pot (on the fire)? It was said, That is the meat given in charity to Barira, and you do not eat the (things given in) charity. The Prophet said, It is an object of charity for Barira, and it is a present for us.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہیں ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے انہیں قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی ( گوشت کی ) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( چولہے پر ) ہانڈی ( گوشت کی ) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔
5097
Sahih
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ :الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَهُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا ، وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا ، وَلَا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا ، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ .
Narrated Aisha : (regarding) the Verse: 'And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphans...' (4.3) It is about the orphan girl who is in the custody of a man who is her guardian, and he intends to marry her because of her wealth, but he treats her badly and does not manage her property fairly and honestly. Such a man should marry women of his liking other than her, two or three or four. 'Prohibited to you (for marriage) are: ...your foster-mothers (who suckled you).' (4.23) Marriage is prohibited between persons having a foster suckling relationship corresponding to a blood relationship which renders marriage unlawful.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن خفتم أن لا،‏‏‏‏ تقسطوا في اليتامى‏» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔
5098
Sahih
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا ، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) that while Allah's Apostle was with her, she heard a voice of a man asking permission to enter the house of Hafsa. `Aisha added: I said, O Allah's Apostle! This man is asking permission to enter your house. The Prophet said, I think he is so-and-so, naming the foster-uncle of Hafsa. `Aisha said, If so-and-so, naming her foster uncle, were living, could he enter upon me? The Prophet said, Yes, for foster suckling relations make all those things unlawful which are unlawful through corresponding birth (blood) relations.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابوبکر نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک دودھ کے چچا کا نام لیا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا فلاں، جو ان کے دودھ کے چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آ جا سکتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے، ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
5099
Sahih
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ ؟ قَالَ : إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، مِثْلَهُ .
Narrated Ibn `Abbas: It was said to the Prophet, Won't you marry the daughter of Hamza? He said, She is my foster niece (brother's daughter).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا۔
5100
Sahih
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَ : أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي ، قُلْتُ : فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ! قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي ، مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي ، وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ ، قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ : مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ ، كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا ، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ ، قَالَ لَهُ : مَاذَا لَقِيتَ ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ : لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ .
Narrated Um Habiba: (daughter of Abu Sufyan) I said, O Allah's Apostle! Marry my sister. the daughter of Abu Sufyan. The Prophet said, Do you like that? I replied, Yes, for even now I am not your only wife and I like that my sister should share the good with me. The Prophet said, But that is not lawful for me. I said, We have heard that you want to marry the daughter of Abu Salama. He said, (You mean) the daughter of Um Salama? I said, Yes. He said, Even if she were not my step-daughter, she would be unlawful for me to marry as she is my foster niece. I and Abu Salama were suckled by Thuwaiba. So you should not present to me your daughters or your sisters (in marriage). Narrated 'Urwa:Thuwaiba was the freed slave girl of Abu Lahb whom he had manumitted, and then she suckled the Prophet. When Abu Lahb died, one of his relatives saw him in a dream in a very bad state and asked him, What have you encountered? Abu Lahb said, I have not found any rest since I left you, except that I have been given water to drink in this (the space between his thumb and other fingers) and that is because of my manumitting Thuwaiba.
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن ( ابوسفیان کی لڑکی ) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی ( کہ تمہاری سوکن بہن بنے ) ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی ( غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی ( یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی ) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ ( جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی ) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی ( پیر کے دن مل جاتا ہے ) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا۔
5101
Sahih
(22) CHAPTER. Whoever said: “No suckling is to be carried on after the baby is two years old, As the Statement of Allah: ...two whole years, (that is) 'for those (parents) who desire to complete the term of suckling (breast feeding)... (V.2:233)
اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهُ أَخِي ، فَقَالَ : انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ .
Narrated `Aisha: that the Prophet entered upon her while a man was sitting with her. Signs of answer seemed to appear on his face as if he disliked that. She said, Here is my (foster) brother. He said, Be sure as to who is your foster brother, for foster suckling relationship is established only when milk is the only food of the child.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے ان کے دادا نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے۔
5102
Sahih

Chapters

118
01
(1) CHAPTER. Awakening the desire for marriage.
باب
8 Hadith
02
(6) CHAPTER. The marrying of a poor man who has the knowledge of the Quran and is a Muslim.
ایسے تنگدست کی شادی کرانا جس کے پاس صرف قرآنمجید اور اسلام ہے ۔
1 Hadith
03
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
04
(8) CHAPTER. What is disliked of not marrying and of getting castrated.
مجرد رہنا اور اپنے کو نامرد بنا دینا منع ہے ۔
4 Hadith
05
(9) CHAPTER. To marry virgins.
کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
06
(10) CHAPTER. The marrying of matrons (divorced or widowed ladies).
بیوہ عورتوں کا بیان ۔
2 Hadith
07
(11) CHAPTER. The marrying of a young lady to an elderly man.
کمعمر کی عورت سے زیادہ عمر والے مرد کے ساتھ شادی کا ہونا ۔
1 Hadith
08
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
3 Hadith
10
(14) CHAPTER. Whoever regarded the manumission of a slave-girl as her Mahr.
جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا ۔
1 Hadith
11
(15) CHAPTER. The marrying of the poor by virtue of the Statement of Allah: “If they be poor, Allah will enrich them out of His Bounty.” (V.24:32)
مفلس کا نکاح کرانا درست ہے ۔
1 Hadith
12
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
4 Hadith
13
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
1 Hadith
14
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
4 Hadith
15
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
1 Hadith
16
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
1 Hadith
17
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
3 Hadith
18
(22) CHAPTER. Whoever said: “No suckling is to be carried on after the baby is two years old, As the Statement of Allah: ...two whole years, (that is) 'for those (parents) who desire to complete the term of suckling (breast feeding)... (V.2:233)
اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی ۔
1 Hadith
19
(23) CHAPTER. The milk belongs to the husband (if one drinks the milk of a lady then the husband of that lady is just like his father, i.e., he will be his foster suckling father).
جس مرد کا دودھ ہو وہ بھی دودھ پینے والے پر حرام ہو جاتا ہے ( کیونکہ شیر خوار کا باپ بن جاتاہے ) ۔
1 Hadith
20
(24) CHAPTER. The witness of a wet nurse.
اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے ۔
1 Hadith
21
(25) CHAPTER. What women are lawful for one to marry and what are unlawful.
کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں ۔
1 Hadith
22
(26) CHAPTER. (The Statement of Allah:) '...your step-daughters under your guardianship, born of your wives. To whom you have gone in (consummated your marriage)...” (V.4:23)
اللہ کے اس فرمان کا بیان اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی لڑکیاں ۔
1 Hadith
23
(27) CHAPTER: “(It is prohibited to have) two sisters in wedlock (as wise) at the same time, except for what has already passed. (V.4:23)
آیت وان تجمعوا بین الاختین الخ کا بیان ۔
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
4 Hadith
25
(29) CHAPTER. Ash-Shighar.
نکاح شغار کا بیان ۔
1 Hadith
26
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
1 Hadith
27
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
1 Hadith
28
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
5 Hadith
29
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
30
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
31
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “And there is no sin on you if you make a hint of betrothal or conceal it in yourself, Allah knows... (up to)... Oft-Forgiving, Most Forbearing.” (V.2:235)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔
1 Hadith
32
(36) CHAPTER. (It is permissible) to look at a woman before marrying her.
نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا ۔
2 Hadith
33
(37) CHAPTER. Whoever said, A marriage is not valid except through the Wali (i.e., her father or her brother or her relative etc.)
بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا ۔
4 Hadith
34
(38) CHAPTER. If the guardian himself is the suitor (of the lady in his charge) (can he marry her to himself or should another guardian marry her to him)?
اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے ۔
2 Hadith
35
(39) CHAPTER. Giving one's young children in marriage (is permissible).
آدمی اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے ۔
2 Hadith
36
(41) CHAPTER. The ruler is regarded as a guardian (of the lady who has no relative to be her guardian) as is inferred from the statement of the Prophet : We have married her (that lady) to you for what you know of the Quran (by heart).
باپ کا اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا بادشاہ سے کرنا ۔
1 Hadith
37
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
2 Hadith
38
(43) CHAPTER. lf a man gives his daughter in marriage while she is averse to it (in disagreement), then such marriage is invalid.
اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح ( وہ کنواری ہو یا بیوہ ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا ۔
2 Hadith
39
(44) CHAPTER. The giving of an orphan girl in marriage.
یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ نساء ۔
1 Hadith
40
(45) CHAPTER. If the suitor says (to the guardian of a woman), “Marry me to so-and-so,” and the guardian says, “I have married her to you for such and such Mahr,” then the marriage is valid even if he does not ask the husband, Have you agreed or have you accepted (her)?
اگر کسی مردنے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو ، اس نے کہامیں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں ؟
1 Hadith
41
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
3 Hadith
42
(47) CHAPTER. (What is said regarding) the meaning of the cancelling of the engagement.
پیغام چھوڑ دینے کی وجہ بیان کرنا ۔
1 Hadith
43
(48) CHAPTER. Al-Khutba (for Nikah) (a speech delivered at the time of concluding the marriage contract).
( عقد سے پہلے ) نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔
1 Hadith
44
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
1 Hadith
45
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
1 Hadith
46
(51) CHAPTER. To many (a lady to) a man for what he knows of the Quran (by heart) and without paying any Mahr.
قرآن کی تعلیم مہر ہو سکتی ہے اس طرح اگر مہر کا ذکر ہی نہ کرے تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا ( اور مہر مثل لازم ہو گا ) ۔
1 Hadith
47
(52) CHAPTER. To give Mahr in the form of material things (other than money) and in the form of a ring made of iron.
کوئی جنس یا لوہے کی انگوٹھی مہر ہو سکتی ہے ۔ گونقد روپیہ نہ ہو ۔
1 Hadith
48
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
1 Hadith
49
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
1 Hadith
50
(55) CHAPTER. The Sufra (yellow coloured perfume) for a bridegroom.
شادی کرنے والے کے لئے زرد رنگ کا جواز ۔
1 Hadith
51
(56) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
52
(57) CHAPTER. How to invoke good upon a person who has married recently?
دولہا کو کس طرح دعا دی جائے ؟
1 Hadith
53
(58) CHAPTER. The invocation of those women who prepare the bride (for her and for the bridegroom).
جو عورتیں دولہن کو بناؤ سنگھار کر کے دولہا کے گھر لائیں ان کو اور دولہن کو کیونکر دعا دیں ۔
1 Hadith
54
(59) CHAPTER. Whoever preferred to consummate the marriage before going on a military campaign.
جہاد میں جانے سے پہلے نئی دولہن سے صحبت کر لینا بہتر ہے تاکہ دل اس میں لگا نہ رہے ۔
1 Hadith
55
(60) CHAPTER. Whoever consummated his marriage with a lady of nine years of age.
جس نے نو سال کی عمر کی بیوی کے ساتھ خلوت کی ( جب وہ جوان ہو گئی ہو ) ۔
1 Hadith
56
(61) CHAPTER. The consummation of marriage during a journey.
سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا ۔
1 Hadith
57
(62) CHAPTER. Consummation of marriage during the daytime without a marriage procession or lighting of fires.
دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
1 Hadith
58
(63) CHAPTER. The Anmat (curtains, beddings, etc.) and similar things designed for the women.
عورتوں کے لئے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھا نا جائز ہے ( یا باریک پردہ لٹکانا ) ۔
1 Hadith
59
(64) CHAPTER. The women who present the lady to her husband and their invocations for Allah's blessings upon them.
وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں ۔
1 Hadith
60
(65) CHAPTER. The giving of a present to the bridegroom.
دلہن کو تحائف بھیجنا ۔
1 Hadith
61
(66) CHAPTER. To borrow the clothes, etc. for the bride.
دلہن کے پہننے کے لئے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا ۔
1 Hadith
62
(67) CHAPTER. What a man should say on having a sexual intercourse with his wife.
جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے ۔
1 Hadith
63
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
1 Hadith
64
(69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein.
ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے ۔
4 Hadith
65
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
1 Hadith
66
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
1 Hadith
67
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
4 Hadith
68
(73) CHAPTER. If somebody refuses an invitation [to a Walima (wedding banquet)] he indeed disobeys Allah and His Messenger .
جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
1 Hadith
69
(74) CHAPTER. Whoever accepted the invitation to a meal of trotters.
جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے ۔
1 Hadith
70
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
1 Hadith
71
(76) CHAPTER. The attendance of women and children at a wedding party.
دعوت شادی میں عورتوں اور بچوں کا بھی جانا جائز ہے ۔
1 Hadith
72
(77) CHAPTER. Should a person return if he sees something disapproved of (from the standpoint of religion) in the party?
اگر دعوت میں جا کر وہاں کوئی کام خلاف شرع دیکھے تو لوٹ آئے یا کیا کرے ۔
1 Hadith
73
(78) CHAPTER. The attendance and serving of the lady (bride) herself for the men at (her) marriage party.
شادی میں عورت مردوں کا کامکاج خوداپنی ذات سے کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
74
(79) CHAPTER. An-Naqi (juice obtained from dried dates soaked in water) and other drinks that are non intoxicant, served at a wedding party.
کھجور کا شربت یا اور کوئی شربت جس میں نشہ نہ ہو شادی میں پلانا ۔
1 Hadith
75
(80) CHAPTER. To be polite and kind to the women.
عورتوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا ۔
1 Hadith
76
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
3 Hadith
77
(82) CHAPTER. “(O you who believe)! Ward off from yourself and your families a Fire (Hell) whose fuel is men and stones...” (V.66:6)
اللہ کا سورۃ التحریم میں یہ فرمانا کہ لوگو ! خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ سے بچاؤ ۔
1 Hadith
78
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
2 Hadith
79
(84) CHAPTER. The advice of a man to his daughter regarding her husband.
آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
80
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
1 Hadith
81
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
2 Hadith
82
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
2 Hadith
83
(89) CHAPTER. To be unthankful to Al-Ashir, i.e., the husband. Al-Ashir also means the companion.
عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں ۔
2 Hadith
84
(90) CHAPTER. Your wife has a right over you.
تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔
1 Hadith
85
(91) CHAPTER. The woman is a guardian in her husband's house.
بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے ۔
1 Hadith
86
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
1 Hadith
87
(93) CHAPTER. The decision of the Prophet not to share the beds with his wives and to stay away from their houses.
عورتوں کو مارنا مکروہ ہے ۔
3 Hadith
88
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
1 Hadith
89
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
1 Hadith
90
(97) CHAPTER. The coitus interruptus.
عزل کا حکم کیا ہے ؟
4 Hadith
91
(98) CHAPTER. To draw lots among one's wives when one intends to go on a journey (in order to take one of them with).
سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لئے قرعہ ڈالنا ۔
1 Hadith
92
(99) CHAPTER. (What is said regarding) the woman who gives up her turn with her husband to one of his other wives, and how to divide the turns.
عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے ؟
1 Hadith
93
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
94
(102) CHAPTER. If somebody marryies a matron and he has already a virgin wife (with him).
کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
1 Hadith
95
(103) CHAPTER. Whoever had sexual intercourse with all his wives and then took one bath only.
مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
96
(104) CHAPTER. If a man goes to all his wives (have sexual relations with them) in one day.
مرد کا اپنی بیوی کے پاس دن میں جانا بھی جائز ہے ۔
1 Hadith
97
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
1 Hadith
98
(106) CHAPTER. If a man loves some of his wives more than the others.
اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا ۔
1 Hadith
99
(107) CHAPTER. (It is not recommended for) one to claim that one has more things or better qualities than one really has. And what is forbidden as regards the pride of lady over the other wives of her husband.
جھوٹ موٹھ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی ، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لئے کرنا عورت کے واسطے منع ہے ۔
1 Hadith
100
(108) CHAPTER. Al-Ghaira (i.e. honour, prestige or self-respect).
غیرت کا بیان ۔
8 Hadith
101
(109) CHAPTER. The jealousy of women and their anger.
عورتوں کی غیرت اور ان کے غصے کا بیان ۔
2 Hadith
102
(110) CHAPTER. The man's attempt to prevent what my arouse his daughter's jealousy, and his demand that she should be treated justly.
آدمی اپنی بیٹی کو غیرت اور غصہ نہ آنے کے لئے اور اس کے حق میں انصاف کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
103
(111) CHAPTER. Men will decrease and women will increase.
( قیامت کے قریب ) عورتوں کا بہت ہو جانا مردوں کی کمی ۔
1 Hadith
104
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
2 Hadith
105
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
106
(114) CHAPTER. It is forbidden that effeminate men should enter upon women.
زنانے اور ہیجڑے سفر میں عورتوں کے پاس نہ آئیں ۔
1 Hadith
107
(115) CHAPTER. The looking of a woman at the Ethiopians and the like (is permissible) if it does not lead to bad consequences.
عورت حبشیوں کو دیکھ سکتی ہے اگر کسی فتنے کا ڈر نہ ہو ۔
1 Hadith
108
(116) CHAPTER. The going out of women for their needs.
عورتوں کا کامکاج کے لئے باہر نکلنا درست ہے ۔
1 Hadith
109
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
1 Hadith
110
(118) CHAPTER. What is lawful as regards visiting or looking at those women who have foster suckling relations with you.
دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے ، بے پردہ اسے دیکھ سکتے ہیں ۔
1 Hadith
111
(119) CHAPTER. A woman should not look at or touch the body of another woman to describe her to her husband.
ایک عورت دوسری عورت سے ( بے ستر ہو کر ) نہ چمٹے اس لئے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے ۔
2 Hadith
112
(120) CHAPTER. The saying of a man: “I will go round (i.e., have sexual relations with) all my wives tonight.”
کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ۔
1 Hadith
113
(121) CHAPTER. If a man is away or absent from his family for a long time, then on returning home, he should not enter his house at night, lest he should find something which might arouse his suspicion as regards his family, or lest he should discover their defects.
آدمی سفر سے رات کے وقت اپنے گھر نہ آئے ۔
2 Hadith
114
(122) CHAPTER. Seeking to beget children.
جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں
2 Hadith
115
(123) CHAPTER. The woman (whose husband is absent for a long time) should shave her pubic hair, and those whose hair is unkempt should comb their hair.
جب خاوند سفر سے آئے تو عورت استرہ لے اور بالوں میں کنگھی کرے
1 Hadith
116
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
1 Hadith
117
(125) CHAPTER. “And those among you who have not come to the age of puberty. (V.24:58)
اس آیت میں جو بیان ہے کہ اور وہ بچے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
118
(126) CHAPTER. The man's poking his daughter in the flank while admonishing her.
ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے ؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا ۔
1 Hadith
No chapter matched that.