TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of (the wedlock). - کتاب نکاح کے مسائل کا بیان - Book 68 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 68 of Sahih Bukhari, with 118 chapters and 188 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

188 Hadith · 118 Chapters
(23) CHAPTER. The milk belongs to the husband (if one drinks the milk of a lady then the husband of that lady is just like his father, i.e., he will be his foster suckling father).
جس مرد کا دودھ ہو وہ بھی دودھ پینے والے پر حرام ہو جاتا ہے ( کیونکہ شیر خوار کا باپ بن جاتاہے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ ، جَاءَيَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ .
Narrated Aisha: that Aflah the brother of Abu Al-Qu'ais, her foster uncle, came, asking permission to enter upon her after the Verse of Al-Hijab (the use of veils by women) was revealed. `Aisha added: I did not allow him to enter, but when Allah's Apostle came, I told him what I had done, and he ordered me to give him permission.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے ( یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں۔
5103
Sahih
(24) CHAPTER. The witness of a wet nurse.
اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ لِي : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ دَعْهَا عَنْكَ ، وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، يَحْكِي أَيُّوبَ .
Narrated `Uqba bin Al-Harith: I married a woman and then a black lady came to us and said, I have suckled you both (you and your wife). So I came to the Prophet and said, I married so-and-so and then a black lady came to us and said to me, 'I have suckled both of you.' But I think she is a liar. The Prophet turned his face away from me and I moved to face his face, and said, She is a liar. The Prophet said, How (can you keep her as your wife) when that lady has said that she has suckled both of you? So abandon (i.e., divorce) her (your wife).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت ( ام یحییٰ بن ابی اہاب ) سے نکاح کیا۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں ( میاں بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاں سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔“ ( حدیث کے راوی ) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کر کے۔
5104
Sahih
(25) CHAPTER. What women are lawful for one to marry and what are unlawful.
کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں ۔
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ، ثُمَّ قَرَأَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ سورة النساء آية 23 الْآيَةَ ، وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ، ثُمَّ قَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَيْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى : وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ سورة النساء آية 24 ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ ، لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ ، وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، وأَبِي جَعْفَرٍ ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ ، إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ ، فَلَا يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ ، ويَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ ، وأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، والْحَسَنِ ، وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالْأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وعُرْوَةُ ، والزُّهْرِيُّ ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ عَلِيٌّ : لَا تَحْرُمُ ، وَهَذَا مُرْسَلٌ.
Ibn 'Abbas further said, Seven types of marriages are unlawful because of blood relations, and seven because of marriage relations. Then Ibn 'Abbas recited the Verse: Forbidden for you (for marriages) are your mothers... (4:23). 'Abdullah bin Ja'far married the daughter and wife of 'Ali at the same time (they were step-daughter and mother). Ibn Sirin said, There is no harm in that. But Al-Hasan Al-Basri disapproved of it at first, but then said that there was no harm in it. Al-Hasan bin Al-Hasan bin 'Ali married two of his cousins in one night. Ja'far bin Zaid disapproved of that because of it would bring hatred (between the two cousins), but it is not unlawful, as Allah said, Lawful to you are all others [beyond those (mentioned)]. (4:24).Ibn 'Abbas said: If somebody commits illegal sexual intercourse with his wife's sister, his wife does not become unlawful for him. And narrated Abu Ja'far, If a person commits homosexuality with a boy, then the mother of that boy is unlawful for him to marry. Narrated Ibn 'Abbas, If one commits illegal sexual intercourse with his mother in law, then his married relation to his wife does not become unlawful. Abu Nasr reported to have said that Ibn 'Abbas in the above case, regarded his marital relation to his wife unlawful, but Abu Nasr is not known well for hearing Hadith from Ibn 'Abbas.Imran bin Hussain, Jabir b. Zaid, Al-Hasan and some other Iraqi's, are reported to have judged that his marital relations to his wife would be unlawful. In the above case Abu Hurairah said, The marital relation to one's wife does not become unlawful except if one as had sexual intercourse (with her mother). Ibn Al-Musaiyab, 'Urwa, and Az-Zuhri allows such person to keep his wife. 'Ali said, His marital relations to his wife does not become unlawful.
اور امام احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے سفیان ثوری سے، کہا مجھ سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا خون کی رو سے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے ( یعنی سسرال کی طرف سے ) سات رشتے بھی۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی «حرمت عليكم أمهاتكم‏» آخر تک۔ اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی ( لیلٰی بنت مسعود ) دونوں سے نکاح کیا، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں ( یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی ) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلاپا نہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأحل لكم ما وراء ذلكم‏» کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں۔ اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی ( سالی کی بہن ) اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے، انہوں نے شعبی اور جعفر سے، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور ابونصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابونصر کا حال معلوم نہیں۔ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے یا نہیں ( لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے ) اور عمران بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں ( امام ثوری اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں ( اپنی خوشدامن ) کو زمین سے نہ لگا دے ( یعنی اس سے جماع نہ کرے ) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی ( اس کو رکھ سکتا ہے ) اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے۔
5105
Sahih
(26) CHAPTER. (The Statement of Allah:) '...your step-daughters under your guardianship, born of your wives. To whom you have gone in (consummated your marriage)...” (V.4:23)
اللہ کے اس فرمان کا بیان اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی لڑکیاں ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ؟ قَالَ : فَأَفْعَلُ مَاذَا ؟ قُلْتُ : تَنْكِحُ ، قَالَ : أَتُحِبِّينَ ؟ قُلْتُ : لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِيكَ أُخْتِي ، قَالَ : إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، قُلْتُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ ، قَالَ : ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ .
Narrated Um Habiba: I said, O Allah's Apostle! Do you like to have (my sister) the daughter of Abu Sufyan? The Prophet said, What shall I do (with her)? I said, Marry her. He said, Do you like that? I said, (Yes), for even now I am not your only wife, so I like that my sister should share you with me. He said, She is not lawful for me (to marry). I said, We have heard that you want to marry. He said, The daughter of Um Salama? I said, Yes. He said, Even if she were not my stepdaughter, she should be unlawful for me to marry, for Thuwaiba suckled me and her father (Abu Salama). So you should neither present your daughters, nor your sisters, to me.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ابوسفیان کی صاحبزادی ( غرہ یا درہ یا حمنہ ) کو چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں گا؟ میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں۔ فرمایا کیا تم اسے پسند کرو گی؟ میں نے عرض کیا میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں اور میں اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ( زینب سے ) نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی کے پاس؟ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واہ واہ، اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ دیکھو تم آئندہ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ اور لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے اس میں ابوسلمہ کی بیٹی کا نام درہ مذکور ہے۔
5106
Sahih
(27) CHAPTER: “(It is prohibited to have) two sisters in wedlock (as wise) at the same time, except for what has already passed. (V.4:23)
آیت وان تجمعوا بین الاختین الخ کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّأُمَّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : وَتُحِبِّينَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَرْضَعَتْنِي وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ .
Narrated Um Habiba: I said, O Allah's Apostle! Marry my sister, the daughter of Abu Sufyan. He said, Do you like that? I said, Yes, for even now I am not your only wife; and the most beloved person to share the good with me is my sister. The Prophet said, But that is not lawful for me (i.e., to be married to two sisters at a time.) I said, O Allah's Apostle! By Allah, we have heard that you want to marry Durra, the daughter of Abu Salama. He said, You mean the daughter of Um Salama? I said, Yes. He said, By Allah ! Even if she were not my stepdaughter, she would not be lawful for me to marry, for she is my foster niece, for Thuwaiba has suckled me and Abu Salama; so you should neither present your daughters, nor your sisters to me.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن ( غرہ ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ ( اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی ) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔
5107
Sahih
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا . وَقَالَ دَاوُدُ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Narrated Jabir: Allah's Apostle forbade that a woman should be married to man along with her paternal or maternal aunt.
ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی، انہیں شعبی نے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو۔ اور داؤد بن عون نے شعبی سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے۔
5108
Sahih
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, A woman and her paternal aunt should not be married to the same man; and similarly, a woman and her maternal aunt should not be married to the same man.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
5109
Sahih
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا ، فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet forbade that a woman should be married to a man along with her paternal aunt or with her maternal aunt (at the same time). Az-Zuhri (the sub-narrator) said: There is a similar order for the paternal aunt of the father of one's wife, for 'Urwa told me that `Aisha said, What is unlawful because of blood relations, is also unlawful because of the corresponding foster suckling relations.
ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھ سے قبیصہ بن ذویب نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ( زہری نے کہا کہ ) ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کے باپ کی خالہ بھی ( حرام ہونے میں ) اسی درجہ میں ہے کیونکہ ( اگلی حدیث دیکھیں ) ۔
5110
Sahih
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
لِأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .
Aisha said, What is unlawful because of blood relations, is also unlawful because of the corresponding foster suckling relations.
عروہ نے مجھ سے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رضاعت سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام سمجھو جو خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
5111
Sahih
(29) CHAPTER. Ash-Shighar.
نکاح شغار کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ ، وَالشِّغَارُ : أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle forbade Ash-Shighar, which means that somebody marries his daughter to somebody else, and the latter marries his daughter to the former without paying Mahr.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے۔
5112
Sahih
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ ؟ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ سورة الأحزاب آية 51 ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ . رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
Narrated Hisham's father: Khaula bint Hakim was one of those ladies who presented themselves to the Prophet for marriage. `Aisha said, Doesn't a lady feel ashamed for presenting herself to a man? But when the Verse: (O Muhammad) You may postpone (the turn of) any of them (your wives) that you please,' (33.51) was revealed, `Aisha said, 'O Allah's Apostle! I do not see, but, that your Lord hurries in pleasing you.'
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک عورت اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتے شرماتی نہیں۔ پھر جب آیت «ترجئ من تشاء منهن‏» ”اے پیغمبر! تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے“ نازل ہوئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں سمجھی اللہ تعالیٰ جلد جلد آپ کی خوشی کو پورا کرتا ہے۔ اس حدیث کو ابوسعید ( محمد بن مسلم ) ، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے۔
5113
Sahih
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet got married while he was in the state of Ihram.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم کو عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا ہم سے جابر بن زید نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میمونہ رضی اللہ عنہا سے ) نکاح کیا اور اس وقت آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
5114
Sahih
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ،عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُتْعَةِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ .
Narrated `Ali: I said to Ibn `Abbas, During the battle of Khaibar the Prophet forbade (Nikah) Al-Mut'a and the eating of donkey's meat.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے حسن بن محمد بن علی اور ان کے بھائی عبداللہ بن محمد بن علی نے اپنے والد (محمد بن الحنفیہ) سے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرمایا تھا۔
5115
Sahih
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَرَخَّصَ ، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ : إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ .
Narrated Abu Jamra: I heard Ibn `Abbas (giving a verdict) when he was asked about the Mut'a with the women, and he permitted it (Nikah-al-Mut'a). On that a freed slave of his said to him, That is only when it is very badly needed and women are scarce. On that, Ibn `Abbas said, Yes.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔ ( نوٹ: یہ حرمت سے قبل کی بات ہے بعد میں ہر حالت میں ہر شخص کے لیے متعہ حرام قرار دیا گیا جو قیامت تک کے لیے ہے ) ۔
5116
Sahih
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا .
Narrated Jabir bin `Abdullah and Salama bin Al-Akwa`: While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری اور سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو۔
5117
Sahih
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا .
Narrated Jabir bin `Abdullah and Salama bin Al-Akwa`: While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری اور سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو۔
5118
Sahih
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا ، فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلَاثُ لَيَالٍ ، فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ، فَمَا أَدْرِي أَشَيْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ مَنْسُوخٌ .
Salama bin Al-Akwa` said: Allah's Apostle's said, If a man and a woman agree (to marry temporarily), their marriage should last for three nights, and if they like to continue, they can do so; and if they want to separate, they can do so. I do not know whether that was only for us or for all the people in general. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said: `Ali made it clear that the Prophet said, The Mut'a marriage has been cancelled (made unlawful).
اور ابن ابی ذئب نے بیان کیا کہ مجھ سے ایاس بن سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد اور عورت متعہ کر لیں اور کوئی مدت متعین نہ کریں تو ( کم سے کم ) تین دن، تین رات مل کر رہیں، پھر اگر وہ تین دن سے زیادہ اس متعہ کو رکھنا چاہیں یا ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے ( سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ) مجھے معلوم نہیں یہ حکم صرف ہمارے ( صحابہ ) ہی کے لیے تھا یا تمام لوگوں کے لیے ہے ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ خود علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی حلت منسوخ ہے۔
5119
Sahih
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَكَ بِي حَاجَةٌ ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ : مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَا سَوْأَتَاهْ وَا سَوْأَتَاهْ ، قَالَ : هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا .
Narrated Thabit Al-Banani: I was with Anas while his daughter was present with him. Anas said, A woman came to Allah's Apostle and presented herself to him, saying, 'O Allah's Apostle, have you any need for me (i.e. would you like to marry me)?' Thereupon Anas's daughter said, What a shameless lady she was ! Shame! Shame! Anas said, She was better than you; she had a liking for the Prophet so she presented herself for marriage to him.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ وہ کیسی بےحیاء عورت تھی۔ ہائے، بےشرمی! ہائے بےشرمی! انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔
5120
Sahih
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ امْرَأَةً عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوِّجْنِيهَا ، فَقَالَ : مَا عِنْدَكَ ؟ قَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، قَالَ : اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ، قَالَ سَهْلٌ : وَمَا لَهُ رِدَاءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ ، قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ أَوْ دُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ .
Narrated Sahl bin Sa`d: A woman presented herself to the Prophet (for marriage). A man said to him, O Allah's Apostle! (If you are not in need of her) marry her to me. The Prophet said, What have you got? The man said, I have nothing. The Prophet said (to him), Go and search for something) even if it were an iron ring. The man went and returned saying, No, I have not found anything, not even an iron ring; but this is my (Izar) waist sheet, and half of it is for her. He had no Rida' (upper garment). The Prophet said, What will she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing over her; and if she wears it, you will have nothing over you. So the man sat down and when he had sat a long time, he got up (to leave). When the Prophet saw him (leaving), he called him back, or the man was called (for him), and he said to the man, How much of the Qur'an do you know (by heart)? The man replied I know such Sura and such Sura (by heart), naming the Suras The Prophet said, I have married her to you for what you know of the Qur'an .
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ پھر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لیے ) کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی، اگر یہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ( اور جانے لگے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا، یا انہیں بلایا گیا ( راوی کو ان الفاظ میں شک تھا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں، فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
5121
Sahih
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ ، فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي ، فَقَالَ : قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ عُمَرُ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَيَّ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا ، فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبِلْتُهَا .
Narrated `Abdullah bin `Umar: `Umar bin Al-Khattab said, When Hafsa bint `Umar became a widow after the death of (her husband) Khunais bin Hudhafa As-Sahmi who had been one of the companions of the Prophet, and he died at Medina. I went to `Uthman bin `Affan and presented Hafsa (for marriage) to him. He said, I will think it over.' I waited for a few days, then he met me and said, 'It seems that it is not possible for me to marry at present.' `Umar further said, I met Abu Bakr As-Siddique and said to him, 'If you wish, I will marry my daughter Hafsa to you. Abu Bakr kept quiet and did not say anything to me in reply. I became more angry with him than with `Uthman. I waited for a few days and then Allah's Apostle asked for her hand, and I gave her in marriage to him. Afterwards I met Abu Bakr who said, 'Perhaps you became angry with me when you presented Hafsa to me and I did not give you a reply?' I said, 'Yes.' Abu Bakr said, 'Nothing stopped me to respond to your offer except that I knew that Allah's Apostle had mentioned her, and I never wanted to let out the secret of Allah's Apostle. And if Allah's Apostle had refused her, I would have accepted her.'
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کے متعلق سنا کہ جب ( ان کی صاحبزادی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ( اپنے شوہر ) خنیس بن حذافہ سہمی کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں اور خنیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے لیے حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا۔ میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا۔ پھر مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی اور میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ رضی اللہ عنہا سے کر دوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کی اس بےرخی سے مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ سے بھی زیادہ رنج ہوا۔ کچھ دنوں تک میں خاموش رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شادی کر دی۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میرے سامنے پیش کیا تھا تو میرے اس پر میرے خاموش رہنے سے تمہیں تکلیف ہوئی ہو گی کہ میں نے تمہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ واقعی ہوئی تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے جو کچھ میرے سامنے رکھا تھا، اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ میرے علم میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں حفصہ کو اپنے نکاح میں لے آتا۔
5122
Sahih

Chapters

118
01
(1) CHAPTER. Awakening the desire for marriage.
باب
8 Hadith
02
(6) CHAPTER. The marrying of a poor man who has the knowledge of the Quran and is a Muslim.
ایسے تنگدست کی شادی کرانا جس کے پاس صرف قرآنمجید اور اسلام ہے ۔
1 Hadith
03
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
04
(8) CHAPTER. What is disliked of not marrying and of getting castrated.
مجرد رہنا اور اپنے کو نامرد بنا دینا منع ہے ۔
4 Hadith
05
(9) CHAPTER. To marry virgins.
کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
06
(10) CHAPTER. The marrying of matrons (divorced or widowed ladies).
بیوہ عورتوں کا بیان ۔
2 Hadith
07
(11) CHAPTER. The marrying of a young lady to an elderly man.
کمعمر کی عورت سے زیادہ عمر والے مرد کے ساتھ شادی کا ہونا ۔
1 Hadith
08
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
3 Hadith
10
(14) CHAPTER. Whoever regarded the manumission of a slave-girl as her Mahr.
جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا ۔
1 Hadith
11
(15) CHAPTER. The marrying of the poor by virtue of the Statement of Allah: “If they be poor, Allah will enrich them out of His Bounty.” (V.24:32)
مفلس کا نکاح کرانا درست ہے ۔
1 Hadith
12
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
4 Hadith
13
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
1 Hadith
14
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
4 Hadith
15
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
1 Hadith
16
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
1 Hadith
17
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
3 Hadith
18
(22) CHAPTER. Whoever said: “No suckling is to be carried on after the baby is two years old, As the Statement of Allah: ...two whole years, (that is) 'for those (parents) who desire to complete the term of suckling (breast feeding)... (V.2:233)
اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی ۔
1 Hadith
19
(23) CHAPTER. The milk belongs to the husband (if one drinks the milk of a lady then the husband of that lady is just like his father, i.e., he will be his foster suckling father).
جس مرد کا دودھ ہو وہ بھی دودھ پینے والے پر حرام ہو جاتا ہے ( کیونکہ شیر خوار کا باپ بن جاتاہے ) ۔
1 Hadith
20
(24) CHAPTER. The witness of a wet nurse.
اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے ۔
1 Hadith
21
(25) CHAPTER. What women are lawful for one to marry and what are unlawful.
کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں ۔
1 Hadith
22
(26) CHAPTER. (The Statement of Allah:) '...your step-daughters under your guardianship, born of your wives. To whom you have gone in (consummated your marriage)...” (V.4:23)
اللہ کے اس فرمان کا بیان اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی لڑکیاں ۔
1 Hadith
23
(27) CHAPTER: “(It is prohibited to have) two sisters in wedlock (as wise) at the same time, except for what has already passed. (V.4:23)
آیت وان تجمعوا بین الاختین الخ کا بیان ۔
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
4 Hadith
25
(29) CHAPTER. Ash-Shighar.
نکاح شغار کا بیان ۔
1 Hadith
26
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
1 Hadith
27
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
1 Hadith
28
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
5 Hadith
29
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
30
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
31
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “And there is no sin on you if you make a hint of betrothal or conceal it in yourself, Allah knows... (up to)... Oft-Forgiving, Most Forbearing.” (V.2:235)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔
1 Hadith
32
(36) CHAPTER. (It is permissible) to look at a woman before marrying her.
نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا ۔
2 Hadith
33
(37) CHAPTER. Whoever said, A marriage is not valid except through the Wali (i.e., her father or her brother or her relative etc.)
بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا ۔
4 Hadith
34
(38) CHAPTER. If the guardian himself is the suitor (of the lady in his charge) (can he marry her to himself or should another guardian marry her to him)?
اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے ۔
2 Hadith
35
(39) CHAPTER. Giving one's young children in marriage (is permissible).
آدمی اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے ۔
2 Hadith
36
(41) CHAPTER. The ruler is regarded as a guardian (of the lady who has no relative to be her guardian) as is inferred from the statement of the Prophet : We have married her (that lady) to you for what you know of the Quran (by heart).
باپ کا اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا بادشاہ سے کرنا ۔
1 Hadith
37
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
2 Hadith
38
(43) CHAPTER. lf a man gives his daughter in marriage while she is averse to it (in disagreement), then such marriage is invalid.
اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح ( وہ کنواری ہو یا بیوہ ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا ۔
2 Hadith
39
(44) CHAPTER. The giving of an orphan girl in marriage.
یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ نساء ۔
1 Hadith
40
(45) CHAPTER. If the suitor says (to the guardian of a woman), “Marry me to so-and-so,” and the guardian says, “I have married her to you for such and such Mahr,” then the marriage is valid even if he does not ask the husband, Have you agreed or have you accepted (her)?
اگر کسی مردنے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو ، اس نے کہامیں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں ؟
1 Hadith
41
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
3 Hadith
42
(47) CHAPTER. (What is said regarding) the meaning of the cancelling of the engagement.
پیغام چھوڑ دینے کی وجہ بیان کرنا ۔
1 Hadith
43
(48) CHAPTER. Al-Khutba (for Nikah) (a speech delivered at the time of concluding the marriage contract).
( عقد سے پہلے ) نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔
1 Hadith
44
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
1 Hadith
45
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
1 Hadith
46
(51) CHAPTER. To many (a lady to) a man for what he knows of the Quran (by heart) and without paying any Mahr.
قرآن کی تعلیم مہر ہو سکتی ہے اس طرح اگر مہر کا ذکر ہی نہ کرے تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا ( اور مہر مثل لازم ہو گا ) ۔
1 Hadith
47
(52) CHAPTER. To give Mahr in the form of material things (other than money) and in the form of a ring made of iron.
کوئی جنس یا لوہے کی انگوٹھی مہر ہو سکتی ہے ۔ گونقد روپیہ نہ ہو ۔
1 Hadith
48
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
1 Hadith
49
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
1 Hadith
50
(55) CHAPTER. The Sufra (yellow coloured perfume) for a bridegroom.
شادی کرنے والے کے لئے زرد رنگ کا جواز ۔
1 Hadith
51
(56) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
52
(57) CHAPTER. How to invoke good upon a person who has married recently?
دولہا کو کس طرح دعا دی جائے ؟
1 Hadith
53
(58) CHAPTER. The invocation of those women who prepare the bride (for her and for the bridegroom).
جو عورتیں دولہن کو بناؤ سنگھار کر کے دولہا کے گھر لائیں ان کو اور دولہن کو کیونکر دعا دیں ۔
1 Hadith
54
(59) CHAPTER. Whoever preferred to consummate the marriage before going on a military campaign.
جہاد میں جانے سے پہلے نئی دولہن سے صحبت کر لینا بہتر ہے تاکہ دل اس میں لگا نہ رہے ۔
1 Hadith
55
(60) CHAPTER. Whoever consummated his marriage with a lady of nine years of age.
جس نے نو سال کی عمر کی بیوی کے ساتھ خلوت کی ( جب وہ جوان ہو گئی ہو ) ۔
1 Hadith
56
(61) CHAPTER. The consummation of marriage during a journey.
سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا ۔
1 Hadith
57
(62) CHAPTER. Consummation of marriage during the daytime without a marriage procession or lighting of fires.
دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
1 Hadith
58
(63) CHAPTER. The Anmat (curtains, beddings, etc.) and similar things designed for the women.
عورتوں کے لئے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھا نا جائز ہے ( یا باریک پردہ لٹکانا ) ۔
1 Hadith
59
(64) CHAPTER. The women who present the lady to her husband and their invocations for Allah's blessings upon them.
وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں ۔
1 Hadith
60
(65) CHAPTER. The giving of a present to the bridegroom.
دلہن کو تحائف بھیجنا ۔
1 Hadith
61
(66) CHAPTER. To borrow the clothes, etc. for the bride.
دلہن کے پہننے کے لئے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا ۔
1 Hadith
62
(67) CHAPTER. What a man should say on having a sexual intercourse with his wife.
جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے ۔
1 Hadith
63
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
1 Hadith
64
(69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein.
ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے ۔
4 Hadith
65
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
1 Hadith
66
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
1 Hadith
67
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
4 Hadith
68
(73) CHAPTER. If somebody refuses an invitation [to a Walima (wedding banquet)] he indeed disobeys Allah and His Messenger .
جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
1 Hadith
69
(74) CHAPTER. Whoever accepted the invitation to a meal of trotters.
جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے ۔
1 Hadith
70
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
1 Hadith
71
(76) CHAPTER. The attendance of women and children at a wedding party.
دعوت شادی میں عورتوں اور بچوں کا بھی جانا جائز ہے ۔
1 Hadith
72
(77) CHAPTER. Should a person return if he sees something disapproved of (from the standpoint of religion) in the party?
اگر دعوت میں جا کر وہاں کوئی کام خلاف شرع دیکھے تو لوٹ آئے یا کیا کرے ۔
1 Hadith
73
(78) CHAPTER. The attendance and serving of the lady (bride) herself for the men at (her) marriage party.
شادی میں عورت مردوں کا کامکاج خوداپنی ذات سے کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
74
(79) CHAPTER. An-Naqi (juice obtained from dried dates soaked in water) and other drinks that are non intoxicant, served at a wedding party.
کھجور کا شربت یا اور کوئی شربت جس میں نشہ نہ ہو شادی میں پلانا ۔
1 Hadith
75
(80) CHAPTER. To be polite and kind to the women.
عورتوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا ۔
1 Hadith
76
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
3 Hadith
77
(82) CHAPTER. “(O you who believe)! Ward off from yourself and your families a Fire (Hell) whose fuel is men and stones...” (V.66:6)
اللہ کا سورۃ التحریم میں یہ فرمانا کہ لوگو ! خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ سے بچاؤ ۔
1 Hadith
78
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
2 Hadith
79
(84) CHAPTER. The advice of a man to his daughter regarding her husband.
آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
80
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
1 Hadith
81
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
2 Hadith
82
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
2 Hadith
83
(89) CHAPTER. To be unthankful to Al-Ashir, i.e., the husband. Al-Ashir also means the companion.
عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں ۔
2 Hadith
84
(90) CHAPTER. Your wife has a right over you.
تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔
1 Hadith
85
(91) CHAPTER. The woman is a guardian in her husband's house.
بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے ۔
1 Hadith
86
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
1 Hadith
87
(93) CHAPTER. The decision of the Prophet not to share the beds with his wives and to stay away from their houses.
عورتوں کو مارنا مکروہ ہے ۔
3 Hadith
88
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
1 Hadith
89
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
1 Hadith
90
(97) CHAPTER. The coitus interruptus.
عزل کا حکم کیا ہے ؟
4 Hadith
91
(98) CHAPTER. To draw lots among one's wives when one intends to go on a journey (in order to take one of them with).
سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لئے قرعہ ڈالنا ۔
1 Hadith
92
(99) CHAPTER. (What is said regarding) the woman who gives up her turn with her husband to one of his other wives, and how to divide the turns.
عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے ؟
1 Hadith
93
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
94
(102) CHAPTER. If somebody marryies a matron and he has already a virgin wife (with him).
کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
1 Hadith
95
(103) CHAPTER. Whoever had sexual intercourse with all his wives and then took one bath only.
مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
96
(104) CHAPTER. If a man goes to all his wives (have sexual relations with them) in one day.
مرد کا اپنی بیوی کے پاس دن میں جانا بھی جائز ہے ۔
1 Hadith
97
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
1 Hadith
98
(106) CHAPTER. If a man loves some of his wives more than the others.
اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا ۔
1 Hadith
99
(107) CHAPTER. (It is not recommended for) one to claim that one has more things or better qualities than one really has. And what is forbidden as regards the pride of lady over the other wives of her husband.
جھوٹ موٹھ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی ، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لئے کرنا عورت کے واسطے منع ہے ۔
1 Hadith
100
(108) CHAPTER. Al-Ghaira (i.e. honour, prestige or self-respect).
غیرت کا بیان ۔
8 Hadith
101
(109) CHAPTER. The jealousy of women and their anger.
عورتوں کی غیرت اور ان کے غصے کا بیان ۔
2 Hadith
102
(110) CHAPTER. The man's attempt to prevent what my arouse his daughter's jealousy, and his demand that she should be treated justly.
آدمی اپنی بیٹی کو غیرت اور غصہ نہ آنے کے لئے اور اس کے حق میں انصاف کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
103
(111) CHAPTER. Men will decrease and women will increase.
( قیامت کے قریب ) عورتوں کا بہت ہو جانا مردوں کی کمی ۔
1 Hadith
104
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
2 Hadith
105
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
106
(114) CHAPTER. It is forbidden that effeminate men should enter upon women.
زنانے اور ہیجڑے سفر میں عورتوں کے پاس نہ آئیں ۔
1 Hadith
107
(115) CHAPTER. The looking of a woman at the Ethiopians and the like (is permissible) if it does not lead to bad consequences.
عورت حبشیوں کو دیکھ سکتی ہے اگر کسی فتنے کا ڈر نہ ہو ۔
1 Hadith
108
(116) CHAPTER. The going out of women for their needs.
عورتوں کا کامکاج کے لئے باہر نکلنا درست ہے ۔
1 Hadith
109
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
1 Hadith
110
(118) CHAPTER. What is lawful as regards visiting or looking at those women who have foster suckling relations with you.
دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے ، بے پردہ اسے دیکھ سکتے ہیں ۔
1 Hadith
111
(119) CHAPTER. A woman should not look at or touch the body of another woman to describe her to her husband.
ایک عورت دوسری عورت سے ( بے ستر ہو کر ) نہ چمٹے اس لئے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے ۔
2 Hadith
112
(120) CHAPTER. The saying of a man: “I will go round (i.e., have sexual relations with) all my wives tonight.”
کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ۔
1 Hadith
113
(121) CHAPTER. If a man is away or absent from his family for a long time, then on returning home, he should not enter his house at night, lest he should find something which might arouse his suspicion as regards his family, or lest he should discover their defects.
آدمی سفر سے رات کے وقت اپنے گھر نہ آئے ۔
2 Hadith
114
(122) CHAPTER. Seeking to beget children.
جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں
2 Hadith
115
(123) CHAPTER. The woman (whose husband is absent for a long time) should shave her pubic hair, and those whose hair is unkempt should comb their hair.
جب خاوند سفر سے آئے تو عورت استرہ لے اور بالوں میں کنگھی کرے
1 Hadith
116
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
1 Hadith
117
(125) CHAPTER. “And those among you who have not come to the age of puberty. (V.24:58)
اس آیت میں جو بیان ہے کہ اور وہ بچے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
118
(126) CHAPTER. The man's poking his daughter in the flank while admonishing her.
ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے ؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا ۔
1 Hadith
No chapter matched that.