TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ad-diyait (blood - money). - کتاب دیتوں کے بیان میں - Book 89 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 89 of Sahih Bukhari, with 29 chapters and 57 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

57 Hadith · 29 Chapters
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ: «أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهْوَ خَلَقَكَ». قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ». قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ} الآيَةَ.
Narrated `Abdullah: A man said, O Allah's Apostle! Which sin is the greatest in Allah's Sight? The Prophet said, To set up a rival unto Allah though He Alone created you . The man said, What is next? The Prophet said, To kill your son lest he should share your food with you. The man said, What is next? The Prophet said, To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor. So Allah revealed in confirmation of this narration:-- 'And those who invoke not with Allah, any other god. Nor kill, such life as Allah has forbidden except for just cause nor commit illegal sexual intercourse. And whoever does this shall receive the punishment.' (25.68)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا۔“ آخر آیت تک۔
6861
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, A faithful believer remains at liberty regarding his religion unless he kills somebody unlawfully.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے ( اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے ) جب تک ناحق خون نہ کرے جہاں ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔“
6862
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُورِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا ، سَفْكَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: One of the evil deeds with bad consequence from which there is no escape for the one who is involved in it is to kill someone unlawfully.
مجھ سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔
6863
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, The first cases to be decided among the people (on the Day of Resurrection) will be those of blood-shed.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے۔“
6864
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا ، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، وَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا ، أَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : لَا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ ، فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ .
Narrated Al-Miqdad bin `Amr Al-Kindi: An ally of Bani Zuhra who took part in the battle of Badr with the Prophet, that he said, O Allah's Apostle! If I meet an unbeliever and we have a fight, and he strikes my hand with the sword and cuts it off, and then takes refuge from me under a tree, and says, 'I have surrendered to Allah (i.e. embraced Islam),' may I kill him after he has said so? Allah's Apostle said, Do not kill him. Al- Miqdad said, But O Allah's Apostle! He had chopped off one of my hands and he said that after he had cut it off. May I kill him? The Prophet said. Do not kill him for if you kill him, he would be in the position in which you had been before you kill him, and you would be in the position in which he was before he said the sentence.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تمہارے مرتبہ میں ہو گا جو تمہارا اسے قتل کرنے سے پہلے تھا یعنی معصوم معلوم الدم اور تم اس کے مرتبہ میں ہو گے جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا جو اس نے اب کیا ہے ( یعنی ظالم مباح الدم ) ۔
6865
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ : إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ ، مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ ، فَقَتَلْتَهُ ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ .
The Prophet also said to Al-Miqdad, If a faithful believer conceals his faith (Islam) from the disbelievers, and then when he declares his Islam, you kill him, (you will be sinful). Remember that you were also concealing your faith (Islam) at Mecca before.
اور حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تم بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے تھے۔
6866
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, No human being is killed unjustly, but a part of responsibility for the crime is laid on the first son of Adam who invented the tradition of killing (murdering) on the earth. (It is said that he was Qabil).
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے۔“
6867
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet said, After me (i.e. after my death), do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں واقد بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو میرے والد نے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
6868
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Zur'a bin `Amr bin Jarir: The Prophet said during Hajjat-al-Wada`, Let the people be quiet and listen to me. After me, do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو , ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
6869
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : الْيَمِينُ الْغَمُوسُ شَكَّ شُعْبَةُ ، وَقَالَ مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : وَقَتْلُ النَّفْسِ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet said, Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: To join others (as partners) in worship with Allah, to be undutiful to one's parents, or said, to take a false oath. (The sub-narrator, Shu`ba is not sure) Mu`adh said: Shu`ba said, Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: (1) Joining others as partners in worship with Allah, (2) to take a false oath (3) and to be undutiful to one's parents, or said, to murder (someone unlawfully).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
6870
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, The biggest of Al-Ka`ba'ir (the great sins) are (1) to join others as partners in worship with Allah, (2) to murder a human being, (3) to be undutiful to one's parents (4) and to make a false statement, or said, to give a false witness.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
6871
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، قَالَ : وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا ، بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ : أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
Narrated Usama bin Zaid bin Haritha: Allah's Apostle sent us (to fight) against Al-Huraqa (one of the sub-tribes) of Juhaina. We reached those people in the morning and defeated them. A man from the Ansar and I chased one of their men and when we attacked him, he said, None has the right to be worshipped but Allah. The Ansari refrained from killing him but I stabbed him with my spear till I killed him. When we reached (Medina), this news reached the Prophet. He said to me, O Usama! You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah? ' I said, O Allah's Apostle! He said so in order to save himself. The Prophet said, You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah. The Prophet kept on repeating that statement till I wished I had not been a Muslim before that day.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف ( مہم پر ) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
6872
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي مِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَايَعْنَاهُ عَلَى : أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، وَلَا نَنْتَهِبَ ، وَلَا نَعْصِيَ بِالْجَنَّةِ ، إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ .
Narrated 'Ubada bin As-Samat: I was among those Naqibs (selected leaders) who gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle. We gave the oath of allegiance, that we would not join partners in worship besides Allah, would not steal, would not commit illegal sexual intercourse, would not kill a life which Allah has forbidden, would not commit robbery, would not disobey (Allah and His Apostle), and if we fulfilled this pledge we would have Paradise, but if we committed any one of these (sins), then our case will be decided by Allah.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا۔
6873
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، رَوَاهُ أَبُو مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, Whoever carries arms against us, is not from us.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
6874
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ .
Narrated Al-Ahnaf bin Qais: I went to help that man (i.e., `Ali), and on the way I met Abu Bakra who asked me, Where are you going? I replied, I am going to help that man. He said, Go back, for I heard Allah's Apostle saying, 'If two Muslims meet each other with their swords then (both) the killer and the killed one are in the (Hell) Fire.' I said, 'O Allah's Apostle! It is alright for the killer, but what about the killed one?' He said, 'The killed one was eager to kill his opponent.
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے احنف بن قیس نے کہ میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔
6875
Sahih
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَوْ فُلَانٌ ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ .
Narrated Anas bin Malik: A Jew crushed the head of a girl between two stones, and the girl was asked, Who has done that to you, so-and-so or so and so? (Some names were mentioned for her) till the name of that Jew was mentioned (whereupon she agreed). The Jew was brought to the Prophet and the Prophet kept on questioning him till he confessed, whereupon his head was crushed with stones.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا ( تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔
6876
Sahih
(5) CHAPTER. If someone kills (somebody) with a stone or with a stick.
جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا ، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ : فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ .
Narrated Anas bin Malik: A girl wearing ornaments, went out at Medina. Somebody struck her with a stone. She was brought to the Prophet while she was still alive. Allah's Apostle asked her, Did such-and-such a person strike you? She raised her head, denying that. He asked her a second time, saying, Did so-and-so strike you? She raised her head, denying that. He said for the third time, Did so-and-so strike you? She lowered her head, agreeing. Allah's Apostle then sent for the killer and killed him between two stones.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا ) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔
6877
Sahih
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “(And We ordained therein for them:) Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun (polytheists, oppressor and wrongdoers - of a lesser degree).” (V.5:45)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, The blood of a Muslim who confesses that none has the right to be worshipped but Allah and that I am His Apostle, cannot be shed except in three cases: In Qisas for murder, a married person who commits illegal sexual intercourse and the one who reverts from Islam (apostate) and leaves the Muslims.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مرہ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا ( مرتد ) جماعت کو چھوڑ دینے والا۔“
6878
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever punished ( a killer) with a stone (in retaliation).
پتھروں سے قصاص لینے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ : أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ قَالَ : الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ .
Narrated Anas: A Jew killed a girl so that he may steal her ornaments. He struck her with a stone, and she was brought to the Prophet while she was still alive. The Prophet asked her, Did such-and-such person strike you? She gestured with her head, expressing denial. He asked her for the second time, and she again gestured with her head, expressing denial. When he asked her for the third time, she beckoned, Yes. So the Prophet killed him (the Jew) with two stones.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔
6879
Sahih
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا يُودَى وَإِمَّا يُقَادُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شَاهٍ ، فَقَالَ : اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ،عَنْ شَيْبَانَ فِي الْفِيلِ ، قَالَ بَعْضُهُمْ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ : الْقَتْلَ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ .
Narrated Abu Huraira: In the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza`a killed a man from the tribe of Bam Laith in revenge for a killed person belonging to them in the Pre-lslamic Period of Ignorance. So Allah's Apostle got up saying, Allah held back the (army having) elephants from Mecca, but He let His Apostle and the believers overpower the infidels (of Mecca). Beware! (Mecca is a sanctuary)! Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anybody before me, nor will it be permitted for anybody after me; It was permitted for me only for a while (an hour or so) of that day. No doubt! It is at this moment a sanctuary; its thorny shrubs should not be uprooted; its trees should not be cut down; and its Luqata (fallen things) should not be picked up except by the one who would look for its owner. And if somebody is killed, his closest relative has the right to choose one of two things, i.e., either the Blood money or retaliation by having the killer killed. Then a man from Yemen, called Abu Shah, stood up and said, Write that) for me, O Allah's Apostle! Allah's Apostle said (to his companions), Write that for Abu Shah. Then another man from Quraish got up, saying, O Allah's Apostle! Except Al- Idhkhir (a special kind of grass) as we use it in our houses and for graves. Allah's Apostle said, Except Al-idhkkir.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا، ان سے حرب بن شداد نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع ) کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے ( شاہ یمن ابرہہ کے ) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی۔ ( سن لو ) اس کا کانٹا نہ اکھاڑا جائے، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہا دیا جائے یا قصاص دیا جائے۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھیوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے «القتل‏.‏» کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے۔
6880
Sahih

Chapters

29
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
9 Hadith
03
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
1 Hadith
04
(5) CHAPTER. If someone kills (somebody) with a stone or with a stick.
جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا
1 Hadith
05
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “(And We ordained therein for them:) Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun (polytheists, oppressor and wrongdoers - of a lesser degree).” (V.5:45)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ
1 Hadith
06
(7) CHAPTER. Whoever punished ( a killer) with a stone (in retaliation).
پتھروں سے قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
07
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
2 Hadith
08
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
1 Hadith
09
(10) CHAPTER. Excusing somebody who killed another by mistake.
قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا
1 Hadith
10
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
1 Hadith
12
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
2 Hadith
14
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
2 Hadith
15
(17) CHAPTER. If someone kills himself by mistake then there is no Diya (blood-money) for him.
اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
1 Hadith
16
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
3 Hadith
17
(20) CHAPTER. The Diya for (cutting) fingers.
دانت کے بدلے دانت
1 Hadith
18
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
2 Hadith
19
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
2 Hadith
20
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
3 Hadith
21
(24) CHAPTER. Al-Aqila (the relatives from the father's side) who pay the Diya (blood money).
عاقلہ کا بیان
1 Hadith
22
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
1 Hadith
23
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
6 Hadith
24
(27) CHAPTER. Whoever sought the help of a slave or a boy.
جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا
1 Hadith
25
(28) CHAPTER. No Diya (blood money) is to be paid in cases of mines and wells.
کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے
1 Hadith
26
(29) CHAPTER. Ther is no Diya (blood money) for the one killed by an animal unaccompained by somebody to contol it.
چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. The sin of a person who killed an innocent Dhimi (a non-Muslim living in a Muslim state and enjoying the protection of Muslims).
جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
2 Hadith
No chapter matched that.