TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ad-diyait (blood - money). - کتاب دیتوں کے بیان میں - Book 89 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 89 of Sahih Bukhari, with 29 chapters and 57 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

57 Hadith · 29 Chapters
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ .
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi: A man peeped through a hole in the door of Allah's Apostle's house, and at that time, Allah's Apostle had a Midri (an iron comb or bar) with which he was rubbing his head. So when Allah's Apostle saw him, he said (to him), If I had been sure that you were looking at me (through the door), I would have poked your eye with this (sharp iron bar). Allah's Apostle added, The asking for permission to enter has been enjoined so that one may not look unlawfully (at what there is in the house without the permission of its people).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( گھر کے اندر آنے کا ) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔
6901
Sahih
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ .
Narrated Abu Huraira: Abul Qasim said, If any person peeps at you without your permission and you poke him with a stick and injure his eye, you will not be blamed.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں ( جب کہ تم گھر کے اندر ہو ) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
6902
Sahih
(24) CHAPTER. Al-Aqila (the relatives from the father's side) who pay the Diya (blood money).
عاقلہ کا بیان
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟ وَقَالَ مَرَّةً : مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ ؟ ، فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ .
Narrated Ash-Shu`bi: I heard Abu Juhaifa saying, I asked `Ali 'Have you got any Divine literature apart from the Qur'an?' (Once he said...apart from what the people have?) `Ali replied, 'By Him Who made the grain split (germinate) and created the soul, we have nothing except what is in the Qur'an and the ability (gift) of understanding Allah's Book which He may endow a man with and we have what is written in this paper.' I asked, 'What is written in this paper?' He replied, 'Al-`Aql (the regulation of Diya), about the ransom of captives, and the Judgment that a Muslim should not be killed in Qisas (equality in punishment) for killing a disbeliever. (See Hadith No. 283,Vol. 4)
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا ( دیت ) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
6903
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ .
Narrated Abu Huraira: Two women from the tribe of Hudhail (fought with each other) and one of them threw (a stone at) the other, causing her to have a miscarriage and Allah's Apostle gave his verdict that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس ( سلسلہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔
6904
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فقال : ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ .
Narrated Hisham's father from Al-Mughira bin Shu'ba: 'Umar consulted the companions about the case of a woman's abortion (caused by somebody else). Al-Mughira said: The Prophet gave the verdict that a male or female slave should be given (as a Diya).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ایک عورت کے حمل گرا دینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔
6905
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ .
Then Muhammad bin Maslama testified that he had witnessed the Prophet giving such a verdict.
پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے۔
6906
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السِّقْطِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : أَنَا سَمِعْتُهُ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ،
Narrated Hisham's father: 'Umar asked the people, Who heard the Prophet giving his verdict regarding abortions? Al-Mughira said, I heard him judging that a male or female slave should be given (as a Diya).
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
6907
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
قال : ائت من يشهد معك على هذا ، فقال محمد بن مسلمة : انا اشهد على النبي صلى الله عليه وسلم بمثل هذا .
Umar said, Present a witness to testify your statement. Muhammad bin Maslama said, I testify that the Prophet gave such a judgment.
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا۔
6908
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle gave a verdict regarding an aborted fetus of a woman from Bani Lihyan that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya) but the woman who was required to give the slave, died, so Allah's Apostle gave the verdict that her inheritance be given to her children and her husband and the Diya be paid by her 'Asaba.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین ( کے گرنے ) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی۔
6909
Sahih
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، أن أبا هريرة رضي الله عنه ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا .
Narrated Abu Huraira: Two women from Hudhail fought with each other and one of them hit the other with a stone that killed her and what was in her womb. The relatives of the killer and the relatives of the victim submitted their case to the Prophet who judged that the Diya for the fetus was a male or female slave, and the Diya for the killed woman was to be paid by the 'Asaba (near relatives) of the killer.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے ( جنین ) سمیت مر گئی۔ پھر ( مقتولہ کے رشتہ دار ) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ ( عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔
6910
Sahih
(27) CHAPTER. Whoever sought the help of a slave or a boy.
جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ ، فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا .
Narrated `Abdul-`Aziz: Anas said, When Allah's Apostle arrived at Medina, Abu Talha took hold of my hand and brought me to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! Anas is an intelligent boy, so let him serve you. Anas added, So I served the Prophet L at home and on journeys; by Allah, he never said to me for anything which I did: Why have you done this like this or, for anything which I did not do: 'Why have you not done this like this?
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
6911
Sahih
(28) CHAPTER. No Diya (blood money) is to be paid in cases of mines and wells.
کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, There is no Diya for persons killed by animals or for the one who has been killed accidentally by falling into a well or for the one killed in a mine. And one-fifth of Rikaz (treasures buried before the Islamic era) is to be given to the state.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔“
6912
Sahih
(29) CHAPTER. Ther is no Diya (blood money) for the one killed by an animal unaccompained by somebody to contol it.
چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, There is no Diya for a person injured or killed by an animal (going about without somebody to control it) and similarly, there is no Diya for the one who falls and dies in a well, and also the one who dies in a mine. As regards the Ar-Rikaz (buried wealth), one-fifth thereof is for the state.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بےزبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے، اسی طرح کان میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا۔“
6913
Sahih
(30) CHAPTER. The sin of a person who killed an innocent Dhimi (a non-Muslim living in a Muslim state and enjoying the protection of Muslims).
جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet said, Whoever killed a Mu'ahid (a person who is granted the pledge of protection by the Muslims) shall not smell the fragrance of Paradise though its fragrance can be smelt at a distance of forty years (of traveling).
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے، کہا ہم سے مجاہد نے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے۔“
6914
Sahih
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِعَلِيٍّ . ح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ،أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً : مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ ، قَالَ : الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ .
Narrated Abu Juhaifa: I asked `Ali Do you have anything Divine literature besides what is in the Qur'an? Or, as Uyaina once said, Apart from what the people have? `Ali said, By Him Who made the grain split (germinate) and created the soul, we have nothing except what is in the Qur'an and the ability (gift) of understanding Allah's Book which He may endow a man, with and what is written in this sheet of paper. I asked, What is on this paper? He replied, The legal regulations of Diya (Blood-money) and the (ransom for) releasing of the captives, and the judgment that no Muslim should be killed in Qisas (equality in punishment) for killing a Kafir (disbeliever).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے، کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں ( یعنی مشہور مصحف میں ) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
6915
Sahih
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ .
Narrated Abu Sa`id: The Prophet said, Do not prefer some prophets to others.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو۔“
6916
Sahih
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبيه ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي ، قَالَ : أَدْعُوهُ ، فَدَعَوْهُ ، قَالَ : لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ، فَلَطَمْتُهُ ، قَالَ : لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: A Jew whose face had been slapped (by someone), came to the Prophet and said, O Muhammad! A man from your Ansari companions slapped me. The Prophet said, Call him . They called him and the Prophet asked him, Why did you slap his face? He said, O Allah's Apostle! While I was passing by the Jews, I heard him saying, 'By Him Who chose Moses above all the human beings.' I said (protestingly), 'Even above Muhammad?' So I became furious and slapped him. The Prophet said, Do not give me preference to other prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain conscious, and behold, I will Find Moses holding one of the pillars of the Throne (of Allah). Then I will not know whether he has become conscious before me or he has been exempted because of his unconsciousness at the mountain (during his worldly life) which he received.
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔
6917
Sahih

Chapters

29
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
9 Hadith
03
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
1 Hadith
04
(5) CHAPTER. If someone kills (somebody) with a stone or with a stick.
جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا
1 Hadith
05
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “(And We ordained therein for them:) Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun (polytheists, oppressor and wrongdoers - of a lesser degree).” (V.5:45)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ
1 Hadith
06
(7) CHAPTER. Whoever punished ( a killer) with a stone (in retaliation).
پتھروں سے قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
07
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
2 Hadith
08
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
1 Hadith
09
(10) CHAPTER. Excusing somebody who killed another by mistake.
قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا
1 Hadith
10
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
1 Hadith
12
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
2 Hadith
14
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
2 Hadith
15
(17) CHAPTER. If someone kills himself by mistake then there is no Diya (blood-money) for him.
اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
1 Hadith
16
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
3 Hadith
17
(20) CHAPTER. The Diya for (cutting) fingers.
دانت کے بدلے دانت
1 Hadith
18
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
2 Hadith
19
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
2 Hadith
20
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
3 Hadith
21
(24) CHAPTER. Al-Aqila (the relatives from the father's side) who pay the Diya (blood money).
عاقلہ کا بیان
1 Hadith
22
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
1 Hadith
23
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
6 Hadith
24
(27) CHAPTER. Whoever sought the help of a slave or a boy.
جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا
1 Hadith
25
(28) CHAPTER. No Diya (blood money) is to be paid in cases of mines and wells.
کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے
1 Hadith
26
(29) CHAPTER. Ther is no Diya (blood money) for the one killed by an animal unaccompained by somebody to contol it.
چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. The sin of a person who killed an innocent Dhimi (a non-Muslim living in a Muslim state and enjoying the protection of Muslims).
جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
2 Hadith
No chapter matched that.