TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ad-diyait (blood - money). - کتاب دیتوں کے بیان میں - Book 89 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 89 of Sahih Bukhari, with 29 chapters and 57 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

57 Hadith · 29 Chapters
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ ، فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ ، قَالَ : فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ .
Narrated Ibn `Abbas: For the children of Israel the punishment for crime was Al-Qisas only (i.e., the law of equality in punishment) and the payment of Blood money was not permitted as an alternate. But Allah said to this nation (Muslims): 'O you who believe! Qisas is prescribed for you in case of murder, .....(up to) ...end of the Verse. (2.178) Ibn `Abbas added: Remission (forgiveness) in this Verse, means to accept the Blood-money in an intentional murder. Ibn `Abbas added: The Verse: 'Then the relatives should demand Blood-money in a reasonable manner.' (2.178) means that the demand should be reasonable and it is to be compensated with handsome gratitude.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت کی صورت نہیں تھی۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا «كتب عليكم القصاص في القتلى‏» الخ۔ ابن عباس نے کہا «فمن عفي له من أخيه شىء‏» سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور «فاتباع بالمعروف‏» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں «وآداء اليه باحسان» سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔
6881
Sahih
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ : مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ ، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, The most hated persons to Allah are three: (1) A person who deviates from the right conduct, i.e., an evil doer, in the Haram (sanctuaries of Mecca and Medina); (2) a person who seeks that the traditions of the Pre-lslamic Period of Ignorance, should remain in Islam (3) and a person who seeks to shed somebody's blood without any right.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں ( مسلمانوں ) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں۔ حرم میں زیادتی کرنے والا، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔
6882
Sahih
(10) CHAPTER. Excusing somebody who killed another by mistake.
قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ : يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَبِي أَبِي ، فَقَتَلُوهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ .
Narrated `Aisha: The pagans were defeated on the day (of the battle) of Uhud. Satan shouted among the people on the day of Uhud, O Allah's worshippers! Beware of what is behind you! So the front file of the army attacked the back files (mistaking them for the enemy) till they killed Al-Yaman. Hudhaifa (bin Al- Yaman) shouted, My father! My father! But they killed him. Hudhaifa said, May Allah forgive you. (The narrator added: Some of the defeated pagans fled till they reached Taif.)
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مشرکین نے احد کی لڑائی میں پہلے شکست کھائی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ( غلطی میں ) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔
6883
Sahih
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ ؟ ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا ، فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ ، فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ، وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ : بِحَجَرَيْنِ .
Narrated Anas bin Malik: A Jew crushed the head of a girl between two stones. It was said to her. Who has done this to you, such-and-such person, such-and-such person? When the name of the Jew was mentioned, she nodded with her head, agreeing. So the Jew was brought and he confessed. The Prophet ordered that his head be crushed with the stones. (Hammam said, with two stones. )
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے ( ہاں ) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔
6884
Sahih
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet killed a Jew for killing a girl in order to take her ornaments.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔
6885
Sahih
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ : لَا تُلِدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ .
Narrated `Aisha: We poured medicine into the mouth of the Prophet during his ailment. He said, Don't pour medicine into my mouth. (We thought he said that) out of the aversion a patient usually has for medicines. When he improved and felt better he said, There is none of you but will be forced to drink medicine, except Al-`Abbas, for he did not witness your deed.
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ( مرض الوفات کے موقع پر ) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
6886
Sahih
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Narrated Abu Huraira: That he heard Allah's Apostle saying, We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
6887
Sahih
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
وَبِإِسْنَادِهِ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ .
And added, If someone is peeping (looking secretly) into your house without your permission, and you throw a stone at him and destroy his eyes, there will be no blame on you.
اور اسی اسناد کے ساتھ ( روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں ( کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے ) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے نہ گناہ ہو گا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہو گی۔
6888
Sahih
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا ، فَقُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ، قَالَ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ .
Narrated Yahya: Humaid said, A man peeped into the house of the Prophet and the Prophet aimed an arrow head at him to hit him. I asked, Who told you that? He said, Anas bin Malik (See Hadith No. 258 and 259, Vol. 8)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔
6889
Sahih
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : هِشَامٌ أَخْبَرَنَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ ، فَصَاحَ إِبْلِيسُ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ ، فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ : أَبِي أَبِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ .
Narrated `Aisha: When it was the day of (the battle of) Uhud, the pagans were defeated. Then Satan shouted, O Allah's worshipers! Beware of what is behind you! So the front files attacked the back files of the army. Hudhaifa looked, and behold, there was his father, Al-Yaman (being attacked) ! He shouted (to his companions), O Allah's worshipers, my father, my father! But by Allah, they did not stop till they killed him (i.e., Hudhaifa's father). Hudhaifa said, May Allah forgive you. (`Urwa said, Hudhaifa continued asking Allah's Forgiveness for the killer of his father till he died.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے خبر دی، کہا ہم کو ہمارے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے کی طرف والوں سے بچو! چنانچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے ( جو مسلمان ہی تھے ) بھڑ گئے۔ اچانک حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آخر وقت تک رہا۔
6890
Sahih
(17) CHAPTER. If someone kills himself by mistake then there is no Diya (blood-money) for him.
اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ، فَحَدَا بِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ السَّائِقُ ؟ ، قَالُوا : عَامِرٌ ، فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ ، فَقَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ : إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ ، وَأَيُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ .
Narrated Salama: We went out with the Prophet to Khaibar. A man (from the companions) said, O 'Amir! Let us hear some of your Huda (camel-driving songs.) So he sang some of them (i.e. a lyric in harmony with the camels walk). The Prophet said, Who is the driver (of these camels)? They said, Amir. The Prophet said, May Allah bestow His Mercy on him ! The people said, O Allah's Apostle! Would that you let us enjoy his company longer! Then 'Amir was killed the following morning. The people said, The good deeds of 'Amir are lost as he has killed himself. I returned at the time while they were talking about that. I went to the Prophet and said, O Allah's Prophet! Let my father be sacrificed for you! The people claim that 'Amir's good deeds are lost. The Prophet said, Whoever says so is a liar, for 'Amir will have a double reward as he exerted himself to obey Allah and fought in Allah's Cause. No other way of killing would have granted him greater reward.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے، اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر! ہمیں اپنی حدی سنائیے۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا۔ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی ( کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے ) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ ( اللہ کے راستہ میں ) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہو گا؟
6891
Sahih
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ .
Narrated `Imran bin Husain: A man bit another man's hand and the latter pulled his hand out of his mouth by force, causing two of his incisors (teeth) to fall out. They submitted their case to the Prophet, who said, One of you bit his brother as a male camel bites. (Go away), there is no Diya (Blood-money) for you.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے زرارہ بن ابی اوفی سے سنا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
6892
Sahih
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ ، فَعَضَّ رَجُلٌ ، فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ya`la: I went out in one of the Ghazwa and a man bit another man and as a result, an incisor tooth of the former was pulled out. The Prophet cancelled the case.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔
6893
Sahih
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ لَطَمَتْ جَارِيَةً ، فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاص .
Narrated Anas: The daughter of An-Nadr slapped a girl and broke her incisor tooth. They (the relatives of that girl), came to the Prophet and he gave the order of Qisas (equality in punishment).
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نضرت کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا۔
6894
Sahih
(20) CHAPTER. The Diya for (cutting) fingers.
دانت کے بدلے دانت
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ»، يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ.
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, This and this are the same. He meant the little finger and the thumb.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اور یہ برابر یعنی چھنگلیا اور انگوٹھا دیت میں برابر ہیں۔“
6895
Sahih
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ غُلَامًا قُتِلَ غِيلَةً ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ ، وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا ، فَقَالَ عُمَرُ مِثْلَهُ ، وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَعَلِيٌّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ ، وَأَقَادَ عُمَرُ مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ ، وَأَقَادَ عَلِيٌّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَسْوَاطٍ ، وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ .
Ibn 'Umar said: A boy was assassinated. 'Umar said, If all the people of San'a took part in the assassination I would kill them all. Al-Mughira bin Hakim said that his father said, Four persons killed a boy, and 'Umar said (as above). Abu Bakr, Ibn Az-Zubair, 'Ali and Suwaid bin Muqarrin gave the judgement of Al-Qisas (equality in punishment) in cases of slapping. And 'Umar carried out Al-Qisas for a strike with a stick. And 'Ali carried out Al-Qisas for three lashes with a whip. And Shuraih carried out for one last and for scratching.
اور مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء ( یمن کے لوگ ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔
6896
Sahih
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا لَا تَلُدُّونِي ، قَالَ : فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ، قَالَ : قُلْنَا : كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ .
Narrated `Aisha: We poured medicine into the mouth of Allah's Apostle during his illness, and he pointed out to us intending to say, Don't pour medicine into my mouth. We thought that his refusal was out of the aversion a patient usually has for medicine. When he improved and felt a bit better he said (to us.) Didn't I forbid you to pour medicine into my mouth? We said, We thought (you did so) because of the aversion, one usually have for medicine. Allah's Apostle said, There is none of you but will be forced to drink medicine, and I will watch you, except Al-`Abbas, for he did not witness this act of yours.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے ( اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں ) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
6897
Sahih
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا ، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ : قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ، قَالُوا : مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا ، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا ، فَقَالَ : الْكُبْرَ الْكُبْرَ ، فَقَالَ : لَهُمْ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ ، قَالُوا : مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ، قَالَ : فَيَحْلِفُونَ ، قَالُوا : لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ .
Narrated Sahl bin Abi Hathma: (a man from the Ansar) that a number of people from his tribe went to Khaibar and dispersed, and then they found one of them murdered. They said to the people with whom the corpse had been found, You have killed our companion! Those people said, Neither have we killed him, nor do we know his killer. The bereaved group went to the Prophet and said, O Allah's Apostle! We went to Khaibar and found one of us murdered. The Prophet said, Let the older among you come forward and speak. Then the Prophet said, to them, Bring your proof against the killer. They said We have no proof. The Prophet said, Then they (the defendants) will take an oath. They said, We do not accept the oaths of the Jews. Allah's Apostle did not like that the Blood-money of the killed one be lost without compensation, so he paid one-hundred camels out of the camels of Zakat (to the relatives of the deceased) as Diya (Blood-money).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور ( اپنے اپنے کاموں کے لیے ) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ ( یہودی ) قسم کھائیں گے ( اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا ) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ( خود ہی ) دیت میں دیئے۔
6898
Sahih
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ ،حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ ؟ ، قَالَ : نَقُولُ : الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ ، قَالَ لِي : مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ ؟ ، وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ ، فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ : عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَطَعَ فِي السَّرَقِ ، وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَقُلْتُ : أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، قَالُوا : بَلَى ، فَخَرَجُوا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَصَحُّوا ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُدْرِكُوا ، فَجِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا ، قُلْتُ : وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ ، ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَقَتَلُوا ، وَسَرَقُوا ، فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، فَقُلْتُ : أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ ، قَالَ ، لَا ، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَقُتِلَ ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا ، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ ؟ قَالُوا : نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ ؟ ، فَقَالُوا : مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ ، قَالَ : أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ؟ ، قَالُوا : مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ ، فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ ، فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ ، فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ ، وَقَالُوا : قَتَلَ صَاحِبَنَا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ ، فَقَالَ : يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ ، قَالَ : فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا ، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ ، فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ ، فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ ، قَالُوا : فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا ، فَمَاتُوا جَمِيعًا ، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ ، فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا ، فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ .
Narrated Abu Qilaba: Once `Umar bin `Abdul `Aziz sat on his throne in the courtyard of his house so that the people might gather before him. Then he admitted them and (when they came in), he said, What do you think of Al-Qasama? They said, We say that it is lawful to depend on Al-Qasama in Qisas, as the previous Muslim Caliphs carried out Qisas depending on it. Then he said to me, O Abu Qilaba! What do you say about it? He let me appear before the people and I said, O Chief of the Believers! You have the chiefs of the army staff and the nobles of the Arabs. If fifty of them testified that a married man had committed illegal sexual intercourse in Damascus but they had not seen him (doing so), would you stone him? He said, No. I said, If fifty of them testified that a man had committed theft in Hums, would you cut off his hand though they did not see him? He replied, No. I said, By Allah, Allah's Apostle never killed anyone except in one of the following three situations: (1) A person who killed somebody unjustly, was killed (in Qisas,) (2) a married person who committed illegal sexual intercourse and (3) a man who fought against Allah and His Apostle and deserted Islam and became an apostate. Then the people said, Didn't Anas bin Malik narrate that Allah's Apostle cut off the hands of the thieves, branded their eyes and then, threw them in the sun? I said, I shall tell you the narration of Anas. Anas said: Eight persons from the tribe of `Ukl came to Allah's Apostle and gave the Pledge of allegiance for Islam (became Muslim). The climate of the place (Medina) did not suit them, so they became sick and complained about that to Allah's Apostle. He said (to them ), Won't you go out with the shepherd of our camels and drink of the camels' milk and urine (as medicine)? They said, Yes. So they went out and drank the camels' milk and urine, and after they became healthy, they killed the shepherd of Allah's Apostle and took away all the camels. This news reached Allah's Apostle , so he sent (men) to follow their traces and they were captured and brought (to the Prophet). He then ordered to cut their hands and feet, and their eyes were branded with heated pieces of iron, and then he threw them in the sun till they died. I said, What can be worse than what those people did? They deserted Islam, committed murder and theft. Then 'Anbasa bin Sa`id said, By Allah, I never heard a narration like this of today. I said, O 'Anbasa! You deny my narration? 'Anbasa said, No, but you have related the narration in the way it should be related. By Allah, these people are in welfare as long as this Sheikh (Abu Qilaba) is among them. I added, Indeed in this event there has been a tradition set by Allah's Apostle. The narrator added: Some Ansari people came to the Prophet and discussed some matters with him, a man from amongst them went out and was murdered. Those people went out after him, and behold, their companion was swimming in blood. They returned to Allah's Apostle and said to him, O Allah's Apostle, we have found our companion who had talked with us and gone out before us, swimming in blood (killed). Allah's Apostle went out and asked them, Whom do you suspect or whom do you think has killed him? They said, We think that the Jews have killed him. The Prophet sent for the Jews and asked them, Did you kill this (person)? They replied, No. He asked the Al-Ansars, Do you agree that I let fifty Jews take an oath that they have not killed him? They said, It matters little for the Jews to kill us all and then take false oaths. He said, Then would you like to receive the Diya after fifty of you have taken an oath (that the Jews have killed your man)? They said, We will not take the oath. Then the Prophet himself paid them the Diya (Blood-money). The narrator added, The tribe of Hudhail repudiated one of their men (for his evil conduct) in the Pre-lslamic period of Ignorance. Then, at a place called Al-Batha' (near Mecca), the man attacked a Yemenite family at night to steal from them, but a. man from the family noticed him and struck him with his sword and killed him. The tribe of Hudhail came and captured the Yemenite and brought him to `Umar during the Hajj season and said, He has killed our companion. The Yemenite said, But these people had repudiated him (i.e., their companion). `Umar said, Let fifty persons of Hudhail swear that they had not repudiated him. So forty-nine of them took the oath and then a person belonging to them, came from Sham and they requested him to swear similarly, but he paid one-thousand Dirhams instead of taking the oath. They called another man instead of him and the new man shook hands with the brother of the deceased. Some people said, We and those fifty men who had taken false oaths (Al-Qasama) set out, and when they reached a place called Nakhlah, it started raining so they entered a cave in the mountain, and the cave collapsed on those fifty men who took the false oath, and all of them died except the two persons who had shaken hands with each other. They escaped death but a stone fell on the leg of the brother of the deceased and broke it, whereupon he survived for one year and then died. I further said, `Abdul Malik bin Marwan sentenced a man to death in Qisas (equality in punishment) for murder, basing his judgment on Al-Qasama, but later on he regretted that judgment and ordered that the names of the fifty persons who had taken the oath (Al-Qasama), be erased from the register, and he exiled them in Sham.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں ( اشراف عرب ) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ ( ابوقلابہ ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے ( خیبر کے ارادہ سے ) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں ( خیبر میں ) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں ( کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا ( ابوقلابہ نے کہا کہ ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو ( جس نے قتل کیا تھا ) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔
6899
Sahih
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ ، أَوْ بِمَشَاقِصَ ، وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ .
Narrated Anas: A man peeped into one of the dwelling places of the Prophet. The Prophet got up and aimed a sharp-edged arrow head (or wooden stick) at him to poke him stealthily.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
6900
Sahih

Chapters

29
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
9 Hadith
03
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
1 Hadith
04
(5) CHAPTER. If someone kills (somebody) with a stone or with a stick.
جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا
1 Hadith
05
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “(And We ordained therein for them:) Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun (polytheists, oppressor and wrongdoers - of a lesser degree).” (V.5:45)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ
1 Hadith
06
(7) CHAPTER. Whoever punished ( a killer) with a stone (in retaliation).
پتھروں سے قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
07
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
2 Hadith
08
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
1 Hadith
09
(10) CHAPTER. Excusing somebody who killed another by mistake.
قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا
1 Hadith
10
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
1 Hadith
12
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
2 Hadith
14
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
2 Hadith
15
(17) CHAPTER. If someone kills himself by mistake then there is no Diya (blood-money) for him.
اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
1 Hadith
16
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
3 Hadith
17
(20) CHAPTER. The Diya for (cutting) fingers.
دانت کے بدلے دانت
1 Hadith
18
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
2 Hadith
19
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
2 Hadith
20
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
3 Hadith
21
(24) CHAPTER. Al-Aqila (the relatives from the father's side) who pay the Diya (blood money).
عاقلہ کا بیان
1 Hadith
22
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
1 Hadith
23
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
6 Hadith
24
(27) CHAPTER. Whoever sought the help of a slave or a boy.
جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا
1 Hadith
25
(28) CHAPTER. No Diya (blood money) is to be paid in cases of mines and wells.
کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے
1 Hadith
26
(29) CHAPTER. Ther is no Diya (blood money) for the one killed by an animal unaccompained by somebody to contol it.
چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. The sin of a person who killed an innocent Dhimi (a non-Muslim living in a Muslim state and enjoying the protection of Muslims).
جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
2 Hadith
No chapter matched that.