حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى .
Abdullah bin Abu Awfa said:
“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الزکاة ۶۴ (۱۴۹۷)، المغازي ۳۵ (۴۱۶۶)، الدعوات ۱۹ (۶۳۳۲)، ۳۳ (۶۳۵۹)، صحیح مسلم/الزکاة ۵۴ (۱۰۷۸)، سنن ابی داود/الزکاة ۶ (۱۵۹۰)، سنن النسائی/الزکاة ۱۳ (۲۴۶۱)، (تحفة الأشراف: ۵۱۷۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۵۳، ۳۵۴، ۳۵۵، ۳۸۱، ۳۸۳)
Explanation
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی زکاۃ خود لے کر آئے تو عامل (زکاۃ وصول کرنے والا) اس کو دعائیں دے۔
1796
Sahih