Chapter: What was narrated concerning the collectors of Zakat - زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان - The chapters regarding zakat - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 14 of The chapters regarding zakat in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated that:
Rafi bin Khadij said: “I heard the Messenger of Allah say: 'The person who is appointed to collect the Sadaqah - who does so with sincerity and fairness is like one who foes out to fight for the sake of Allah, until he returns to the house.' ”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آ جائے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الخراج والإمارة ۷ (۲۹۳۶)، سنن الترمذی/الزکاة ۱۸ (۶۴۵)،(تحفة الأشراف:۳۵۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۴۳،۴۶۵،۴/۱۴۳)
Explanation
حق و انصاف سے کام لے یعنی شرع کے موافق رحم، شفقت اور رضامندی کے ساتھ زکاۃ کی وصولی کرے۔
Abdullah bin Unais said that he and Umar bin Khattab were speaking about Sadaqah one day, and:
Umar bin Khattab said: “Did you not hear the Messenger of Allah when he mentioned Ghulul with the Sadaqah (and said): 'Whoever steals a camel or a sheep from it, he will be brought carrying it on the Day of Resurrection?' ” Abdullah bin Unais said: “Yes.”
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا ؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں ( ہاں، میں نے سنا ہے ) ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۴۸۱، ومصباح الزجاجة:۶۴۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد۳/۴۹۸)
Ibrahim bin Ata, the freed slave of Imran bin Husain, said:
“My father told me that 'Imran bin Hussain was appointed to collect the Sadaqah. When he came back, it was said to him: 'Where is the wealth?' He said: 'Was it for wealth that you sent me? We took it from where we used to take it at the time of the Messenger of Allah, and we distributed it where we used to distribute it.' ”
عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔
مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کر کے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہئے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟۔