Jabir bin 'Abdullah said:
A man passed through the masjid with some arrows, and the Messenger of Allah(ﷺ) said: 'Hold them by their heads!' He said: 'Yes(ok).'
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی پیکان ( نوک و پھل ) تھام لو ، انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۱؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet(ﷺ) said:
When anyone of you passes through our masjid or our marketplace carrying arrows, let him hold them by their heads, lest he hurt any Muslims.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا بازار میں سے ہو کر گزرے، اور اس کے ساتھ تیر ہو تو اس کی پیکان اپنی ہتھیلی سے پکڑے رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس کی نوک لگ جائے، ( اور وہ زخمی ہو ) ، یا چاہیئے کہ وہ تیر کی پیکان اپنی مٹھی میں دبائے رہے ۔
It was narrated from Aisha that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
The one who is proficient with the Qur'an will be with the noble and righteous scribes (the angels), and the one who reads it and stumbles over it, finding it difficult, will have a double reward.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء ( فرشتوں ) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ہے ۱؎۔
It was narrated from Abu Sa`eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
It will be said to the companion of the Qur'an, when he enters Paradise: 'Recite and rise one degree for every Verse,' until he recites the last thing that he knows.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے ( قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے ) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۲۲۶، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰)
It was narrated from Ibn Buraidah that his father told that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
The Quran will come on the Day of Resurrection, like a pale man, and will say: 'I am the one that kept you awake at night and made you thirsty during the day.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۹۵۳، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۸،۳۵۲،۳۶۱)، سنن الدارمی/فضائل القران ۱۵ (۳۴۳۴)
Explanation
یعنی دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قرآن پڑھتا یا قرآن سنتا تھا پس سننے والوں کو بھی ایسا ہی کہے گا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Wouldn't anyone of you like to find three great, fat pregnant she-camels when he returns to his family? We said: Yes. He said: Three verses that one of you recites during the praer are better for him than three great, fat pregnant she-camels.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں ( کیوں نہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المسافرین ۴۱ (۸۰۲)،(تحفة الأشراف:۱۲۴۷۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۹۶،۴۶۶،۴۹۶)سنن الدارمی/فضائل القرآن ۱ (۳۳۵۷)
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
The likeness of the Quran is that of a hobbled camel. If its owner ties its rope, he will keep it, but if he loosens its rope it will go away.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المسافرین ۳۲ (۷۸۹)، سنن الترمذی/القراء ات ۱۰۰ (۲۹۴۲)،(تحفة الأشراف:۷۵۴۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن ۲۳ (۵۰۳۱)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۷ (۹۴۳)، موطا امام مالک/القرآن ۴ (۶)، مسند احمد (۲/۱۷،۲۳،۳۰،۶۴،۱۱۲)
Explanation
اس لیے حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اسے پڑھنا ترک کر دے گا، تو بھول جائے گا پھر اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی
It was narrated that Abu Hurairah said, 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say':
Allah said: 'I have divided the prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for.'When the slave says: 'Al-hamdulillah i rabbil Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists),' Allah says:'My slave has praised Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Ar-Rahmanir-Rahim (The Mos Gracious, the Most Merciful),' Allah says: 'My slave has extolled Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Maliki yawmiddin [The Only Owner (and he Ruling Judge] if the Day of Recompense],' Allahs says: 'My slave has Glorified Me. This is for Me, and this Verse is between me and My slave in two halves.' And when he says: ' Iyyaka na'budu wa iyyaka nastain [You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help],' He says: 'This is between Me an My slave, and My slave shall have what he has asked for.' And the end of the Surah is for My slave.' And when he says: 'Ihdinas-siratal-mustaqeema, siratal-alldhina an'amta alayhim a lad-dallin [Guide us to the Straight Way, the way of those on whom You have bestowed Your Grace, not(the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray],' He says: 'THis is for My slave, and My slave shall have what he has asked for.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«مجدني عبدي فهذا لي وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين» میرے بندے نے میری عظمت بیان کی تو یہ میرے لیے ہے، اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، یعنی پھر جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل وآخر السورة لعبدي» یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور سورت کی اخیر آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، پھر جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: «فهذا لعبدي ولعبدي ما سأل» یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۰۴۵)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ۱۱ (۳۹۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۳۶ (۸۲۱)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة ۲ (۱)(۲۹۵۳)، سنن النسائی/الافتتاح ۲۳ (۹۱۰)، موطا امام مالک/الصلاة ۹ (۳۹)مسند احمد (۲/۲۴۱،۲۵۰،۲۸۵،۲۹۰،۴۵۷،۴۷۸)
It was narrated that Abu Sa'eed bin Mu'alla said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said to me: 'Shall I not teach you the greatest Surah in the QUran before I leave the masjid?' Then the Propeht(ﷺ) went to leave, so I reminded him, and he said: Al-hamdulillahi Rabbil-Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists). It is the Seven Oft-Recited Verses, and it is the Grand Quran that has been given to me.'
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة ۱ (۴۴۷۴)، تفسیرالأنفال ۳ (۴۶۴۷)، وتفسیر الحجر ۳ (۴۷۰۳)، فضائل القرآن ۹ (۵۰۰۶)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۰ (۱۴۵۸)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۶ (۹۱۴)،(تحفة الأشراف:۱۲۰۴۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ۷ (۳۷)، مسند احمد (۳/۴۵۰،۴/۲۱۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۲ (۱۵۳۳)، فضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۶)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
There is a surah in the Qur'an, with thirty verses, which will intercede for its companion (the one who recites it) until he is forgiven: Tabarakal-ladhi bi yadihil mulk (Blessed is He in Whose Hand is the Dominion).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے ( اللہ تعالیٰ سے ) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Qul Huwa Allahu ahad [Say: He is Allah, (the) One] is equivalent to one third of the Quran.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Qul Huwa Allahu ahad [Say: He is Allah, (the) One] is equivalent to one third of the Quran.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۵۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل القرآن ۱۱ (۲۸۹۹)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ۲۴ (۳۴۷۵)
حدثنا علي بن محمد حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس الأودي عن عمرو بن ميمون عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله أحد الواحد الصمد تعدل ثلث القرآن».
It was narrated that Abu Masud Al Ansari said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Allahu ahad, Al-Wahidus-Samad [Allah (the) One, the One the Self-Sufficient Master] is equivalent to one third of the Quran.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله أحد الواحد الصمد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۰۰۱، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۲۲)
Explanation
یعنی یہ کلمات ثواب میں تہائی قرآن کے برابر ہیں بعض نسخوں میں یوں ہے: «قل ھو الله أحد الصمد» تہائی قرآن کے برابر ہے۔
It was narrated from Abu Darda that the Prophet(ﷺ) said:
Shall I not tell you of the best of your deeds, the most pleasing to your Sovereign, those that raise you most in status, that are better than your gold and silver, or meeting you enemy (in battle) and you strike their necks and they strike your necks? They said: WHat is that, O Messenger of Allah? He said: Remembering Allah(Dhikr).
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل ہو، اور تمہارے مالک کو سب سے زیادہ محبوب ہو، اور تمہارے درجات کو بلند کرتا ہو، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے اور دشمن سے ایسی جنگ کرنے سے کہ تم ان کی گردنیں مارو، اور وہ تمہاری گردنیں ماریں بہتر ہو؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا ذکر ہے ۔ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے والا انسان کا کوئی عمل ذکر الٰہی سے بڑھ کر نہیں ہے۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الدعوات ۶ (۳۳۷۷)،(تحفة الأشراف:۱۰۹۵۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۷ (۲۴)، مسند احمد (۵/۱۹۵،۶/۴۴۷)
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Sa'eed bore witness that the Prophet(ﷺ) said:
No people sit in a gathering remembering Allah, But the angels surround them, mercy covers them, tranquility descends upon them and Allah remembers them before those who are with Him.
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ مجلس میں بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ( اللہ کی ) رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور سکینت انپر نازل ہونے لگتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں سے ان کا ذکر کرتا ہے ۱؎۔
ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے زور سے اللہ کی یاد شروع کی یعنی بہت چلا کر تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس کو نہیں پکارتے جو بہرہ ہے، یا غائب ہے، اپنے اوپر آسانی کرو، دوسری روایت میں ہے کہ وہ تم سے زیادہ قریب ہے تمہارے پالان کی آگے کی لکڑی یا تمہارے اونٹ کی گردن سے بھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر چیز کو سنتا، اور دیکھتا ہے، پس چلانے کی ضرورت نہیں اگرچہ اس کی ذات مقدس عرش معلی پر ہے مگر اس کا سمع اور بصر ہر جگہ ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet(ﷺ) said:
Allah says: 'I am with My slave when he remembers Me and his lips move saying My Name.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور اس کے ہونٹ میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں ہوتے ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۵۱۲، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ۴۳ تعلیقا، مسند احمد (۲/۵۴۰)
It was narrated from Abdullah bin Busr that a Bedouin said to the Messenger of Allah(ﷺ) said:
The laws of Islam are burdensome for me. Tell me of something that I will be able to adhere to. He said: 'Always keep your tongue moist with the remembrance of Allah, the Mighty and Sublime.'
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و قواعد مجھ پر بہت ہو گئے ہیں ۱؎، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جس پر میں مضبوطی سے جم جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیئے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الدعوات ۴ (۳۳۷۵)،(تحفة الأشراف:۵۱۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۸۸،۱۹۰)
It was narrated from Abu Hurairah and Abu Saeed bore witness that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
If a person says: 'La ilaha illallahu wa Allahu Akbar (None has the right to be worshipped but Allah and Allah is the Most Great),'Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, and I am the Most Great.' If a person says: La ilaha Illallah wahdahu (There is none worthy of worship except Allah alone), Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, alone.' If he says, La ilaha illallahu la sharikalahu (There is none worthy of worship except Allah with no partner or associate),' Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none worthy of worship except I, with no partner or associate.' If he says: 'La illah illallah, lahul mulku wa lahul hamdu (There is none worthy of worship except Allah, all dominion is His and all praise is to Him),' Allah says: 'My slave has spoken the truth; there is none of worthy of worship except I, all dominion Mine and all praise is due to Me.' If he says: ' La illaha illallah, la hawla wa la quwwata illa billah (There is none worthy of worship and there is no power and no strength except with Allah),' Allah says: 'My slave has spoken then truth; there is none worthy of worship except I, and tehre is no power and no strength except with Me.' One of the narrators Abu Ishaq said: Then Agharr (another narrator) said something that I did not understand. I said to Abu Jafar: 'What did he say?' He said: 'Whoever is blessed with (the ability to say) them (these words) at the time of death, the Fire will not touch him.'
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله لا شريك له»کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک اور ساجھی نہیں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله له الملك وله الحمد» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت اور ہر قسم کی تعریف ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، بادشاہت اور تعریف ( یعنی ملک اور حمد ) میرے ہی لیے ہے، اور جب بندہ «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اس کے علاوہ کسی میں کوئی طاقت و قوت نہیں، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرے علاوہ کسی میں کوئی قوت و طاقت نہیں ۱؎۔ ابواسحاق کہتے ہیں: پھر اغر نے ایک بات کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مرتے وقت ان کلمات کے کہنے کی توفیق بخشی تو اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی ۔
اس میں کلمہ تمجید کے علیحدہ علیحدہ کلمات مذکور ہیں، پورا کلمہ یوں ہے جو ہر نماز کے بعد پڑھنا مسنون ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له الملك وله الحمد و هو على كل شيئ قدير لاإله إلا الله والله أكبرلا حول ولا قوة إلا باللهالعلى العظيم»۔
It was narrated from Yahya bin Talha that :
his mother Su'da Al-Murriyyah said: Umar bin Khattab passed by Talhah, after the Messenger of Allah(ﷺ) had died, and said: 'Why do you look so sad? Are you upset because your cousin has been appointed leader?' He said: 'No, but I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: I know a word which no one says at the time of death but it will be light in his record of deeds, and his body and soul will find comfort in it at the time of death, -but I did not ask him about it before he died.' He ('Umar) said: ' I know what it is. It is what he wanted his uncle (Abu Talib) to say, and if he had known anything that would be more effective in saving him, he would have told him to say it.'
سعدیٰ مریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گزرے، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو رنجیدہ پاتا ہوں؟ کیا تمہیں اپنے چچا زاد بھائی ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی خلافت گراں گزری ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ایک بات جانتا ہوں اگر کوئی اسے موت کے وقت کہے گا تو وہ اس کے نامہ اعمال کا نور ہو گا، اور موت کے وقت اس کے بدن اور روح دونوں اس سے راحت پائیں گے ، لیکن میں یہ کلمہ آپ سے دریافت نہ کر سکا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کلمہ کو جانتا ہوں، یہ وہی کلمہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے مرتے وقت پڑھنے کے لیے کہا تھا، اور اگر آپ کو اس سے بہتر اور باعث نجات کسی کلمہ کا علم ہوتا تو وہی پڑھنے کے لیے فرماتے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۲۱،۱۰۶۷۶، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۱)
Explanation
کیونکہ نبی اکرم ﷺ کو اپنے چچا سے جو الفت و محبت تھی، اور جس طرح آپ انہیں آخری وقت میں قیامت کے دن کے عذاب سے بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، اور کلمہ «لا إله إلا الله» کہنے کا حکم دیتے رہے، اس سے بہتر کوئی دوسرا کلمہ نہیں ہو سکتا جسے مرتے وقت کوئی اپنی زبان سے ادا کرے
It was narrated from Mu'adh bin Jabal that the :
Messenger of Allah(ﷺ) said: There is no soul that died bearing witness to La ilaha illallah, and that I am the Messenger of Allah, from the heart with certainity, but Allah will forgive it.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۳۳۱، ومصباح الزجاجة:۱۳۲۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۲۹)
Explanation
وعدوں سے متعلق بہت ساری احادیث آئی ہیں: ۱- بعض ایسی احادیث ہیں جس میں کسی نیکی کے کرنے پر جنت کی بشارت ہے۔ ۲- اور بعض میں کسی کام کے کرنے پر جنت کے حرام ہونے کی وعید اور دھمکی ہے۔ اور وعید سے متعلق بھی متعدد احادیث آئی ہیں: ۱- بعض احادیث میں بعض کبیرہ گناہوں پر کفر کا اطلاق ہوا ہے۔ ۲- بعض کبائر کے مرتکب سے ایمان کی نفی آئی ہے۔ ۳- بعض احادیث میں ان کبائر کے مرتکب سے نبی اکرم ﷺ نے اپنی براءت کا اظہار فرمایا ہے۔ ۴- بعض احادیث میں بعض کبائر کے مرتکب کے بارے میں ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ۵- بعض میں بعض کبیرہ گناہ کے ارتکاب پر جہنم کی دھمکی ہے۔ ۶- بعض احادیث میں بعض کبائر کے مرتکب کو لعنت سنائی گئی ہے، یعنی رحمت سے دوری کی دھمکی۔ وعید کی یہ ساری احادیث ایسے مسلمان کے بارے میں ہیں، جس کے پاس اصل ایمان و توحید کی دولت موجود ہے، لیکن اس سے بعض کبیرہ گناہ سرزد ہوئے ہیں، اور وعدوں سے متعلق ساری احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ شرک کے علاوہ دوسرے کبیرہ گناہوں کا مرتکب مسلمان جنت میں داخل ہو گا، اور جہنم سے نجات پائے گا، اس لئے وہ «لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ»کی شہادت دینے والا ہے، اور فی الجملہ مسلمان ہے۔ اور وعید کی احادیث میں گناہ کبیرہ کے ارتکاب کرنے والے کو جہنم کے عذاب اور جنت سے محرومی کی دھمکی سنائی گئی ہے، اور بعض میں اس سے ایمان کی نفی ہے، بعض میں رسول اکرم ﷺ نے اس سے اپنی براءت کا اعلان فرمایا ہے، بلکہ بعض میں اس پر کفر کا اطلاق ہوا ہے۔ وعدہ اور وعید سے متعلق مسئلہ کو اہل علم نے عقیدے کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے، اس لئے کہ ابتداء ہی میں ان احادیث کے سمجھنے میں اور اس سے مستفاد مسائل عقیدہ میں امت اسلامیہ اختلافات کا شکار ہوئی۔ اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ نصوص متواترہ کا مفاد ہے کہ امت مسلمہ کے بعض افراد اپنے کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کی سزا میں داخل جہنم ہوں گے، پھر سزا بھگتنے کے بعد اصل توحید و ایمان کی برکت سے وہاں سے نکل کر داخل جنت ہوں گے، جیسا کہ شفاعت کی احادیث میں واضح طور پر موجود ہے۔ علماء کا اس مسئلہ میں ایک مسلک یہ ہے کہ وعدوں سے متعلق احادیث کا ظاہری معنی ہی مراد ہے، اور کلمہ توحید و رسالت کے شروط اور تقاضوں کے پورے ہونے اور اس راہ کے موانع (رکاوٹوں) کے دور ہونے کے بعد ان وعدوں کا متحقق ہونا ضروری ولابدی ہے، اس لئے ان نصوص کو اسی طرح بیان کیا جائے گا، مثلاً حدیث میں ہے کہ جس شخص نے «لا الہ إلا اللہ» کہا وہ جنت میں داخل ہوا، اور جہنم کو اللہ نے اس پر حرام کر دیا، یا جس نے ایسا کیا جنت میں داخل ہوا وغیرہ وغیرہ، تو جنت کا یہ دخول اس صورت میں ہو گا جب کلمہ توحید کی شرائط اور تقاضے پورے کیے ہوں گے، اور دخول جنت کی راہ کے موانع (رکاوٹیں) دور کی ہوں گی، ان احادیث میں صرف یہ ہے کہ یہ جنت میں جانے یا جہنم سے نجات کا سبب ہیں، اور سبب کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اس کے ہونے سے مسبب (نتیجہ) کا برآمد ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ وعدہ کے پورا ہونے کے لئے شروط و قیود کا پایا جانا، اور موانع (رکاوٹوں) کا دور ہونا ضروری ہے۔ لیکن ان احادیث کو کسی خاص آدمی پر چسپاں کر کے اس کو جنت یا جہنم کا مستحق قرار دینا اس لئے صحیح نہیں ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس مخصوص بندے نے کیا اس کلمہ کی شرائط اور تقاضے پورے کیے ہیں؟ جس سے وہ جنت کامستحق ہے، اور دخول جنت سے مانع چیزوں کو دور کر دیا ہے یا نہیں؟۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا یہی مسلک ہے، امام بخاری نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث: «ما من عبد قال: لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك، إلا دخل الجنة» کے بارے میں فرمایا: «هذا عند الموت أو قبله، إذا تاب، وندم وقال: لا إله إلا الله غفر له» یہ موت کے وقت یا موت سے پہلے جب بندہ نے توبہ کی، نادم ہوا، اور «لا إله إلا الله» کہا، تو اس کو بخش دیا جائے گا چنانچہ توبہ و ندامت، اور کلمہ «لا إله إلا الله» پر موت سے جنت میں داخلہ کی شروط اور شہادت میں قدح کرنے والی رکاوٹوں کی نفی ہو گئی، اور بندہ جنت میں چلا گیا۔ علامہ سلیمان بن عبداللہ تیسیرالعزیز الحمید (۷۲) میں فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اس کلمہ توحید کو اس کے معنی کی معرفت و سمجھ کے ساتھ کہا، اور ظاہر و باطن میں اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ یہ احادیث مطلق ہیں، دوسری احادیث میں ان کی قیود و شروط آئی ہیں، اس لئے قید و شرط پر ان مطلق احادیث کو پیش کرنا ضروری ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے دونوں جوتوں کو لے کر جاؤ، اور اس باغ کے پرے جو «لا الہ إلا اللہ» کہنے، اور اس پر دل سے یقین رکھنے والا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو ۔ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کئے بغیر مر گیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ جس نے خلوص دل سے «لا إلہ الا اللہ» کی گواہی دی، یا یقین قلب کے ساتھ گواہی دی وہ جہنم میں نہیں جائے گا، یا جنت میں جائے گا، نیز فرمایا: وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔ امام ابن رجب فرماتے ہیں: اس کی وضاحت یہ ہے کہ بندہ کا «لا إله إلا الله» کہنا اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ غیر اللہ کے معبود ہونے کی نفی کرے، اور «إلــه» ایسی قابل اطاعت (مطاع) ذات ہے کہ اس کی اہمیت کے سامنے، اس کی جلالت شان کے آگے، اس سے محبت کرکے، اس سے ڈر کر، اس سے امید کر کے، اس پر توکل کر کے، اس سے سوال کر کے، اور اس کو پکار کر اس کی نافرمانی نہیں کی جا سکتی، یہ ساری چیزیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں، تو جس نے ان الٰہی خصوصیات و امتیازات میں سے کسی چیز میں بھی کسی مخلوق کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا اس کے «لا إله إلا الله» کے کہنے کے اخلاص میں یہ قدح وطعن کی بات ہوئی، اور اس کی توحید میں نقص آیا، اور اس میں اسی مقدار میں مخلوق کی عبودیت متحقق ہوئی، اور یہ سب شرک کی شاخیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وعدہ سے متعلق احادیث کو اس کے ظاہر پر رکھا جائے، اور اس کو ویسے ہی بیان کیا جائے، اور اس کو کسی مخصوص آدمی پر منطبق (چسپاں) نہیں کیا جائے گا، اور اس وعدے یعنی دخول جنت کے وجود کے تحقق کے لئے ایسی شروط وقیود ہیں جن کا وجود ضروری ہے، اور اس کی تنفیذ کی راہ میں جو موانع اور رکاوٹیں حائل ہوں ان کا دور ہونا ضروری ہے۔ بعض علماء نے ان احادیث کو اس کے عام اور ظاہری معنی میں نہیں لیا ہے بلکہ وہ اس کی مختلف تاویلات کرتے ہیں، مثلاً کلمہ گو مسلمان («لا إله إلا الله» کے قائل) پر جہنم کے حرام ہونے کا مطلب ان کے نزدیک اس کا ہمیشہ ہمیش اور ابد الآباد تک جہنم میں نہ رہنا ہے، بلکہ اس میں داخل ہونے کے بعد وہ اس سے باہر نکلے گا، یا یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ کفار و منافقین کے جہنم کے ٹھکانوں میں داخل نہ کیا جائے گا، جب کہ بہت سے گنہگار موحد (مسلمان) جہنم کے اوپری طبقہ میں اپنے گناہوں کی پاداش میں داخل ہوں گے، اور اہل شفاعت کی شفاعت اور ارحم الراحمین کی رحمت سے وہ اس سے باہر نکل کر جنت میں جائیں گے، امام ابن قتیبہ اور قاضی عیاض انہی مذکورہ معانی کے اعتبار سے «لا إله إلا الله» کے قائلین کے جنت میں داخل ہونے کے استحقاق کی احادیث کے معنی و مراد کے بارے میں کہتے ہیں کہ آخری انجام و عاقبت کے اعتبار سے عذاب پانے کے بعد وہ جنت میں جائیں گے۔ بعض اہل علم کے نزدیک وعدہ سے متعلق احادیث ابتدائے اسلام یعنی فرائض اور اوامر و نواہی سے پہلے کی ہیں، ان کے بعد یہ منسوخ ہو گئی ہیں، اور و اجبات و فرائض ناسخ اور باقی ہیں۔ (الفریوائی)