TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان

Chapter 28 of Zuhd in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 28 of 39 · 5 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ،‏‏‏‏ وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ،‏‏‏‏ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا .
It was narrated that Umm Salamah said: “By the One Who took his (ﷺ) soul, he did not die until most of his prayers were offered sitting down. And the most beloved of deeds to him was a righteous deed which a person persists in doing, even if it is something small.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ( اللہ ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( دنیا سے ) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز ( تہجد ) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔
Takhreej
«انظر حدیث رقم:(۱۲۲۵)
Explanation
جو کام ہمیشہ کیا جائے گرچہ وہ روزانہ تھوڑا ہی ہو وہی بہت ہو جاتا ہے، اور جو بہت کیا جائے لیکن ہمیشہ نہ کیا جائے وہ تھوڑا ہی رہتا ہے۔
4237
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ،‏‏‏‏ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذِهِ؟ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ،‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
It was narrated that ‘Aishah said: “There was a woman with me, and the Prophet (ﷺ) entered upon me and said: ‘Who is that?’ I said: ‘So-and-so; she does not sleep,’” – she mentioned her excessive praying. “The Prophet (ﷺ) said: ‘Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.’” She said: “The most beloved of religious deed to him was that in which a person persists.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے ( نماز پڑھتی رہتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المسافرین ۳۲ (۷۸۵)،(تحفة الأشراف:۱۶۸۲۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ۳۳ (۴۳)، التہجد ۱۸ (۱۱۵۱)، سنن النسائی/قیام اللیل ۱۵ (۱۶۴۳)، الإیمان ۲۹ (۵۰۳۸)،، موطا امام مالک/قصرالصلاة ۲۴ (۹۰)مسند احمد (۶/۵۱)
4238
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْحَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ،‏‏‏‏ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيَ الْعَيْنِ،‏‏‏‏ فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي وَوَلَدِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرْتُ الَّذِي كُنَّا فِيهِ،‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَافَقْتُ نَافَقْتُ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّا لَنَفْعَلُهُ،‏‏‏‏ فَذَهَبَ حَنْظَلَةُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا حَنْظَلَةُ،‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ أَوْ عَلَى طُرُقِكُمْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً .
It was narrated that Hanzalah Tamimi Al-Usaiyidi, the scribe, said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and we spoke of Paradise and Hell until it was as if we could see them. Then I got up and went to my family and children, and I laughed and played (with them). Then I remembered how we had been, and I went out and met Abu Bakr, and said: ‘I have become a hypocrite!’ Abu Bakr said: ‘We all do that.’” So Hanzalah went and mentioned that to the Prophet (ﷺ), who said: “O Hanzalah, if you were (always) as you are with me, the angels would shake hands with you in your beds and in your streets. O Hanzalah, there is a time for this and a time for that.”
حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حنظلہ! اگر ( اہل و عیال کے ساتھ ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں ( یا راستوں ) میں تم سے مصافحہ کریں، حنظلہ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/التوبة ۳ (۲۷۵۰)، سنن الترمذی/صفة القیامة ۲۰ (۲۴۵۲)،(تحفة الأشراف:۳۴۴۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۷۸ا،۳۴۶)
4239
Sahih
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ،‏‏‏‏ فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Take on only as much as you can do of good deeds, for the best of deeds is that which is done consistently, even if it is little
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے، خواہ وہ کم ہی ہو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۹۴۲، ومصباح الزجاجة:۱۵۱۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۵۰)
4240
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ،‏‏‏‏ فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ انْصَرَفَ،‏‏‏‏ فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ،‏‏‏‏ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا .
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man who was praying on a rock, and he went towards Makkah and stayed a while, then he left and found the man still praying as he had been. He stood up and clasped his hands, then said: “O people, you should observe moderation,” three times, “for Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے ( ثواب دینے سے ) یہاں تک کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۵۷۰، ومصباح الزجاجة:۱۵۱۶)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت کی متابعت بہتر ہے، یعنی اسی قدر نماز اور روزہ اور وظائف پر مداومت کرنا جس قدر رسول اکرم ﷺ سے ثابت اور منقول ہے، اور اس میں شک نہیں کہ سنت کی پیروی ہر حال میں بہتر اور باعث برکت اور نور ہے، اور بہتر طریقہ وہی ہے جو وظاف و اوراد اور نوافل میں رسول اکرم ﷺ سے منقول ہے، انہی و ظائف واوراد پر قناعت کرے اور اہل و عیال اور دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی مشغول رہے جیسے رسول اکرم ﷺ کرتے تھے۔
4241
Sahih

Chapters

39
01
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
02
دنیا کے غم و فکر کا بیان
3 Hadith
03
دنیا کی مثال
7 Hadith
04
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
5 Hadith
05
فقراء کی فضیلت
2 Hadith
06
فقراء کا مقام و مرتبہ
3 Hadith
07
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
4 Hadith
08
مالداروں کا بیان
8 Hadith
09
قناعت کا بیان
7 Hadith
10
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
7 Hadith
11
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
4 Hadith
12
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
5 Hadith
13
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان
4 Hadith
14
توکل اور یقین کا بیان
5 Hadith
15
حکمت و دانائی کا بیان
4 Hadith
16
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان
7 Hadith
17
شرم و حیاء کا بیان
6 Hadith
18
حلم اور بردباری کا بیان
4 Hadith
19
غمگین ہونے اور رونے کا بیان
8 Hadith
20
عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان
4 Hadith
21
ریا اور شہرت کا بیان
6 Hadith
22
حسد کا بیان
3 Hadith
23
بغاوت و سرکشی کا بیان
4 Hadith
24
ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
6 Hadith
25
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
6 Hadith
26
نیت کا بیان
4 Hadith
27
انسان کی آرزو اور عمر کا بیان
6 Hadith
28
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
29
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان
5 Hadith
30
توبہ کا بیان
11 Hadith
31
موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان
8 Hadith
32
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان
7 Hadith
33
حشر کا بیان
9 Hadith
34
امت محمدیہ کی صفات
11 Hadith
35
روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
8 Hadith
36
حوض کوثر کا بیان
6 Hadith
37
شفاعت کا بیان
11 Hadith
38
جہنم کے احوال و صفات کا بیان
10 Hadith
39
جنت کے احوال و صفات کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.