It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“You will come to me with radiant faces, hands and feet from the traces of ablution. This is the characteristic sign of my nation which does not belong to anyone else.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا ۔
It was narrated that ‘Abdullah said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in a tent, and he said: ‘Will it not please you to be one quarter of the people of Paradise?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Will it not please you to be one third of the people of Paradise?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, I hope that you will be half of the people of Paradise. For no one will enter Paradise but a Muslim soul, and among the people of polytheism you are like a white hair on the hide of a black bull, or like a black hair on the hide of a red bull.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو ، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو ، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الرقاق ۴۵ (۶۵۲۶)، صحیح مسلم/الإیمان ۹۵ (۲۲۱)، سنن الترمذی/صفة الجنة ۱۳ (۲۵۴۷)،(تحفة الأشراف:۹۴۸۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ۲۴ (۸۸)، مسند احمد (۱/۳۸۶،۴۳۷،۴۴۵)
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“A Prophet will come accompanied by two men, and a Prophet will come accompanied by three, and (some will come) with more or less than that. It will be said to him: ‘Did you convey the message to your people?’ And he will say: ‘Yes.’ Then his people will be called and it will be said: ‘Did he convey the message to you?’ They will say: ‘No.’ Then it will be said: ‘Who will bear witness for you?’ He will say: ‘Muhammad and his nation.’ So the nation of Muhammad will be called and it will be said: ‘Did this man convey the message?’ They will say: ‘Yes.’ He will say: ‘How did you know that?’ They will say: ‘Our Prophet told us that the Messengers had conveyed the message, and we believed him.’ This is what Allah says: “Thus We have made you, a just (and the best) nation, that you be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad (ﷺ)) be a witness over you.’” [2:143]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر ( سورة البقرة: 143 ) کا مطلب ہے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۳ (۳۳۳۹)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۳ (۲۹۶۱)،(تحفة الأشراف:۴۰۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۹،۳۲،۵۸)
It was narrated that Rifa’ah Al-Juhani said:
“We came back (from a campaign) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, there is no person who believes then stands firm, but he will be caused to enter Paradise. I hope that they will not enter it until you and those who are righteous among your offspring will enter it and take up your dwelling places therein. And my Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account.’”
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۶۱۱، ومصباح الزجاجة:۱۵۳۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶)
Abu Umamah Al-Bahili said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘My Lord has promised me that seventy thousand of my nation will enter Paradise without being brought to account or punished. With every thousand will be (another) seventy thousand, and three handfuls of my Lord, the Glorified.’”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب ( سبحانہ و تعالیٰ ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/صفة القیامة ۱۲ (۲۴۳۷)،(تحفة الأشراف:۴۹۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۶۸)
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On the Day of Resurrection, we will complete seventy nations, of whom we are the last and the best.’”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۰۱)،(تحفة الأشراف:۱۱۳۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴۴۷۴،۵/۳،۵)، سنن الدارمی/الرقاق ۴۷ (۲۸۰۲)
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, that his grandfather said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You complete seventy nations, of which you are the best and dearest to Allah.’”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:
“The people of Paradise are one hundred and twenty ranks, eighty from this nation and forty from all other nations.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/صفة الجنة ۱۳ (۲۵۴۶)،(تحفة الأشراف:۱۹۳۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۴۷،۳۵۵،۳۶۱)سنن الدارمی/الرقاق ۱۱۱ (۲۸۷۷)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:
“We are the last of the nations, and the first to be brought to account. It will be said: ‘Where is the unlettered nation and its Prophet?’ So we are the last and the first.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۵۰۰، ومصباح الزجاجة:۱۵۳۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶)
It was narrated from Abu Burdah that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When Allah gathers all creatures on the Day of Resurrection, permission will be given to the nation of Muhammad to prostrate, so they will prostrate to Him for a long time. Then it will be said: “Raise your heads, for a certain number of you will go to Hell-fire and these will be your ransom from Hell.”*
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجة،(تحفة الأشراف:۹۱۱۱، ومصباح الزجاجة:۱۵۳۶)
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“This nation has been granted mercy (in the Hereafter) and its torment (in this world) is at the hands of one another. When the Day of Resurrection comes, each Muslim man will be given a man from among the idolaters and it will be said: ‘This is your ransom from the Fire.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے ( یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے ) ، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۴۹، ومصباح الزجاجة:۱۵۳۷)