It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was more modest than a virgin in her chamber. If he disliked something, that could be seen in his face.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔
Takhreej
«صحیح البخاری/المناقب ۲۳ (۳۵۶۲،۳۵۶۳)، صحیح مسلم/الفضائل ۱۶ (۲۳۲۰)،(تحفة الأشراف:۴۱۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۷۱،۷۹،۸۸،۹۱،۹۲)
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۳۷، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۴)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۴۵۱، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۵)
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amr, Abu Mas’ud, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Among the words that people learned from the earlier Prophets are: ‘If you feel no shame, then do as you wish.’”
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۵۴ (۳۴۸۳)، سنن ابی داود/الأدب ۷ (۴۷۹۷)،(تحفة الأشراف:۹۹۸۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۲۱،۱۲۲،۵/۲۷۳)
It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Modesty is part of faith, and faith will be in Paradise. Obscenity in speech is part of harshness and harshness will be in Hell.’”
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» ( ظلم و زیادتی ) ہے اور «جفا» ( ظلم زیادتی ) کا بدلہ جہنم ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۶۷۰، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۶)
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There is never any obscenity in a thing, but it mars it, and there is never any modesty in a thing, but it adorns it.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/البروالصلة ۴۷ (۱۹۷۴)،(تحفة الأشراف:۴۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶۵)
It was narrated from Sahl bin Mu’adh bin Anas, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever restrains his anger when he is able to implement it, Allah will call him before all of creation on the Day of Resurrection, and will give him his choice of any houri that he wants.”
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأدب ۳ (۴۷۷۷)، سنن الترمذی/البروالصلة ۷۴ (۲۰۲۱)، وصفة القیامة ۴۸ (۲۴۹۳)،(تحفة الأشراف:۱۱۲۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۳۸،۴۴۰)
Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“We were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘The delegations of ‘Abdul-Qais have come to you,’ and no one had seen anyone. While we were like that, they came and alighted. They came to the Messenger of Allah (ﷺ) and Ashajj ‘Ansari was left behind. He came afterwards, and halted at the halting-place, made his she-camel kneel down, and changed of his traveling clothes, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Ashajj, you have two characteristics that Allah likes: Forbearance and deliberation.’ He said: ‘O Messenger of Allah, was I born with them or are they acquired?’ He said: ‘No, rather it is something that you were born with.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ پیدائشی ہیں ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۲۶۵، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۷)
Explanation
اس سے معلوم ہوا کہ حلم اور وقار انسان میں فطری ہوتا ہے، اسی طرح غصہ اور جلد بازی بھی پیدائشی فطری ہوتے ہیں، لیکن اگر آدمی محنت کرے اور نفس پر بار ڈالے تو بری صفات اور برے اخلاق دور ہو سکتے ہیں، یا کم ہو سکتے ہیں،محققین علماء کا یہی قول ہے، اور اگر برے اخلاق کا علاج ممکن نہ ہوتا تو تعلیم اخلاق،محنت و ریاضت اور مجاہدہ کا کچھ فائدہ ہی نہ ہوتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ فطری عیوب بہت مشکل سے جاتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said to Ashajj ‘Ansari:
“You have two characteristics that Allah likes: Forbearance and modesty.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۵۳۱، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البروالصلة ۶۶ (۲۰۱۱)
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There is no gulp that brings greater reward with Allah than a gulp of anger that a man swallows (suppresses), seeking thereby the Face of Allah.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۹۰، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۲۸)
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“I see what you do not see, and I hear what you do not hear. The heaven is creaking and it should creak, for there is no space in it the width of four fingers but there is an angel there, prostrating to Allah. By Allah, if you knew what I know, you would laugh little and weep much, and you would never enjoy women in your beds, and you would go out in the streets, beseeching Allah.’”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے ، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۹۸۶)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد ۹ (۲۳۱۲)، مسند احمد (۳/۱۷۳)
‘Amir bin ‘Abdullah bin Zubair narrated that his father told him that there was no more than four years between their becoming Muslim and the revelation of this Verse, by which Allah reprimanded them:
“Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened? And many of them were rebellious.” [57:16]
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اسلام اور اس آیت «ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون» اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ( سورة الحديد: 16 ) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۲۶۶، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۰)
Explanation
یعنی ان لوگوں کی طرح نہ ہو جن کو اگلے زمانہ میں کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت دراز گزری تو ان کے دل سخت ہو گئے ان میں بہت سے لوگ فاسق ہیں
It was narrated that ‘Abdullah said:
“The Prophet (ﷺ) said to me: ‘Recite Qur’an to me,’ so I recited Surat An-Nisa’ to him, and when I reached (the Verse): “How (will it be) then, when We bring forth from each nation a witness and We bring you as a witness against these people?” [4:41] I looked at him, and his eyes were filled with tears.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے ( سورة النساء: 41 ) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ۵ (۳۰۲۴)،(تحفة الأشراف:۹۴۲۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن ۹ (۴۵۸۲)، فضائل القرآن ۳۲ (۵۰۴۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۴۰ (۸۰۰)، سنن ابی داود/العلم ۱۳ (۳۶۶۸)، مسند احمد (۱/۳۰۸،۴۳۲)
Explanation
اپنی امت کے برے اعمال کا خیال کر کے اور اس پر کہ مجھے ان پر گواہی دینی پڑے گی، اے مسلمانو! رسول اکرم ﷺ سے شرم کرو اور کوشش کرو کہ رسول اکرم ﷺ تمہارے نیک اعمال کے گواہ ہوں، اور برے اعمال کر کے آپ کو رنج مت دو، اور ضد نفسانیت اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو، جو طریقہ حق ہے یعنی اتباع قرآن اور حدیث اس کو اختیار کرو تمہارے نبی تم سے راضی رہیں گے۔
It was narrated that Bara’ said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at a funeral, and he sat at the edge of the grave weeping, until the ground became wet. Then he said: ‘O my brothers, prepare yourselves for something like this.’”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کر لو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۹۱۲، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۹۴)
Explanation
تم اس طرح ایک دن تنگ و تاریک قبر میں ڈالے جاؤ گے، نہ کوئی یار ہو گا، نہ مددگار، نئی راہ اور راہ بتانے والا کوئی نہیں، نہ رفیق صرف اپنے نیک اعمال رفیق ہوں گے، باقی سب چھٹ جائیں گے، مال متاع آل و اولاد، وغیرہ سب یہیں رہ جائیں گے، اور مرنے کے بعد تم کو مٹی میں دبا کے لوٹ کر عیش کریں گے، جب یہ حال ہے تو تم ان کی محبت میں اللہ تعالی کو مت بھولو، نیک اعمال کو ہرگز نہ چھوڑو، اس کو اپنا محبوب اور رفیق سمجھو، جو رشتہ داروں، دوستوں اور بیوی بچوں سے ہزار درجہ بہتر ہے، وہ تمہارا ساتھ کبھی نہ چھوڑے گا، جب نبی اکرم ﷺ دیکھ کر اتنا روئے کہ زمین تر ہو گئی حالانکہ آپ کو اپنی نجات کا یقین تھا، تو ہم اگر آنسوؤں کی ندی بہا دیں بلکہ ساری عمر رویا کریں تو زیبا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہاں ہمارا کیا حال ہو گا۔ «اللهم اغفر لنا وارحمنا»، آمين۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There is no believing slave who sheds tears, even if they are like the head of a fly, out of fear of Allah, and they roll down his cheeks, but Allah will forbid him to the Fire.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مومن کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو بہہ نکلیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، پھر وہ اس کے رخساروں پر بہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۳۴۴، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۳)
It was narrated that ‘Aishah said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, ‘And those who give that (their charity) which they give (and also do other good deeds) with their hearts full of fear.” [23:60] Is this the one who commits adultery, steals and drinks alcohol?’ He said: ‘No, O daughter of Abu Bakr’ – O daughter of Siddiq – rather it is a man who fasts and gives charity and prays, but he fears that those will not be accepted from him.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ( سورة الومنون: 60 ) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۲۴ (۳۱۷۵)،(تحفة الأشراف:۱۶۳۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۹،۲۰۵)
Mu’awiyah bin Abu Sufyan said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Deeds are like vessels. If the lower part is good then the upper part will be good, and if the lower part is bad then the upper part will be bad.’”
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۴۵۸، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۹۴)
Explanation
پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔