TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5583 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 18 of 46 in this chapter
بَاب الْحَوْض والشفاعة
حوض اور شفاعت کا بیان
وَفِي رِوَايَة لَهُ عَن أبي سعيدٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ: وَيَذْكُرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ. قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أَعْطَى أَحَدٌ مثلَ مَا أَعْطَيْت
اور صحیح مسلم ہی کی ابوسعید ؓ سے مروی حدیث اسی طرح ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا :’’ وہ فرمائے گا : ابن آدم ! کون سی چیز تجھے مجھ سے (سوال کرنے سے) باز رکھے گی ؟‘‘ آخر حدیث تک ، اور اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اللہ اسے یاد کرائے گا ، فلاں چیز مانگو ، فلاں چیز مانگو ، حتی کہ جب اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : وہ (جو تو نے مانگا) تیرے لیے ہے اور اس سے دس گنا مزید تیرے لیے ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا تو حورعین سے اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی ، تو وہ کہیں گی : ہر قسم کی حمد و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے تجھے ہماری خاطر اور ہمیں تیری خاطر پیدا فرمایا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (بندہ) کہے گا : جو مجھے عطا کیا گیا ہے ویسا کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
5583
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۳۱۱ / ۱۸۸) ۔ 464

Related Chapters

34
1
Chapter: How To Perform Salat For The Deceased, And Interceding For Him
باب: نماز جنازہ اور میت کے لیے شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
باب: قیامت کے دن کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
5
باب: صرف موحد ہی شفاعت نبوی کا مستحق ہو گا
Jam e Tirmazi
6
باب: حوض کوثر کا بیان
Jam e Tirmazi
7
باب: حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: قیامت کے دن شفاعت پر ایک اور حدیث
Jam e Tirmazi
9
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
Musnad Ahmad
10
شفاعت کے منکرین کا رد
Musnad Ahmad
11
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
Musnad Ahmad
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
14
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
Musnad Ahmad
19
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
Musnad Ahmad
20
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
Musnad Ahmad
21
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
22
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
Musnad Ahmad
23
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
(10) CHAPTER. Whoever thinks that the owner of a tank, or a leather water-containe has a more.
جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حقدار ہے
Sahih Bukhari
25
(20) CHAPTER. To drink water from a basin by putting one's mouth in it.
حوض سے منہ لگا کر پانی پینا جائز ہے
Sahih Bukhari
26
(53) CHAPTER. (What is said) regarding Al-Haud (the Prophet's Tank - Al-Kauthar).
حوضکوثر کے بیان میں
Sahih Bukhari
27
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
Sahih Muslim
28
Chapter: He (SAW) Was The Seal Of The Prophets
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض اور اس کی خصوصیات:۔
Sahih Muslim
29
CHAPTER: Regarding The Acceptance Of The Martyr’s Intercession.
باب: شہید کی شفاعت کی قبولیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Intercession.
باب: شفاعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Questioning And Punishment In The Grave.
باب: حوض کوثر کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
حوض اور تالاب کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
33
حوض کوثر کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
34
شفاعت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Sahih Muslim
464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَيَقُولُ: «يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟» إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ: وَيُذَكِّرُهُ اللهُ، سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا، وَأَحْيَانَا لَكَ ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ
It is transmitted from Abu Sa'id al-Khudri that, verily, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Amongst the inhabitants of Paradise the lowest in rank will be the person whose face Allah would turn away from the Fire towards the Paradise, and make a shady tree appear before him. He would say: O my Lord! direct my steps to this tree so that I (should enjoy) its shade; and the rest of the hadith is like that narrated by Ibn Mas'ud, but he did not mention: He (Allah) would say: O son of Adam! what will bring an end to your making requests to Me to the end of the tradition. In it, he added: Allah will remind him: Ask such and such, and when his expectations would be realised, Allah would say: That is for you, and ten times as much. He said that he would then enter his house and his two wives with large and dark eyes would enter after him. They will say: Praise be to Allah, Who has created you for us and us for you. He will say: No one has been given the like of what I have been given.
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہوگا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی ، وہ کہے گا : اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں ..... ‘ ‘ آگے انہوں نے ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : ’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے..... ’’ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا : ’’اور ا للہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا : فلاں چیز مانگ ، فلاں چیزطلب کر ۔ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گناہ اور بھی ۔ ‘ ‘ آپﷺ نے فرمایا : ’’پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی : اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی ۔ آپ نے فرمایا : تو وہ کہے گا : جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا ۔ ‘ ‘
Silsila Sahih
1447
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ الله وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَكُونَ فِي ظِلِّهَا فَقَالَ اللهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: لَا وَعِزَّتِكَ! فَقَدَّمَهُ الله إِلَيْهَا وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ وَثَمَرٍ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا فَقَالَ الله لَهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ فَيُقَدِّمُهُ الله إِلَيْهَا فَتُمَثَّلُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرٍ وَمَاءٍ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَيُقَدِّمُهُ اللهُ إِلَيْهَا فَيَبْرُزُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَأَكُونَ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّةِ وَأَنْظُرَ إِلَى أَهْلِهَا فَيُقَدِّمُهُ الله إِلَيْهَا فَيَرَى أَهْلَ الْجَنَّةِ وَمَا فِيهَا فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُدْخِلُهُ الله الْجَنَّةَ قَالَ: فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ: هَذَا لِي؟! قَالَ: فَيَقُولُ الله عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى وَيُذَكِّرُهُ الله سَلْ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ الله عَزَّ وَجَلَّ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ لَهُ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ قَالَ: وَأَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يُنْعَلُ مِنَ نَّارٍ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ .
) ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: درجے كے اعتبار سے سب سے كم درجے والا جنتی وہ آدمی ہو گا جس كا چہرہ اللہ تعالیٰ آگ سے ہٹا كر جنت كی طرف موڑ دیں گے اور اس كے لئے ایك سایہ دار درخت اگا دیں گے۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت كے قریب كر دے تاكہ اس كے سائے كے نیچے بیٹھ سكوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا: ممكن ہے اگر میں ایسا كر دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور سوال كرو ؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ، اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا۔ پھر اس كے لئے ایك سایہ دار پھل دار درخت بنا دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس كے قریب كر دے، میں اس كا سایہ حاصل كر سكوں اور اس كا پھل كھا سكوں۔ اللہ تعالیٰ كہے گا: ممكن ہے میں تمہیں یہ درخت دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور سوال كرو گے؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ۔ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا۔ اور اس كے لئے ایك اور پھل دار، سایہ دار اور پانی والا درخت بنا دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت كے قریب كر دے کہ میں اس كا سایہ حاصل كر سكوں، اس كا پھل كھاؤں اور پانی پیوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے كہے گا: ممكن ہے اگر میں ایسا كر دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور مطالبہ كرو ؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ، میں تجھ سے كوئی اور سوال نہیں كروں گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا اور جنت كا دروازہ اس كے سامنے ظاہر كر دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب مجھے اس دروازے كے قریب كر دے۔ میں جنت کے شیڈ کے نیچے بیٹھ جاؤں ، اور اہل جنت كی طرف دیكھتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت كے قریب كر دے گا، وہ انہیں اور جنت میں موجود نعمتوں كو دیكھے گا تو كہے گا: اے میرے رب ! مجھے جنت میں داخل كر دے۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل كر دے گا، جب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا تو كہے گا: كیا یہ میرے لئے ہے؟ اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا: تمنا كرو، وہ خواہش كا اظہار كرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے یاد كرواتا رہے گا کہ فلاں چیز مانگو، فلاں چیزمانگو، حتی كہ جب اس كی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تمہارے لئے ہیں اور دس گنا مزید۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل كر دے گا، اور حور عین سے اس كی دو بیویاں اس كے پاس بھیج دے گا۔ وہ دونوں اس سے كہیں گی: تمام تعریفات اس اللہ كے لئے جس نے تمہیں ہمارے لئے زندہ كیا اور ہمیں تمہارے لئے بنایا، وہ كہے گا: كسی بھی شخص كو اتنا نہیں دیا گیاجتنا مجھے دیا گیا ہے، اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے كم تر عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جسے آگ كے جوتے پہنائے جائیں گے اور جوتوں كی حرارت سے اس كا دماغ كھول رہاہوگا
Jam e Tirmazi
1071
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ أَحَدُكُمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا:‏‏‏‏ الْمُنْكَرُ وَالْآخَرُ النَّكِيرُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ مَا كَانَ يَقُولُ هُوَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ نَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ مِثْلَهُ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ:‏‏‏‏ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَخْتَلِفُ فِيهَا أَضْلَاعُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَزَالُ فِيهَا مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّهُمْ رَوَوْا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: When the deceased - or he said when one of you - is buried, two angels, black and blue (eyed_ come to him. One of them is called Al-Munkar, and the other An-Nakir. They say: 'What did you used to say about this man?' So he says what he was saying (before death) 'He is Allah's slave and His Messenger. I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger.' So they say: 'We knew that you would say this.' Then his grave is expanded to seventy by seventy cubits, then it is illuminated for him. Then it is said to him: 'Sleep.' So he said: 'Can I return to my family to inform them?' They say: 'Sleep as a newlywed, whom none awakens but the dearest of his family.' Until Allah resurrects him from his resting place. If he was a hypocrite he would say: 'I heard people saying something, so I said the same; I do not know.' So they said: 'We knew you would say that.' So the earth is told: 'Constrict him.' So it constricts around him, squeezing his ribs together. He continues being punished like that until Allah resurrects him from his resting place.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں پوچھتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ ( میت ) کہتا ہے: وہی جو وہ خود کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں تو وہ دونوں کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر طول و عرض میں ستر ستر گز کشادہ کر دی جاتی ہے، پھر اس میں روشنی کر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، وہ کہتا ہے: مجھے میرے گھر والوں کے پاس واپس پہنچا دو کہ میں انہیں یہ بتا سکوں، تو وہ دونوں کہتے ہیں: تو سو جا اس دلہن کی طرح جسے صرف وہی جگاتا ہے جو اس کے گھر والوں میں اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے، اور اگر وہ منافق ہے، تو کہتا ہے: میں لوگوں کو جو کہتے سنتا تھا، وہی میں بھی کہتا تھا اور مجھے کچھ نہیں معلوم۔ تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر زمین سے کہا جاتا ہے: تو اسے دبوچ لے تو وہ اسے دبوچ لیتی ہے اور پھر اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، ابن عباس، براء بن عازب، ابوایوب، انس، جابر، ام المؤمنین عائشہ اور ابوسفیان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ان سبھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق روایت کی ہے۔
Mishkat
126
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنه حَدثهمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجنَّة فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَة وَذكر لنا أَنه يفسح لَهُ فِي قَبره ثمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيث أنس قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثقلَيْن» وَلَفظه للْبُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں ، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ (اسی اثنا میں) دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تم اس شخص محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ جو مومن ہے ، تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اسے کہا جاتا ہے : جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو ، اللہ نے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے ۔ وہ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے ، رہا منافق و کافر شخص ، تو اسے بھی کہا جاتا ہے ۔ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، میں وہی کچھ کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے ، اسے کہا جائے گا : تم نے (حق بات) سمجھنے کی کوشش کی نہ پڑھنے کی ، اسے لوہے کے ہتھوڑوں کے ساتھ ایک ساتھ مارا جائے گا تو وہ چیختا چلاتا ہے جسے جن و انس کے سوا اس کے قریب ہر چیز سنتی ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری ۱۳۷۴) و مسلم ۔
Mishkat
130
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا الْمُنْكَرُ وَالْآخَرُ النَّكِيرُ فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرجل فَيَقُول مَا كَانَ يَقُول هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولَانِ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ هَذَا ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ نَمْ فَيَقُولُ أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ فَيَقُولَانِ نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ سَمِعت النَّاس يَقُولُونَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فتلتئم عَلَيْهِ فتختلف فِيهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيهَا مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ الله من مضجعه ذَلِك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے ۔ تو سیاہ فام نیلی آنکھوں والے دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں ۔ پس وہ کہتے ہیں ؟ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے ، پھر اس کی قبر کو طول و عرض میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس کے لیے اس میں روشنی کر دی جاتی ہے ، پھر اسے کہا جاتا ہے : سو جاؤ ، وہ کہتا ہے : میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ انہیں بتا آؤں ، لیکن وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سو جا ، جسے اس کے گھر کا عزیز ترین فرد ہی بیدار کرتا ہے ، حتیٰ کہ اللہ اسے اس کی خواب گاہ سے بیدار کرے گا ، اور اگر وہ منافق ہوا تو وہ کہے گا : میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے ہوئے سنا ، تو میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ، میں کچھ نہیں جانتا ، وہ فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے، پس زمین سے کہا جاتا ہے : اس پر تنگ ہو جا ، وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے ۔ اس سے اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر آ جائیں گی ، پس اسے اس میں مسلسل عذاب ہوتا رہے گا حتیٰ کہ اللہ اس کی اس خواب گاہ سے اسے دوبارہ زندہ کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۰۷۱) و ابن حبان (لاحسان : ۳۱۰۷) ۔
Mishkat
131
عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ ديني الْإِسْلَام فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ قَالَ فَيَقُول هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ وَمَا يُدْرِيكَ فَيَقُولُ قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ زَاد فِي حَدِيث جرير فَذَلِك قَول الله عز وَجل (يثبت الله الَّذين آمنُوا بالْقَوْل الثَّابِت) الْآيَة ثمَّ اتفقَا قَالَ فينادي مُنَاد من السَّمَاء أَن قد صدق عَبدِي فأفرشوه مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ وألبسوه من الْجنَّة قَالَ فيأتيه من روحها وطيبها قَالَ وَيفتح لَهُ فِيهَا مد بَصَره قَالَ وَإِن الْكَافِر فَذكر مَوته قَالَ وتعاد رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنَّ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ قَالَ فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا قَالَ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ ثمَّ يقيض لَهُ أعمى أبكم مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جبل لصار تُرَابا قَالَ فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب إِلَّا الثقلَيْن فَيصير تُرَابا قَالَ ثمَّ تُعَاد فِيهِ الرّوح» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
براء بن عازب ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں ، تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ آدمی جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، وہ کون تھے ؟ وہ جواب دے گا وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : تمہیں کس نے بتایا ؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، تو میں اس پر ایمان لے آیا اور تصدیق کی ، اس کا یہ جواب دینا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے :’’ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں ، سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔‘‘ فرمایا : آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا ، اسے جنتی بچھونا بچھا دو ، جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، وہ کھول دیا جاتا ہے ، وہاں سے معطر بادنسیم اس کے پاس آتی ہے ، اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے ، پھر آپ ﷺ نے کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا ہے ، دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : وہ شخص جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، کون تھے ؟ پھر وہی جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : اس نے جھوٹ بولا ، لہذا اسے جہنم سے بستر بچھا دو ۔ جہنم سے لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، فرمایا : جہنم کی حرارت اور وہاں کی گرم لو اس تک پہنچے گی ، فرمایا : اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر نکل جاتی ہیں ۔ پھر ایک اندھا اور بہرا داروغہ اس پر مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ جس کے پاس لوہے کا بڑا ہتھوڑا ہوتا ہے ، اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے ، وہ اس کے ساتھ اسے مارتا ہے تو جن و انس کے سوا مشرق و مغرب کے مابین موجود ہر چیز اس مار کو سنتی ہے ، وہ مٹی ہو جاتا ہے ، تو پھر روح کو دوبارہ اس میں لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۲۸۷ ح ۱۸۷۳۳) و ابوداؤد (۳۲۱۲ ، ۴۷۵۳) و الحاکم (۱/ ۳۷ ، ۳۸ ح ۱۰۷) و الطبرانی (المعجم الکبیر ۲۵/ ۲۳۸ ، ۲۴۰ ح ۲۵) و البیھقی فی شعب الایمان (۳۹۵) ۔
Mishkat
1630
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَة رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حوله كَأَن على رؤوسنا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ من السَّمَاء مَلَائِكَة بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ الله ورضوان قَالَ: «فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ» قَالَ: فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ - يَعْنِي بِهَا - عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِه الرّوح الطّيب فَيَقُولُونَ: فلَان بن فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى ينْتَهوا بهَا إِلَى سَمَاء الدُّنْيَا فيستفتحون لَهُ فَيفتح لَهُ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ينتهى بهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ - فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أخرجهم تَارَة أُخْرَى قَالَ: فتعاد روحه فيأتيه ملكان فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولُونَ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ الله فَيَقُولُونَ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُول: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاء أَن قد صدق فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ» قَالَ: وَيَأْتِيهِ رجل حسن الْوَجْه حسن الثِّيَاب طيب الرّيح فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْه يَجِيء بِالْخَيْرِ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي . قَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ الْمُسُوحُ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ قَالَ: فَتُفَرَّقُ فِي جسده فينتزعها كَمَا ينتزع السفود من الصُّوف المبلول فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ وَيخرج مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرّوح الْخَبيث؟ فَيَقُولُونَ: فلَان بن فُلَانٍ - بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يَنْتَهِي بهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سم الْخياط) فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّين فِي الأَرْض السُّفْلى فتطرح روحه طرحا ثُمَّ قَرَأَ: (وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرّيح فِي مَكَان سحيق) فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ: فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَن كذب عَبدِي فأفرشوا لَهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ فَيَأْتِيهِ حَرُّهَا وَسَمُومُهَا وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يسوؤك هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ وَفِي رِوَايَة نَحوه وَزَاد فِيهِ: إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ. وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ يَعْنِي الْكَافِرَ مَعَ الْعُرُوقِ فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا يُعْرِجَ رُوحَهُ مِنْ قبلهم . رَوَاهُ أَحْمد
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے ، ہم قبر تک پہنچ گئے ، ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی ، رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے پاس بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے ہوں ، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ، آپ ﷺ نے سر اوپر اٹھایا تو فرمایا :’’ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ آپ نے دو یا تین بار ایسے فرمایا ، پھر فرمایا :’’ بندہ مومن جب دنیا سے رابطہ توڑ کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو سورج کی طرح چمکتے دمکتے سفید چہروں والے فرشتے جنتی خوشبو اور جنتی کفن لے کر اس کے پاس آتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ حد نظر تک اس کے پاس سے بیٹھ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت ؑ تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں ، پاکیزہ روح ! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف چل ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ ایسے نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے ، وہ اسے اخذ کر لیتا ہے ، جب وہ اسے اخذ کر لیتا ہے تو وہ (فرشتے) اسے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اس کے پاس نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر اس کفن اور اس خوشبو میں لپیٹ لیتے ہیں ، اور پھر روئے زمین پر پائی جانے والی بہترین کستوری کی خوشبو اس سے نکلتی ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوتے ہیں ، اور یہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ خوشبو کیسی ہے ؟ تو وہ اس کے دنیا کے ناموں میں بہترین نام لے کے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں ، اور اس کے لیے دروازہ کھولنے کی اجازت طلب کرتے ہیں ، تو وہ ان کے لیے کھول دیا جاتا ہے ، پھر ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں حتیٰ کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بندے کا نامۂ اعمال علّیین میں لکھ دو اور اسے واپس دنیا کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے ، اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور دوبارہ پھر اسی سے انہیں نکالوں گا ۔‘‘ فرمایا :’’ اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے تو دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ آدمی جو تم میں مبعوث کیا گیا ، کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، وہ پوچھتے ہیں : تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تو میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، پس آسمان سے آواز آتی ہے : میرے بندے نے سچ کہا : اس کے لیے جنتی بچھونا بچھا دو ، اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہاں سے ہوا کے جھونکے اور خوشبو اس کے پاس آتی ہے ، اور حد نظر تک اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ خوبصورت چہرے ، خوبصورت لباس اور بہترین خوشبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے تو وہ کہتا ہے : اس چیز سے خوش ہو جا جو چیز تجھے خوش کر دے ، یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا ، تو وہ اس سے پوچھتا ہے : تو کون ہے ؟ تیرا چہرہ بھلائی لانے والا چہرہ ہے ، وہ جواب دیتا ہے : میں تیرا عمل صالح ہوں ، وہ کہتا ہے : میرے رب ! قیامت قائم فرما ، میرے رب قیامت قائم فرما حتیٰ کہ میں اپنے اہل و مال کی طرف چلا جاؤں ۔‘‘ فرمایا :’’ جب کافر دنیا سے رابطہ منقطع کر کے آخرت کی طرف توجہ کرتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے بالوں سے بنا ہوا ایک کمبل لے کر آسمان سے نازل ہوتے ہیں ، وہ اس سے حد نظر کے فاصلے تک بیٹھ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں : خبیث روح ! اللہ کی ناراضی کی طرف چل ، فرمایا : وہ (روح) اس کے جسد میں پھیل جاتی ہے ، تو وہ اسے ایسے کھنچتا ہے جیسے لوہے کی سلاخ کو گیلے اون سے کھینچا جاتا ہے ، وہ (ملک الموت) اسے اخذ کر لیتا ہے ، جب وہ اسے اخذ کرتا ہے تو وہ (فرشتے) پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے حتیٰ کہ وہ اسے اس بالوں سے بنے ہوئے کمبل میں لپیٹ لیتے ہیں ، اور اس سے زمین کے مردار سے نکلنے والی انتہائی بری بدبو نکلتی ہے ، وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں ، کیسی خبیث روح ہے ؟ وہ کہتے ہیں : فلاں بن فلاں کی ، اور وہ اس کا دنیا کا انتہائی قبیح نام لے کر بتاتے ہیں ، حتیٰ کہ اسے آسمان دنیا تک لے جایا جاتا ہے ، اس کے لیے دروازے کھولنے کے لیے درخواست کی جاتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ان کے لیے آسمان کے روازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں بھی داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں سے گزر جائے ۔‘‘ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ اس کی کتاب کو سب سے نچلی زمین میں سجین میں لکھ دو ، پھر اس کی روح کو شدت کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا ، تو اب پرندے اسے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پر پھینک دے ۔‘‘ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے : ہائے ! افسوس ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ شخص جو تم میں مبعوث کیا گیا کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : ہائے ! افسوس ! میں نہیں جانتا ، آسمان سے آواز آتی ہے ، اس نے جھوٹ بولا ، اس کے لیے جہنم سے بچھونا بچھا دو ، اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، وہاں سے گرمی اور گرم ہوا اسے آتی رہے گی اور اس کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری کے اندر داخل ہو جائیں گی ، اور ایک قبیح چہرے والا شخص ، قبیح لباس اور انتہائی بدبودار حالت میں اس کے پاس آئے گا اور اسے کہے گا : تمہیں ایسی چیزوں کی خوشخبری ہو جو تجھے غم زدہ کر دیں ، یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا ، وہ پوچھے گا تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے کسی خیر کی توقع نہیں ، وہ جواب دے گا : میں تیرا خبیث عمل ہوں ، تو وہ کہے گا : میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے :’’ جب اس (مومن) کی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان کے مابین اور آسمان کے تمام فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا طلب کرتے ہیں ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ہر دروازے والے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے بلند کی جائے ، اور اس یعنی کافر کی روح رگوں سمیت کھینچی جاتی ہے اور زمین و آسمان کے مابین والے تمام فرشتے اور آسمان والے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ، آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور تمام دربان فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح کو ہماری طرف سے بلند نہ کیا جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
Mishkat
2930
عَن زهرَة بن معبد: أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأسه ودعا لَهُ بِالْبركَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے ، پھر ابن عمر ؓ اور ابن زبیر ؓ انہیں ملتے تو وہ انہیں (عبداللہ بن ہشام ؓ سے) کہتے : ہمیں بھی شریک کر لو ، کیونکہ نبی ﷺ نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے ، وہ انہیں شریک کر لیتے ، بسا اوقات انہیں پورے اونٹ کے سامان کا نفع ہو جاتا تو وہ اسے اپنے گھر کی طرف بھیج دیتے ، اور عبداللہ بن ہشام ؓ کو ان کی والدہ نبی ﷺ کے پاس لے کر گئی تھیں تو آپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی ۔
Mishkat
5581
وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ غَيْرَ كَشْفِ السَّاقِ وَقَالَ: يُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ الرُّسُلُ وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جهنمَ كلاليب مثلُ شوك السعدان وَلَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمر الْمَلَائِكَة أَن يخرجُوا من يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجنَّةِ والنارِ وَهُوَ آخرُ أهلِ النارِ دُخولاً الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رب اصرف وَجْهي عَن النَّار فَإِنَّهُ قد قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا. فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَيَقُول: وَلَا وعزَّتكَ فيُعطي اللَّهَ مَا شاءَ اللَّهُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النارِ فإِذا أقبلَ بِهِ على الجنةِ وَرَأى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الجنةِ فَيَقُول الله تبَارك وَتَعَالَى: الْيَسْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ. فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتُ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ. فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ فَسَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ أَذِنَ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ ومثلُه معَه وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذلكَ وعشرةُ أمثالِه . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم روزِ قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ انہوں نے ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کا مفہوم بیان کیا ، البتہ پنڈلی کھولنے کا ذکر نہیں کیا ، اور فرمایا :’’ جہنم کے دونوں کناروں پر پل قائم کیا جائے گا ، تمام رسولوں سے پہلے میں اپنی امت کے ساتھ اس (پل) کو عبور کروں گا ، اس دن صرف رسول ہی کلام کریں گے اور اس دن رسولوں کا کلام یہی ہو گا : اے اللہ ! سلامتی عطا فرمانا ، اے اللہ سلامتی عطا فرمانا ، اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے ، اور ان (آنکڑوں) کے طول و عرض کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے ، چنانچہ ان میں سے ایسے بھی ہوں گے جو ہلاک ہو جائیں گے ، اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو کاٹ ڈالے جائیں گے پھر (گرنے سے) بچ جائیں گے ، حتی کہ جب اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور وہ جہنم سے نکالنے کا ارادہ فرمائے گا تو وہ جنہیں اس سے نکالنے کا ارادہ فرمائے گا وہ ایسے ہوں گے جو یہ گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ فرشتوں کو حکم فرمائے گا کہ اللہ کی عبادت کرنے والوں کو نکالیں ، وہ انہیں نکالیں گے ، اور وہ انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے ، اور اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشانات (کی جگہ) کو کھائے ، آگ انسان کے سجدوں کے نشانات کے سوا باقی تمام اعضاء کو کھا جائے گی ، اور وہ آگ سے نکال لیے جائیں گے درآنحالیکہ وہ جل چکے ہوں گے پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا اور وہ ایسے نمودار ہوں گے جس طرح سیلابی مٹی سے دانہ اگ آتا ہے ، جنت اور جہنم کے مابین ایک آدمی باقی رہ جائے گا ، اور جنت میں داخل ہونے والا وہ آخری جہنمی ہو گا ، اس کا چہرہ جہنم کی آگ کی طرف ہو گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میرا چہرہ جہنم سے دوسری طرف کر دے ، (کیونکہ) اس کی بدبو نے مجھے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس کے شعلوں نے مجھے جلا دیا ہے ، رب تعالیٰ فرمائے گا : کیا ایسا تو نہیں کہ اگر میں نے یہ کر دیا تو تو اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز کا سوال کر دے ، وہ عرض کرے گا : تیری عزت کی قسم ! نہیں (کوئی اور سوال نہیں کروں گا) ، وہ جو اللہ چاہے گا ، اللہ کو عہد و میثاق دے گا تو اللہ اس کے چہرے کو آگ سے دوسری طرف پھیر دے گا ، اور جب وہ جنت کی طرف منہ کر لے گا اور وہ اس کی رونق دیکھے گا تو جس قدر اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے تو وہ اس قدر خاموش رہے گا ، پھر وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے ، اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو نے مجھ سے عہد و میثاق نہیں کیا تھا کہ تو اس سوال کے بعد کسی اور چیز کے متعلق سوال نہیں کرے گا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بد نصیب شخص نہ ہو جاؤں : چنانچہ وہ فرمائے گا : کیا ہو سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کر دوں تو تو اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کا مطالبہ کر دے ؟ وہ عرض کرے گا : تیری عزت کی قسم ! (ایسے) نہیں ، میں اس کے علاوہ کسی اور چیز کا تجھ سے مطالبہ نہیں کروں گا ، وہ اپنے رب کو ، جو اللہ تعالیٰ چاہے گا عہد و میثاق دے گا ، تو وہ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا ، اور جب وہ اس کے دروازے پر پہنچ جائے گا ، تو وہ اس کی تروتازگی ، اور اس میں جو رونق و سرور دیکھے گا تو جس قدر اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے تو وہ خاموش رہے گا ، پھر عرض کرے گا : رب جی ! مجھے جنت میں داخل فرما دے ، اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : ابن آدم ! تجھ پر افسوس ہے ، تو کتنا بڑا وعدہ خلاف ہے ! کیا تو نے عہد و میثاق نہیں دیا تھا کہ تو اس چیز کے علاوہ ، جو میں نے تمہیں عطا کر دی ، کوئی دوسری چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بد نصیب نہ بنا ، وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس کی وجہ سے ہنس دے گا ، جب وہ ہنس دے گا تو وہ اسے دخولِ جنت کی اجازت فرما دے گا ، اور فرمائے گا : تمنا کر ، وہ تمنا کرے گا حتی کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو فلاں فلاں چیز کی تمنا کر ، اس کا رب اسے یاد دلائے گا ، حتی کہ جب یہ سب تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ فرمائے گا ، یہ (جو تو نے تمنا کی) تیرے لیے ہے اور اتنی ہی مزید اس کے ساتھ (تجھے عطا کی جاتی ہیں) ۔‘‘ اور ابوسعید ؓ کی روایت میں ہے :’’ اللہ فرمائے گا : یہ (جو تو نے تمنا کی) تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا مزید (عطا کی جاتی ہیں) ۔‘‘ متفق علیہ ۔