TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث - بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث - قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 30 · 2 Hadith
۔ (۱۳۱۰۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ ثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ یَجْتَمِعُ الْمُوْمِنُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْہَمُوْنَ ذٰلِکَ، فَیَقُوْلُوْنَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلٰی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَاَرَاحَنَا مِنْ مَکَانِنَا ہٰذَا، فَیَاْتُوْنَ آدَمَ علیہ السلام فَیَقُوْلُوْنَ: یَا آدَمُ! اَنْتُ اَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِیَدِہٖ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَہُ وَعَلَّمَکَ اَسْمَائَ کُلِّ شَیْئٍ، فَشَفِّعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ یُرِیْحُنَا مَکَانَنَا ہٰذَا، فَیَقُوْلُ لَھُمْ آدَمُ علیہ السلام : لَسْتُ ھُنَاکُمْ وَیَذْکُرُ ذَنْبَہُ الَّذِیْ اَصَابَ فَیَسْتَحْیِیْ رَبَّہُ عَزَّوَجَّلَ، وَیَقُوْلُ: وَلٰکِنِ ائْتُوْا نُوْحًا، فَاِنَّہُ اَوَّلُ رَسُوْلٍ بَعَثَہُ اللّٰہُ اِلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ، فَیَاْتُوْنَ نُوْحًا، فَیَقُوْلُ: لَسْتُ ھُنَاکُمْ وَیَذْکُرُ لَھُمْ خَطِیْئَتَہُ وَسُوَالَہُ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ مَا لَیْسَ لَہُ بِہٖعِلْمٌ،فَیَسْتَحْیِِیْ رَبَّہُ بِذٰلِکَ وَلٰکِنِ ائْتُوْا اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلَ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، فَیَاْتُوْنَ فَیَقُوْلُ: لَسْتُ ھُنَاکُمْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا مُوْسٰی علیہ السلام عَبْدًا کَلَّمَہُ اللّٰہُ وَأَعْطَاہُ التَّوْرَاۃَ، فَیَاْتُوْنَ مُوْسٰی فَیَقُوْلُ: لَسْتُ ھُنَاکُمْ وَیَذْکُرُ لَھُمُ النَّفْسَ الَّتِیْ قَتَلَ بِغَیْرِ نَفْسٍ، فَیَسْتَحْیِی رَبَّہُ مِنْ ذٰلِکَ وَلٰکِنِ ائْتُوْا عِیْسٰی عَبْدَ اللّٰہِ وَرَسُوْلَہُ وَکَلِمَتَہُ وَرُوْحَہُ، فَیَاْتُوْنَ عِیْسٰی فَیَقُوْلُ: لَسْتُ ھُنَاکُمْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدًا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّّمَ مِنْ ذَنْبِہٖوَمَاتَاَخَّرَفَیَاْتُوْنِّیْ، قَالَ الْحَسَنُ ہٰذَا الْحَرْفَ فَاَقُوْمُ فَاَمْشِیْ بَیْنَ سِمَاطَیْنِ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ، قَالَ اَنَسٌ: حَتّٰی اَسْتَاْذِنَ عَلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَیُوْذَنَ لِیْ فَاِذَا رَاَیْتُ رَبِّیْ وَقَعْتُ اَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا اِلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّّ، فََیَدَعُنِیْ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّدَعَنِیْ، قَالَ: ثُمَّ یُقَالُ: اِرْفَعْ مُحَمَّدُ! قُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ فَاَحْمَدُ بِتَحْمِیْدٍیُعَلِّمُنِیْہِ ثُمَّ اَشْفَعُ فَیَحُدُّ لِیْ حَدًّا فَاُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ اَعُوْدُ الثَّانِیَۃَ، فَاِذَا رَأَیْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ وَقَعْتُ اَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّیْ، فَیَدَعُنِیْ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّدَعَنِیْ، ثُمَّ یُقَالُ: اِرْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ فَاَحْمَدُہُ بِتَحْمِیْدٍِیُعَلِّمُنِیْہِ، ثُمَّ اشْفَعُ، فَیَحُدُّ لِیْ حَدًّا، فَاُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ ثُمَّ اَعُوْدُ اِلَیْہِ الثَّالِثَۃَ، فَاِذَا رَاَیْتُ رَبِّیْ وَقَعْتُ اَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَیَدَعُنِیْ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَدَعَنِیْ، ثُمَّ یُقَالُ: اِرْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ فَاَحْمَدُہُ بِتَحْمِیْدٍیُعَلِّمُنِیْہِ ثُمَّ اَشْفَعُ، فَیَحُدُّ لِیْ حَدًّا، فَاُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ اَعُوْدُ الرَّابِعَۃَ فَاَقُوْلُ: یَارَبِّ مَا بَقِیَ اِلَّا مَنْ حَبَسَہُ الْقُرْآنُ۔)) فَحَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَیُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَکَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِنَ الْخَیْرِ مَا یَزِنُ شَعِیْرَۃً ثُمَّ یُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَکَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِنَ الْخَیْرِ مَا یَزِنُ بُرَّۃً، ثُمَّ یُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَکَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِنَ الْخَیْرِ مَایَزِنُ ذَرَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۷۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل ِ ایمان اکٹھے ہوں گے، ان کوالہام کیا جائے گا، چنانچہ وہ کہیں گے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو سفارشی مقرر کریں تاکہ وہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کرے، تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے کہیں گے: اے آدم!آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے حق میں اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلا دے، آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے: میں اس کی جسارت نہیں کر سکتا،پھروہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو کر سفارش کرنے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں، جنہیں اہل زمین کی طرف مبعوث کیا گیا۔ چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے یہی سفارش کی درخواست کریں گے تو وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتے، پھر وہ اپنی ایک غلطی کا ذکر کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی دعا کر بیٹھے تھے کہ جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس کی وجہ سے وہ اپنے ربّ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس وہ لوگ ان کی خدمت میں جائیں گے، لیکن وہ بھی یہ کام نہ کر سکنے کا کہیں گے اور یہ مشورہ دیں کے کہ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے برگزیدہ بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلا م کیا اور انہیں تورات عطا کی، لہٰذا لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے لیکن وہ بھی معذرت کریں گے کہ کہیں گے کہ میں تو ایک آدمی کو بلاوجہ قتل کر چکاہوں اور اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، اس کے رسول ، اس کا کلمہ اور اسکی روح ہیں۔ سو وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جائیں گے، لیکن وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا، البتہ تم لوگ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو معاف کر دیا ہے،ان کے بعد لوگ میرے پاس آئیں گے،میں ان کی درخواست سن کر اہل ایمان کے دو گروہوں کے درمیان چلتا ہوا جاؤں گا اورجاکر اپنے ربّ سے اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت مل جائے گی اور میں اپنے ربّ کو دیکھ کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا، اس کے بعد کہاجائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، تب میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کرو ں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کر آؤں گا اور دوبارہ آجاؤں گا اور اپنے ربّ کو دیکھتے ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسی وقت وہ الفاظ سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جاسکتے ہیں، میں تیسری دفعہ آ جاؤں گا اور اپنے ربّ کودیکھ کر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اور میں سجدہ ریز رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہ الفاظ اسی وقت سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کرا کے چوتھی مرتبہ آجاؤں گا اور کہوں گا: اے ربّ ! اب یہاں جہنم میں وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن نے روک رکھاہے، (یعنی جن کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے)۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہوگا اور جس کے دل میں ایک جو کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ پھر اس کے بعد جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو گااور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، بعد ازاں جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا، جس نے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو اور اس کے دل میں ایک ذراہ برابر ایمان ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۱۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۷۶، ۶۵۶۵، ومسلم: ۱۹۳(انظر: ۱۲۱۵۳)
13102
Sahih
۔ (۱۳۱۰۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَقَائِمٌ اَنْتَظِرُ اُمَّتِیْ تَعْبُرُ عَلٰی الصِّرَاطِ، اِذْ جَائَ نِیْ عِیْسٰی فَقَالَ: ہٰذِہِ الْاَنْبِیَائُ قَدْ جَائَتْکَ یَامُحَمَّدُ! یَسْأَلُوْنَ اَوْ قَالَ یَجْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ وَیَدْعُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یُّفَرِّقَ جَمْعَ الْاُمَمِ اِلٰی حَیْثُیَشَائُ اللّٰہُ لِغَمٍّ مَا ھُمْ فِیْہِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُوْنَ فِی الْعَرَقِ وَاَمَّا الْمُوْمِنُ فَہُوَ عَلَیْہِ کَالزَّکْمَۃِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیَتَغَشَّاہُ الْمَوْتُ قَالَ: قَالَ لِعِیْسٰی: اِنْتَظِرْ حَتّٰی اَرْجِعَ اِلَیْکَ، قَالَ: فَذَھَبَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِیَ مَالَمْ یَلْقَ مَلَکٌ مُصْطَفًی وَلَانَبِیٌّ مُرْسَلٌ فَاَوْحٰی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی جِبْرِیْلَ اِذْھَبْ اِلٰی مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَہُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ، سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَشُفِّعْتُ فِیْ اُمَّتِیْ اَنْ اَخْرِجْ مِنْ کُلِّ تِسْعَۃٍ وَتِسْعِیْنَ اِنْسَانًا وَاحِدًا، قَالَ: فَمَازِلْتُ اَتَرَدَّدُ عَلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَلَا اَقُوْمُ مَقَامًا اِلَّا شُفِّعْتُ حَتّٰی اَعْطَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ذٰلِکَ اَنْ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَدْخِلْ مِنْ اُمَّتِکَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَنْ شَہِدَ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۸۵۵)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پل صراط کو عبور کر رہی ہوگی اور میں ان کے انتظار میں کھڑا ہوں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! یہ تمام انبیاء آپ کی خاطر جمع ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ تمام امتیں جس غم میں مبتلا ہیں، وہ انہیں اس سے نکال کر ان کا حساب کتاب شروع کرے اور جدھر چاہے ان کو بھیج دے، جبکہ سب لوگوں کو منہوں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اہل ایمان کی تکلیف تو زکام کی سی ہوگی اور کافروں پر تو موت کی کیفیت طاری ہوگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائیں گے: آپ انتظار کریں، میں آپ کے پاس واپس آتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ایسا ذکر کریں گے، جو کسی مقرب فرشتے یا بھیجے ہوئے نبی کو نصیب نہیں ہوا ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ تم جا کر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہو:اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش مقبول ہوگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں اتنی سفارش قبول کی جائے گی کہ آپ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائیں،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بار بار اللہ تعالیٰ کے ہاں جاتے رہیں گے اور ہر دفعہ آپ کی سفارش قبول کی جاتے رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے گا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت میں جتنے افراد پیدا کیے، ان میں سے جس جس نے اخلاص کے ساتھ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوا تو اسے جنت میں داخل کر لو۔
Takhreej
(۱۳۱۰۳) تخریج: رجالہ رجال الصحیح، وفی متن ھذا الحدیث غرابۃ، أخرجہ ابن خزیمۃ فی التوحید : ۲/ ۶۱۶ (انظر: ۱۲۸۲۴)
13103
Sahih

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.