TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4094 - Chapter: Taking that which is lawful and leaving that which is unclear - The book of musaqah - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
Chapter: Taking that which is lawful and leaving that which is unclear
حلال (مال )حاصل کرنا اور شبہات سےبچنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: - وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ - «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ، صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ، فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with him) reported: I heard Allah's Messenger (may peace be upon himn) as having said this (and Nu'man) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound and if it is corrupt the whole body is corrupt, and hearken it is the heart.
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( شعبی نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ۔ ۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی ، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے چرواہا ( جو ) چراگاہ کے اردگرد ( بکریاں ) چراتا ہے ، قریب ہے وہ اس ( چراگاہ ) میں چرنے لگیں ، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے ۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے ، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا ۔ سنو! وہ دل ہے ۔ " ( سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی ۔ )
4094
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

261
1
Chapter: What Has Been Related About Taking Wealth Within One's Wealth
باب: حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(56) CHAPTER. The taking of poison and treating with it,or with what may be dangerous, or with an impure or polluted thing (medicine, etc.).
زہر پینا یا زہریلی اور خوفناک دوا یا ناپاک دوا کا استعمال کرنا
Sahih Bukhari
3
Chapter: If the Son of Adam had two valleys, he would desire a third
اگر ابن آدم کے پاس (مال کی بھری ہوئی )دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری وادی حاصل کرنا چاہے گا
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Zakat On Acquired Wealth Until The Hawl Has Passed
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About 'The Blood Of A Muslim Man Is Not Lawful Except For One Of Three Cases'
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About What Is Lawful From The Wealth Of Ahl Adh-Dhimmah
باب: ذمی کے مال سے کتنا لینا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What has been Related About 'The Blood Of A Muslim is Not Lawful Except For One Of Three'
باب: تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں
Jam e Tirmazi
9
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
10
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
Musnad Ahmad
12
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ادب کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
15
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
16
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
17
(31) CHAPTER. While performing ablution or taking a bath one should start from the right side of the body.
وضو اور غسل میں داہنی جانب سے ابتداء کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
18
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
19
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
20
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
21
(15) CHAPTER. To rub the hair thoroughly (while taking a bath) till one feels that one has made his skin wet (underneath the hair) and then one pours water over it.
بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
22
(21) CHAPTER. To screen oneself from the people while taking a bath.
اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
23
(12) CHAPTER. Putting perfume by women at the time of taking a bath after finishing from the menses.
عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے
Sahih Bukhari
24
(15) CHAPTER. The combing of head-hair by a woman on taking a bath after finishing from the menses.
عورت کا حیض کے غسل کے بعد کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
25
(64) CHAPTER. Employing the carpenter and the technical hand (artisan) in making the wooden pulpit or building the mosque.
بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
26
(8) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) must be from money earned honestly.
حلال کمائی میں سے خیرات کرنا
Sahih Bukhari
27
(54) CHAPTER. (The lawfulness of) estimating the amount of the date-fruit while they are still on the palms for the sake of taking the Zakat.
کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے
Sahih Bukhari
28
(38) CHAPTER. Taking a bath on entering Makkah.
مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا
Sahih Bukhari
29
(14) CHAPTER. The taking of a bath by a Muhrim.
محرم کو غسل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
30
(18) CHAPTER. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).
سحری کھانے میں دیر کرنا
Sahih Bukhari
31
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
32
(2) CHAPTER. Legal, illegal things are clearly defined, and in between them are some doubtful (unclear) things.
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ شک و شبہ والی چیزیں بھی ہیں
Sahih Bukhari
33
(4) CHAPTER. What doubtful (unclear) things should be avoided?
مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا
Sahih Bukhari
34
(5) CHAPTER. Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful (unclear) things.
دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے
Sahih Bukhari
35
(13) CHAPTER. If a person invests the money of someone else in cultivation without taking his permission and the enterprise effects profit, (to whom will the profit belong?)
جب کسی کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر ہی کاشت کی اور اس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو
Sahih Bukhari
36
(13) CHAPTER. Practising good deeds before taking part in a (holy) battle.
جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h): “Booty has been made legal for you Muslims”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے
Sahih Bukhari
38
(25) CHAPTER. What women are lawful for one to marry and what are unlawful.
کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں ۔
Sahih Bukhari
39
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Lawful to you is (the pursuit of) water-game and its use for food... for the benefit of yourselves. … (V.5:96)
سورۃ المائدہ کی اس آیت کی تفسیر کہ ” حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے دریا کا شکار کھانا “
Sahih Bukhari
40
(6) CHAPTER. What is said regarding the one who regards an alcoholic drink lawful to drink, and calls it by another name.
اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے
Sahih Bukhari
41
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. Taking refuge with Allah (from evil), and the recitation (of Quran) before going to bed.
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنا اور تلاوت قرآن کرنا
Sahih Bukhari
43
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
Sahih Bukhari
44
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
45
Chapter: Pleasing the Zakat Collector unless he asks for something unlawful
زکاۃ وصول کرنے والے کو راضی کرنا جب تک وہ حرام کا مطالبہ نہ کرے
Sahih Muslim
46
Chapter: Tamattu with Hajj and Umrah
حج کے ساتھ (ہی ) عمرے کا بھی فائدہ کا بھی فائدہ حاصل کرنا (تمتع کرنا
Sahih Muslim
47
Chapter: The prohibition of a manumitted slave taking anyone as a Mawla except the one who manumitted him
آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
48
Chapter: The prohibition of persisting in an oath that will harm the family of the one who swears it, so long as not persisting in it does not involve anything unlawful
ایسی قسم پر اصرار کرنا منع ہے جس میں حلف اٹھانے والے کے اہل خانہ کو تکلیف ہو ‘چاہے وہ (کام )حرام نہ ہو
Sahih Muslim
49
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
Sahih Muslim
50
Chapter: It Is Recommend To Intercede With Regard To That Which Is Not Unlawful
جو کام حرام نہ ہوں ان میں سفارش کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

115
Jam e Tirmazi
1498
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ وَهُوَ الْهَمْدَانِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ،‏‏‏‏ وَالْأُذُنَ،‏‏‏‏ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ،‏‏‏‏ وَلَا مُدَابَرَةٍ،‏‏‏‏ وَلَا شَرْقَاءَ،‏‏‏‏ وَلَا خَرْقَاءَ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،‏‏‏‏ وَزَادَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ الْمُقَابَلَةُ:‏‏‏‏ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا،‏‏‏‏ وَالْمُدَابَرَةُ:‏‏‏‏ مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ،‏‏‏‏ وَالشَّرْقَاءُ:‏‏‏‏ الْمَشْقُوقَةُ،‏‏‏‏ وَالْخَرْقَاءُ:‏‏‏‏ الْمَثْقُوبَةُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى،‏‏‏‏ وَشُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَشُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ كُوفِيٌّ وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَشُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ الْكِنْدِيُّ أَبُو أُمَيَّةَ الْقَاضِي،‏‏‏‏ قَدْ رَوَى عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَكُلُّهُمْ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَوْلُهُ أَنْ نَسْتَشْرِفَ:‏‏‏‏ أَيْ أَنْ نَنْظُرَ صَحِيحًا.
Narrated 'Ali bin Abi Talib: The Messenger of Allah (ﷺ) ordered that we check the eyes and ears, and not to slaughter the Muqabalah, nor the Mudabarah, nor the Sharqa', nor the Kharqa'
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی والے جانور کی ) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو ( یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو ) ، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( آگے سے ) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( پیچھے سے ) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان ( لمبائی میں ) چیرا ہوا ہو، اور «خرقاء» جس کے کان میں ( گول ) سوراخ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شریح بن نعمان صائدی، کوفہ کے رہنے والے ہیں اور علی رضی الله عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں، ۳- شریح بن ہانی کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد کو شرف صحبت حاصل ہے اور علی رضی الله عنہ کے ساتھی ہیں، اور شریح بن حارث کندی ابوامیہ قاضی ہیں، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، یہ تینوں شریح ( جن کی تفصیل اوپر گزری ) علی رضی الله عنہ کے ساتھی اور ہم عصر ہیں، ۳- «نستشرف» سے مراد «ننظر صحيحا» ہے یعنی قربانی کے جانور کو ہم اچھی طرح دیکھ لیں۔
Jam e Tirmazi
2259
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ:‏‏‏‏ خَمْسَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْبَعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْمَعُوا، ‏‏‏‏‏‏ هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
It was narrated from Ka'b bin 'Ujrah who said: The Messenger of Allah(s.a.w) came out to us, we were made up of nine; five and four. The first of the numbers for the Arabs, and the latter for the non-Arabs. He said: 'Listen, have you heard that after me there will leaders, whoever enters upon them and condones to their lies, and supports them in their oppression, then he is not from me and I am not from him, and he shall not drink with me from the Hawd. And whoever does not enter upon them, nor help them in their oppression, nor condones to their lies, then he is from me, and I am from him, and he shall drink with me at the Hawd.'
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔
Sahih Muslim
44
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ، وَكَانَ كَذَّابًا
Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Mughīrah, on authority of ash-Sha’bī, he said: ‘al-Hārith al-A’war ul-Hamdānī narrated to me, and he is a liar’.
قتیبہ بن سعید ‘ جریر نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذاب تھا ۔
Sahih Muslim
3207
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
A hadith like this has been narrated on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her) through another chain of transmitters.
داوداور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے اسی سند ( حدیث ) کے مطا بق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
Sunnan Ibn e Maja
3795
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْالشَّعْبِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أُمِّهِ سُعْدَى الْمُرِّيَّةِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ مَرَّ عُمَرُ بِطَلْحَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لَكَ مُكتَئِبًا أَسَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ،‏‏‏‏ إِلَّا كَانَتْ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ،‏‏‏‏ وَإِنَّ جَسَدَهُ وَرُوحَهُ لَيَجِدَانِ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ ،‏‏‏‏ فَلَمْ أَسْأَلْهُ حَتَّى تُوُفِّيَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُهَا هِيَ الَّتِي أَرَادَ عَمَّهُ عَلَيْهَا،‏‏‏‏ وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ شَيْئًا أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ.
It was narrated from Yahya bin Talha that : his mother Su'da Al-Murriyyah said: Umar bin Khattab passed by Talhah, after the Messenger of Allah(ﷺ) had died, and said: 'Why do you look so sad? Are you upset because your cousin has been appointed leader?' He said: 'No, but I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: I know a word which no one says at the time of death but it will be light in his record of deeds, and his body and soul will find comfort in it at the time of death, -but I did not ask him about it before he died.' He ('Umar) said: ' I know what it is. It is what he wanted his uncle (Abu Talib) to say, and if he had known anything that would be more effective in saving him, he would have told him to say it.'
سعدیٰ مریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گزرے، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو رنجیدہ پاتا ہوں؟ کیا تمہیں اپنے چچا زاد بھائی ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی خلافت گراں گزری ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ایک بات جانتا ہوں اگر کوئی اسے موت کے وقت کہے گا تو وہ اس کے نامہ اعمال کا نور ہو گا، اور موت کے وقت اس کے بدن اور روح دونوں اس سے راحت پائیں گے ، لیکن میں یہ کلمہ آپ سے دریافت نہ کر سکا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کلمہ کو جانتا ہوں، یہ وہی کلمہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے مرتے وقت پڑھنے کے لیے کہا تھا، اور اگر آپ کو اس سے بہتر اور باعث نجات کسی کلمہ کا علم ہوتا تو وہی پڑھنے کے لیے فرماتے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
17
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا رِكْسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِيهِ اضْطِرَابٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ أَيُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق أَصَحُّ ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ،‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ وَكَأَنَّهُ رَأَى حَدِيثَ زُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَشْبَهَ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا عِنْدِي حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ وَقَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق مِنْ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي الَّذِي فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا لِمَا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاق لَيْسَ بِذَاكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ مِنْهُ بِآخِرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتَ الْحَدِيثَ عَنْ زَائِدَةَ وَزُهَيْرٍ فلا تبالي أن لا تسمعه من غيرهما إلا حديث أبي إسحاق، ‏‏‏‏‏‏وأبو إسحاق اسمه:‏‏‏‏ عمرو بن عبد الله السبيعي الهمداني،‏‏‏‏ وأبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه ولا يعرف اسمه
Abdullah said: Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.' He said, So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کر دیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
49
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ذَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَيَّةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ خَيْرٍ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَ الْوُضُوءِ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ مِثْلُ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ
Abd Khair related a narration similar to that of Abu Hayyah, : from Ali (no. 48). Except that Abd Khair's version includes the following additions: When he was finished from his purification, he would take what was left over from his purification with his hand to drink it.
عبد خیر نے بھی علی رضی الله عنہ سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
212
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ،‏‏‏‏ وَأَبُو أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَأَبُو نُعَيْمٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا.
Anas bin Malik narrated that : Allah's Messenger said: The supplication made between the Adhan and Iqamah is not rejected.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
355
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated that : Allah's Messenger said: When one of you is sleepy and he is performing Salat, then let him lie down until the sleep is gone from him. For when one of you performs Salat while he is sleepy, perhaps he wants to seek forgiveness but he curses himself.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے، اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھے اور اونگھ رہا ہو تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو گالیاں دے بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔