TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of faith - کتاب: ایمان کا بیان - Book 2 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 2 of Sahih Muslim, with 86 chapters and 441 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

441 Hadith · 86 Chapters
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Be prompt in doing good deeds (before you are overtaken) by turbulence which would be like a part of the dark night. During (that stormy period) a man would be a Muslim in the morning and an unbeliever in the evening or he would be a believer in the evening and an unbeliever in the morning, and would sell his faith for worldly goods.
ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ( چھا جانے والے ) ہوں گے ، ( نیک ) اعمال کرنے میں جلدی کرو ۔ ( ان فتنوں میں ) صبح کو آدمی مو من ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا توصبح کو کافر ، اپنا دین ( ایمان ) دنیوی سامان کے عوض بیچتاہو گا ۔ ‘ ‘
313
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ، وَقَالَ: أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: «يَا أَبَا عَمْرٍو، مَا شَأْنُ ثَابِتٍ؟ اشْتَكَى؟» قَالَ سَعْدٌ: إِنَّهُ لَجَارِي، وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى، قَالَ: فَأَتَاهُ سَعْدٌ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»،
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that when this verse: O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not (xlix. 2-5), was revealed. Thabit b. Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked Sa'd b, Mu'adh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sa'd said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sa'd came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Upon this Thabit said: This verse was revealed, and you are well aware of the fact that, amongst all of you, mine is the voice louder than that of the Messenger of Allah, and so I am one amongst the denizens of Fire, Sa'd Informed the Prophet about it. Upon this the Messenger of Allah observed: (Nay, not so) but he (Thabit) is one of the dwellers of Paradise.
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب یہ آیت اتری : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اونچی مت کرو ۔ ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔ تو ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنےگھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے : میں تو جہنمی ہوں ۔ انہوں نے ( خودکو ) نبی ﷺ ( کی خدمت میں حاضر ہونے ) سے بھی روک لیا ، رسول ا للہ ﷺنے سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : ’’ ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا ؟ کیا و ہ بیمار ہیں ؟ ‘ ‘ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : وہ میرے پڑوسی ہیں اورمجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا ۔ حضرت انس نے کہا : اس کے بعد سعد ، ثابت رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی تو ثابت کہنے لگے : یہ آیت اتر چکی ہے اور تم جانتے ہو کہ تم سب میں میری آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے زیادہ بلند ہے ، اس بنا پر میں جہنمی ہوں ۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس ( جواب ) کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے ۔ ‘ ‘
314
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
وَحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters in which these words are found: Thabit b. Qais was the orator of the Ansar, when this verse was revealed: the rest of the hadith is the same with the exception that there is no mention of Sa'd b. Mu'adh in it.
جعفر بن سلیمان نے کہا : ہمیں ثابت ( بنانی ) نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ ثابت بن قیس بن شماس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ انصار کے خطیب تھے ۔ جب یہ آیت اتری ..... آگے حماد کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کاذکر نہیں ہے ۔
315
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2]، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فِي الْحَدِيثِ،
This hadith is also transmitted by Ahmad b. Sa'id, Habban, Sulaiman b. Mughira on the authority of Anas who said: When the verse was revealed: Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle, no mention was made of Sa'd b, Mu'adh in it.
( جعفر بن سلیمان کے بجائے ) سلیمان بن مغیرہ نے ثابت ( بنانی ) سے نقل کرتے ہوئے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ﴿ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾..... انہوں نے بھی سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا ۔
316
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
وَحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَذْكُرُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sa'd b. Mu'adh, but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت بیان کی کہ جب یہ آیت اتری ( آگے گزشتہ حدیث بیان کی ) لیکن سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا : ہم انہیں ( اس طرح ) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے
317
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا، وَمَنْ أَسَاءَ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ»
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that some people said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance (before embracing Islam)? Upon his he (the Holy Prophet) remarked: He who amongst you performed good deeds in Islam, He would not be held responsible for them (misdeeds which he committed in ignorance) and he who committed evil (even after embracing Islam) would be held responsible or his misdeeds that he committed in the state of ignorance as well as in that of Islam.
منصور نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضر ت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا جاہلیت کےاعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے ، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا ۔ ‘ ‘
318
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ»،
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud: We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds.
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
319
Sahih
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been transmitted by Minjab b. al-Harith Tamimi with the same chain of transmitters.
اعمش کے ایک اور شاگرد علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
320
Sahih
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، يَبَكِي طَوِيلًا، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ قَالَ: فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، فَقَتَلْتُهُ، فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمَّا جَعَلَ اللهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلْأُبَايِعْكَ، فَبَسَطَ يَمِينَهُ، قَالَ: فَقَبَضْتُ يَدِي، قَالَ: «مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟» قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: «تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟» قُلْتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟» وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ، وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ؛ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ، وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ، وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا، حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي
It is narrated on the authority of Ibn Shamasa Mahri that he said: We went to Amr b. al-As and he was about to die. He wept for a long time and turned his face towards the wall. His son said: Did the Messenger of Allah (may peace be upon him not give you tidings of this? Did the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not give you tidings of this? He (the narrator) said: He turned his face (towards the audience) and said: The best thing which we can count upon is the testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. Verily I have passed through three phases. (The first one) in which I found myself averse to none else more than I was averse to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and there was no other desire stronger in me than the one that I should overpower him and kill him. Had I died in this state, I would have been definitely one of the denizens of Fire. When Allah instilled the love of Islam in my heart, I came to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Stretch out your right hand so that may pledge my allegiance to you. He stretched out his right hand, I withdrew my hand, He (the Holy Prophet) said: What has happened to you, O 'Amr? replied: I intend to lay down some condition. He asked: What condition do you intend to put forward? I said: should be granted pardon. He (the Holy Prophet) observed: Are you not aware of the fact that Islam wipes out all the previous (misdeeds)? Verily migration wipes out all the previous (misdeeds), and verily the pilgrimage wipes out all the (previous) misdeeds. And then no one as or dear to me than the Messenger of Allah and none was more sublime in my eyes than he, Never could I, pluck courage to catch a full glimpse of his face due to its splendour. So if I am asked to describe his features, I cannot do that for I have not eyed him fully. Had I died in this state had every reason to hope that I would have bee among the dwellers of Paradise. Then we were responsible for certain things (in the light of which) I am unable to know what is in store for me. When I die, let neither female mourner nor fire accompany me. When you bury me, fill my grave well with earth, then stand around it for the time within which a camel is slaughtered and its meat is distributed so that I may enjoy your intimacy and (in your company) ascertain what answer I can give to the messengers (angels) of Allah.
ابن شماسہ مہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ موت کےسفر پر روانہ تھے ، روتے جاتے تھے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا تھا ۔ ان کا بیٹا کہنے لگا : ابا جان ! کیا رسو ل اللہ ﷺ نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہ دی تھی ؟ کیا فلاں بات کی بشارت نہ دی تھی ؟ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا اور کہا : جو کچھ ہم ( آیندہ کے لیے ) تیار کرتے ہیں ، یقیناً اس میں سے بہترین یہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ا ور محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسو ل ہیں ۔ میں تین درجوں ( مرحلوں ) میں رہا ۔ ( پہلا یہ کہ ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھ سے زیادہ بغض کسی کو نہ تھا اور نہ اس کی نسبت کوئی اور بات زیادہ پسند تھی کہ میں آپ پر قابو پا کر آپ کو قتل کر دوں ۔ اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو یقیناً دوزخی ہوتا ۔ ( دوسرا مرحلے میں ) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی تو میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اپنا دایاں ہاتھ بڑھایئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ، آپ نے دایاں ہاتھ پڑھایا ، کہا : تو میں نے اپنا ہاتھ ( پیچھے ) کھینچ لیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’عمرو! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا : ’’ کیا شرط رکھنا چاہتے ہو ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : یہ ( شرط ) کہ مجھے معافی مل جائے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے ؟ او رہجرت ان تمام گناہوں کوساقط کر دیتی ہے جو اس ( ہجرت ) سے پہلے کیے گئے تھے اور حج ان سب گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تہآ ۔ ‘ ‘ اس وقت مجھے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی نہ تھا اور نہ آپ سے بڑھ کر میری نظر میں کسی کی عظمت تھی ، میں آپ کی عظمت کی بنا پر آنکھ بھر کر آپ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا اور اگر مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بتا نہ سکوں گا کیونکہ میں آپ کو آنکھ بھر کر دیکھتا ہی نہ تھا اور اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو مجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا ، پھر ( تیسرا مرحلہ یہ آیا ) ہم نےکچھ چیزوں کی ذمہ داری لے لی ، میں نہیں جانتا ان میں میرا حال کیسا رہا ؟ جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنےوالی میرے ساتھ نہ جائے ، نہ ہی آگ ساتھ ہو اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا ، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر ( دعا کرتے ہوئے ) ٹھہرنا ، جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے تاکہ میں تمہاری وجہ سے ( اپنی نئی منزل کے ساتھ ) مانوس ہو جاؤں اور دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرستادوں کو کیا جواب دیتا ہوں ۔
321
Sahih
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] وَنَزَلَ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that some persons amongst the polytheist had committed a large number of murders and had excessively indulged in fornication. Then they came to Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Whatever you assert and whatever you call to is indeed good. But if you inform us that there is atonement of our past deeds (then we would embrace Islam). Then it was revealed: And those who call not unto another god along with Allah and slay not any soul which Allah has forbidden except in the cause of justice, nor commit fornication; and he who does this shall meet the requital of sin. Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced, except him who repents a believes and does good deeds. Then these! for the Allah shall change their vices into virtues. Verily Allah is Ever Forgiving, Merciful (xxv. 68-70). Say thou: O my bondsmen woo have committed extravagance against themselves despair not of the Mercy of Allah I Verily Allah will forgive the sins altogether. He is indeed the Forgiving, the Merciful (xxxix. 53).
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ( جاہلی دور میں ) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا ، پھر وہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس ( راستے ) کی دعوت دیتے ہیں ، یقیناً وہ بہت اچھا ہے ۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں ، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے ( تو ہم ایمان لے آئیں گے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ‘ ‘ ( ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے ) اور یہ آیت نازل ہوئی : ’’اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ ( جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ‘ ‘
322
Sahih
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ» وَالتَّحَنُّثُ: التَّعَبُّدُ
Hakim b. Hizam reported to 'Urwa b. Zubair that he said to the Messenger of Allah: Do you think that there is any thing for me (of he reward with the Lord) for the deed of religious purification that I did in the state of ignorance? Upon this he (the Messenger of Allah) said to him: You accepted Islam with all the previous virtues that you practised.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نےخبر دی کہ انہیں حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سےعرض کی : ان کاموں کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کی خاطر کرتا تھا؟ مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو نیک کام پہلے کر چکے ہو تم نے ان سمیت اسلام قبول کیا ہے ۔ ‘ ‘ تخث کا مطلب ہے عبادت گزاری ہے ۔
323
Sahih
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ»
Hakim b. Hizam reported to 'Urwa b. Zubair that he said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Messenger of Allah, do you think if there is any reward (of the Lord with me on the Day of Resurrection) for the deeds of religious purification that I performed in the state of ignorance, such as charity, freeing a slave, cementing of blood-relations? Upon this he (the Messenger of Allah) said to him: You have accepted Islam with all the previous virtues that you had practised.
( یونس کے بجائے ) صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : اللہ کے رسول ! آپ ان اعمال کے بارے کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کے طور کیا کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات ، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی ، کیا ان کا اجر ہو گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو بھلائی کےکام تم پہلے کر چکے ہو تم ان سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو ۔ ‘ ‘ ( تمہارے اسلام کے ساتھ وہ بھی شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ وہ بھی شہادتین کی تصدیق کرتے ہیں ۔ )
324
Sahih
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ»، قُلْتُ: فَوَاللهِ، لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ،
It is narrate on the authority of Hakim b. Hizam: I said: Messenger of Allah, I did so some of the deeds in the state of ignorance. (One of the transmitters Hisham b. Urwa explained them as acts of piety. Upon this the Messenger, of Allah remarked: You have embraced Islam with all the previous acts of virtue. I said: By God, I would leave nothing undone in Islam the like of which I did in the state of ignorance.
ابن شہاب زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی ( سابقہ ( سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، نیز ( ایک دوسری سند کے ساتھ ) ابو معاویہ نے ہمیں خبر : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہون نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : وہ ( بھلائی کی ) چیزیں ( کام ) جو میں جاہلیت کے دور میں کیا کرتا تھا؟ ( ہشام نے کہا : ان کی مراد تھی کہ میں نیکی کےلیے کرتا تھا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ۔ ‘ ‘ میں نےکہا : اللہ کی قسم ! میں نے جو ( نیک ) کام جاہلیت میں کیے تھے ، ان میں سے کوئی عمل نہیں چھوڑوں گا مگر اس جیسے کام اسلام میں بھی کروں گا ۔
325
Sahih
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
Hisham b. Urwa narrated it on the authority of his father: Hakim b. Hizam freed one hundred slave and donated one hundred camels (for the sake of Allah) during the state of ignorance. Then he freed one hundred slaves and donated one hundred camel (for the sake of Allah) after) he had embraced Islam. He subsequently came to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The rest of the hadith is the same as narrated above.
عبد اللہ بن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند سے روایت کی کہ حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے دور جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے ( مستحقین کو ) دیے تھے ، پھر اسلام لانے کے بعد ( دوبارہ ) سو غلام آزاد کیے اور سواونٹ سواری کے لیے دیے ، پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... آگے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق بیان کیا ۔
326
Sahih
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا} [الأنعام: 82] إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: {يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ} [لقمان: 13] لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ،
It is narrated on the authority of 'Abdullah (b. Mas'ud) that when this verse was revealed: It is those who believe and confound not their belief with wrongdoing (vi. 82), the Companions of the Messenger of Allah wore greatly perturbed. They said: Who amongst us (is so fortunate) that he does not wrong himself? Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) remarked: It does not mean that which you presume It implies that which Luqman said to his son: O my son, do not associate anything with Allah, for indeed it is the gravest wrongdoing (xxxi. 13).
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے اورانہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری اور انہوں نے گزارش کی : ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کرتا ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ۔ ظلم وہ ہے جس طرح لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا : ’’ اے بیٹے! اللہ کےساتھ شرک نہ کرنا ، شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے ۔ ‘ ‘
327
Sahih
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، ح، وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ
This hadith is narrated by another chain of transmitters, (namely) lshaq b. Ibrahim. Ibn Idris says: My father transmitted it from Aban b. Taghlib who heard it from A'mash; then I heard it also from him (A'mash).
اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے کہا : ہمیں عیسٰی بن یونس نے خبر دی ، نیز منجاب بن حارث تمیمی نے کہا : ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ادریس نے خبر دی ، پھر ان تینوں ( عیسیٰ ، ابن مسہر اور ابن ادریس ) نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ ابوکریب نے کہا : ابن ادریس نے کہا : پہلے مجھے میرے والد نے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے اعمش سے روایت کی ، پھر میں نے یہ روایت خود انہی ( اعمش ) سے سنی ۔
328
Sahih
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: 284]، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللهِ، كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدِ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ، ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: 285]، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] قَالَ: نَعَمْ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ: نَعَمْ {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} [البقرة: 286] قَالَ: نَعَمْ {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} [البقرة: 286] قَالَ: نَعَمْ
It is reported on the authority of Abu Huraira that when it was revealed to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of Allah), charity. Then this (the above-mentioned) verse was revealed unto you and it is beyond our power to live up to it. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do you intend to say what the people of two books (Jews and Christians) said before you: We hear and disobey ? You should rather say: We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return. And they said: We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, Our Lord! and unto Thee is the return. When the people recited it and it smoothly flowed on their tongues, then Allah revealed immediately afterwards: The Apostle believes in that which is sent down unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believes in Allah and His Angels and His Books and His Apostles, saying: We differentiate not between any of His Apostles and they say: We hearken and we obey: (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return (ii. 285). When they did that, Allah abrogated this (verse) and the Great, Majestic Allah revealed: Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, punish us not if we forget or make a mistake. (The Prophet said: ) Yes, our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. (The Prophet said: ) Yes, our Lord, impose not on us (burdens) which we have not the strength to bear (The Prophet said: ) Yes, and pardon us and grant us protection! and have mercy on us. Thou art our Patron, so grant us victory over the disbelieving people (ii. 286). He (the Lord) said: Yes.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ! بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے رب ! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ ‘ ‘ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں ، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ’’رسو ل اللہ ﷺ اس ( ہدایت ) پر ایمان لائے جوان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی ۔ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ، ( اورکہا : ) ہم ( ایمان لانے میں ) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ، اے ہمارے رب !تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ جب انہوں نے یہ ( مان کر اس پر عمل ) کیا تو اللہ عزوجل نےاس آیت ( کے ابتدائی معنی ) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ اللہ کسی شخص پر اس کی طاق سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اس نے جو ( نیکی ) کمائی اورجو ( برائی ) کمائی ( اس کا وبال ) اسی پر ہے ، اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔ ( انہوں نے کہا : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جوہم سے پہلے ( گزر چکے ) ہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں! ( پھر کہا : ) ’’اے ہمارے رب ! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ! ( پھر کہا : ) ’’ او رہم سےدرگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔
329
Sahih
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ} [البقرة: 284]، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ: فَأَلْقَى اللهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ {وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas: When this verse: Whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it (ii 284), there entered in their minds something (of that fear) such as had never entered their hearts (before). The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Say: We have heard and obeyed and submitted ourselves. He (the reporter) said: Allah instilled faith in their hearts and He revealed this verse: Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, call us not to account if we forget or make a mistake. He the (Lord) said: I indeed did it. Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. He (our Lord) said: I indeed did it. And pardon us, have mercy on us. Thou art our Protector (ii. 286). He said: I indeed did it.
حضرت ابن عبا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ، اس کو ظاہر کر دیا چھپاؤ ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز ( شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا ) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی ۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : ہم نے سنا او رہم نے اطاعت کی او رہم نے تسلیم کیا ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ( وبال ) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا ) جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے ۔ ‘ ‘ فرمایا : میں ایسا کر دیا ۔ ’’ہمیں بخش دے او رہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔
330
Sahih
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا، أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Verily Allah forgave my people the evil promptings which arise within their hearts as long as they did not speak about them or did not act upon them.
ابو عوانہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : رسول ا للہﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ ( دل میں ) اپنے آپ سے کریں : جب تک وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں ۔ ‘ ‘
331
Sahih
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Verily the Great and Mighty Allah forgave my people the evil promptings arising in their minds, but they neither talked about them nor acted upon them.
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ دل میں اپنے آپ سے کریں ، جب تک اس پر عمل یا کلام نہ کریں ۔ ‘ ‘
332
Sahih

Chapters

86
01
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
7 Hadith
02
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
2 Hadith
03
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
2 Hadith
04
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
7 Hadith
05
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
4 Hadith
06
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
6 Hadith
07
Chapter: Calling people to the twin declaration of faith and the laws of Islam
توحید و رسالت کی شہادت اور اسلام کے شرعی احکام کی دعوت دینا
3 Hadith
08
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
8 Hadith
09
اس بات کی دلیل کہ موت کے قریب اس وقت تک اسلام لانا صحیح ہے جب تک حالت نزع (جان کنی) طاری نہیں ہوئی اور مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کی اجازت منسوخ ہے ، اور اس بات کی دلیل کہ شرک پر مرنے والا جہنمی ہے اور جہنم سے اسے کوئی ’’وسیلہ‘‘ بھی نجات نہیں دلوا سکے گا
5 Hadith
10
Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازماً جنت میں داخل ہو گا
14 Hadith
11
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
2 Hadith
12
۔ ایمان کی شاخوں کا بیان ، اعلیٰ کو ن سی ہے اور ادنیٰ کون سی ؟ حیا کی فضیلت اور وہ ایمان کا حصہ ہے
6 Hadith
13
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
6 Hadith
14
Chapter: Clarifying the superiority of Islam, and what part of it is best
اسلام میں افضیلت کے مدارج کی وضاحت اور اسلام کا سب سے افضل کام کون سا ہے ؟
7 Hadith
15
Chapter: Clarifying the prohibition of annoying one's neighbor
پڑوسی کوتکلیف پہنچانے کی حرمت
2 Hadith
16
Chapter: Encouragement to honor one's neighbor and guest, and the obligation to remain silent unless one has something good to say, and the fact that all of that is part of faith
ہمسائے اور مہمان کی تکریم اور خیر کی بات کہنے یا خاموش رہنے کی ترغیب ، یہ سب امور ایمان کا حصہ ہیں
3 Hadith
17
Chapter: Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے
17 Hadith
18
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
2 Hadith
19
Chapter: Clarifying that the religion is sincerity
دین خیر خواہی ( اور خلوص) کا نام ہے
7 Hadith
20
Chapter: Clarifying that faith decreases because of disobedience and negating it from the one committing the act of disobedience, with the meaning of negating its completion
گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے
7 Hadith
21
Chapter: The characteristics of the hypocrite
منافق کی خصلتوں کا بیان
5 Hadith
22
Chapter: Clarifying the condition of faith for one who says to his muslim brother: O Kafir (Disbeliever).
اس شخص کے ایمان کی حالت جو اپنے مسلمان بھائی کو ’’ اے کافر!‘‘ کہہ کر پکارے
3 Hadith
23
Chapter: Clarifying the condition of the fath of one who knowingly denies his father
اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت
3 Hadith
24
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
2 Hadith
25
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان : ’’میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جاناکہ ایک دوسر ے کی گردنین مارنے لگو ‘‘ کامفہوم
4 Hadith
26
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
کسی کے نسب پر طعن کرنے اور نوحہ کرنے پر کفر کا اطلاق
4 Hadith
27
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
اس شخص کا کفر جویہ کہے کہ ہمیں ستاروں کےطلوع ہونے سے بارش ملی
4 Hadith
28
Chapter: Evidence that love of the Ansar and Ali (r.a.) is a part of faith and a sign thereof; Hating them is a sign of hypocrisy
اس بات کی دلیل کہ انصار اور حضرت علی سے محبت ایمان اور اس کی علامات میں سے ہے اور ان سے بغض و نفرت نفاق کی علامات میں سے ہے
6 Hadith
29
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
3 Hadith
30
Chapter: Clarifying the usage of the word Kafir for one who abandons Salat
نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا
4 Hadith
31
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
9 Hadith
32
Chapter: Clarifying that Shirk is the worst of sins, and the worst sins after Shirk
شرک تمام گناہوں سے بدتر ہے ، اس کے بعد بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟
2 Hadith
33
Chapter: The major sins and the most serious of them
۔ کبیرہ گناہ اور ان میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کا بیان
6 Hadith
34
Chapter: The prohibition of pride and definition of it
تکبر کی حرمت کا بیان
3 Hadith
35
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
6 Hadith
36
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
6 Hadith
37
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
3 Hadith
38
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever deceives us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان :’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
2 Hadith
39
Chapter: The prohibition of striking one's checks, tearing one's garment and calling with the calls of Jahilliyyah
رخسار پٹینے ، گریبان چاک کرنے اور جاہلیت کا بلاوا دینے کی حرمت
6 Hadith
40
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition of An-Namimah (Malicious Gossip)
چغل خوری کی شدید حرمت
9 Hadith
41
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
9 Hadith
42
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
2 Hadith
43
Chapter: The evidence that the one who kills himself is not considered a disbeliever
اس امر کی دلیل کہ ( ہر) خودکشی کرنے والا کافر نہیں بن جاتا
1 Hadith
44
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
1 Hadith
45
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
1 Hadith
46
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
7 Hadith
47
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
2 Hadith
48
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
4 Hadith
49
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
2 Hadith
50
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
6 Hadith
51
Chapter: If a person thinks of doing a good deed it will be recorded for him, and if he thinks of doing a bad deed it will not be recorded for him
بندہ جب نیکی کاقصد کرتا ہے تو وہ لکھ لی جاتی ہے اور جب برائی کا قصد کرتا ہے تووہ نہیں لکھی جاتی
5 Hadith
52
Chapter: Clarifying the Waswasah (Whispers, Bad Thoughts) with regard to faith, and what the one who experiences that should say
ایمان میں وسوسے کا بیان اور جو اسے محسوس کرے وہ کیاکہے
14 Hadith
53
Chapter: Warning of the Fire for the one who swears a false oath in order to unlawfully take the right of another muslim
جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اس کےلیے آگ کی وعید
6 Hadith
54
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
3 Hadith
55
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
4 Hadith
56
Chapter: The disappearance of honesty and faith from some hearts and the appearance of fitnah in some hearts
بعض دلوں سے امانت اور ایمان کا اٹھا لیا جانا اور فتنوں کا دلوں پر ڈالا جانا
5 Hadith
57
Chapter: Clarifying that Islam started as something strange, and will revert to being something strange, and it will retreat between the two Masajid
۔ اسلام کی ابتدا اس حالت میں ہوئی کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب پھر اپنے ابتدائی دور کے مانند اجنبی ہو جائے گا اور جو مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا
3 Hadith
58
Chapter: The Disappearance of Faith at the End of Time
آخری زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا
2 Hadith
59
Chapter: Permissibility of concealing one's faith in the case of fear
خوف زدہ انسان کے لیے ایمان کا چھپانا درست ہے
1 Hadith
60
Chapter: Being kind to one for whose faith there is concern because it is weak; Prohibition of attributing Faith to someone without definitive evidence
ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت
4 Hadith
61
Chapter: Increasing the heart's tranquility with the appearance evidence
دلائل کا سامنے آنا اطمینان قلب میں (جو ایمان کا بلند ترین ہے ) اضافے کا باعث ہے
3 Hadith
62
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
5 Hadith
63
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
6 Hadith
64
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
7 Hadith
65
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
8 Hadith
66
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
14 Hadith
67
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
6 Hadith
68
Chapter: About (The Lote-Tree of the Utmost Boundary)
سدرۃ ا لمنتہیٰ کا ذکر
2 Hadith
69
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
10 Hadith
70
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
2 Hadith
71
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Allah does not sleep and His veil is light, and if he were to remove it, the splendour of his face would burn all of his creation, as far as hs sght reaches .
آخرت میں مومن اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کا دیدار کریں گے
3 Hadith
72
Chapter: Affirming that the believers will see their Lord, Glorious is he and most high, in the hereafter
وؤیت الہٰی کس کس طریقے سے ہو گی ؟
9 Hadith
73
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
4 Hadith
74
Chapter: The Last of the people of the Fire to be brought out of it
سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا
3 Hadith
75
Chapter: The Status of the Lowest people in paradise
اہل جنت میں سے جوشخص سب سے نچلے درجے ہو گا
19 Hadith
76
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
4 Hadith
77
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
13 Hadith
78
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
1 Hadith
79
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
9 Hadith
80
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
4 Hadith
81
Chapter: The least severely punished of the people of the Fire
اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص
4 Hadith
82
Chapter: The evidence that whoever dies upon disbelief, no good deed will benefit him
اس بات کی دلیل کہ کفر پر مرنے والے شخص کو اس کے عمل فائدہ نہ پہنچائیں گے
1 Hadith
83
Chapter: Allegiance to the believers, and forsaking others and disavowing them
مومنوں سے موالات اور غیر مسلموں سے برائت اور لاتعلقی کا بیان۔
1 Hadith
84
Chapter: The Evidence that groups of Muslims will enter Paradise without being called to account, and without being punished
اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے
9 Hadith
85
Chapter: Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise
اہل جنت میں سے آدھے اس امت سے ہوں گے
3 Hadith
86
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
2 Hadith
No chapter matched that.