TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of faith - کتاب: ایمان کا بیان - Book 2 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 2 of Sahih Muslim, with 86 chapters and 441 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

441 Hadith · 86 Chapters
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَأَمَّكُمْ؟
It is narrated on the authority of Abu Huraira that he heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: What would you do when the son of Mary would descend and lead you?
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ( ابن شہاب ) کے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کیسے ہو گے جب مریم کے بیٹے تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہاری پیشوائی کریں گے ؟ ‘ ‘ ( جب امامت کرائیں گے تو بھی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے کرائیں گے ۔ )
393
Sahih
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟»، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: «تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟» قُلْتُ: تُخْبِرُنِي، قَالَ: «فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: What would you do when the son of Mary would descend amongst you and would lead you as one amongst you? Ibn Abi Dhi'b on the authority of Abu Huraira narrated: Your leader amongst you. Ibn Abi Dhi'b said: Do you know what the words: He would lead as one amongst you mean? I said: Explain these to me. He said: He would lead you according to the Book of your: Lord (hallowed be He and most exalted) and the Sunnah of your Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابن ابی ذئب نے ابن شہاب سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل ا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ’’ تم کیسے ہو گا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تم میں سے ( ہوکر ) تمہاری امامت کرائیں گے ! ‘ ‘ میں ( ولید بن مسلم ) نے ابن ابی ذئب سے پوچھا : اوزاعی نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اس طرح بیان کیا : ’’اور تمہار ا امام تمہیں میں سے ہو گا ‘ ‘ ( اور آپ کہہ رہے ہیں ، ابن مریم امامت کرائیں گے ) ابن ابی ذئب نے ( جواب میں ) کہا : جانتے ہو ’’ تم میں تمہاری امامت کرائیں گے ‘ ‘ کا مطلب کیا ہے ؟ میں نے کہا : آپ مجھے بتا دیجیے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب عزوجل کی کتاب اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت کےساتھ ( تم میں ایک فرد کی حیثیت سے یا تمہاری امت کا فرد بن کر ) تمہاری قیادت یا امامت کریں گے ۔
394
Sahih
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، قَالَ: فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ
Jabir b. 'Abdullah reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: A section of my people will not cease fighting for the Truth and will prevail till the Day of Resurrection. He said: Jesus son of Mary would then descend and their (Muslims') commander would invite him to come and lead them in prayer, but he would say: No, some amongst you are commanders over some (amongst you). This is the honour from Allah for this Ummah.
حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر ( قائم رہتے ہوئے ) لڑتا رہے گا ، وہ قیامت کے دن تک ( جس بھی معرکے میں ہو ں گے ) غالب رہیں گے ، کہا : پھر عیسیٰ ابن مریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اتریں گے تو اس طائفہ ( گروہ ) کا امیر کہے گا : آئیں ہمیں نماز پڑھائیں ، اس پر عیسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ جواب دیں گے : نہیں ، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو ۔ ‘ ‘
395
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ فَيَوْمَئِذٍ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The (Last) Hour shall not came till the sun rises from the place of its setting And on the day when it rises from the place of its setting even if all the people together affirmed their faith, it would not be of any avail to one who did not believe previously and derived no good out of his belief.
علاء بن عبد الرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی ۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے ، اس دن ’’کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان ( کی حالت ) میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی ۔ ‘ ‘ ( عمل سے تصدیق نہ کی تھی ۔ )
396
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وابْنُ نُميْرٍ، وأَبُو كُريْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زاَئِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
This hadith has been narrated by another chain of transmitters, Abu Bakr b. Abi Shaiba, Ibn Numair, Abu Kuraib, Ibn Fudail. This hadith has also been narrated through several other chains on the authority of Abu Huraira.
ابو زرعہ ، عبدالرحمن اعرج اور ہمام بن منبہ سے بھی حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی جیسی روایت مذکور ہے جو علاء نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔
397
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: When three things appear faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from his faith: the rising of the sun in its place of setting, the Dajjal, and the beast of the earth.
ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی شخص کو ، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں کوئی نیکی نہ کی تھی ، اس کا ایمان لانافائدہ نہ دے گا : سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، دجال اور دابۃ الارض ( زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا ۔ ) ‘ ‘
398
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، - سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، وَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ، فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ؟ ذَاكَ حِينَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
It is narrated on the authority of Abu Dharr that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day said: Do you know where the sun goes? They replied: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) observed: Verily it (the sun) glides till it reaches its resting place under the Throne. Then it falls prostrate and remains there until it is asked: Rise up and go to the place whence you came, and it goes back and continues emerging out from its rising place and then glides till it reaches its place of rest under the Throne and falls prostrate and remains in that state until it is asked: Rise up and return to the place whence you came, and it returns and emerges out from it rising place and the it glides (in such a normal way) that the people do not discern anything ( unusual in it) till it reaches its resting place under the Throne. Then it would be said to it: Rise up and emerge out from the place of your setting, and it will rise from the place of its setting. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said. Do you know when it would happen? It would happen at the time when faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from the faith.
اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی ، میرے علم کے مطابق ، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد ( یزید ) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن پوچھا : ’’جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے : اٹھو! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے : بلند ہو جاؤ اور جہاں سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر ( ایک دن سورج ) چلےگا ، لوگ اس میں معمول سے ہٹی ہوئی کوئی چیز نہیں پائیں گے حتی کہ ( جی ) یہ عرش کے نیچے اپنے اسی مستقر پر پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا : بلندہو اور اپنےمغرب ( جس طرف غروب ہوتا تھا ، اسی سمت ) سے طلوع ہو تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا؟ یہ اس وقت ہو گا جب ’’کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کےدوران میں نیکی نہیں کمائی تھی ۔ ‘ ‘
399
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
) وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟» بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
It is narrated on the authority of Abu Dharr that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day said: Do you know where the sun goes? The remaining part of the hadith is the same.
خالد بن عبد اللہ نے یونس سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک دن نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘ ‘ ؟.. .....اس کے بعد ابن علیہ والی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) ہے ۔
400
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ: وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَ
Abu Dharr reported: I entered the mosque and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of 'Abdullah recited it: And that is its appointed term.
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابو ذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں ۔ فرمایا : ’’ یہ جاتا ہے ، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے ، ( پھر یوں ہو گا کہ ) جیسے اس سے کہہ دیا گیاہو ( اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ہمیں تمثیلا اس کی خبر دی جا رہی ہے ) کہ جس طرف سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تویہ اپنی غروب ہونےوالے سمت سے طلوع ہو جائے گا ‘ ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ﴿تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾کے بجائے ) عبد اللہ بن مسعود کی روایت کردہ قراءت کے مطابق پڑھا : وذلك مستقرلها’’یہ اس کا مستقر ہے ۔ ‘ ‘
401
Sahih
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38]؟ قَالَ: «مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ»
Abu Dharr reported: I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne.
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔
402
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
دَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى [ص:140] رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: أَقْرَأْ، فَقُلْتُ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: 2] [ص:141]، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي»، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ: «أَيْ خَدِيجَةُ، مَا لِي» وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي»، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللهِ، لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟» قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ،
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported: The first (form) with which was started the revelation to the Messenger of Allah was the true vision in sleep. And he did not see any vision but it came like the bright gleam of dawn. Thenceforth solitude became dear to him and he used to seclude himself in the cave of Hira', where he would engage in tahannuth (and that is a worship for a number of nights) before returning to his family and getting provisions again for this purpose. He would then return to Khadija and take provisions for a like period, till Truth came upon him while he was in the cave of Hira'. There came to him the angel and said: Recite, to which he replied: I am not lettered. He took hold of me [the Apostle said] and pressed me, till I was hard pressed; thereafter he let me off and said: Recite. I said: I am not lettered. He then again took hold of me and pressed me for the second time till I was hard pressed and then let me off and said: Recite, to which I replied: I am not lettered. He took hold of me and pressed me for the third time, till I was hard pressed and then let me go and said: Recite in the name of your Lord Who created, created man from a clot of blood. Recite. And your most bountiful Lord is He Who taught the use of pen, taught man what he knew not (al-Qur'an, xcvi. 1-4). Then the Prophet returned therewith, his heart was trembling, and he went to Khadija and said: Wrap me up, wrap me up! So they wrapped him till the fear had left him. He then said to Khadija: O Khadija! what has happened to me? and he informed her of the happening, saying: I fear for myself. She replied: It can't be. Be happy. I swear by Allah that He shall never humiliate you. By Allah, you join ties of relationship, you speak the truth, you bear people's burden, you help the destitute, you entertain guests, and you help against the vicissitudes which affect people. Khadija then took him to Waraqa b. Naufal b. Asad b. 'Abd al-'Uzza, and he was the son of Khadija's uncle, i. e., the brother of her father. And he was the man who had embraced Christianity in the Days of Ignorance (i. e. before Islam) and he used to write books in Arabic and, therefore, wrote Injil in Arabic as God willed that he should write. He was very old and had become blind Khadija said to him: O uncle! listen to the son of your brother. Waraqa b. Naufal said: O my nephew! what did you see? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), then, informed him what he had seen, and Waraqa said to him: It is namus that God sent down to Musa. Would that I were then (during your prophetic career) a young man. Would that I might be alive when your people would expel you! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Will they drive me out? Waraqa said: Yes. Never came a man with a like of what you have brought but met hostilities. If I see your day I shall help you wholeheartedly.
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں خبر دی انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی ، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی ، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر ( دوبارہ ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے ( مقررہ ) تعداد مں راتیں تحنث میں مصروف رہتے ، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں ، ( اس کے بعد ) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر ، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد ( سامان خور و نوش ) لے جاتے ، ( یہ سلسلہ چلتا رہا ) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق ( کا پیغام ) آ گیا ، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے ، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا : پڑھیے! آپ نے جواب دیا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، آپ نے فرمایا : تو اس ( فرشتے ) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ ( اس کا دباؤ ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے ! میں میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے! میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا : ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا ، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے ، ( اس وقت ) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا : ’’مجھے کپڑے اوڑھا ؤ ، مجھے کپڑا اوڑھا ؤ ۔ ‘ ‘ انہوں ( گھر والوں ) نے کپڑا اوڑھا دیا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے کہا : ’’ خدیجہ ! یہ مجھے کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ خدیجہ نے جواب دیا : ہر گز نہیں ! ( بلکہ ) آپ کو خوش خبری ہو اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ، اللہ کی قسم ! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچی بات کہتے ہیں ، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو ، مہمان نوازی کرتے ہیں ، حق کے لیے پیش آنےوالی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں ، پھر خدیجہؓ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس پہنچیں ، وہ حضرت خدیجہ ؓ کے چچازاد ، ان کووالد کے بھائی کے بیٹے تھے ، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے ، عربی خط میں لکھتے تھے ، اور جس قدر الہ کو منظور تھا ، انجیل کوعربی زبان میں لکھتے تھے ، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی ۔ خدیجہ ؓ نے ان سےکہا : چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے ، ورقہ بن نوفل نے پوچھا : برادرز دے! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ رسول ا للہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا ، ا س کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا : یہ وہی ناموس ( رازوں کا محافظ ) ہے جسے موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی طرف بھیجا گیا تھا ، کاش ! اس وقت میں جوان ہوتا ، کا ش! میں اس وقت زندہ ( موجود ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دیں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا؟ ’’ تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟ ‘ ‘ ورقہ نے کہا : ہاں ، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا ( وہ ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھر پور مدد کروں گا ۔
403
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
) وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَوَاللهِ، لَا يُحْزِنُكَ اللهُ أَبَدًا، وَقَالَ: قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَيْ ابْنَ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ،
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha with another chain of narrators like one transmitted by Yunus, i. e. the first thing with which the revelation was initiated with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) except the words: By Allah, Allah would never humiliate you, and Khadija said: O son of my uncle! Listen to the son of your brother.
ہمیں معمر نے خبر دی کہ انہوں نے کہا : مجھے عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ کی طرف وحی کی ابتدا...... آگے یونس کی حدیث کی طرح بیا کیا ، سوائے اس کے کہ معمر نے لايحزنك الله أبداً’’ آپ کو اللہ کبھی غمگین نہ کرے گا ‎ ‘ ‘ کہا ۔ انہوں نے ( یہ بھی ) کہا کہ حضرت خدیجہ ؓ نے یہ الفاظ کہا : ’’چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
404
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ، يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ، وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ، فَوَاللهِ ِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ: أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ
This hadith has been reported from 'A'isha by another chain of transmitters and the words are: He (the Holy Prophet) came to Khadija an his heart was trembling. The rest of the hadith has been narrated like one transmitted by Yunus and Ma'mar, but the first part is not mentioned, i. e. the first thing with which was started the revelation to the Prophet was the true vision. And these words like those transmitted by Yunus are mentioned thus: By Allah, Allah would never humiliate you. And there is also a mention of the words of Khadija: O son of my uncle! Listen to the son of your brother.
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے ، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر ( عقیل نے ) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا ، بیان ہیں کیا ۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ فوالله !لا يخزيك الله أبداً ’’ اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ‘ ‘ میں متابعت کرنے کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے : ’’ چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
405
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ - قَالَ فِي حَدِيثِهِ -: «فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَدَثَّرُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ} [المدثر: 2] فَاهْجُرْ - وَهِيَ الْأَوْثَانُ - قَالَ: «ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ»،
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari who was one of the Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reportedThe Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) told about the intermission of revelation and narrated While I was walking I heard a voice from the sky, and raising my head I saw the angel who had come to me in Hira', sitting on a Throne between heaven and earth I was terror-stricken on that account and came back (to my family) and said: Wrap me up, wrap me up! So they wrapped me up, and the Blessed and Most Exalted Allah sent down: You who are shrouded, arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse, and defilement shun, and defilement means idols; and then the revelation was followed continuously.
یونس نے ( اپنی سند کے ساتھ ) ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ جو اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، یہ حدیث سنایا کرتے تھے ، کہا : وقفہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس دوران میں جب میں چل رہا تھا ، میں نے آسمان سے ایک آواز سنی ، اس پر میں اپنا سر اٹھایا تو اچانک ( دیکھا ) وہی فرشتہ تھا جومیرے پاس غار حراء میں آیاتھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اس کے خوف کی وجہ سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور میں گھر واپس آگیا اور کہا : مجھے کپڑا اوڑھاؤ ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ تو انہوں ( گھر والوں ) نے مجھے کمبل اوڑھا دیا ۔ ‘ ‘ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرواور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو ۔ اور گندگی سے دور رہیے ۔ ‘ ‘ اور اس ( الرجزیعنی گندگی ) سے مراد بت ہیں ۔ فرمایا : پھر وحی مسلسل نازل ہونے لگی ۔
406
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي»، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ»، قَالَ: وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ الْأَوْثَانُ، قَالَ: ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ.
It is narrated on the authority of Jabir b. Abdullah that he heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) says: The wahi was intermitted for me for a small span of time and while I was walking, and then the hadith like the one narrated by Yunus was transmitted but with the exception of these words: I was terror-stricken till I fell on the ground. Abu Salama said: Defilement means idols. After this the revelation was speeded up and followed rapidly.
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ انہوں نے رسو ل اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’پھر وحی ایک وقفے کے لیے مجھ سے منقطع ہو گئی ، اسی دوران میں جب میں چل رہا تھا..... ‘ ‘ پھر ( عقیل نے ) یونس کی طرح روایت بیان کی ، البتہ انہوں نے ( مزید یہ ) کہا : ’’ تو خوف سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی حتی کہ میں زمین پر گر پڑا ‘ ‘ ( ابن شہاب نےکہا : ابوسلمہ نےبتایا : الرجز سے بت مراد ہیں ) کہا : پھر نزول وحی ( کی رفتار ) میں گرمی آ گئی اور مسلسل نازل ہونے لگی ۔
407
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} [المدثر: 1]، إِلَى قَوْلِهِ {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: 5] قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ - وَهِيَ الْأَوْثَانُ - وَقَالَ: فَجُثِثْتُ مِنْهُ كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ
This hadith, the like of one narrated by Yunus has also been transmitted by Ma'mar on the authority of al-Zuhri who narrated: Allah the Most Glorious and Exalted revealed this: You who are shrouded, arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse and defilement shun, before making the prayer obligatory. I felt terror-stricken as narrated by Uqail.
معمر نے زہری سے اسی سند کےساتھ یونس کی طرح حدیث بیان کی ( اس میں یہ ) کہا : تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے : ﴿﴾ سے لے کر﴿﴾ تک ( کی آیتیں ) نازل فرمائیں ( نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے ) اور اس ( الرجز ‎ ) سے بت مراد ہیں ، نیز معمر نے عقیل کی طرح ’’ مجھ پر خوف طاری ہو گیا ‘ ‘ کہا ۔
408
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ: أَوْ اقْرَأْ؟ قَالَ جَابِرٌ: أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ - يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي، فَدَثَّرُونِي، فَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ
Yahya reported: I asked Abu Salama what was revealed first from the Qur'an. He said: 0, the shrouded one. I said: Or Recite. Jabir said: I am narrating to you what was narrated to us by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: I stayed in Hira' for one month and when my stay was completed, I come down and went into the heart of the valley. Somebody called me aloud. I looked in front of me, behind me, on the right of my side and on my left, but I did not see any body. I was again called and I looked about but saw nothing. I was called again and raised my head, and there on the Throne in the open atmosphere he, i. e. Gabriel (peace be upon him) was sitting. I began to tremble on account of fear. I came to Khadija and said: Wrap me up. They wrapped me up and threw water on me and Allah, the Exalted and Glorious, sent down this: you who are shrouded! arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse.
اوزاعی نے کہا : میں نے یحییٰ سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابوسلمہ سے سوال کیا : ’’ قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا ؟ کہا : ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ ۔ میں نے کہا : یا ﴿اِقْرَاْ﴾ ؟ ابو سلمہ نے کہا : میں جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : قرآن کا کون سا حصہ پہلے اتارا گیا ؟ انہوں نے جواب دیا : ﴿ يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴾ ۔ میں نےکہا : یا ﴿ اِقْرَاْ ﴾؟ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جوہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا ۔ جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کیا تو میں اترا ، پھر میں وادی کے درمیان پہنچا تو مجھے آواز دی گئی ، اس پر میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا ، مجھے پھر آواز دی گئی میں میں نے دیکھا ، مجھے کوئی نظر نہ آیا ، پھر ( تیسری بار ) مجھے آواز دی گئی تو میں نے سر اوپر اٹھایا تو وہی ( فرشت ( فضا میں تخت ( کرسی ) پر بیٹھا ہوا تھا ( یعنی جبرییل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) اس کی وجہ سے مجھ پر سخت لرزہ طاری ہو گیا ۔ میں خدیجہ ؓ کے پاس آ گیا اور کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ، انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پرپانی ڈالا ۔ تو اس ( موقع ) پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے کمبل اوڑھنے والے ! اٹھ اور ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے پاک رکھ ۔ ‘ ‘
409
Sahih
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»
Yahya b Abi Kathir has reported this hadith with the same chain of transmitters and narrated: And there he was sitting on the Throne between the heaven and the earth.
علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : ’’ تو وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ‘ ‘
410
Sahih
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ»، قَالَ: «فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ»، قَالَ: «فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ»، قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ [ص:146]، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: َ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ بِي، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ، صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا هُوَ قَدِ اُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [مريم: 57]، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ ، قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I was brought al-Buraq Who is an animal white and long, larger than a donkey but smaller than a mule, who would place his hoof a distance equal to the range of version. I mounted it and came to the Temple (Bait Maqdis in Jerusalem), then tethered it to the ring used by the prophets. I entered the mosque and prayed two rak'ahs in it, and then came out and Gabriel brought me a vessel of wine and a vessel of milk. I chose the milk, and Gabriel said: You have chosen the natural thing. Then he took me to heaven. Gabriel then asked the (gate of heaven) to be opened and he was asked who he was. He replied: Gabriel. He was again asked: Who is with you? He (Gabriel) said: Muhammad. It was said: Has he been sent for? Gabriel replied: He has indeed been sent for. And (the door of the heaven) was opened for us and lo! we saw Adam. He welcomed me and prayed for my good. Then we ascended to the second heaven. Gabriel (peace be upon him) (asked the door of heaven to be opened), and he was asked who he was. He answered: Gabriel; and was again asked: Who is with you? He replied: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. The gate was opened. When I entered 'Isa b. Maryam and Yahya b. Zakariya (peace be upon both of them), cousins from the maternal side. welcomed me and prayed for my good Then I was taken to the third heaven and Gabriel asked for the opening (of the door). He was asked: Who are you? He replied: Gabriel. He was (again) asked: Who is with you? He replied Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). It was said: Has he been sent for? He replied He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and I saw Yusuf (peace of Allah be upon him) who had been given half of (world) beauty. He welcomed me prayed for my well-being. Then he ascended with us to the fourth heaven. Gabriel (peace be upon him) asked for the (gate) to be opened, and it was said: Who is he? He replied: Gabriel. It was (again) said: Who is with you? He said: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. The (gate) was opened for us, and lo! Idris was there. He welcomed me and prayed for my well-being (About him) Allah, the Exalted and the Glorious, has said: We elevated him (Idris) to the exalted position (Qur'an xix. 57). Then he ascended with us to the fifth heaven and Gabriel asked for the (gate) to be opened. It was said: Who is he? He replied Gabriel. It was (again) said: Who is with thee? He replied: Muhammad. It was said Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and then I was with Harun (Aaron-peace of Allah be upon him). He welcomed me prayed for my well-being. Then I was taken to the sixth heaven. Gabriel (peace be upon him) asked for the door to be opened. It was said: Who is he? He replied: Gabriel. It was said: Who is with thee? He replied: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and there I was with Musa (Moses peace be upon him) He welcomed me and prayed for my well-being. Then I was taken up to the seventh heaven. Gabriel asked the (gate) to be opened. It was said: Who is he? He said: Gabriel It was said. Who is with thee? He replied: Muhammad (may peace be upon him.) It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and there I found Ibrahim (Abraham peace be upon him) reclining against the Bait-ul-Ma'mur and there enter into it seventy thousand angels every day, never to visit (this place) again. Then I was taken to Sidrat-ul-Muntaha whose leaves were like elephant ears and its fruit like big earthenware vessels. And when it was covered by the Command of Allah, it underwent such a change that none amongst the creation has the power to praise its beauty. Then Allah revealed to me a revelation and He made obligatory for me fifty prayers every day and night. Then I went down to Moses (peace be upon him) and he said: What has your Lord enjoined upon your Ummah? I said: Fifty prayers. He said: Return to thy Lord and beg for reduction (in the number of prayers), for your community shallnot be able to bear this burden. as I have put to test the children of Isra'il and tried them (and found them too weak to bear such a heavy burden). He (the Holy Prophet) said: I went back to my Lord and said: My Lord, make things lighter for my Ummah. (The Lord) reduced five prayers for me. I went down to Moses and said. (The Lord) reduced five (prayers) for me, He said: Verily thy Ummah shall not be able to bear this burden; return to thy Lord and ask Him to make things lighter. I then kept going back and forth between my Lord Blessed and Exalted and Moses, till He said: There are five prayers every day and night. O Muhammad, each being credited as ten, so that makes fifty prayers. He who intends to do a good deed and does not do it will have a good deed recorded for him; and if he does it, it will be recorded for him as ten; whereas he who intends to do an evil deed and does not do, it will not be recorded for him; and if he does it, only one evil deed will be recorded. I then came down and when I came to Moses and informed him, he said: Go back to thy Lord and ask Him to make things lighter. Upon this the Messenger of Allah remarked: I returned to my Lord until I felt ashamed before Him.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے براق لایا گیا۔ اور وہ ایک جانور ہے سفید رنگ کا گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا اپنے سم وہاں رکھتا ہے، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے (تو ایک لمحہ میں آسمان تک جا سکتا ہے) میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔ وہاں اس جانور کو حلقہ سے باندھ دیا۔ جس سے اور پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے (یہ حلقہ مسجد کے دروازے پر ہے اور باندھ دینے سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی چیزوں کی احتیاط اور حفاظت ضروری ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں) پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعتیں نماز کی پڑھیں بعد اس کے باہر نکلا تو جبرئیل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ میں نے دودھ پسند کیا۔ جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے (جب وہاں پہنچے) تو فرشتوں سے کہا: دروازہ کھولنے کیلئے، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل ہے۔ انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے۔؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں بلائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھولا گیا ہمارے لئے اور ہم نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے دعا کی بہتری کی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ چڑھے دوسرے آسمان پر اور دروازہ کھلوایا، فرشتوں نے پوچھا: کون ہے۔ انہوں نے کہا: جبرئیل۔ فرشتوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ دوسرا کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتوں نے کہا: کیا ان کو حکم ہوا تھا بلانے کا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہم السلام کو ان دونوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے بہتری کی دعا کی پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے کہا: کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل۔ فرشتوں نے کہا: دوسرا تمہارے ساتھ کون ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا ان کو پیغام کیا گیا تھا بلانے کے لئے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں ان کو پیغام کیا گیا تھا پھر دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا اللہ نے حسن (خوبصورتی) کا آدھا حصہ ان کو دیا تھا۔ انہوں نے مرحبا کہا مجھ کو اور نیک دعا کی پھر جبرئیل علیہ السلام ہم کو لے کر چوتھے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل۔ پوچھا: تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے۔؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتوں نے کہا: کیا بلوائے گے ہیں؟ جبرئیل نے کہا: ہاں بلوائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور اچھی دعا دی مجھ کو، اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ہم نے اٹھا لیا ادریس کو اونچی جگہ پر (تو اونچی جگہ سے یہی چوتھا آسمان مراد ہے) پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ پانچویں آسمان پر چڑھے۔ انہوں نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون؟ کہا جبرئیل۔ پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا بلائے گئے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ہاں بلوائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا کون ہے؟ کہا: جبرئیل۔ پوچھا اور کون ہے تمہارے ساتھ؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا اللہ نے ان کو پیغام بھیجا آ ملنے کیلئے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں بھیجا، پھر دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے کہا: مرحبا اور اچھی دعا دی مجھ کو، پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ ساتویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا وہ بلوائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا وہ تکیہ لگائے ہوئے تھے اپنی پیٹھ کا بیت المعمور کی طرف (اس سے یہ معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا درست ہے) اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی نہیں آتے پھر جبرئیل علیہ السلام مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے۔ اس کے پتے اتنے بڑے تھے جیسے ہاتھی کے کان اور اس کے بیر جیسے قلہ (ایک بڑا گھڑا جس میں دو مشک یا زیادہ پانی آتا ہے) پھر جب اس درخت کو اللہ کے حکم نے ڈھانکا تو اس کا حال ایسا ہو گیا کہ کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی پھر اللہ جل جلالہ نے ڈالا میرے دل میں جو کچھ ڈالا اور پچاس نمازیں ہر رات اور دن میں مجھ پر فرض کیں جب میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا: تمہارے پروردگار نے کیا فرض کیا تمہاری امت پر۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کیں۔ انہوں نے کہا: پھر لوٹ جاؤ اپنے پروردگار کے پاس اور تخفیف چاہو کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی اور میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور ان کا امتحان لیا ہے۔ میں لوٹ گیا اپنے پروردگار کے پاس اور عرض کیا: اے پروردگار! تخفیف کر میری امت پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔ میں لوٹ کر موسٰی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیں۔ انہوں نے کہا: تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی تم پھر جاؤ اپنے رب کے پاس اور تخفیف کراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس طرح برابر اپنے پروردگار اور موسٰی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: اے محمد! وہ پانچ نمازیں ہیں، ہر دن اور ہر رات میں اور ہر ایک نماز میں دس نماز کا ثواب ہے، تو وہی پچاس نمازیں ہوئیں (سبحان اللہ! مالک کی کیسی عنایت اپنے غلاموں پر ہے کہ پڑھیں تو پانچ نمازیں اور ثواب ملے پچاس کا) اور جو کوئی شخص نیت کرے کام کرنے کی نیک، پھر اس کو نہ کرے تو اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو کرے تو دس نیکیوں کا اور جو شخص نیت کرے برائی کی پھر اس کو نہ کرے تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر کر بیٹھے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: پھر جاؤ اپنے پروردگار کے پاس اور تخفیف چاہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے پروردگار کے پاس بار بار گیا یہاں تک کہ میں شرما گیا اس سے۔“
411
Sahih
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ، فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي، ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُنْزِلْتُ»
It is narrated on the the outhority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (the angels) came to me and took me to the Zamzam and my heart was opened and washed with the water of Zamzam and then I was left (at my place).
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرے پاس ( فرشتے ) آئے اور مجھے زمزم کے پاس لے گئے ، میرا سینہ چاک کیا گیا ، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر مجھے ( واپس اپنی جگہ ) اتارا دیا گیا ۔ ‘ ‘ ( یہ معراج سے فوراً پہلے کا واقعہ ہے ۔ )
412
Sahih

Chapters

86
01
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
7 Hadith
02
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
2 Hadith
03
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
2 Hadith
04
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
7 Hadith
05
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
4 Hadith
06
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
6 Hadith
07
Chapter: Calling people to the twin declaration of faith and the laws of Islam
توحید و رسالت کی شہادت اور اسلام کے شرعی احکام کی دعوت دینا
3 Hadith
08
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
8 Hadith
09
اس بات کی دلیل کہ موت کے قریب اس وقت تک اسلام لانا صحیح ہے جب تک حالت نزع (جان کنی) طاری نہیں ہوئی اور مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کی اجازت منسوخ ہے ، اور اس بات کی دلیل کہ شرک پر مرنے والا جہنمی ہے اور جہنم سے اسے کوئی ’’وسیلہ‘‘ بھی نجات نہیں دلوا سکے گا
5 Hadith
10
Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازماً جنت میں داخل ہو گا
14 Hadith
11
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
2 Hadith
12
۔ ایمان کی شاخوں کا بیان ، اعلیٰ کو ن سی ہے اور ادنیٰ کون سی ؟ حیا کی فضیلت اور وہ ایمان کا حصہ ہے
6 Hadith
13
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
6 Hadith
14
Chapter: Clarifying the superiority of Islam, and what part of it is best
اسلام میں افضیلت کے مدارج کی وضاحت اور اسلام کا سب سے افضل کام کون سا ہے ؟
7 Hadith
15
Chapter: Clarifying the prohibition of annoying one's neighbor
پڑوسی کوتکلیف پہنچانے کی حرمت
2 Hadith
16
Chapter: Encouragement to honor one's neighbor and guest, and the obligation to remain silent unless one has something good to say, and the fact that all of that is part of faith
ہمسائے اور مہمان کی تکریم اور خیر کی بات کہنے یا خاموش رہنے کی ترغیب ، یہ سب امور ایمان کا حصہ ہیں
3 Hadith
17
Chapter: Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے
17 Hadith
18
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
2 Hadith
19
Chapter: Clarifying that the religion is sincerity
دین خیر خواہی ( اور خلوص) کا نام ہے
7 Hadith
20
Chapter: Clarifying that faith decreases because of disobedience and negating it from the one committing the act of disobedience, with the meaning of negating its completion
گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے
7 Hadith
21
Chapter: The characteristics of the hypocrite
منافق کی خصلتوں کا بیان
5 Hadith
22
Chapter: Clarifying the condition of faith for one who says to his muslim brother: O Kafir (Disbeliever).
اس شخص کے ایمان کی حالت جو اپنے مسلمان بھائی کو ’’ اے کافر!‘‘ کہہ کر پکارے
3 Hadith
23
Chapter: Clarifying the condition of the fath of one who knowingly denies his father
اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت
3 Hadith
24
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
2 Hadith
25
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان : ’’میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جاناکہ ایک دوسر ے کی گردنین مارنے لگو ‘‘ کامفہوم
4 Hadith
26
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
کسی کے نسب پر طعن کرنے اور نوحہ کرنے پر کفر کا اطلاق
4 Hadith
27
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
اس شخص کا کفر جویہ کہے کہ ہمیں ستاروں کےطلوع ہونے سے بارش ملی
4 Hadith
28
Chapter: Evidence that love of the Ansar and Ali (r.a.) is a part of faith and a sign thereof; Hating them is a sign of hypocrisy
اس بات کی دلیل کہ انصار اور حضرت علی سے محبت ایمان اور اس کی علامات میں سے ہے اور ان سے بغض و نفرت نفاق کی علامات میں سے ہے
6 Hadith
29
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
3 Hadith
30
Chapter: Clarifying the usage of the word Kafir for one who abandons Salat
نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا
4 Hadith
31
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
9 Hadith
32
Chapter: Clarifying that Shirk is the worst of sins, and the worst sins after Shirk
شرک تمام گناہوں سے بدتر ہے ، اس کے بعد بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟
2 Hadith
33
Chapter: The major sins and the most serious of them
۔ کبیرہ گناہ اور ان میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کا بیان
6 Hadith
34
Chapter: The prohibition of pride and definition of it
تکبر کی حرمت کا بیان
3 Hadith
35
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
6 Hadith
36
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
6 Hadith
37
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
3 Hadith
38
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever deceives us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان :’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
2 Hadith
39
Chapter: The prohibition of striking one's checks, tearing one's garment and calling with the calls of Jahilliyyah
رخسار پٹینے ، گریبان چاک کرنے اور جاہلیت کا بلاوا دینے کی حرمت
6 Hadith
40
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition of An-Namimah (Malicious Gossip)
چغل خوری کی شدید حرمت
9 Hadith
41
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
9 Hadith
42
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
2 Hadith
43
Chapter: The evidence that the one who kills himself is not considered a disbeliever
اس امر کی دلیل کہ ( ہر) خودکشی کرنے والا کافر نہیں بن جاتا
1 Hadith
44
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
1 Hadith
45
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
1 Hadith
46
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
7 Hadith
47
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
2 Hadith
48
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
4 Hadith
49
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
2 Hadith
50
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
6 Hadith
51
Chapter: If a person thinks of doing a good deed it will be recorded for him, and if he thinks of doing a bad deed it will not be recorded for him
بندہ جب نیکی کاقصد کرتا ہے تو وہ لکھ لی جاتی ہے اور جب برائی کا قصد کرتا ہے تووہ نہیں لکھی جاتی
5 Hadith
52
Chapter: Clarifying the Waswasah (Whispers, Bad Thoughts) with regard to faith, and what the one who experiences that should say
ایمان میں وسوسے کا بیان اور جو اسے محسوس کرے وہ کیاکہے
14 Hadith
53
Chapter: Warning of the Fire for the one who swears a false oath in order to unlawfully take the right of another muslim
جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اس کےلیے آگ کی وعید
6 Hadith
54
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
3 Hadith
55
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
4 Hadith
56
Chapter: The disappearance of honesty and faith from some hearts and the appearance of fitnah in some hearts
بعض دلوں سے امانت اور ایمان کا اٹھا لیا جانا اور فتنوں کا دلوں پر ڈالا جانا
5 Hadith
57
Chapter: Clarifying that Islam started as something strange, and will revert to being something strange, and it will retreat between the two Masajid
۔ اسلام کی ابتدا اس حالت میں ہوئی کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب پھر اپنے ابتدائی دور کے مانند اجنبی ہو جائے گا اور جو مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا
3 Hadith
58
Chapter: The Disappearance of Faith at the End of Time
آخری زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا
2 Hadith
59
Chapter: Permissibility of concealing one's faith in the case of fear
خوف زدہ انسان کے لیے ایمان کا چھپانا درست ہے
1 Hadith
60
Chapter: Being kind to one for whose faith there is concern because it is weak; Prohibition of attributing Faith to someone without definitive evidence
ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت
4 Hadith
61
Chapter: Increasing the heart's tranquility with the appearance evidence
دلائل کا سامنے آنا اطمینان قلب میں (جو ایمان کا بلند ترین ہے ) اضافے کا باعث ہے
3 Hadith
62
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
5 Hadith
63
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
6 Hadith
64
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
7 Hadith
65
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
8 Hadith
66
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
14 Hadith
67
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
6 Hadith
68
Chapter: About (The Lote-Tree of the Utmost Boundary)
سدرۃ ا لمنتہیٰ کا ذکر
2 Hadith
69
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
10 Hadith
70
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
2 Hadith
71
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Allah does not sleep and His veil is light, and if he were to remove it, the splendour of his face would burn all of his creation, as far as hs sght reaches .
آخرت میں مومن اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کا دیدار کریں گے
3 Hadith
72
Chapter: Affirming that the believers will see their Lord, Glorious is he and most high, in the hereafter
وؤیت الہٰی کس کس طریقے سے ہو گی ؟
9 Hadith
73
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
4 Hadith
74
Chapter: The Last of the people of the Fire to be brought out of it
سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا
3 Hadith
75
Chapter: The Status of the Lowest people in paradise
اہل جنت میں سے جوشخص سب سے نچلے درجے ہو گا
19 Hadith
76
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
4 Hadith
77
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
13 Hadith
78
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
1 Hadith
79
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
9 Hadith
80
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
4 Hadith
81
Chapter: The least severely punished of the people of the Fire
اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص
4 Hadith
82
Chapter: The evidence that whoever dies upon disbelief, no good deed will benefit him
اس بات کی دلیل کہ کفر پر مرنے والے شخص کو اس کے عمل فائدہ نہ پہنچائیں گے
1 Hadith
83
Chapter: Allegiance to the believers, and forsaking others and disavowing them
مومنوں سے موالات اور غیر مسلموں سے برائت اور لاتعلقی کا بیان۔
1 Hadith
84
Chapter: The Evidence that groups of Muslims will enter Paradise without being called to account, and without being punished
اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے
9 Hadith
85
Chapter: Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise
اہل جنت میں سے آدھے اس امت سے ہوں گے
3 Hadith
86
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
2 Hadith
No chapter matched that.