TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of faith - کتاب: ایمان کا بیان - Book 2 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 2 of Sahih Muslim, with 86 chapters and 441 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

441 Hadith · 86 Chapters
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There was for every apostle a prayer with which he prayed for his Ummah and it was granted to him; but I wish, if Allah so wills, to defer my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
محمد بن زیاد نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور وہ اس کے لیے قبول ہوئی ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں ۔ ‘ ‘
493
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»،
Anas b. Malik reported: Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is for every apostle a prayer with which he prays (to Allah) for his Ummah. I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
ہشام نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک ( یقینی مقبول ) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ۔ ‘ ‘
494
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. ح،
This hadith is narrated with the same chain of narrators by Qatada.
مذکورہ بالا روایت ( ہشام کے بجائے ) شعبہ نے قتادہ سےباقی ماندہ اسی سند کے ساتھ بیان کی ۔
495
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قَالَ: أُعْطِيَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Mis'ar transmitted it with the same chain of narrators from Qatada except that in the hadith narrated by Waki' (the Prophet) said: He was endowed, and in the hadith reported by Abu Usama (the words are): It is reported from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
وکیع اور ابو اسامہ نےمسعر سے حدیث سنائی ، انہوں نےقتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اتنا فرق ہے کہ وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’ آپ نے فرمایا : ( ہر نبی کو ایک دعا ) ’’عطا کی گئی ہے ‘ ‘ اور ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے ۔ ‘ ‘
496
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ
Muhammad b. 'Abd al-A'la reported it to me: Mu'tamir narrated to us on the authority of his father who transmitted it liom Anas that verity the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said, and then narrated the hadith like the one transmitted by Qatada on the authority of Anas.
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نےحضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا......... آگے کی حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت کی طرح ہے ۔
497
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَخَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
Abu Zubair heard Jabir b. Abdullah reporting it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): For every apostle was a prayer with which he prayed (to his Lord) for his Ummah, but I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
حضرت جابر نے عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ’’ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کر چکا جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کےلیے محفوظ کر رکھی ہے ۔ ‘ ‘
498
Sahih
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} [إبراهيم: 36] الْآيَةَ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118]، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي»، وَبَكَى، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ؟» فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللهُ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ، وَلَا نَسُوءُكَ
Abdullah b. Amr b. al-'As reported: Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited the words of Allah, the Great and Glorious, that Ibrahim uttered. My Lord! lo! they have led many of mankind astray: But whoso followeth me, he verily is of me (al-Qur'an, xiv. 35) and Jesus (peace be upon him) said: If thou punisheth them, lo! they are Thy slaves, and if Thou forgiveth them-verily Thou art the Mighty, the Wise (al-Qur'an, v 117). Then he raised his hands and said: O Lord, my Ummah, my Ummah, and wept; so Allah the High and the Exalted said: O Gabriel, go to Muhammad (though your Lord knows it fully well) and ask him: What makes thee weep? So Gabriel (peace be upon him) came to him and asked him, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) informed him what he had said (though Allah knew it fully well). Upon this Allah said: O Gabriel, go to Muhammad and say: Verily We will please thee with regard to your Ummah and would not displease thee.
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کہ نبیﷺ نےابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’پروردگار ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں ، لہٰذا ان میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ۔ ‘ ‘ اور عیسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے قول ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو بلاشبہ توہی غالب حکمت والا ہے ‘ ‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھ کر فرمایا : ’’ اے اللہ ! میری امت ، میری امت ‘ ‘ اور ( بے اختیار ) روپڑے ۔ اللہ تعالیٰ نےحکم دیا : اے جبرئیل !محمدﷺ کے پاس جاؤ ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننےوالا ہے ، ان سے پوچھو کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے ؟ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ آپ کےپاس آئے اور ( وجہ ) پوچھی تو رسو ل ا للہﷺ نے جو بات کہی تھی ان کو بتائی ، جبکہ وہ ( اللہ اس بات سے ) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل! محمدﷺ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور ہم آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے ۔
499
Sahih
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «فِي النَّارِ»، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»
Anas reported: Verily, a person said: Messenger of Allah, where is my father? He said: (He) is in the Fire. When he turned away, he (the Holy Prophet) called him and said: Verily my father and your father are in the Fire.
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ آگ میں ۔ ‘ ‘ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا : ’’ بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں ۔ ‘ ‘
500
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: «يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ كَعْبٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا»،
Abu Huraira reported: When this verse was revealed: And warn thy nearest kindred (al-Qur'an, xxvi. 214), the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Ka'b b. Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra b. Ka'b, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd al-Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you.
جریر نےعبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈائیے ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا ۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی حیثیت سے ( سب کو ) اور خاص کر کے ( الگ خاندانوں اور لوگوں کے ان کے نام لے لے کر ) فرمایا : ’’اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبد المطلب کی اولاد! اپنےآپ کو آگ سے بچالو ، اے فاطمہ ( ینت رسول اللہﷺ ) ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( کسی مؤاخذے کی صورت میں ) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، تم لوگوں کے ساتھ رشتہ ہے ، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے ۔ ‘ ‘
501
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
The same hadith is narrated by Ubaidallah b. Umar al-Qawariri from Abu 'Uwana, who transmitted it to 'Abd al-Malik b. 'Umair on the same chain of transmitter and the hadith of Jarir is more perfect and comprehensive.
عبدالملک سے ( جریر کے علاوہ ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی ۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے ۔
502
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُ
It is narrated on the authority of 'A'isha that when this verse was revealed: And warn thy nearest kindred, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up on Safa' and said: O Fatima, daughter of Muhammad. O Safiya, daughter of 'Abd al-Muttalib, O sons of 'Abd al-Muttalib. I have nothing which can avail you against Allah; you may ask me what you want of my worldly belongings.
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ نازل ہوئی تو رسو ل ا للہﷺ نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا : ’’ اے محمد ( ﷺ ) کی بیٹی فاطمہ ! اے عبد المطلب کی بیٹی صفیہ ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ ( ہاں! ) میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگ لو ۔ ‘ ‘
503
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا»،
Abu Huraira reported: When (this verse) was revealed to him: Warn your nearest kinsmen. the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O people of Quraish, buy yourselves from Allah, I cannot avail you at all against Allah; O sons of Abd al-Muttalib. I cannot avail you at all against Allah; 0 Abbas b. 'Abd al- Muttalib, I cannot avail you at all against Allah; O Safiya (aunt of the Messenger of Allah), I cannot avail you at all against Allah; 0 Fatima, daughter of Muhammad, ask me whatever you like, but I cannot avail you at all against Allah.
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہاکہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتاری گئی : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کوڈرائیں ‘ ‘ تو آپ نے فرمایا : ’’ اے قریش کےلوگو!اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو ، میں اللہ تعالیٰ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا ، اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کےرسول کے بیٹی فاطمہ ! مجھ سے ( میرے مال میں سے ) جو چاہو مانگ لو ، میں اللہ کے ( فیصلےکے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ۔ ‘ ‘
504
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا
This hadith is narrated from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) by another chain of narrators, 'Amr al-Naqid, Mu'awiya b. 'Amr, Abdullah b. Dhakwan, A'raj on the authority of Abu Huraira.
ایک اور سند سے اعرج نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ۔
505
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَا: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ، يَا صَبَاحَاهُ»،
Qabisa b. al-Mukhariq and Zuhair b. 'Amr reported: When this verse was revealed: And warn thy nearest kindred, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: 0 sons of 'Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard!
یزید بن زریع نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے ابو عثمان کے واسطے سے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، دونوں نےکہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ اتری ، کہا : تو اللہ کے نبی ﷺ ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے ، پھر آواز دی : ’’ اے عبد مناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تووہ بلند آواز سے پکارنے لگاؤ : وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘
506
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ
This hadith is narrated from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) by another chain of narrators, Muhammad b. Abd al-A'la, Mu'tamir, Abu 'Uthman, Zuhair b. 'Amr, Qabisa b. Mukhariq.
( یزید بن زریع کے بجائے ) معتمر نے اپنے والد ( سلیمان ) کے حوالے سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
507
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: «يَا صَبَاحَاهْ»، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟» قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ»، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ، كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that when this verse was revealed: And warn thy nearest kindred (and thy group of selected people among them) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set off till he climbed Safa' and called loudly: Be on your guard! They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad. They gathered round him, and he said: O sons of so and so, O sons of so and so, O sons of 'Abd Manaf, O sons of 'Abd al-Muttalib, and they gathered around him. He (the Apostle) said: If I were to inform you that there were horsemen emerging out of the foot of this mountain, would you believe me? They said: We have not experienced any lie from you. He said: Well, I am a warner to you before a severe torment. He (the narrator) said that Abu Lahab then said: Destruction to you! Is it for this you have gathered us? He (the Holy Prophet) then stood up, and this verse was revealed: Perish the hands of Abu Lahab, and he indeed perished (cxi. 1). A'mash recited this to the end of the Sura.
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ ( خاص کر ) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا : ’’وائے اس کی صبح ( کی تباہی ) ِِ ( سب ایک دوسرے سے ) پوچھنے لگے : یہ کون پکا رہا ہے ؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : محمدﷺ ، چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد ! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبد المطلب کی اولاد! ‘ ‘ یہ لوگ آپ کےقریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا : ’’تمہارا کیا خیال ہے ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات ( سننے ) کا تجربہ نہیں ہوا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو میں تمہیں آنےوالے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو ابولہب کہنے لگا : تمہارے لیے تباہی ہو ، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟ پھر وہ اٹھ گیا ۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا ۔ ‘ ‘ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا ۔
508
Sahih
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: «يَا صَبَاحَاهُ» بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
This hadith was narrated by A'mash on the authority of the same chain of narrators and he said: One day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) climbed the hill of Safa' and said: Be on your guard, and the rest of the hadith was narrated like the hadith transmitted by Usama; he made no mention of the revelation of the verse: Warn thy nearest kindred.
اعمش شے ( ابو اسامہ کے بجائے ) ابو معاویہ نے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا : ’’ وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘ اس کے بعد ابو اسامہ کی بیان کر دہ حدیث کی طرح روایت کی اورآیت : ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اترنے کا ذکر نہیں کیا ۔
509
Sahih
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ»
It is reported on the authority of 'Abbas b. Abd al-Muttalib that he said: Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah (may peace he upon him) said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire: and but for me he would have been in the lowest part of Hell.
ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کےرسول! کیا آپ نے ابو طالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے ۔ آپ نےجواب دیا : ’’ہاں ، وہ کم گہری آگ میں ہیں ( جو ٹخنوں تک آتی ہے ) اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے ۔ ‘ ‘
510
Sahih
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ، فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ».
Abdullah b. al-Harith reported: I heard Abbas say: I said: Messenger of Allah, verily Abu Talib defended you and helped you; would it be beneficial for him? He (the Holy Prophet) said: Yes; I found him in the lowest part of the Fire and I brought him to the shallow part.
سفیان ( بن عیینہ ) نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ابو طالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے ، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر ( مخالفین پر ) غصہ کرتے تھے توکیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، میں نے ان کو آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو ان کم گہری آگ تک نکال لایا ۔ ‘ ‘
511
Sahih
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ
This hadith is narrated from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) like one narrated by Abu 'Uwana on the authority of the chain of transmitters like Muhammad b. Hatim, Yahya b. Sa'id, Abu Sufyan, 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and others.
سفیان ( ثوری ) نے اسی سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی ابو عوانہ نے بیان کی ۔
512
Sahih

Chapters

86
01
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
7 Hadith
02
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
2 Hadith
03
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
2 Hadith
04
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
7 Hadith
05
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
4 Hadith
06
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
6 Hadith
07
Chapter: Calling people to the twin declaration of faith and the laws of Islam
توحید و رسالت کی شہادت اور اسلام کے شرعی احکام کی دعوت دینا
3 Hadith
08
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
8 Hadith
09
اس بات کی دلیل کہ موت کے قریب اس وقت تک اسلام لانا صحیح ہے جب تک حالت نزع (جان کنی) طاری نہیں ہوئی اور مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کی اجازت منسوخ ہے ، اور اس بات کی دلیل کہ شرک پر مرنے والا جہنمی ہے اور جہنم سے اسے کوئی ’’وسیلہ‘‘ بھی نجات نہیں دلوا سکے گا
5 Hadith
10
Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازماً جنت میں داخل ہو گا
14 Hadith
11
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
2 Hadith
12
۔ ایمان کی شاخوں کا بیان ، اعلیٰ کو ن سی ہے اور ادنیٰ کون سی ؟ حیا کی فضیلت اور وہ ایمان کا حصہ ہے
6 Hadith
13
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
6 Hadith
14
Chapter: Clarifying the superiority of Islam, and what part of it is best
اسلام میں افضیلت کے مدارج کی وضاحت اور اسلام کا سب سے افضل کام کون سا ہے ؟
7 Hadith
15
Chapter: Clarifying the prohibition of annoying one's neighbor
پڑوسی کوتکلیف پہنچانے کی حرمت
2 Hadith
16
Chapter: Encouragement to honor one's neighbor and guest, and the obligation to remain silent unless one has something good to say, and the fact that all of that is part of faith
ہمسائے اور مہمان کی تکریم اور خیر کی بات کہنے یا خاموش رہنے کی ترغیب ، یہ سب امور ایمان کا حصہ ہیں
3 Hadith
17
Chapter: Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے
17 Hadith
18
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
2 Hadith
19
Chapter: Clarifying that the religion is sincerity
دین خیر خواہی ( اور خلوص) کا نام ہے
7 Hadith
20
Chapter: Clarifying that faith decreases because of disobedience and negating it from the one committing the act of disobedience, with the meaning of negating its completion
گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے
7 Hadith
21
Chapter: The characteristics of the hypocrite
منافق کی خصلتوں کا بیان
5 Hadith
22
Chapter: Clarifying the condition of faith for one who says to his muslim brother: O Kafir (Disbeliever).
اس شخص کے ایمان کی حالت جو اپنے مسلمان بھائی کو ’’ اے کافر!‘‘ کہہ کر پکارے
3 Hadith
23
Chapter: Clarifying the condition of the fath of one who knowingly denies his father
اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت
3 Hadith
24
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
2 Hadith
25
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان : ’’میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جاناکہ ایک دوسر ے کی گردنین مارنے لگو ‘‘ کامفہوم
4 Hadith
26
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
کسی کے نسب پر طعن کرنے اور نوحہ کرنے پر کفر کا اطلاق
4 Hadith
27
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
اس شخص کا کفر جویہ کہے کہ ہمیں ستاروں کےطلوع ہونے سے بارش ملی
4 Hadith
28
Chapter: Evidence that love of the Ansar and Ali (r.a.) is a part of faith and a sign thereof; Hating them is a sign of hypocrisy
اس بات کی دلیل کہ انصار اور حضرت علی سے محبت ایمان اور اس کی علامات میں سے ہے اور ان سے بغض و نفرت نفاق کی علامات میں سے ہے
6 Hadith
29
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
3 Hadith
30
Chapter: Clarifying the usage of the word Kafir for one who abandons Salat
نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا
4 Hadith
31
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
9 Hadith
32
Chapter: Clarifying that Shirk is the worst of sins, and the worst sins after Shirk
شرک تمام گناہوں سے بدتر ہے ، اس کے بعد بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟
2 Hadith
33
Chapter: The major sins and the most serious of them
۔ کبیرہ گناہ اور ان میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کا بیان
6 Hadith
34
Chapter: The prohibition of pride and definition of it
تکبر کی حرمت کا بیان
3 Hadith
35
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
6 Hadith
36
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
6 Hadith
37
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
3 Hadith
38
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever deceives us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان :’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
2 Hadith
39
Chapter: The prohibition of striking one's checks, tearing one's garment and calling with the calls of Jahilliyyah
رخسار پٹینے ، گریبان چاک کرنے اور جاہلیت کا بلاوا دینے کی حرمت
6 Hadith
40
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition of An-Namimah (Malicious Gossip)
چغل خوری کی شدید حرمت
9 Hadith
41
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
9 Hadith
42
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
2 Hadith
43
Chapter: The evidence that the one who kills himself is not considered a disbeliever
اس امر کی دلیل کہ ( ہر) خودکشی کرنے والا کافر نہیں بن جاتا
1 Hadith
44
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
1 Hadith
45
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
1 Hadith
46
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
7 Hadith
47
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
2 Hadith
48
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
4 Hadith
49
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
2 Hadith
50
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
6 Hadith
51
Chapter: If a person thinks of doing a good deed it will be recorded for him, and if he thinks of doing a bad deed it will not be recorded for him
بندہ جب نیکی کاقصد کرتا ہے تو وہ لکھ لی جاتی ہے اور جب برائی کا قصد کرتا ہے تووہ نہیں لکھی جاتی
5 Hadith
52
Chapter: Clarifying the Waswasah (Whispers, Bad Thoughts) with regard to faith, and what the one who experiences that should say
ایمان میں وسوسے کا بیان اور جو اسے محسوس کرے وہ کیاکہے
14 Hadith
53
Chapter: Warning of the Fire for the one who swears a false oath in order to unlawfully take the right of another muslim
جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اس کےلیے آگ کی وعید
6 Hadith
54
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
3 Hadith
55
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
4 Hadith
56
Chapter: The disappearance of honesty and faith from some hearts and the appearance of fitnah in some hearts
بعض دلوں سے امانت اور ایمان کا اٹھا لیا جانا اور فتنوں کا دلوں پر ڈالا جانا
5 Hadith
57
Chapter: Clarifying that Islam started as something strange, and will revert to being something strange, and it will retreat between the two Masajid
۔ اسلام کی ابتدا اس حالت میں ہوئی کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب پھر اپنے ابتدائی دور کے مانند اجنبی ہو جائے گا اور جو مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا
3 Hadith
58
Chapter: The Disappearance of Faith at the End of Time
آخری زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا
2 Hadith
59
Chapter: Permissibility of concealing one's faith in the case of fear
خوف زدہ انسان کے لیے ایمان کا چھپانا درست ہے
1 Hadith
60
Chapter: Being kind to one for whose faith there is concern because it is weak; Prohibition of attributing Faith to someone without definitive evidence
ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت
4 Hadith
61
Chapter: Increasing the heart's tranquility with the appearance evidence
دلائل کا سامنے آنا اطمینان قلب میں (جو ایمان کا بلند ترین ہے ) اضافے کا باعث ہے
3 Hadith
62
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
5 Hadith
63
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
6 Hadith
64
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
7 Hadith
65
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
8 Hadith
66
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
14 Hadith
67
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
6 Hadith
68
Chapter: About (The Lote-Tree of the Utmost Boundary)
سدرۃ ا لمنتہیٰ کا ذکر
2 Hadith
69
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
10 Hadith
70
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
2 Hadith
71
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Allah does not sleep and His veil is light, and if he were to remove it, the splendour of his face would burn all of his creation, as far as hs sght reaches .
آخرت میں مومن اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کا دیدار کریں گے
3 Hadith
72
Chapter: Affirming that the believers will see their Lord, Glorious is he and most high, in the hereafter
وؤیت الہٰی کس کس طریقے سے ہو گی ؟
9 Hadith
73
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
4 Hadith
74
Chapter: The Last of the people of the Fire to be brought out of it
سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا
3 Hadith
75
Chapter: The Status of the Lowest people in paradise
اہل جنت میں سے جوشخص سب سے نچلے درجے ہو گا
19 Hadith
76
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
4 Hadith
77
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
13 Hadith
78
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
1 Hadith
79
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
9 Hadith
80
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
4 Hadith
81
Chapter: The least severely punished of the people of the Fire
اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص
4 Hadith
82
Chapter: The evidence that whoever dies upon disbelief, no good deed will benefit him
اس بات کی دلیل کہ کفر پر مرنے والے شخص کو اس کے عمل فائدہ نہ پہنچائیں گے
1 Hadith
83
Chapter: Allegiance to the believers, and forsaking others and disavowing them
مومنوں سے موالات اور غیر مسلموں سے برائت اور لاتعلقی کا بیان۔
1 Hadith
84
Chapter: The Evidence that groups of Muslims will enter Paradise without being called to account, and without being punished
اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے
9 Hadith
85
Chapter: Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise
اہل جنت میں سے آدھے اس امت سے ہوں گے
3 Hadith
86
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
2 Hadith
No chapter matched that.