TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5630 - Chapter: Seeking Permission To Enter A House - The book of manners and etiquette - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 9 in this chapter
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
اجازت طلب کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَا سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ
This hadith bu been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters.
شعبہ نے ابو سلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابو نضر ہ سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے انھیں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کر تے ہو ئے سنا ، جس طرح بشر بن مفضل نے ابو سلمہ سے روایت کی ہے ۔
5630
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,271
1
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
3
CHAPTER: Seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: It Is Disliked For The Person Who Is Seeking Permission To Say Me When Asked Who Is It?
اجازت طلب کرنے والے سے جب پوچھا جا ئے کون ہے تو جواب میں (صرف) میں کہنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
5
CHAPTER: How many times should one say salam when seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
6
CHAPTER: Asking permission to enter at the three times of undress.
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
Chapter: Seeking Permission to Enter
(گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے) اجازت لینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(13) CHAPTER. If a person invests the money of someone else in cultivation without taking his permission and the enterprise effects profit, (to whom will the profit belong?)
جب کسی کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر ہی کاشت کی اور اس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو
Sahih Bukhari
11
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
12
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
Sahih Bukhari
13
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
14
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: (O you believe!) Enter not the Prophet's houses unless permission is given to you...” (V.33:53)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الاحزاب میں فرمانا کہ
Sahih Bukhari
15
Chapter: The reward of the Trustworthy Trustee, and if a woman gives charity from her husband's house without causing any damage, with his explicit or implicit permission
امانت دار خزانچی اور بیوی کا اجر جب وہ بگاڑے بغیر اپنے خاوند کے گھر سے اس کی کھلی یا عرفی اجازت کے ساتھ صدقہ کرے
Sahih Muslim
16
Chapter: Seeking permission of a previously-married woman in words, and of a virgin by silence
نکاح میں ثیبہ (جس کی پہلے بھی شادی ہوئی تھی) سے اس کے بولنے اور باکرہ سے اس کی خاموشی (عدمِ انکار) کے ذریعے سے اجازت لینا
Sahih Muslim
17
Chapter: It Is Permissible To Give Permission To Enter By Raising The Curtain Or Giving Some Other Sign
(دروازے کا) پردہ اٹھا نے یا اس طرح کی کسی اور علامت کو اجازت کے مترادف قرار دینا جا ئز ہے
Sahih Muslim
18
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
Sahih Muslim
19
CHAPTER: Seeking The Girl’s Permission.
باب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: What Has Been Related About Seeking A Position Of Leadership.
باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Regarding Seeking The Position Of Judge and Hastening To Accept That Position.
باب: عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: How is permission to be sought.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Asking permission to enter by knocking.
باب: دستک دے کر اجازت لینا ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: If a man is invited, that is considered permission to enter.
باب: آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
25
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat Cooked Garlic
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam When Entering The House
باب: اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
36
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
37
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
38
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
39
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
40
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
Musnad Ahmad
41
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
43
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
Musnad Ahmad
44
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
(26) CHAPTER. To travel seeking an answer to a problematic matter, and to teach it to one's family.
جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے لیے سفر کرنا ( کیسا ہے ؟ )
Sahih Bukhari
47
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(14) CHAPTER. To defecate in houses.
گھروں میں قضاء حاجت کرنا ثابت ہے
Sahih Bukhari
49
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
50
(64) CHAPTER. Employing the carpenter and the technical hand (artisan) in making the wooden pulpit or building the mosque.
بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,475
Sahih Muslim
460
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ: فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ
Abu Nadra narrated it from Abu Sa'id al-Khudri who reported it from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a similar (hadith) up to the words: in the mud of the flood, and he did not mention (the words narrated) after it.
( بشر کےبجائے ) شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی کہا ، میں نے ابونضرہ سے سنا ، ( انہوں نے ) حضرت ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی روایت میں فی حمیل السیل ’’ سیلاب کےخس و خاشاک میں ‘ ‘ ( کے جملے ) تک بیان کی اور بعد والاحصہ بیان نہیں کیا ۔
Sahih Muslim
5108
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوْ ادَّخِرُوا قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى شَكَّ عَبْدُ الْأَعْلَى
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: O people of Medina, do not eat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Ibn al-Muthanni said: Three days. They (the Companions of the Holy Prophet) complained to the Messenger of Allah (may peace he upon him) that they had children and servants of theirs (to feed), whereupon he said: Eat, and feed others, and store, and make it a provision of food.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ، ہمیں سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا : "" مدینہ والو!قربانیوں کا گوشت تین ( دنوں ۔ راتوں ) سے زیادہ نہ کھاتے رہو ۔ "" ابن مثنیٰ نے ( صراحت سے ) "" تین دن ( سے زیادہ ) "" کہا ۔ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا ( فرمایا : ) ذخیرہ کرو ۔ "" ابن مثنیٰ نے کہا : عبدالاعلیٰ کو ( ان دو لفظوں میں ) شک ہے ( کہ آپ نے "" روک کررکھو "" فرمایا ، یا "" ذخیرہ کرو "" فرمایا )
Sahih Muslim
5739
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلَاثًا
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he narrated like this. In the hadith transmitted on the authority of Salam b. Nuh there is no mention of three times,
سالم بن نوح اور ابو اسامہ ، دونوں نےجریری سے ، انھوں نے ابو علااء سے ، انھوں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، پھر اس طرح بیا ن کیا اور سالم بن نوح کی حدیث میں " تین بار " کا لفظ نہیں ہے ۔
Sahih Muslim
6948
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The world is sweet and green (alluring) and verily Allah is going to install you as vicegerent in it in order to see how you act. So avoid the allurement of women: verily, the first trial for the people of Isra'il was caused by women. And in the hadith transmitted on the authority of Ibn Bashshar the words are: So that He should see how you act.
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوسلمہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابونضرہ سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ دنیا بہت میٹھی اور ہری بھری ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں ( تم سے پہلے والوں کا ) جانشیں بنانے والا ہے ، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، لہذا تم دنیا ( میں کھو جانے سے ) بچتے رہنا اور عورتوں ( کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ) بچ کر رہنا ، اس لیے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ( کے معاملے ) میں تھا ۔ "" اور بشار کی حدیث میں ہے : "" تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ۔ ""
Sahih Muslim
7320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيَةٌ
Abu Sa`id Khudri reported: One who is better than I informed me, that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to `Ammar as he was digging the ditch (on the ocassion of the Battle of the Ditch) wiping over his head: O son of Summayya, you will be involved in trouble and a group of the rebels would kill you.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو نضرہ سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے انھوں نے کہا : ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیاتو عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بات ارشاد فرمائی ، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے ۔ سمیہ کے بیٹے کی مصیبت !تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ "
Jam e Tirmazi
1887
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى الْجُهَنِيَّ يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشُّرْبِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ الْقَذَاةُ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَهْرِقْهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَبِنْ الْقَدَحَ إِذَنْ عَنْ فِيكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Sa’id Al Khudri : That the Prophet (ﷺ) prohibited blowing into the drink. A man said: What about if one sees something floating in the vessel? He said: Spill it out (removing that). He said: I can not drink in one breath. He said: Then remove the cup away from your mouth. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے بہا دو، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تب ( سانس لیتے وقت ) پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ يَعْنِي مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي حَسَنًا وَنَعْلِي حَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِنَّمَا مَعْنَاهُ:‏‏‏‏ لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَقَدْ فَسَّرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ هَذِهِ الْآيَةَ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تُخَلِّدُ فِي النَّارِ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ.
Abdullah narrated: The Messenger of Allah said: 'Whoever has a speck of pride (arrogance) in his heart, shall not be admitted into Paradise. And whoever has a speck of faith in his heart, shall not be admitted in to the Fire.' He said: So a man said to him: 'I like for my clothes to be nice, and my sandals to be nice?' So he said: 'Indeed Allah loves beauty. But pride is refusing the truth and belittling the people.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو“ ۱؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جمال ( خوبصورتی ) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے“۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» ( سورۃ آل عمران: ۱۹۲ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3225
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 قَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: from the Prophet (ﷺ), that he said about this Ayah: 'Then We gave the Book the as inheritance to such of Our worshipers whom We chose. Then of them are some who wrong themselves, and of them are some who follow a middle course, and of them are some who are, by Allah's Leave, foremost in good deeds (35:32). He said: All of these people are of the same rank, and all of them are in Paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» ”پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“ ( فاطر: ۳۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Sahih Bukhari
1928
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ ضَحِكَتْ .
Narrated Hisham's father: Aisha said, Allah's Apostle used to kiss some of his wives while he was fasting, and then she smiled.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ہنسیں۔