TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6776 - Chapter: The Prohibition Of, And Warning Against Seeking Out Verses Of The Quran Whose Meanings Are Not Decisive; The Prohibition Of Arguing About The Qur'an - The book of knowledge - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 5 in this chapter
Chapter: The Prohibition Of, And Warning Against Seeking Out Verses Of The Quran Whose Meanings Are Not Decisive; The Prohibition Of Arguing About The Qur'an
متشابہاتِ قرآن کے پیچھے لگنے کی ممانعت، ان (متشابہات قرآن) کا اتباع کرنے والوں سے دور رہنے کا حکم اور قرآن مجید میں اختلاف کی ممانعت
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ
Abdullah b. 'Umar reported: I went to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the morning and he heard the voice of two persons who had an argumentation with each other about a verse. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to us (and) the (signs) of anger could be seen on his face. He said: Verily, the (peoples) before you were ruined because of their disputation in the Book.
) حماد بن زید نے کہا : ہمیں ابوعمران جونی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عبداللہ بن رباح انصاری نے میری طرف لکھ بھیجا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک روز دن چڑھے ( مسجد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں ( ایک دوسرے سے ) اختلاف کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ہمارے سامنے تشریف لائے ۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ ( صاف ) پہچانا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا : " جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے ہلاک ہو گئے ۔ "
6776
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

724
1
Chapter: The prohibition of travelling with the Mushaf to the land of the disbelievers if there is the fear that it may fall into their hands.
کفار کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہو تو کفار کی سر زمین میں قرآن پاک ساتھ لے جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: The virtue of prayer in congregation, and clarifying the stern warning against staying away from it, and that it is fard kifayah
باجماعت نماز کی فضیلت ، اس سے پیچھے رہنے پروعید اور (وضاحت کہ )نماز باجماعت فرض کفایہ ہے
Sahih Muslim
4
Chapter: Stern warning against wailing
نوحہ کرنے کے بارے میں سختی (سے ممانعت )
Sahih Muslim
5
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
6
Chapter: Prohibition against sitting and praying on graves
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
7
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
8
Chapter: The prohibition of seeking or desiring a position of authority
امارت طلب طرنے اور اس کی حرص رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
9
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
Sahih Muslim
10
Chapter: The prohibition against a Muhajir returning to settle in his former homeland
مہاجر کے لیے پھر سے اپنے وطن میں جا بسنے کی ممانعت
Sahih Muslim
11
Chapter: The Prohibition Against Strutting With Pride, And Being Amazed With One's Clothes
کپڑوں پر اتراتے ہو ئے اکڑ کر چلنے کی ممانعت
Sahih Muslim
12
Chapter: The Prohibition Against Disclosing One's Own Sins
اپنے (گناہوں کے)پردے کو چاک کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
13
CHAPTER: Prohibition Of Controversy And Of Following The Allergorical Verses In the Qur’an.
باب: قرآن میں جھگڑنا اور متشابہ آیات کے چکر میں پڑنا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Prohibition Of Controversy About The Qur’an.
باب: قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
Chapter: Severe warning Against Missing Prayer In Congregation
جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
17
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Severe Warning Against Withholding Zakat
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Muhaqalah and Muzabanah
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Two Sales In One
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition From Making Exceptions
باب: بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition of Mutilation
باب: مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Combing Except Every Other Day
باب: ہر روز گنگھی کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Eating And Drinking With The Left Hand
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been Related About The Prohibition of Passing an Unsheathed Sword
باب: ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
37
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
38
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
41
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
42
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
43
(39) CHAPTER. Prohibition of wailing and following the traditions of the Days of Ignorance when afflicted with a calamity.
اس بارے میں کہ مصیبت کے وقت جاہلیت کی باتیں اور واویلا کرنے کی ممانعت ہے
Sahih Bukhari
44
(71) CHAPTER. It is forbidden to meet the caravans on the way (to buy the goods away from the market).
پہلے سے آگے جا کر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے
Sahih Bukhari
45
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
46
(57) CHAPTER. Jealousy and mutual estrangement are forbidden.
حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
Sahih Bukhari
47
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
Sahih Bukhari
48
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
49
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانفال میں یہ فرمانا کہ
Sahih Bukhari
50
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

373
Silsila Sahih
2452
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا قَالَ:فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ:بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ،آپ کے چہرے سےغصہ جھلک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Silsila Sahih
2552
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا قَالَ:فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ:بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ،آپ کے چہرے سےغصہ جھلک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Jam e Tirmazi
312
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُمَارَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ لَا يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger turned (after praying) from a Salat in which he recited aloud and said: 'Has any one of you recite along with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Indeed I said to myself: Why was I being contended with for the Quran?' He (Az-Zuhri one of the narrators) said: So when they heard that from Allah's Messenger, the people stopped reciting with Allah's Messenger in the prayers that Allah's Messenger recited aloud.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! ( میں نے کی ہے ) آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے“، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا“ ۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے“ تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، ”یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے“، ۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ ”جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎“۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔
Mishkat
152
وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ: فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ باختلافهم فِي الْكتاب» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو کہ کسی آیت کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں ہمارے پاس تشریف لائے غصے کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلی قومیں کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Silsila Sahih
3526
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَّعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً، لَا تُرْوِيهَا قَالَ: فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا قَالَ: فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِّنَ النَّاسِ قَالَ: بَايِعْ يَا سَلَمَةُ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ! فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ: وَأَيْضًا قَالَ: وَرَآنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَزْلًا يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ قَالَ: فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ: وَأَيْضًا قَالَ: فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي: يَا سَلَمَةُ! أَيْنَ حَجَفَتُكَ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزْلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ: إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ: اللهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَّفْسِي ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَّاصْطَلَحْنَا قَالَ: وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدِمُهُ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا قَالَ: فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِّنْ أَسْفَلِ الْوَادِي: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ! قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ قَالَ: فَاخْتَرَطْتُّ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتَّ عَلَى أُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ! لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِّنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ! قَالَ: وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِّنَ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ: مِكْرَزٌ يَّقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى فَرَسٍ مُّجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنْزَلَ اللهُ :وَ ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ۔(الفتح: ٢٤) الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَّهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِّلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ: فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ غَادر عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ! خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ! ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِّنْهُمْ فَأَصُكُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ قَالَ: قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَوَاللهِ! مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ قَالَ: فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ بَعِيرٍ مِّنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَّثَلَاثِينَ رُمْحًا يَّسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِّنْ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِّنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ: مَا هَذَا الَّذِي أَرَى؟ قَالُوا: لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ، وَاللهِ! مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ، يَرْمِينَا حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا قَالَ: فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِّنْكُمْ أَرْبَعَةٌ قَالَ: فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ قَالَ: فَلَمَّا أَمْكَنُونِي مِنَ الْكَلَامِ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَعْرِفُونِي؟ قَالُوا: لَا وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ! لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِّنْكُمْ إِلَّا أَدْرَكْتُهُ وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِّنْكُمْ فَيُدْرِكَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ: أَنَا أَظُنُّ قَالَ: فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ قَالَ: فَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ قَالَ: فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ قَالَ: فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ: يَا أَخْرَمُ! احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابُهُ قَالَ: يَا سَلَمَةُ! إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ: فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ! لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذَو قَرَدٍ لِّيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ قَالَ: فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ: وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًامِّنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ قَالَ: قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَع وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ! أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ قَالَ: وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِّنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي خليتهم عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الْإِبِلَ وَكُلَّ شَيْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَكُلَّ رُمْحٍ وَّبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِّنَ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُّخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ! أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَقَالَ: إِنَّهُمْ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ غَطَفَانَ فَقَالَ: نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جلودهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا: أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَهْمَيْنِ سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُّسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ قُلْتُ: أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَّلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَّكُونَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! بِأَبِي وَأُمِّي! ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ: إِنْ شِئْتَ قَالَ: قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ: فَرَبَطْتُّ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُّ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ قَالَ: فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ سُبِقْتَ وَاللهِ! قَالَ: أَنَا أَظُنُّ قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَوَاللهِ! مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَّرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَنَا عَامِرٌ قَالَ: غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ قَالَ: وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِإِنْسَانٍ يَّخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ: فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَّهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ: خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَّرْحَبٌ يَّخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ! بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ قَالَ: كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ وَّهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُّحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ . ( )
ایاس بن سلمہ سے مروی ہے کہ: میرے ابا جان (سلمہ بن اکوع‌رضی اللہ عنہ )نےبیا ن کیا، کہتے ہیں :۱۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ آئے، اس وقت ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ پچاس بکریاں تھیں اور (حدیبیہ کا کنواں) ان کو بھی سیراب کرنے کے لئے ناکافی تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، تو دعا کی یا اس میں لعاب دہن ڈالا تو اسی وقت پانی ابل آیا۔ ہم نے خود بھی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ ۲۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیعت کے لئے درخت کے نیچے بلایا، میں نے ابتدائی لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت کرتے رہے حتی کہ نصف لوگ بیعت کر چکے تو آپ نے فرمایا: سلمہ! بیعت کرو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابتدائی لوگوں میں بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اسی طرح بیعت کرو۔۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بغیر ہتھیاروں کے دیکھا تو مجھے ایک ڈھال دی۔ پھر بیعت کرتے رہے، جب آخری لوگ بچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! کیا تم میری بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابتداء اور درمیان میں بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح دو بارہ بیعت کر لو۔ میں نے تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ۴۔ سلمہ! تمہاری ڈھال کہاں ہے جو میں نے تمہیں دی تھی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میرے چچا ملے ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور فرمایا:تم اس اگلے شخص کی طرح ہو جس نے کہا: اے اللہ مجھے ایسا محبوب دے جومجھے خود سے زیادہ پیارا ہو۔۵۔ پھر مشرکین نے صلح کر لی، حتی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ چلنے لگے، میں طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا،میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی پیٹھ کھجاتا اور اس کی خدمت کرتا تھا، اور انہی کے ساتھ کھاتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا گھر بار اور مال و دولت چھوڑ دیا تھا۔ جب ہم نے اور اہل مکہ نے صلح کر لی اور ایک دوسرے میں مل جل گئے تو میں ایک درخت کے نیچے آیا، اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے نیچے لیٹ گیا۔ میرے پاس مکے کے چار مشرکین آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔مجھے ان سے نفرت ہوگئی میں ایک دوسرے درخت کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے ہتھیار لٹکا دئے اور لیٹ گئے۔ ابھی وہ اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک وادی کے نشیبی علاقے سے آواز آئی:اے مہاجرین !ابن زنیم قتل کر دیا گیا۔ میں نے اپنی تلوار سونت لی، پھر ان چاروں پر چڑھ دوڑا، وہ لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے ہتھیار ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں کرلئے، پھر میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چہرے کو عزت بخشی! تم میں سے جس شخص نے بھی اپنا سر اٹھایا میں اس کی کھوپڑی اڑادوں گا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔۶۔ میرے چچا عامر‌رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو لائے جسے مکرز کہا جاتا تھا۔ وہ ایسے گھوڑے پر جس پر جھول پڑی ہوئی تھی، ستر مشرکین تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دو۔ عہد شکنی کی ابتدا ان کی طرف سے ہونے دو اور پھر دوبارہ بھی انہی کی طرف سے ہونے دو۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: وَ ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ۔(الفتح: ٢٤) اور وہ ذات ( اللہ ) جس نے مکہ کی وادی میں تمہیں ان پر غلبہ دینے کے بعد ان کے ہاتھ تم سے روکے اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے (پوری آیت)۔ ۷۔پھر ہم مدینے واپسی کے لئے نکلے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ،ہمارے اور بنو لحیان کے درمیان ایک پہاڑ تھا، وہ مشرکین تھے اس رات جو لوگ پہرہ دینے کے لئے اس پہاڑ پر چڑھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بخشش کی دعا کی، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی حفاظت کے لئے گویا کہ وہ ہراول دستہ ہے۔ میں اس رات دو یا تین مرتبہ چڑھا۔ ۔ پھر ہم مدینہ آگئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام رباح کے ساتھ اپنی اونٹنیاں بھیجیں، میں بھی اس کے ساتھ طلحہ‌رضی اللہ عنہ کا گھوڑا لے کر نکلا جسے میں خوب بھٹکا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو اچانک عبدالرحمن فزاری حملہ کر کے ساری اونٹنیاں ہانک کر لے گیا۔ اور چرواہے کو قتل کر دیا۔ میں نے رباح سے کہا: یہ گھوڑا پکڑو اور اسے طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا دینا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانا کہ مشرکین آپ کے مویشی لوٹ کر لے گئے ہیں۔ پھر میں ایک اونچی جگہ پر چڑھا اور مدینے کی طرف رخ کر کے تین مرتبہ پکارا: یا صباحاہ! پھر ان لوگوں کے نشان دیکھتا ہوا ان کے پیچھے لگ گیا، انہیں تیر مارتا اور یہ شعر پڑھتا: میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے،میں کسی آدمی سے جا ملتا اور سامان سفر کے تھیلے پر تیر مارتا حتی کہ تیر کی نوک اس کے کاندھے میں پیوست ہو جاتی، میں کہتا: لو اس کوپکڑو،میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔واللہ! میں انہیں تیر مارتا اور انہیں زخمی کرتا رہا، جب ان میں سے کوئی گھڑ سوا رمیری طرف پلٹا، تو میں کسی درخت کی اوٹ لے کر اس کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر تیر مار کر اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیتا، حتی کہ جب پہاڑ کا دامن تنگ ہوگیا اور وہ اس میں داخل ہوگئے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور انہیں پتھر مارنے لگا۔ میں اسی طرح ان کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سواری کی جو اونٹنیاں پیدا کی تھیں، وہ سب میں نے پیچھے چھوڑ دیں۔پھر میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور انہیں تیر مارتا رہا حتی کہ انہوں نے تیس(۳۰) سے زیادہ چادریں اور نیزے اپنے آپ کو ہلکا کرنے کے لئے پھینک دئے ۔ وہ جو چیز بھی پھینکتے میں اس پر نشان لگا دیتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۔ پھر وہ گھاٹی کے ایک تنگ درے میں آگئے، جب وہ وہاں آئے تو فلاں بن بدر فزاری ان کے پاس آیا وہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ میں بھی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، فزاری نے کہا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ وہ کہنے لگے: ہمیں اس نے تنگ کر رکھا ہے، کل سے یہ ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے اور ہم سے ہر چیز چھین لی ہے۔ اس نے کہا: تم میں سے چار شخص اس پر حملہ کیوں نہیں کر دیتے؟ ان میں سے چار شخص میری طرف پہاڑ پر چڑھنے لگے، جب وہ مجھ سے بات کرنے کی دوری پر ہو گئے تو میں نے کہا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سلمہ بن اکوع ہوں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! میں تم میں سے جس شخص کے پیچھے لگوں اس تک پہنچ جاؤں گا، اور تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے پیچھے لگے اور مجھ تک پہنچ جائے ۔ان میں سے ایک نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔۹۔ پھر وہ واپس پلٹ گئے، میں ابھی اپنی جگہ پر ہی تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار دیکھے جو درختوں کی اوٹ میں آرہے تھے ۔سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، اس کے پیچھے ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ اور اس کے پیچھے مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ ، میں نے اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ میں نے کہا: اخرم‌رضی اللہ عنہ ان سے بچنا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نہ پہنچ جائیں اس وقت تک یہ تم تک نہ پہنچ سکیں، اخرم‌رضی اللہ عنہ نے کہا: سلمہ! اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جانتے ہو کہ جنت اور جہنم حق ہیں، تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ مت بنو، میں نے راستہ چھوڑ دیا وہ اور عبدالرحمن آمنے سامنے آگئے۔ اخرم‌رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں، جب کہ عبدالرحمن نے اخرم‌رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر قتل کر دیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےشہسوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن سے جا ملے اور اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! میں اپنے پیروں پر ان کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کی گردو غبار بھی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ سورج غروب ہونے سے پہلے وہ ایک گھاٹی میں پہنچے جس میں ایک چشمہ تھا۔ اس کو ذوقرد(بندروں والا) کہا جاتا تھا، وہ پیاسے تھے، اس سے پانی پینے لگے تو انہوں نے میری طرف دیکھا کہ میں ان کے پیچھے بھاگتاہوا آرہا ہوں۔ میں نے انہیں اس چشمے سے دور کر دیا انہوں نے اس سے ایک قطرہ پانی نہیں پیا، وہ وہاں سے نکلے اور گھاٹی میں دوڑنے لگے، میں ان میں سے کسی کے سر پر پہنچ گیا اور اس کے کاندھے میں تیر مارا اورکہا: لو اسے پکڑو ،میں اکوع کا بیٹا ہوں ،آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔اس نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے! تو صبح والا اکوع ہی ہے؟ میں نے کہا: اپنی جان کے دشمن! ہاں وہی صبح والا اکوع ہے۔ انہوں نے گھاٹی میں دو گھوڑے چھوڑے، میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔۱۰۔ عامر‌رضی اللہ عنہ مجھے مشکیزے کے ساتھ ملے جس میں پانی ملا دودھ (کچی لسی )تھی اور دوسرے مشکیزے میں پانی تھا۔ میں نے وضو کیا اور پانی ملا دودھ پیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چشمے پر تھے جس سے میں نے ان لوگوں کو دور کیا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اونٹ اور ہر وہ چیز جو میں نے مشرکین سے چھڑائی تھی اور ہر نیزہ اور چادرآپ نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قبضے مںا کی ہوئی ایک اونٹنی نحر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کا جگر اور کوہان بھوننے لگے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان لوگوں میں سے سو آدمی منتخب کر کے ان لوگوں کا پیچھا کروں،ان ان سب کو قتل کردوں کہ اپنی قوم کو خبر دینے کے لئے بھی باقی نہ رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئےحتی کہ آگ کی روشنی میں آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تمہارے خیال میں کیا تم یہ کام کر لو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت غطفان کے علاقے میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔ غطفان سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: فلاں نے ان کے لئے اونٹنی نحر کی ہے۔ جب وہ لوگ اس کی کھال اتار رہے تھے تو انہوں نے گردوغبار دیکھا۔ کہنے لگے: وہ لوگ آگئے اور بھاگتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ ۱۱۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن ہمارے بہترین شہسوارابو قتادہ اور بہترین پیادہ سلمہ ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے عطا کئے، ایک شہسوار کا اور ایک پیادہ کا۔آپ نے اکھٹے ہی مجھے دونوں حصے دیئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عضباء پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور ہم مدینے کی طرف واپس آنے لگے۔۱۲۔ہم چلے آرہے تھے کہ ایک انصاری شخص تھا جو دوڑ میں کبھی نہیں ہارا تھا، کہنے لگا: کیا کوئی مدینے تک مقابلہ کرنے والا ہے،کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے؟ وہ بار بار یہی بات دہراتا ،جب میں نے اس کی یہ بات سنی تو میں نے کہا: کیا تم کریم شخص کی عزت نہیں کرتے اور کسی شریف سے نہیں ڈرتے ؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اجازت دیجئے میں اس آدمی سے مقابلہ کرو ں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اگر تم چاہو تو میں نے اس سے کہا: تم چلو میں تمہاری طرف آرہا ہوں میں نے اپنی ٹانگوں کو دوہرا کیا اور اونٹنی سے چھلانگ مار کر نیچے کود گیا میں اس کے پیچھے ایک یا دو اونچی جگہوں پر چڑھامیں اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا پھر میں اس کے پیچھے دوڑنے لگا، ایک یا دو اونچی جگہوں پر آرام سے چڑھا پھر میں دوڑتا گیا حتی کہ اسے جا لیا، اور اس کے کاندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا: واللہ! تم ہار گئے، وہ کہنے لگا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ پھر میں مدینے تک اس سے آگے رہا۔۱۳۔ واللہ! ابھی تین راتیں ہی گزری تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ میرے چچا عامر‌رضی اللہ عنہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے: اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے فضل سے بے پرواہ نہیں، اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ ،اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں عامر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب تمہیں بخش دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے لئے بھی خاص کر کے بخشش کی دعا کی وہ شہید ہو گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پکار لگائی، وہ اپنے اونٹ پر تھے۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں عامر‌رضی اللہ عنہ سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا۔۱۴۔ جب ہم خیبر آئے تو ان کا سردار مرحب تلوار سونتے میدان میں آیا اور کہہ رہا تھا: خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا، بہادر تجربہ کار، جب جنگ شعلے بھڑکانے لگے۔ اس کے مقابلے میں میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے میدا ن میں اترے :خیبر والے جانتے ہیں کہ میں عامر ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا، بہادر، سخت لڑائی میں گھس جانے والا،ان دونوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں ،مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر پڑی، عامر رضی اللہ عنہ نے اس پر نیچے سے حملہ کیا تو عامر کی تلوار ان کے اپنے ہاتھ کی رگ میں لگی اور اس میں ان کی جان چلی گئی۔۱۵۔ سلمہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کہہ رہے تھے کہ: عامر‌رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہوگیا۔ اس نے اپنے آپ کو قتل کر لیا۔ میں روتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہوگیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ بات کہی؟ میں نے کہا: آپ کےکچھ صحابہ نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے یہ بات کہی انہوں نے جھوٹ بولا۔ عامر کے لئے تو دوگنا اجر ہے۔ پھر مجھے علی‌رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہوں گے، میں علی‌رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،اور ان کا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ اور آپ نے انہیں جھنڈا دے دیا۔ مرحب یہ کہتا ہوا میدان میں آیا :خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا بہادر تجربہ کار جب جنگیں شعلے بھڑکاتی ہیں۔علی‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے، جنگل کے شیر کی طرح ،ہیبت ناک منظر والا، میں دشمن کو پورا تول کر دیتا ہوں۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر میں ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر فتح بھی ان کے ہاتھ پر ہوئی۔
Sunnan Abu Dawood
3644
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْيَهُودِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقُولُوا:‏‏‏‏ آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ .
Narrated Abu Namlah al-Ansari: When he was sitting with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and a Jew was also with him, a funeral passed by him. He (the Jew) asked (Him): Muhammad, does this funeral speak? The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Allah has more knowledge. The Jew said: It speaks. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Whatever the people of the Book tell you, do not verify them, nor falsify them, but say: We believe in Allah and His Messenger. If it is false, do not confirm it, and if it is right, do not falsify it.
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے ( مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی ۔
Jam e Tirmazi
2
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، ‏‏‏‏‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ شَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْأَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،‏‏‏‏ وَثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيِّ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔
Jam e Tirmazi
15
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ . وَفِي هَذَا الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَأبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ كَرِهُوا الِاسْتِنْجَاءَ بِالْيَمِينِ.
Abdullah bin Abu Qatadah narrated from his father: The Prophet prohibited that a man should touch his penis with his right hand.
ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے ۱؎۔ اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔
Jam e Tirmazi
32
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق 1.
Abdullah bin Zaid narrated that: Allah's Messenger wiped over his head with his hands, going over the front with them and the rear. He began with the front of his head until they went to the nape of his neck. Then he brought them back again to the place where he began. Then he washed his feet.
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔