TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان

Chapter 39 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 39 of 48 · 5 Hadith
۔ (۵۹۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالسِّلْعَۃُ کمَاَ ھِیَ) وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ فَالْقَوْلُ مَایَقُوْلُ صَاحِبُ السِّلْعَۃِ أَوَ یَتَرَادَّانِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خریدار اور فروخت کنندہ کا آپس میں اختلاف ہو جائے اور ان کے پاس (اپنے دعوی کی) دلیل بھی نہ ہو، جبکہ سامان ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہو، تو سامان کے مالک کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھردونوں سودا واپس کر دیں گے۔
Takhreej
(۵۹۴۹) تخریج: حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۱، والنسائی: ۷/ ۳۰۳، (انظر: ۴۴۴۵)
5949
Sahih
۔ (۵۹۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَأَتَاہُ رَجُلَانِ یَتَبَایَعَانِ سِلْعَۃً، فَقَالَ: ھٰذَا اَخَذْتُ بِکَذَا وَکَذَا، وَقَالَ: ھٰذَا بعتُ بِکَذَا وَکذَا، فَقَالَ اَبُوْعُبَیْدَۃَ: اُتِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فِیْمِثْلِ ھٰذَا فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا فأَمَرَ بِالْبَائِعَ أَنْ یُسْتَحْلَفَ ثُمَّ یُخَیِّرَ الْمُبْتَاعَ إِنْ شائَ أَخذَ وَإِنْ شائَ ترَکَ۔ (مسند احمد: ۴۴۴۲)
۔ عبدالملک بن عبید کہتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس موجودتھا، ان کے پاس دوآدمی آئے، انھوںنے آپس میں کچھ سامان کا سودا کیا تھا، لیکن خریدار کہتا تھا کہ اس نے اتنے میں سامان خریدا ہے، اور بیچنے والا کہتا تھا کہ اس نے تو اتنے میں فروخت کیا ہے، ابوعبیدہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس اسی قسم کا مسئلہ لایا گیا تھا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسی طرح کا مسئلہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فروخت کرنے والے کوحکم دیا کہ وہ اپنے دعوی پر قسم اٹھائے، پھر خریدار کو اختیار دے دیا کہ اگر وہ چاہتا ہے تو اتنے میں لے لے اور اگر چاہتا ہے تو سرے سے سودا ہی ترک کر دے۔
Takhreej
(۵۹۵۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
5950
Sahih
۔ (۵۹۵۱)۔ (وَمِنْ طرِیقٍ ثاَنٍ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بنُ الْإمَامِ اَحْمَدَ: قَرَأْتُ عَلَی اَبِیْ قَالَ: اُخْبِرْتُ عَنْ ھِشَامِ بْنِ یُوْسُفَ فِی الْبَیِّعَیْنِ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اُمَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ حَجَّاجُ الْبَیِّعَیْنِ الْأَعْوَرُ: عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُبَیْدَۃَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَلَیْسَ فِیْہِ عَنْ اَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۴۳)
۔ (دوسری سند) عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے والدمحترم پر یہ سند پڑھی: خرید و فروخت کرنے والوں کے بارے مجھے ہشام بن یوسف سے خبر دی گئی ہے، یہ ابن جریج کی حدیث ہے، وہ اسماعیل بن امیہ سے اور وہ عبدالملک بن عبیدسے بیان کرتے ہیں، لیکن میرے باپ امام احمد نے کہا: حجاج اعور نے کہا: عبدالملک بن عبیدہ نے کہا: ہمیں ہشیم نے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہمیں ابن ابی لیلیٰ نے قاسم بن عبدالرحمن سے بیان کیا اور انہوں نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا، اس میں عَنْ اَبِیْہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
Takhreej
(۵۹۵۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
5951
Sahih
۔ (۵۹۵۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَاقَالَ البائعُ، وَالْمُبْتَاعُ باِلْخِیَارِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو وہ بات قابل اعتماد ہو گی، جو فروخت کرنے والا کہے گا اور خرید ار کو یہ اختیار مل جائے گا کہ (وہ سودے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا فسخ کرنا چاہتا ہے)۔
Takhreej
(۵۹۵۲) حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۱، والنسائی: ۷/ ۳۰۳، والترمذی: ۱۲۷۰ (انظر: ۴۴۴۴)
5952
Sahih
۔ (۵۹۵۳)۔ عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: اِخْتَلَفَ عَبْدُاللّٰہِ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَ: ذَا بِعَشْرَۃٍ، وَقَالَ ذَا: بِعِشْرِینَ، قَالَ: اِجْعَلْ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ رَجُلًا، قَالَ: أَنْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ نَفْسِکَ فَقَالَ: أَقْضِیْ بِمَا قَضٰی بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ وَلَمْ یََکُنْ بَیِّنَۃٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ یَتَرَادَّانِ الْبَیْعَ۔)) (مسند احمد: ۴۴۴۷)
۔ قاسم کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا، اول الذکر نے کہا: یہ دس کا ہے، لیکن مؤخر الذکر نے کہا:یہ بیس کا ہے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان کسی آدمی کو مقر ر کرو (تاکہ وہ فیصلہ کر دے)۔ سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ کو ہی مقرر کرتا ہوں، یہ سن کر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں وہی فیصلہ کروں گا، جو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیاہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لین دین کرنے والے دو آدمیوں میں اختلاف ہو جائے، جبکہ کسی کے پاس شہادت بھی نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھر دونوں بیع کو فنح کر دیں گے۔
Takhreej
(۵۹۵۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… جب فروخت کنندہ اور خریدار میں متعلقہ چیز کے بارے میں اختلاف پڑ جائے تو اگر کسی کے پاس گواہ ہوں تو ان کی گواہی کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گی، وگرنہ فروخت کنندہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، نہیں تو بات کو طول دیئے بغیر بیع کو فسخ کر دیا جائے گا۔
5953
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.