TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6233 - گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان - گری پڑی چیز کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
۔ (۶۲۳۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلُقْطَۃٍ، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
6233
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۲۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

474
1
Chapter: What Has Been Related About Lost Items, The Stray Camel And Sheep
باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان
Jam e Tirmazi
2
سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
Musnad Ahmad
3
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
Musnad Ahmad
4
مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
5
Chapter: Milking animals is unlawful if the owner has not given permission
حاجیوں کی گری پڑی چیز کا حکم
Sahih Muslim
6
راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
Musnad Ahmad
8
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
9
(9) CHAPTER. If the owner of lost property comes back after a year, it should be returned to him as it is a trust with the one who has found it.
پڑی ہوئی چیز کا مالک اگر ایک سال بعد آئے تو اسے اس کا مال واپس کر دے کیونکہ پانے والے کے پاس وہ امانت ہے
Sahih Bukhari
10
(10) CHAPTER. Should one pick up a fallen thing, lest it should be spoilt or taken by somebody who does not deserve it?
پڑی ہوئی چیز کا اٹھا لینا بہتر ہے ایسا نہ ہو وہ خراب ہو جائے یا کوئی غیر مستحق اس کو لے بھاگے
Sahih Bukhari
11
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
12
CHAPTER: Whoever Said That He Many Eat From What Has Fallen.
باب: زمین پر گری ہوئی چیزوں کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
14
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
15
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
(58)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu From What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
17
(59)Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing Wudu For What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
19
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About 'The Salat Is Not severed By Anything'
باب: کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About 'Salat Is Not Severed Except By A Dog, A Donkey, And A Woman'
باب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What fulfills the rights of the foster relationship (from suckling)
باب: حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Matters That Are Not Clear
باب: مشتبہ چیزوں کو ترک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Buy On Credit
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell What One Does Not Have
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About 'The Borrowed Is To Be Returned'
باب: عاریت لی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Price Fixing
باب: چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: The Oath is Based Upon What Will Make His Companion Believe Him
باب: قسم اسی چیز پر واقع ہو گی جس پر مدعی قسم لے رہا ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About When One's Property Has Been Broken, What Is The Judgement For Him For The Property Of The One Who Broke It?
باب: جس کی کوئی چیز توڑ دی جائے تو توڑنے والے کے مال سے اس کا تاوان لیا جائے گا
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Ben Related About: The Prophet (saws) LIked Sweets And Honey
باب: میٹھی چیز اور شہد سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رغبت اور پسند کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: Every Intoxicant Is Unlawful
باب: ہر نشہ آور چیز حرام ہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Blow Into The Drink
باب: پینے کی چیز میں پھونکنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Removing Harm From The Road
باب: راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About One Who Pretends To Be Satisfied With Something He Was Not Given
باب: آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس پر اترانے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: 'Whoever Comes To The Door Of The Sultan He Will Suffer A Fitnah'
باب: فتنوں میں پڑنے والی چیزوں کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Whoever Guards Most Against The Unlawful, Then He Is The Most Worshiping Among The People
باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About : 'The Heart Of an Old Man Remains Young Because of Love For Two Things'
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال
Jam e Tirmazi
49
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Islam Is Based Upon Five.
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

19
Musnad Ahmad
3470
۔ (۳۴۷۰)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِی عَمَلًا یُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاَلَۃَ اَعْتِِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ الرَّقَبَۃَ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ لَیْسَتَا بِواحِدَۃٍ، قَالَ: ((لَا، إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَۃِ اَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِہَا، وَفَکُّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعِیْنَ فِی عِتْقِہَا وَالْمِنْحَۃُ الْوَکُوْفُ، وَالْفَیْئُ عَلَی ذِی الرَّحِمِ الظاَّلِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعِ وَاسْق الظَّمْآنَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ إِلَّا مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک بدو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں کہ جس کی بدولت میں جنت میں چلا جائوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن بہت بڑی بات پوچھی ہے، بہرحال کسی غلام کو مکمل آزاد کر یا کسی کو آزاد کرنے میں حصہ ڈال۔ اس نے کہا: کیایہ دونوں کام ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، عِتْقُ النَسَمَہ یہ ہے کہ تم اکیلے کسی کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَہ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں حصہ ڈال دو، (بقیہ نیک اعمال یہ ہیں کہ) تم دودھ والا جانور عاریۃً کسی کو دے دو اور اپنے رشتہ دار، خواہ وہ ظالم ہی ہو، کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، پیاسے کو پانی پلایا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو،ا گر ان امور کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو خیر والے امور کے علاوہ (باقی کاموں سے) روک لو۔
Musnad Ahmad
7095
۔ (۷۰۹۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا نَکُوْنُ بِالْبَادِیَۃِ فَتَخْرُجُ مِنْ اَحْدِنَا الرُّوَیْحِیَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِذَا فَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوْا النِّسَائَ فِیْ أَعْجَازِھِنَّ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((فِیْ اَدْبَارِھِنَّ۔)) (مسند احمد: ۶۵۵)
۔ سیدنا علی بن طلق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ایک دیہاتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیہات میں ہوتے ہیں اور ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، جب کسی کے ساتھ ایسا ہو جائے تو وہ وضو کرے اور عورتوں کو پیچھے سے استعمال نہ کیا کرو۔
Musnad Ahmad
13276
۔ (۱۳۲۷۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْحَوْضِ وَذَکَرَالْجَنَّۃَ ثُمَّ قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فِیْہَا فَاکِہَۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَفِیْہَا شَجَرَۃٌ تُدْعٰی طُوْبٰی۔)) فَذَکَرَ شَیْئًا لَا اَدْرِیْ مَا ھُوَ قَالَ: اَیُّ شَجَرِ اَرْضِنَا تُثْبِہُ؟ قَالَ: ((لَیْسَتْ تُثْبِہُ شَیْئًا مِنْ شَجَرِ اَرْضِکَ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَیْتَ الشَّامَ؟)) فَقَالَ: لَا، قَالَ: ((تُشْبِہُ شَجَرَۃٌ بِالشَّامِ تُدْعٰی الْجَوْزَۃَ تَنْبُتُ عَلٰی سَاقٍ وَاحِدٍ یَنْفَرِشُ اَعْلَاھَا۔)) قَالَ: مَا عِظَمُ اَصْلِہَا؟ قَالَ: ((لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذْعَۃٌ مِنْ اِبِلِ اَھْلِکَ مَا اَحَاطَتْ بِاَصْلِہَا حَتّٰی تَنْکَسِرَ تَرْقُوْتُہَا ھَرِمًا۔)) قَالَ: فِیْہَا عِنَبٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُوْدِ؟ قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ شَہْرٍ لِلْغُرَابِ الْاَبْقَعِ وَلَا یَفْتُرُ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْحَبَّۃِ؟ قَالَ: ((ھَلْ ذَبَحَ اَبُوْکَ تَیْسًا مِنْ غَنَمِہٖقَطُّعَظِیْمًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَسَلَخَ اِھَابَہُ فَاَعْطَاہُ اُمَّکَ قَالَ: اِتَّخِذِیْ لَنَا مِنْہُ دَلْوًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فَاِنَّ تِلْکَ الْحَبَّۃَ لَتُشْبِعُنِیْ وَاَھْلَ بَیْتِیْ، قَالَ: ((نَعَمْ وَعَامَّۃَ عَشِیْرَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۲)
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور حوض کے بارے میں پوچھا اور جنت کا ذکر کیا، پھر اس بدّو نے پوچھا: آیا جنت میں پھل ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس میں ایک طوبی نامی درخت ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اور بات ذکر کی جو مجھے یاد نہیں رہی، اس نے پوچھا: وہ درخت ہماری اس زمین کے کس درخت کے مشابہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اس زمین کے کسی درخت جیسا نہیں ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم شام کے علاقے میں گئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام میں جوزہ نامی ایک درخت ہوتا ہے، وہ ایک ہی تنا پر اگتا ہے، البتہ اوپر جا کر پھیل جاتا ہے۔ اس بدّو نے پوچھا: اس کاتنا کتنا بڑا ہوگا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اونٹوں میں سے ایک نوجوان اونٹ اس کے گرد چکر کاٹنے لگے تو چکر کاٹتے کاٹتے وہ بوڑھا ہو کر مرجائے گا، مگر اس درخت کے تنے کے گرد چکر پورا نہیں کر سکے گا۔ اس نے پوچھا: کیا وہاں انگور ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انگوروں کا ایک گچھا کتنا بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر سفید کوا ایک ماہ تک کوئی لچک پیدا کیے بغیر مسلسل پرواز کرتا رہے تو اس کے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس نے پوچھا: وہاں کے غلے کا ایک دانہ کس قدر بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والد نے بکریوں کے ریوڑ میں سے کوئی بڑا بکرا کبھی ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اس کا چمڑا اتار کر تمہاری والدہ کو دیا ہے کہ وہ اس سے ایک ڈول تیار کر لے؟(بس اسی کو دانے کی مثال سمجھ لیں) اس نے کہا: جی ہاں۔ بدّو نے کہا: تب تو غلے کا ایک دانہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بلکہ تمہارے خاندان کے عام افراد کے لیے بھی کافی ہو گا۔
Musnad Ahmad
13326
۔ (۱۳۳۲۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ عُلْوِیٌّ جَرِیْئٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنَا عَنِ الْھِجْرَۃِ اِلَیْکَ اَیْنَمَا کُنْتَ اَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّۃٍ اَمْ اِلٰی اَرْضٍ مَعْلُوْمَۃٍ اَمْ اِذَا مِتَّ اِنْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَکَتَ عَنْہُ یَسِیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ۔)) قَالَ: ھَا ھُوَ ذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلْھِجْرَۃُ اَنْ تَہْْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَاظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَتُقِیْمَ الصَّلاَۃَ وَتُوْتِیَ الزَّکَاۃَ ثُمَّ اَنْتَ مُہَاجِرٌ وَاِنْ مُتَّ بِالْحَضْرِ۔)) ثُمَّ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، اِبْتِدَائً مِنْ نَفْسِہٖ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنَا عَنْ ثِیَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَلْقًا تُخْلُقُ اَمْ نَسْجًا تُنْسَجُ، فَضِحَکَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِمَّ تَضْحَکُوْنَ مِنْ جَاھِلٍ یَسْاَلُ عَالِمًا!)) ثُمَّ اَکَبَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ؟)) قَالَ: ھُوَ اَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لَا بَلْ تَشَقَّقُ عَنْہَا ثَمَرُ الْجَنَّۃِ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۷۰۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک علوی اور جرأت مند بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی طرف ہجرت کے متعلق بتلائیں کہ آیا ہجرت اُدھر ہی کی جاسکتی ہے، جہاں آپ تشریف فرما ہوں یا ہجرت کا کسی مخصوص قوم کے ساتھ ہی تعلق ہے کہ وہی قوم ہجرت کر سکتی ہے یا ہجرت کا تعلق کسی مخصوص زمین کے ساتھ ہے یا جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا؟ یہ بات سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ہجرت تو یہی ہے کہ تو ظاہری اور باطنی گناہ کو اور برائی کو ترک کر دے، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر، بس پھر تو صحیح معنوں میں مہاجر ہوگا، خواہ تجھے تیرے اپنے شہر میں ہی موت آ جائے۔ بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی طرف سے شروع کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں آگاہ فرمائیں کہ اسے الگ سے پیدا کیا جائے گا یا اس کو بُنا جائے گا؟ اس کا سوال سن کر بعض لوگ ہنس پڑے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس سے کیوں ہنس رہے ہوکہ ایک بے علم نے ایک علم والے سے ایک مسئلہ پوچھا ہے؟ اس کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر جھکا لیا اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی یہ میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے جنت کے پھل نکلتے ہیں۔
Musnad Ahmad
3513
۔ (۳۵۱۳) عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَعْرَابِیٌّ قَدْ اَلَحَّ عَلَیْہِ فِی الْمَسْاَلَۃِ،یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَطْعِمْنِی،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَعْطِنِی، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَاَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْحُجْرَۃِ وَاَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ فِی الْمَسْاَلَۃِ مَا سَاَل َرَجُلٌ رَجُلًا وَہُوَ یَجِدُ لَیْلَۃً تُبِیْتُہُ۔)) فَاَمَرَ لَہُ بِطَعَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۲)
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔
Musnad Ahmad
3953
۔ (۳۹۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَرْنَبٍ قَدْ شَوَاہَا وَمَعَہَا صِنَابُہَا وَاُدَمْہَا، فَوَضَعَہَا بَیْنَیَدَیْہِ فَاَمْسَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَاْکُلَ، وَاَمَرَ اَصْحَابَہُ اَنْ یَاْکُلُوا فَاَمْسَکَ الْاَعْرَابِیُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَاْکُلَ؟)) قَالَ: إِنِّی اَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْاَیَّامَ الْغُرَّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش بھون کر لایا اور اس کے ساتھ رائی اور کشمش کی چٹنی اور سالن بھی تھا، اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود تو نہ کھایا، البتہ اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کھائیں، بدّو نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا: میں ہر ماہ تین دن روزے رکھتا ہوں، (ایک روزہ آج رکھا ہوا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو ایامِ بیض کے روزے رکھا کرو۔
Musnad Ahmad
6977
۔ (۶۹۷۷)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِیْ فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی امْرَأَۃٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَیْہَا امْرَأَۃً اُخْرٰی فَزَعَمَتِ امْرَأَتِیْ الْأُوْلٰی اَنَّہَا ارْضَعَتْ امْرَأَتِی الْحُدْثٰی اِمْلَاجَۃً أَوْاِمْلَاجَتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: رَضْعَۃً أَوْ رَضْعَتَیْنِ، فَقَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْاِمْلَاجَۃُ وَلَا الْاِمْلَاجَتَانِ۔)) اَوْ قَالَ: ((الرَّضْعَۃُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۰)
۔ سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک دیہاتی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی تھی، میں نے اس پر ایک اور شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایکیا دو دفعہ دودھ پلایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایکیا دو دفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
8959
۔ (۸۹۵۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ عَمَلا یُدْخِلُنِیْ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاَلَۃَ، اَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ رَقَبَۃً۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ لَیْسَتَا بِوَاحِدَۃٍ ؟ قَالَ: ((لا، اِنَّ عِتْقَ النَّسَمَۃِ اَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِھَا، وَفَکَّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعِیْنَ فِیْ عِتْقِھَا، وَالْمِنْحَۃُ الْوَکُوْفُ وَالْفَیْئُ عَلٰی ذِیْ الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ، فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلاَّ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔
Musnad Ahmad
9013
۔ (۹۰۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘