مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان
۔ (۶۲۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَیَوْمَ فَتْحِہَا: ((لَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَا تَحِلُّ لُقُطَتُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
6247
Sahih