TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6247 - مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان - گری پڑی چیز کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان
۔ (۶۲۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَیَوْمَ فَتْحِہَا: ((لَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَا تَحِلُّ لُقُطَتُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
6247
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۲۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۳۴، ومسلم: ۱۳۵۵ (انظر: ۷۲۴۲)

Related Chapters

561
1
Chapter: Milking animals is unlawful if the owner has not given permission
حاجیوں کی گری پڑی چیز کا حکم
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About Lost Items, The Stray Camel And Sheep
باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان
Jam e Tirmazi
3
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
Musnad Ahmad
4
سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
Musnad Ahmad
5
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
Musnad Ahmad
6
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
7
راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم
Musnad Ahmad
9
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
10
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
12
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
13
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
14
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
15
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
Musnad Ahmad
16
اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے یا فرض نہ قرار دیا جائے
Musnad Ahmad
17
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
18
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
Musnad Ahmad
19
(94) CHAPTER. Sutra (for the prayer) in Makkah and elsewhere.
مکہ اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات میں سترہ کا حکم
Sahih Bukhari
20
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
21
(4) CHAPTER. If a shepherd or a deputy saw dying sheep or something which is going to be spoiled, he is allowed to slaughter the sheep and save the thing liable to be spoiled.
چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر ( بکری کو ) ذبح کر دیا یا جس چیز کے خراب ہو جانے کے ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا ، اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
22
(1) CHAPTER. Whoever buys a thing on credit and does not have its price or has it, but not at the place of the transaction.
جو شخص کوئی چیز قرض خریدے اور اس کے پاس قیمت نہ ہو یا اس وقت موجود نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
23
(5) CHAPTER. If someone finds a piece of wood or a lash or similar things in the sea.
اگر کوئی سمندر میں لکڑی یا ڈنڈا یا اور کوئی ایسی ہی چیز پائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
24
(7) CHAPTER. How the Luqata at Makkah is to be announced.
اہل مکہ کے لقطہٰ کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
25
(9) CHAPTER. If the owner of lost property comes back after a year, it should be returned to him as it is a trust with the one who has found it.
پڑی ہوئی چیز کا مالک اگر ایک سال بعد آئے تو اسے اس کا مال واپس کر دے کیونکہ پانے والے کے پاس وہ امانت ہے
Sahih Bukhari
26
(10) CHAPTER. Should one pick up a fallen thing, lest it should be spoilt or taken by somebody who does not deserve it?
پڑی ہوئی چیز کا اٹھا لینا بہتر ہے ایسا نہ ہو وہ خراب ہو جائے یا کوئی غیر مستحق اس کو لے بھاگے
Sahih Bukhari
27
34) CHAPTER. If a person breaks a wooden bowl or something belonging to somebody, (should he give a compensation)?
جس کسی شخص نے کسی دوسرے کا پیالہ یا کوئی اور چیز توڑ دی تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
28
(10) CHAPTER. If somebody founds an endowment (or bequeathes) his relatives by a will (is it permissible?). And who are considered as relatives.
اگر کسی نے اپنے عزیزوں پر کوئی چیز وقف کی یا ان کے لئے وصیت کی تو کیا حکم ہے اور عزیزوں سے کون لوگ مراد ہوں گے
Sahih Bukhari
29
Chapter: Performing wudu’ after eating something that has been touched by fire
۔ ایسی چیز سے وضو (کا حکم) منسو ہونا جسے آگ نے چھوا ہو
Sahih Muslim
30
کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم
Sahih Muslim
31
Chapter: No man if Quraish is to be captured then killed, after the conquest
فتح مکہ کے بعد(کبھی ) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کرنے کا حکم
Sahih Muslim
32
CHAPTER: Strictness In This Regard.
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کرنے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Menstruating Woman Hands Over Something From The Masjid.
باب: حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Whoever Said That He Many Eat From What Has Fallen.
باب: زمین پر گری ہوئی چیزوں کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: If Two Parties Dispute, The Item Remains Where It Was.
باب: جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Two men who claim something but have no proof.
باب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: One who steals a thing from a place where it is protected.
باب: جو شخص کسی چیز کو محفوظ مقام سے چرائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
39
Chapter: When Two Men Claim Some Goods And Neither Of Them Has Any Proof
ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
40
Chapter: Ruling Concerning One Who Breaks Something
اگر کسی نے کوئی چیز توڑ دی تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
41
مکہ میں مکانات کا کرایہ لینے کا کیا حکم ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
42
کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس میں موجود چیز کے بہانے کا حکم
Sunnan Nisai
43
باب: سامان خریدنے کے بعد قیمت ادا کرنے سے پہلے آدمی مفلس ہو جائے اور وہ چیز اس کے پاس جوں کی توں موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
45
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
46
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
(58)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu From What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
48
(59)Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing Wudu For What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
50
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Musnad Ahmad
1409
۔ (۱۴۰۹) عَنْ أُمِّ ھَانِیئٍ (بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَ نَّہَا رَأَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَاِلفًا بَیْنَ طَرَفَیْہِ ثَمَانَ رَکَعَاتٍ بِمَکَّۃَیَوْمَ الْفَتْحِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَصَلَّی الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۴۲)
سیدۃ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں فتح کے دن ایک کپڑے کے دوکنارے مخالف سمت سے کندھوں سے گزار کر آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا اور ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کی نماز کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
Musnad Ahmad
12433
۔ (۱۲۴۳۳)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ إِلٰی مَکَّۃَ بَعْثَہُ یَغْزُو ابْنَ الزُّبَیْرِ أَتَاہُ أَبُو شُرَیْحٍ، فَکَلَّمَہُ وَأَخْبَرَہُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلٰی نَادِی قَوْمِہِ فَجَلَسَ فِیہِ، فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَ قَوْمَہُ، کَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِیدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ، قَالَ: قُلْتُ: ہٰذَا إِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَۃُ عَلٰی رَجُلٍ مِنْ ہُذَیْلٍ فَقَتَلُوہُ وَہُوَ مُشْرِکٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَیَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہِیَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا، لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ یَکُونُ بَعْدِی، وَلَمْ تَحْلِلْ لِی إِلَّا ہٰذِہِ السَّاعَۃَ غَضَبًا عَلٰی أَہْلِہَا، أَ لَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، أَ لَا! فَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ مِنْکُمْ الْغَائِبَ، فَمَنْ قَالَ لَکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِہَا فَقُولُوْا: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّہَا لِرَسُولِہِ وَلَمْ یُحْلِلْہَا لَکُمْ، یَا مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ وَارْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَدْ کَثُرَ أَنْ یَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِیلًا لَأَدِیَنَّہُ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِی ہٰذَا، فَأَہْلُہُ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِنْ شَائُ وْا فَدَمُ قَاتِلِہِ، وَإِنْ شَائُ وْا فَعَقْلُہُ۔)) ثُمَّ وَدٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِی قَتَلَتْہُ خُزَاعَۃُ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ لِأَبِی شُرَیْحٍ: انْصَرِفْ أَیُّہَا الشَّیْخُ! فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِہَا مِنْکَ، إِنَّہَا لَا تَمْنَعُ سَافِکَ دَمٍ، وَلَا خَالِعَ طَاعَۃٍ، وَلَا مَانِعَ جِزْیَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ کُنْتُ شَاہِدًا وَکُنْتَ غَائِبًا، وَقَدْ بَلَّغْتُ، وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبَلِّغَ شَاہِدُنَا غَائِبَنَا، وَقَدْ بَلَّغْتُکَ فَأَنْتَ وَشَأْنُکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۰)
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام کے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ ان اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔