TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6273 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا
۔ (۶۲۷۳)۔ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاء َ قَالَتْ: أَہْدَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِنَاعًا مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ، قَالَتْ: فَأَعْطَانِی مِلْء َ کَفَّیْہِ حُلِیًّا أَوْ قَالَ ذَہَبًا فَقَالَ تَحَلَّیْ بِہٰذَا۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَاکْتَسِیْ بِھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۳)
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھجوروں اور چھوٹے کھیروں کی ایک طشتری دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیوریا سونے کے دو چلو بھر کر مجھے دیئے اور فرمایا: اس سے زینت حاصل کر۔ ایک روایت میں ہے: اس کو پہن۔
6273
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۶۲۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی وابن عقیل۔ أخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: ۲۰۴، ۳۴۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۶۹۴ (انظر: ۲۷۰۲۳)

Related Chapters

276
1
Chapter: What Has Been Related About Accepting Gifts And Reciprocating For Them
باب: ہدیہ قبول کرنے اور اس کا بدلہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(11) CHAPTER. Compensation for a gift.
ہبہ کا معاوضہ ( بدلہ ) ادا کرنا
Sahih Bukhari
3
(14) CHAPTER. Giving gifts by a husband to his wife, and by a wife to her husband.
خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو کچھ ہبہ کر دینا
Sahih Bukhari
4
(29) CHAPTER. Giving presents to AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکوں کو ہدیہ دینا
Sahih Bukhari
5
CHAPTER: A Gift (Al-Hadiyyah) For Helping Someone.
باب: کام نکالنے کے لیے ہدیہ دینا اور کام نکال دینے پر لینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
6
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Wala' And To Confer It
باب: میراث ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back One's Gift
باب: ہبہ کو واپس لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Gifts Taken By Governors
باب: حاکم کو تحفہ ہدیہ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Accepting The Gift and Accepting The Invitation
باب: ہدیہ تحفہ اور دعوت قبول کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: About The Gifts Of The Idolaters Being Disliked
باب: کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been Related About It Being Disliked To Take Back Gifts
باب: ہدیہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان​
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Cursing The Wind
باب: ہوا کو گالی دینا منع ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Regarding What Has Been Related About The Slave Of The Dinar And The Slave Of The Dirham
باب: درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related That Verbally Abusing A Muslim Is Disobedience
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا
Jam e Tirmazi
19
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے
Jam e Tirmazi
20
بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة
کس کو صدقہ دینا جائز نہیں
Mishkat
21
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
22
دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا
Musnad Ahmad
23
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
24
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
25
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
26
قرض داروں کو زکوۃ دینا
Musnad Ahmad
27
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
28
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
29
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
30
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
31
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
Musnad Ahmad
32
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
Musnad Ahmad
33
ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
34
رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
Musnad Ahmad
35
ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
37
ایک بیوی کا اپنا دن اپنی سوکن کو ہبہ کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
38
منعِم کا شکر ادا کرنے اور نیکی کا بدلہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
39
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
40
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
Musnad Ahmad
41
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
42
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
44
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
45
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
46
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
47
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا
Musnad Ahmad
49
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
50
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Musnad Ahmad
10841
۔ (۱۰۸۴۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ فِیْہِ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَیْشٍ، کَانُوا یَرَوْنَ مَکَانِی وَیَسْمَعُونَ مِنِّی، فَقُلْتُ لَہُمْ: تَعْلَمُونَ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی أَمْرَ مُحَمَّدٍیَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا کَبِیرًا مُنْکَرًا، وَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَأْیًا فَمَا تَرَوْنَ فِیہِ؟ قَالُوا: وَمَا رَأَیْتَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِیِّ فَنَکُونَ عِنْدَہُ فَإِنْ ظَہَرَ مُحَمَّدٌ عَلٰی قَوْمِنَا کُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِیِّ فَإِنَّا أَنْ نَکُونَ تَحْتَ یَدَیْہِ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ أَنْ نَکُونَ تَحْتَ یَدَیْ مُحَمَّدٍ، وَإِنْ ظَہَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفَ فَلَنْ یَأْتِیَنَا مِنْہُمْ إِلَّا خَیْرٌ، فَقَالُوا: إِنَّ ہٰذَا الرَّأْیُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُمْ: فَاجْمَعُوا لَہُ مَا نُہْدِی لَہُ، وَکَانَ أَحَبَّ مَا یُہْدٰی إِلَیْہِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمُ، فَجَمَعْنَا لَہُ أُدْمًا کَثِیرًا، فَخَرَجْنَا حَتّٰی قَدِمْنَا عَلَیْہِ، فَوَاللّٰہِ! إِنَّا لَعِنْدَہُ إِذْ جَائَ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ بَعَثَہُ إِلَیْہِ فِی شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِہِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَصْحَابِی: ہٰذَا عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَسَأَلْتُہُ إِیَّاہُ فَأَعْطَانِیہِ فَضَرَبْتُ عُنُقَہُ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَأَتْ قُرَیْشٌ أَنِّی قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْہَا حِینَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَسَجَدْتُ لَہُ کَمَا کُنْتُ أَصْنَعُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِصَدِیقِی أَہْدَیْتَ لِی مِنْ بِلَادِکَ شَیْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَیُّہَا الْمَلِکُ، قَدْ أَہْدَیْتُ لَکَ أُدْمًا کَثِیرًا، قَالَ: ثُمَّ قَدَّمْتُہُ إِلَیْہِ فَأَعْجَبَہُ وَاشْتَہَاہُ ثُمَّ قُلْتُ لَہُ: أَیُّہَا الْمَلِکُ! إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِکَ وَہُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا فَأَعْطِنِیہِ لِأَقْتُلَہُ فَإِنَّہُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِیَارِنَا، قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ مَدَّ یَدَہُ فَضَرَبَ بِہَا أَنْفَہُ ضَرْبَۃً، ظَنَنْتُ أَنْ قَدْ کَسَرَہُ، فَلَوِ انْشَقَّتْ لِیَ الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِیہَا فَرَقًا مِنْہُ ثُمَّ قُلْتُ: أَیُّہَا الْمَلِکُ وَاللّٰہِ! لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ تَکْرَہُ ہٰذَا مَا سَأَلْتُکَہُ، فَقَالَ لَہُ: أَتَسْأَلُنِی أَنْ أُعْطِیَکَ رَسُولَ رَجُلٍ یَأْتِیہِ النَّامُوسُ الْأَکْبَرُ الَّذِی کَانَ یَأْتِی مُوسٰی لِتَقْتُلَہُ؟ قَالَ: قُلْتُ، أَیُّہَا الْمَلِکُ أَکَذَاکَ ہُوَ؟ فَقَالَ: وَیْحَکَیَا عَمْرُو! أَطِعْنِی وَاتَّبِعْہُ فَإِنَّہُ وَاللّٰہِ لَعَلَی الْحَقِّ وَلَیَظْہَرَنَّ عَلٰی مَنْ خَالَفَہُ کَمَا ظَہَرَ مُوسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ وَجُنُودِہِ، قَالَ: قُلْتُ: فَبَایِعْنِی لَہُ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ: نَعَمْ فَبَسَطَ یَدَہُ وَبَایَعْتُہُ عَلَی الْإِسْلَامِ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلٰی أَصْحَابِی، وَقَدْ حَالَ رَأْیِی عَمَّا کَانَ عَلَیْہِ وَکَتَمْتُ أَصْحَابِی إِسْلَامِی، ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُسْلِمَ، فَلَقِیتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَذٰلِکَ قُبَیْلَ الْفَتْحِ وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: أَیْنَیَا أَبَا سُلَیْمَانَ؟ وَاللّٰہِ! لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِیٌّ أَذْہَبُ وَاللّٰہِ أُسْلِمُ فَحَتّٰی مَتٰی؟ قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَأَسْلَمَ وَبَایَعَ، ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُبَایِعُکَ عَلٰی أَنْ تَغْفِرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَلَا أَذْکُرُ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا عَمْرُو بَایِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ یَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہُ، وَإِنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہَا۔)) قَالَ: فَبَایَعْتُہُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَقَدْ حَدَّثَنِی مَنْ لَا أَتَّہِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ کَانَ مَعَہُمَا أَسْلَمَ حِینَ أَسْلَمَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۰)
حبیب بن اوس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے براہ راست بیان کیا کہ جب ہم غزوۂ احزاب میں خندق سے واپس ہوئے، تو میں نے چند ان قریشی لوگوں کو جمع کیا، جو میرا مقام سمجھتے اور میری بات کو توجہ سے سنتے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میری نظر میں محمد کی دعوت سب پر غالب ہو کر رہے گی اور ہم لوگ اسے پسند بھی نہیں کرتے، میری ایک رائے ہے، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی آپ کی رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہیں، اگر محمد ہماری قوم پر غالب آ گئے، تو ہم نجاشی کے ہاں ہوں گے اور محمد کے ماتحت رہنے کی نسبت نجاشی کے ماتحت رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے اور اگر ہماری قوم غالب ہوئی تو ہم معروف ہیں،ہمیں ان کے ہاں خیر ہی خیر ملے گی۔ لوگوں نے کہا: واقعی آپ کی رائے مناسب ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: تم اس کو تحائف دینے کے لیے مال جمع کرو، اسے ہمارے علاقے کا چمڑا بطور ہدیہ بہت پسند تھا، پس ہم نے اسے دینے کے لیے بہت سے چمڑے جمع کر لئے اور ہم روانہ ہو گئے اور اس کے ہاں پہنچ گئے، اللہ کی قسم !ہم اس کے پاس موجود تھے کہ عمرو بن امیہ ضمریبھی وہاں آگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جعفر اور ان کے ساتھیوںکے سلسلہ میں بات چیت کے سلسلہ میں وہاں بھیجا تھا، وہ اس کے پاس آئے اور اس کے ہاں سے چلے گئے، اب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن امیہ ضمری ہے، اگر میں نجاشی کے ہاں جا کر اس سے اس کا مطالبہ کروں کہ اسے میرے حوالے کر دے تو وہ اسے میرے حوالے کر دے گا اور میں اسے قتل کر دوں گا تو قریش اعتراف کریں گے کہ میں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سفیر کو قتل کر کے ان کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ چنانچہ میں اس کے دربار میں گیا اور جاتے ہی اسے تعظیمی سجدہ کیا، جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کیا کرتا تھا،اس نے کہا: دوست کی آمد مبارک، تم اپنے وطن سے میرے لیے کچھ تحفہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ! بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے کثیر مقدار میں چمڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پھر میں نے وہ اس کی خدمت میں پیش کئے، اس نے ان کو خوب پسند کیا اور یہ بھی اظہار کیا کہ اس کو ان کی ضرورت تھی، اس کے بعد میں نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے یہاں ایک آدمی کو دیکھا ہے، جو آپ کے ہاں سے باہر گیا ہے، وہ تو ہمارے دشمن کا قاصد ہے، آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کر سکوں، وہ تو ہمارے معزز اور بہترین لوگوں کا قاتل ہے، یہ سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ لمبا کر کے اپنے ہی ناک پر اس قدر زور سے مارا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نے اپنے ناک کی ہڈی توڑ دی ہو گی، اس کے خوف کی وجہ سے میرییہ حالت ہوئی کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ پھر میں نے کہا: بادشاہ سلامت! اللہ کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ بات آپ کو اس قدر ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرتا۔ نجاشی نے کہا: جو فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اب وہ جس آدمی کے پاس آتا ہے، کیا میں اس کے قاصد کو تمہارے حوالے کر دوں تاکہ تم اسے قتل کر سکو؟ میں نے کہا: بادشاہ سلامت! کیا وہ واقعی ایسا ہی ہے؟ وہ بولا: اے عمرو! تجھ پر افسوس ہے، تم میری بات مان لو اور اس کی اتباع کر لو، اللہ کی قسم وہ یقینا حق پر ہے اور وہ ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر غالب آئے گا، جیسے موسیٰ علیہ السلام ، فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: آپ مجھ سے اس کے حق میں قبولِ اسلام کی بیعت لے لیں۔ نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اس کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کی بیعت کر لی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف گیا، جبکہ میری رائے سابقہ رائے سے یکسر بدل چکی تھی، لیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنے قبولِ اسلام کو چھپائے رکھا، پھر میں مسلمان ہونے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چل دیا، خالد بن ولید سے میری ملاقات ہوئی، وہ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے، یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اور میں نے ان سے دریافت کیا: ابو سلیمان! کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ خوب واضح ہو چکا ہے، وہ محمد یقینا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ کب تک یوں ہی ادھر ادھربھٹکتا رہوں گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہی آیاہوں۔ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ خالد بن ولید آگے بڑھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اوربیعت کی، ان کے بعد میں بھی قریب ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں اور مجھے بعد میں سرزد ہونے والے گناہوں کانام لینایاد نہ رہا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تم بیعت کرو، بے شک اسلام پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت سابقہ تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر لی اور پھر میں واپس آگیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جومیرے نزدیک قابلِ اعتماد ہے، اس نے کہا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان دونوں کے ہم راہ تھے، جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے۔
Musnad Ahmad
11864
۔ (۱۱۸۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ فِیْہِ قَالَ: لَمَّا اِنْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَیْشٍ، کَانُوا یَرَوْنَ مَکَانِی وَیَسْمَعُونَ مِنِّی، فَقُلْتُ لَہُمْ: تَعْلَمُونَ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی أَمْرَ مُحَمَّدٍ یَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا کَبِیرًا مُنْکَرًا، وَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَأْیًا فَمَا تَرَوْنَ فِیہِ؟ قَالُوا: وَمَا رَأَیْتَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِیِّ فَنَکُونَ عِنْدَہُ فَإِنْ ظَہَرَ مُحَمَّدٌ عَلٰی قَوْمِنَا کُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِیِّ فَإِنَّا أَنْ نَکُونَ تَحْتَ یَدَیْہِ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ أَنْ نَکُونَ تَحْتَ یَدَیْ مُحَمَّدٍ، وَإِنْ ظَہَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفَ فَلَنْ یَأْتِیَنَا مِنْہُمْ إِلَّا خَیْرٌ، فَقَالُوا: إِنَّ ہٰذَا الرَّأْیُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُمْ: فَاجْمَعُوا لَہُ مَا نُہْدِی لَہُ، وَکَانَ أَحَبَّ مَا یُہْدَی إِلَیْہِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمُ، فَجَمَعْنَا لَہُ أُدْمًا کَثِیرًا، فَخَرَجْنَا حَتّٰی قَدِمْنَا عَلَیْہِ، فَوَاللّٰہِ! إِنَّا لَعِنْدَہُ إِذْ جَائَ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ بَعَثَہُ إِلَیْہِ فِی شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِہِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَصْحَابِی: ہٰذَا عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَسَأَلْتُہُ إِیَّاہُ فَأَعْطَانِیہِ فَضَرَبْتُ عُنُقَہُ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ رَأَتْ قُرَیْشٌ أَنِّی قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْہَا حِینَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَسَجَدْتُ لَہُ کَمَا کُنْتُ أَصْنَعُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِصَدِیقِی أَہْدَیْتَ لِی مِنْ بِلَادِکَ شَیْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَیُّہَا الْمَلِکُ، قَدْ أَہْدَیْتُ لَکَ أُدْمًا کَثِیرًا، قَالَ: ثُمَّ قَدَّمْتُہُ إِلَیْہِ فَأَعْجَبَہُ وَاشْتَہَاہُ ثُمَّ قُلْتُ لَہُ: أَیُّہَا الْمَلِکُ! إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِکَ وَہُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا فَأَعْطِنِیہِ لِأَقْتُلَہُ فَإِنَّہُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِیَارِنَا، قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ مَدَّ یَدَہُ فَضَرَبَ بِہَا أَنْفَہُ ضَرْبَۃً، ظَنَنْتُ أَنْ قَدْ کَسَرَہُ، فَلَوِ انْشَقَّتْ لِی الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِیہَا فَرَقًا مِنْہُ ثُمَّ قُلْتُ: أَیُّہَا الْمَلِکُ وَاللّٰہِ! لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ تَکْرَہُ ہٰذَا مَا سَأَلْتُکَہُ، فَقَالَ لَہُ: أَتَسْأَلُنِی أَنْ أُعْطِیَکَ رَسُولَ رَجُلٍ یَأْتِیہِ النَّامُوسُ الْأَکْبَرُ الَّذِی کَانَ یَأْتِی مُوسٰی لِتَقْتُلَہُ؟ قَالَ: قُلْتُ، أَیُّہَا الْمَلِکُ أَکَذَاکَ ہُوَ؟ فَقَالَ: وَیْحَکَ یَا عَمْرُو! أَطِعْنِی وَاتَّبِعْہُ فَإِنَّہُ وَاللّٰہِ لَعَلَی الْحَقِّ وَلَیَظْہَرَنَّ عَلٰی مَنْ خَالَفَہُ کَمَا ظَہَرَ مُوسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ وَجُنُودِہِ، قَالَ: قُلْتُ: فَبَایِعْنِی لَہُ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ: نَعَمْ فَبَسَطَ یَدَہُ وَبَایَعْتُہُ عَلَی الْإِسْلَامِ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلٰی أَصْحَابِی، وَقَدْ حَالَ رَأْیِی عَمَّا کَانَ عَلَیْہِ وَکَتَمْتُ أَصْحَابِی إِسْلَامِی، ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُسْلِمَ، فَلَقِیتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَذٰلِکَ قُبَیْلَ الْفَتْحِ وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: أَیْنَ یَا أَبَا سُلَیْمَانَ؟ وَاللّٰہِ! لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِیٌّ أَذْہَبُ وَاللّٰہِ أُسْلِمُ فَحَتّٰی مَتَی؟ قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَأَسْلَمَ وَبَایَعَ، ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُبَایِعُکَ عَلٰی أَنْ تَغْفِرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَلَا أَذْکُرُ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا عَمْرُو بَایِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ یَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہُ، وَإِنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہَا)) قَالَ: فَبَایَعْتُہُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَقَدْ حَدَّثَنِی مَنْ لَا أَتَّہِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ کَانَ مَعَہُمَا أَسْلَمَ حِینَ أَسْلَمَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۰)
حبیب بن اوس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے براہ راست بیان کیا کہ جب ہم غزوۂ احزاب میں خندق سے واپس ہوئے، تو میں نے چند قریشی لوگوں کو جمع کیا، وہ جو میرا مقام سمجھتے اور میری بات کو توجہ سے سنتے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میری نظر میں محمد کی دعوت سب پر غالب ہو کر رہے گی اور ہم لوگ اسے پسند بھی نہیں کرتے، میری ایک رائے ہے، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی آپ کی رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہیں، اگر محمد ہماری قوم پر غالب آ گئے، تو ہم نجاشی کے ہاں ہوں گے اور محمد کے ماتحت رہنے کی نسبت نجاشی کے ماتحت رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے اور اگر ہماری قوم غالب ہوئی تو ہم معروف ہیں،ہمیں ان کے ہاں خیر ہی خیر ملے گی۔ لوگوں نے کہا: واقعی آپ کی رائے مناسب ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: تم اس کو تحائف دینے کے لیے مال جمع کرو، اسے ہمارے علاقے کا چمڑا بطور ہدیہ بہت پسند تھا، پس ہم نے اسے دینے کے لیے بہت سے چمڑے جمع کر لئے اور ہم روانہ ہو گئے اور اس کے ہاں پہنچ گئے، اللہ کی قسم !ہم اس کے پاس موجود تھے کہ عمرو بن امیہ ضمری بھی وہاں آگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جعفر اور ان کے ساتھیوںکے سلسلہ میں بات چیت کے لیے وہاں بھیجا تھا، وہ اس کے پاس آئے اور اس کے ہاں سے چلے گئے، اب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن امیہ ضمری ہے، اگر میں نجاشی کے ہاں جا کر اس سے اس کا مطالبہ کروں کہ اسے میرے حوالے کر دے تو وہ اسے میرے حوالے کر دے گا اور میں اسے قتل کر دوں گا تو قریش اعتراف کریں گے کہ میں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سفیر کو قتل کر کے ان کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ چنانچہ میں اس کے دربار میں گیا اور جاتے ہی اسے تعظیمی سجدہ کیا، جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کیا کرتا تھا،اس نے کہا: دوست کی آمد مبارک، تم اپنے وطن سے میرے لیے کچھ تحفہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ! بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے کثیر مقدار میں چمڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پھر میں نے وہ اس کی خدمت میں پیش کئے، اس نے ان کو خوب پسند کیا اور یہ بھی اظہار کیا کہ اس کو ان کی ضرورت تھی، اس کے بعد میں نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے یہاں ایک آدمی کو دیکھا ہے، جو آپ کے ہاں سے باہر گیا ہے، وہ تو ہمارے دشمن کا قاصد ہے، آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کر سکوں، وہ تو ہمارے معزز اور بہترین لوگوں کا قاتل ہے، یہ سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ لمبا کر کے اپنے ہی ناک پر اس قدر زور سے مارا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نے اپنے ناک کی ہڈی توڑ دی ہو گی، اس کے خوف کی وجہ سے میرییہ حالت ہوئی کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ پھر میں نے کہا: بادشاہ سلامت! اللہ کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ بات آپ کو اس قدر ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرتا۔ نجاشی نے کہا: جو فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اب وہ جس آدمی کے پاس آتا ہے، کیا میں اس کے قاصد کو تمہارے حوالے کر دوں تاکہ تم اسے قتل کر سکو؟ میں نے کہا: بادشاہ سلامت! کیا وہ واقعی ایسا ہی ہے؟ وہ بولا: اے عمرو! تجھ پر افسوس ہے، تم میری بات مان لو اور اس کی اتباع کر لو، اللہ کی قسم وہ یقینا حق پر ہے اور وہ ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر غالب آئے گا، جیسے موسیٰ علیہ السلام ، فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: آپ مجھ سے اس کے حق میں قبولِ اسلام کی بیعت لے لیں۔ نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اس کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کی بیعت کر لی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف گیا، جبکہ میری رائے سابقہ رائے سے یکسر بدل چکی تھی، لیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنے قبولِ اسلام کو چھپائے رکھا، پھر میں مسلمان ہونے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چل دیا، خالد بن ولید سے میری ملاقات ہوئی، وہ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے، یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اور میں نے ان سے دریافت کیا: ابو سلیمان! کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ خوب واضح ہو چکا ہے، وہ محمد یقینا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ کب تک یوں ہی ادھر ادھربھٹکتا رہوں گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہی آیاہوں۔ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ خالد بن ولید آگے بڑھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اوربیعت کی، ان کے بعد میں بھی قریب ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس شرط پر بیعتکرتا ہوں کہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں اور مجھے بعد میں سرزد ہونے والے گناہوں کانام لینایاد نہ رہا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تم بیعت کرو، بے شک اسلام پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت سابقہ تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر لی اور پھر میں واپس آگیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جومیرے نزدیک قابلِ اعتماد ہے، اس نے کہا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان دونوں کے ہم راہ تھے، جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے۔
Musnad Ahmad
627
۔ (۶۲۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَؓفَسَأَلْتُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَخْرَجْتْ لَہُ یَعْنِیْ اِنَائً یَکُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ و رُبْعٍ، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَذْہَبُ اِلَی الْہَاشِمِیِّ، قَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّۃً: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا وَیَمْسَحُ بِرَأْسِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ یَغْسِلُ رَِجْلَیْہِ ثَلَاثًا، قَدْ جَائَ نِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ فَسَأَلَنِیْ وَہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ لِیْ: مَا أَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ اِلَّا مَسْحَتَیْنِ وَغَسْلَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کے پاس بھیجا، انھوں ایک برتن نکالا، جو ایک مُدّ یا ایک مُدّ اور چوتھائی مُدّ کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مُدّ کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیعؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباسؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انھوںنے کہا: میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔
Musnad Ahmad
642
۔ (۶۴۲)۔ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍؓ (تَصِفُ وُضُوئَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَتْ: وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً مَرَّۃً۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۶)
سیدہ ربیع بنت معوذؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک ایک مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔
Musnad Ahmad
648
۔ (۶۴۸)۔عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍؓقَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ (تَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا) وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَـلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
سیدہ ربیع بن معوذؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی نکالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ہاتھوں پر تین بار بہاتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر تین دفعہ چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھاتے، تین بار دایاں بازوں دھوتے اور تین بار بائیں بازوں کو دھوتے، ……۔
Musnad Ahmad
670
۔ (۶۷۰)۔عَنِ الرُّبَیِّعِِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ عِنْدَہَا (قَالَتْ:) فَرَأَیْتُہُ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ مَجَارِیَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْہُ وَمَا أَدْبَرَ وَمَسَحَ صُدْغَیْہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۶۲)
سیدہ ربیع بنت معوذؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے پاس وضو کیا، وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کے سامنے والے اور پچھلے حصے پر اس طرح مسح کیا کہ جس سمت میں بال پڑے تھے، اُسی سمت میں ہاتھ پھیر دیااور اپنی کنپٹیوں اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے پر بھی مسح کیا۔
Musnad Ahmad
1233
۔ (۱۲۳۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ صُلَیْحٍ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ وَکَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبْشَۃِ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا مَعَہُ فِیْ سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّیْرَ حِیْنَ اِنْصَرَفَ وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ لِقِلَّۃِ الزَّادِ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ اِنْقَطَعَ النَّاسُ وَرَائَ کَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَہُ حَتّٰی تَکَافَلُوْا اِلَیْہِ،فَقَالَ لَہُمْ: ((ھَلْ لَکُمْ أَنْ نَہْجَعَ ہَجْعَۃً؟)) أَوْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوْا، فَقَالَ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَعْطَانِیْ خِطَامَ نَاقَتِہِ فَقَالَ: ((ہَاکَ لَا تَکُوْنَنَّ لُکَعَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَتَنَحَّیْتُ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہَا یَرْعَیَانِ، فَاِنِّیْ کَذَاکَ أَنْظُرُ اِلَیْہِمَا حَتّٰی أَخَذَنِی النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَیْئٍ حَتّٰی وَجَدْتُّ حَرّ َالشَّمْسِ عَلٰی وَجْہِیْ، فَاسْتَیْقَظْتُ فَنَظَرْتُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَاِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَیْنِ مِنِّیْ غَیْرُ بَعِیْدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَأَتَیْتُ أَدْنَی الْقَوْمِ فَأَیْقَظْتُہُ، فَقُلْتُ لَہُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَیْقَظَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی اسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! ھَلْ لِیْ فِیْ الْمِیْضَأَۃِ؟)) یَعْنِی الْاِدَاوَۃَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَتَاہُ بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً ا لَمْ یَلُتَّ مِنْہُ التُّرَابَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ، فقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ((لَا، قَبَضَ اللّٰہُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّہَا اِلَیْنَا وَقَدْ صَلَّیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۴۹)
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک سارے لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مکمل ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میںپانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
Musnad Ahmad
1271
۔ (۱۲۷۱) عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَیْرِیْزٍ أَخْبَرَ وَ کَانَ یَتِیْمًا فِی حِجْرِ أَبِیْ مَحْذُورَۃَ حِینَ جَہَّزَہُ إِلَی الشَّامِ قَالَ: فَقْلْتُ ِلأَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ: یَاعَمِّ! إِنِّیْ خَارِجٌ إِلَی الشَّامِ وَأَخْشٰی أَنْ أُسْئَلَ عَنْ تَأْذِیْنِکَ، فَأَخْبَرَنِیِْ أَنَّ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ قَالَ لَہُ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِی نَفَرٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ فِی عَشْرَۃِ فِتْیَانٍ) فَکُنَّا بِبَعْضِ طَرِیقِ حُنَیْنِ، فَقَفَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حُنَیْنٍ، فَلَقِیَناَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَکِّبُوْنَ فَصَرَخْنَا نَحْکِیْہِ وَنَسْتَہْزِیُٔ بِہِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا إِلیَ أَنْ وَقَفْنَا بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّکُمُ الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَہُ قَدِ ارْتَفَعَ؟)) فَأَشَارَالْقَوْمُ کُلُّہُمْ إِلَیَّ وَصَدَقُوْا ، فَأَرْسَلَ کُلَّہُمْ وَحَبَسَنِیْ فَقَالَ: ((قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاۃِ۔)) فَقُمْتُ وَلَا شَیْئَ أَکْرَہُ إِلَیَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا مِمَّا یَأْمُرُنِیِْ بِہِ، فَقُمْتُ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَلْقٰی إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّأْذِینَ ھُوَ نَفْسُہُ فَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((اِرْجِعْ فَامْدُ دْ مِنْ صَوْتِکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔)) ثُمًّ دَعَانِی حِیْنَ قَضَیْتُ التَّأْذِیْنَ فَأَعْطَانِیْ صُرَّۃً فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی نَاصِیَۃِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ أَمَرَّھَا عَلیَ وَجْہِہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَرَّتَیْنِ عَلَییَدَیْہِ ثُمَّ عَلَی کَبِدِہِ ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُرَّۃَ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیکََ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِالتَّأْذِیْنِ بِمَکَّۃَ۔ فَقَالَ: ((قَدْ أَمَرْتُکَ بِہِ۔)) وَذَھَبَ کُلُّ شَیْئٍ کَانَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَرَاھِیَۃٍ وَعَادَ ذَالِکَ مَحَبَّۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمْتُ عَلَی عَتَّابِ بِنْ أَسِیْدٍ عَامِلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ فَأَذَّنْتُ مَعَہُ بِالصَّلَاۃِ عَنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخْبَرنِیْ ذَالِکَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ أَھْلِیْ مِمَّنْ أَدْرَکَ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ عَلیَ نَحْوِ مَا أَخْبَرَ نِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بِنْ مُحَیْرِیْزٍٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۴)
جس وقت عبد العزیز بن عبد الملک بن أبی محذورہ نے عبد اللہ بن محیریز، جو سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں ایکیتیم تھے، کو شام کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کیا تو عبد اللہ بن محیریز نے کہا:میں نے ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کی اے چچا جان! میں شام کی طرف جا رہا ہوں او رمجھے لگتا ہے کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے سوال ہو گا۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محیریز نے اس کو بتایا کہ ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُن سے کہا: ٹھیک ہے، میں تجھے اپنی اذان کے بارے میں بتا دیتا ہوں، میں کچھ لوگوں، اور ایک روایت کے مطابق دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا،ہم حنین کے کسی راستہ میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حنین سے واپس آرہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ایک راستہ میں ملے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور راستہ سے پیچھے ہٹ کر اس کی نقل اتارتے ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے شور کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بلانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم میں سے کون ہے، جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟ سارے لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور وہ سچے تھے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور اور فرمانے لگے: کھڑا ہو جا اور نماز کے لیے اذان کہہ۔ میں کھڑا ہو گیا، حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کا حکم مجھے سب سے بڑھ کر ناپسند تھا۔ بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہہ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پھر فرمایا: اپنی آواز بڑھا کر دوبارہ کہہ: أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلا کر ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپ نے ابو محذورہ کی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اس کے چہرے پر دو مرتبہ پھیرا، پھر اس کے ہاتھوں پر دو دفعہ پھیرا، پھر اس کے جگر پر ہاتھ مارا حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ ابو محذورہ کی ناف تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ (اللہ تجھ میں برکت فرمائے)َ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ حکم دے دیا ہے۔ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جتنی کراہت تھی، وہ ساری کی ساری ختم ہو گئی او راس کی بجائے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت پیدا ہو گئی۔ پھر میں (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق) مکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عامل عتاب بن اسید کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان کہنا شروع کر دی۔ عبد العزیز بن عبد الملک کہتے ہیں: میرے گھر والوں میں سے جس جس نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا، وہ عبد اللہ بن محیریز کے بیان کردہ واقعہ کے مطابق تھا۔
Musnad Ahmad
4961
۔ (۴۹۶۱)۔ عَنْ أُمَیَّۃَ بِنْتِ أَبِی الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ، وَقَدْ سَمَّاہَا لِی، قَالَتْ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نِسْوَۃٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ، فَقُلْنَا لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَکَ إِلٰی وَجْہِکَ ہٰذَا، وَہُوَ یَسِیرُ إِلٰی خَیْبَرَ، فَنُدَاوِیَ الْجَرْحٰی، وَنُعِینَ الْمُسْلِمِینَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَال:َ عَلٰی بَرَکَۃِ اللّٰہِ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا مَعَہُ، وَکُنْتُ جَارِیَۃً حَدِیثَۃً، فَأَرْدَفَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَقِیبَۃِ رَحْلِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ، لَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصُّبْحِ فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِیبَۃِ رَحْلِہِ، وَإِذَا بِہَا دَمٌ مِنِّی، فَکَانَتْ أَوَّلَ حَیْضَۃٍ حِضْتُہَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَی النَّاقَۃِ وَاسْتَحْیَیْتُ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بِی وَرَأَی الدَّمَ، قَالَ: ((مَا لَکِ لَعَلَّکِ نَفِسْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَصْلِحِی مِنْ نَفْسِکِ، وَخُذِی إِنَائً مِنْ مَائٍ فَاطْرَحِی فِیہِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِی مَا أَصَابَ الْحَقِیبَۃَ مِنْ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِی لِمَرْکَبِکِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْبَرَ، رَضَخَ لَنَا مِنْ الْفَیْئِ، وَأَخَذَ ہٰذِہِ الْقِلَادَۃَ الَّتِی تَرَیْنَ فِی عُنُقِی، فَأَعْطَانِیہَا وَجَعَلَہَا بِیَدِہِ فِی عُنُقِی، فَوَاللّٰہِ، لَا تُفَارِقُنِی أَبَدًا، قَالَ: وَکَانَتْ فِی عُنُقِہَا حَتّٰی مَاتَتْ، ثُمَّ أَوْصَتْ أَنْ تُدْفَنَ مَعَہَا، فَکَانَتْ لَا تَطْہُرُ مِنْ حَیْضَۃٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِی طَہُورِہَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ أَنْ یُجْعَلَ فِی غُسْلِہَا حِینَ مَاتَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۷۷)
۔ بنو غفار کی ایک خاتون (سیدہ ام زیاد اشجعی) سے مروی ہے، وہ کہتی ہے: میں بنو غفار کی چند خواتین سمیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ اس طرف نکلنا چاہتی ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے، ہم زخمیوں کا علاج کریں گی اور حسب ِ استطاعت مسلمانوں کی مدد کریں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی برکت پر نکلو۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکل پڑیں، میں نو عمر لڑکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر پالان کے پچھلے حصے میں بٹھا لیا، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کے وقت اترے، اونٹ کو بٹھایا اور میں بھی پالان کے پچھلے حصے سے اتر آئی، اچانک دیکھا کہ اس میں تو مجھ سے بہنے والا خون تھا، یہ میرا پہلا حیض تھا، میں گھبرا کر اونٹنی کی طرف کودی اور شرما گئی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ لگے ہوئے خون کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا، شاید تجھے ماہواری آ گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے آپ کو سنوار لے اور ایک برتن میں پانی لے، اس میں نمک ڈال اور پالان کو جو خون لگا ہے، اس کو دھو دے، پھر اپنی سواری پر بیٹھ جا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بھی مالِ فے میں تھوڑی مقدار والے عطیے دیئے، یہ جو ہار میری گردن میں نظر آ رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ ہار پکڑا اور مجھے دے دیا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے میری گردن میں ڈالا، اللہ کی قسم! اب یہ ہار مجھ سے کبھی بھی جدا نہیں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کی موت تک یہ ہار ان کی گردن میں رہا، بلکہ انھوں نے وصیت کی تھی کہ اس ہار کو ان کے ساتھ دفن کیا جائے، نیز اس خاتون کو بعد میں جب بھی حیض آتا تھا تو اس سے پاکیزگی حاصل کرتے وقت وہ پانی میں نمک ڈالتی تھیں اور انھوں نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ ان کے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالا جائے۔