TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6637 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۶۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ مَاجِدٍ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِاِبْنِ أَخٍ لَہُ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا ابْنَ أَخِیْ وَقَدْ شَرِبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ، امْرَأَۃٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَتَغَیَّرَ لِذَالِکَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا شَدِیْدًا ثُمَّ قَالَ: {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}۔ (النور: ۲۲) (مسند احمد: ۳۷۱۱)
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
6637
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۶۶۳۷) تخریج: اسنادہ مسلسل بالضعفائ، یزید بن ہارون سمع من المسعودی بعد الاختلاط، ویحیی بن الحارث ضعیف، وابو ماجد الحنفی مجھول، وقال البخاری والنسائی: منکر الحدیث۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۱۵۵ (انظر: ۳۷۱۱)

Related Chapters

83
1
Chapter: Clarifying that faith decreases because of disobedience and negating it from the one committing the act of disobedience, with the meaning of negating its completion
گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے
Sahih Muslim
2
برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے جنبی کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
3
دونوں ہاتھ برتن میں ڈالنے سے پہلے انہیں کتنی بار دھویا جائے ؟
Sunnan Nisai
4
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Covering (The Faults Of) The Muslim
باب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What has been Related About Causing Harm With The Will
باب: وصیت کرنے میں ورثاء کو نقصان نہ پہنچانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: The Reign of a Man among the Mawali called Jahjah
باب: جہجاہ نامی غلام کی حکمرانی کے بارے میں پیش گوئی
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Misguiding A'immah
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Convey What Is Heard
باب: دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Conveying The Salam
باب: سلام بھیجنے اور اسے پہنچانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Narrated About Tatrib When Writing
باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
بَابُ الْعَمَلِ فِي الْقَضَاءِ وَالْخَوْفِ مِنْهُ
حکمرانی کرنے اور اس سے ڈرنے کا بیان
Mishkat
14
بَاب رزق الْوُلَاة وهداياهم
حکمرانوں کے وظائف اور ان کے تحائف کا بیان
Mishkat
15
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
17
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
19
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
20
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
Musnad Ahmad
22
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
23
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
24
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
25
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
26
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
27
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
28
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
29
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
30
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
32
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
Musnad Ahmad
33
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
34
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
35
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
36
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
Musnad Ahmad
37
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
Musnad Ahmad
40
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
Musnad Ahmad
41
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
(9) CHAPTER. To draw lots for pronouncing the Adhan.
اذان کے لیے قرعہ ڈالنے کا بیان
Sahih Bukhari
44
(4) CHAPTER. The selling of a Mukatab on his agreement.
جب مکاتب اپنے آپ کو بیچ ڈالنے پر راضی ہو
Sahih Bukhari
45
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
46
Chapter: Clarifying the prohibition of annoying one's neighbor
پڑوسی کوتکلیف پہنچانے کی حرمت
Sahih Muslim
47
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
Sahih Muslim
48
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
Sahih Muslim
50
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

25
Musnad Ahmad
6638
۔ (۶۶۳۸) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَأَذْکُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَہُ، أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِہِ وَکَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَأَنَّکَ کَرِھْتَ قَطْعَہُ؟ قَالَ: ((وَمَا یَمْنَعُنِیْ، لَا تَکُوْنُوْا عَوْنًا لِلشَّیْطَانِ عَلٰی أَخِیْکِمْ، إِنَّہُ یَنْبَغِیْ لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَہٰی إِلَیْہِ حَدٌّ أَنْ یُقِیْمَہُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَفْوٌ یُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ})) (مسند احمد: ۴۱۶۸)
۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمییاد ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرئہ متغیر تھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کون سے مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
Musnad Ahmad
12940
۔ (۱۲۹۴۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَسِیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: ھَاجَتْ رِیْحٌ حَمْرَائُ بِالْکُوْفَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ لَیْسَ لَہٗھِجِّیْرٌ اَلَا یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! جَائَ تِ السَّاعَۃُ قَالَ: وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: اِنَّ السَّاعَۃَ لَاتَقُوْمُ حَتّٰی لَا یُقْسَمَ مِیْرَاثٌ وَلَایُفْرَحَ بِغَنِیْمَۃٍ ، قَالَ: عَدُوًّا یَجْمَعُوْنَ لِاَھْلِ الْاِسْلَامِ وَیَجْمَعُ لَھُمْ اَھْلُ الْاِسْلَامِ وَنَحّٰی بَیَدِہِ نَحْوَ الشَّامِ، قُلْتُ: اَلرُّوْمَ تَعْنِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ: قَالَ: وَیَکُوْنُ عِنْدَ ذَاکُمُ الْقِتَالِ رِدَّۃٌ شَدِیْدَۃٌ قَالَ: فَیَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَاتَرْجِعُ اِلَّاغَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییَحْجُرَ بَیْنَہُمُ اللَّیْلُ فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلَائِ، کُلٌّ غَیْرُغَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ، ثُمَّ یَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَاتَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییَحْجُرَ بَیْنَہُمُ اللَّیْلُ، فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلَائِ، کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ، ثُمَّ یَشْتَرِطُالْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییُمْسُوا فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلاَئِ کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ فَاِذَا کَانَ الْیَوْمُ الرَّابِعُ نَہَدَ اِلَیْہِمْ بَقِیَّۃُ اَھْلِ الْاِسْلَامِ، فَیَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الدَّبْرَۃَ عَلَیْہِمْ، فَیَقْتُلُوْنَ مَقْتَلَۃً اِمَّا قَالَ: لاَ یُرٰی مِثْلُہَا واِمَّا قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَہَا حَتّٰی اَنَّ الطَّائِرَ لَیَمُرُّ بِجَنَبَاتِہِمْ فَمَا یُخْلِفُہُمْ حَتّٰییَخِرَّ مَیِّتًا قَالَ: فَیَتَعَادُّ بَنُو الْاَبِ کَانُوْا مِائَۃً وَلَایَجِدُوْنَہٗ بَقِیَ مِنْہُمْ اِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِاَیِّ غَنِیْمَۃٍیُفْرَحُ اَوْ اَیُّ مِیْرَاثٍیُقَاسَمُ، قَالَ: بَیْنَاھُمْ کَذٰلِکَ اِذَا سَمِعُوا بِبَأسٍ ھُوَ اَکْبَرُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ جَائَھُمُ الصَّرِیْخُ: اِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِیْ ذَرَارِیِّہِمْ فَیَرْفُضُوْنَ مَا فِیْ اَیْدِیْہِمْ وَیَقْبَلُوْنَ فَیَبْعَثُوْنَ عَشَرَۃَ فَوَارِسَ طَلِیْعَۃً، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَسْمَائَھُمْ وَاَسْمَائَ آبَائِہِمْ وَاَلْوَانَ خُیُوْلِھِمْ، ھُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلٰی ظَہْرِ الْاَرْضِ یَوْمَئِذٍ۔)) (مسند احمد: ۴۱۴۶)
اسیر بن جابر سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: کوفہ میں ایک دفعہ سرخ رنگ کی آندھی چلی، ایک عام آدمی، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ قیامت آگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر بیٹھ گئے اور کہا: جب تک میراث تقسیم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کی وجہ سے خوش نہیں ہوا جاتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ دشمنان ِ اسلام، اہل ِ اسلام کے مقابلہ کے لیے اور اہل ِ اسلام ان کے مقابلہ کے لیے جمع ہوں گے، یہ بات کہتے ہوئے انہوںنے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: کیاآپ کی مراد رومی لوگ ہیں؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، اس وقت شدید قسم کی لڑائی ہوگی،مسلمان بھی اس پر موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور مسلمان اور رومی دونوں لوٹ آئیں گے اور ان میں سے کوئی بھی فاتح اور غالب نہیں ہوگا، اس طرح شرط بھی ختم ہو جائے گی، پھر مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اوردونوں اس حال میں واپس ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا اور اس طرح یہ شرط بھی ختم ہو جائے گی، اس بار بھی مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فتح کے ساتھ ہی واپس آنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ شام ہو جائے گی اور دونوں کی واپسی غیر فاتحانہ ہو گی اور شرط ختم ہو جائے گی، جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام بھی دشمن کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان پر شکست کو مسلط کر دے گا، وہ ایسی لڑائی لڑیں گے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہو گی، (اس قدر لاشوںکے پشتے لگ جائیں گے کہ) ایک پرندہ ایک طرف سے اڑے گا اور ابھی تک وہ ختم نہیں ہونے پائیں گے کہ وہ اڑتے اڑتے مر جائے گا، صورتحال یہ ہوگی کہ ایک باپ کے سو بیٹوں کو جب شمار کیا جائے گا تو بچنے والا صرف ایک ہو گا، ان حالات میں کس غنیمت کی خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہوگی؟ لوگ اس قسم کے حالات میں ہوں گے کہ اس سے بڑی ایک خبرسنائی دے گی اور وہ یہ کہ ایک چلّانے والا یوں چلّا رہا ہو گا کہ پیچھے لوگوں کے بچوں میں دجال پہنچ چکا ہے، یہ سن کر وہ تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور اُدھر متوجہ ہو کر دس گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجیں گے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے اور ان کے آباء واجداد کے ناموں اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں تک کو جانتا ہوں، وہ ان دنوں روئے زمین پر موجود تمام گھڑ سواروں سے افضل لوگ ہوں گے۔
Musnad Ahmad
57
۔ (۵۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَجْلِسًا لَہُ فَجَائَ جِبْرِیْلُؑ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی بِالْاِسْلَامِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((الْاِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْہَکَ لِلّٰہِ وَ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ۔))، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ! فَحَدِّثْنِی مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَائِکَۃِ وَ الْکِتَابِ وَ النَّبِیِّیْنَ وَ تُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ تُؤْمِنَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَ الْحِسَابِ وَالْمِیْزَانِ وَ تُوْمِنَ بِالْقَدْرِ کُلِّہِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔))قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْاِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تَرَہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَحَدِّثْنِی مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! فِی خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا ہُوَ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ بِمَعَالِمَ لَہَا دُوْنَ ذَالِکَ۔))، قَالَ: أَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ فَحَدِّثْنِیْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا رَأَیْتَ الْأَمَۃَ وَلَدَتْ رَبَّتَہَا أَوْ رَبَّہَا وَ رَأَیْتَ أَصْحَابَ الشَّائِ تَطَاوَلُوْا بِالْبُنْیَانِ وَ رَأَیْتَ الْحُفَاۃَ الْجِیَاعَ الْعَالَۃَ کَانُوْا رُئُ وْسَ النَّاسِ فَذَالِکَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَۃِ وَ أَشْرَاطِہَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّائِ وَالْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ؟ قَالَ: (( الْعَرَبُ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبرائیلؑآ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کِتَابُ پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعددوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ اعمال کروں گا تو مؤمن ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مؤمن ہو جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا د و کہ احسان کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عرب۔
Musnad Ahmad
75
۔ (۷۵) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الْاِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الْاِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) قَالَہَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۷۱)
۔ (تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا ) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شَق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔
Musnad Ahmad
6376
۔ (۶۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَامُسَاعَاۃَ فِیْ الْاِسْلَامِ، مَنْ سَاعٰی فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَدْ اَلْحَقْتُہُ بِعَصَبَتِہِ وَمَنِ ادَّعٰی وَلَدَہُ مِنْ غَیْرِ رِشْدَۃٍ فَلَایَرِثُ وَ لَایُوْرَثُ۔)) (مسند احمد: ۳۴۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔
Musnad Ahmad
8538
۔ (۸۵۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اِرْتَدَّ عَنِ الْاِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِیْنَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [آل عمران: ۸۶]، فَبَعَثَ بِہَا قَوْمُہٗفَرَجَعَتَائِبًا،فَقَبِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذٰلِکَ مِنْہُ وَخَلّٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاء َھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔}… اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔
Musnad Ahmad
8982
۔ (۸۹۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا جَائَ ہُ فَقَالَ: اَوْصِنِیْ، فَقَالَ: سَاَلْتَ عَمَّا سَاَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ قَبْلِکَ، اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہٗرَاْسُکُلِّشَیْئٍ، وَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہُ رَھْبَانِیَّۃُ الْاِسْلَامِ، وَعَلَیْکَ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَتَلاوَۃِ الْقُرْآنِ فَاِنَّہُ رَوْحُکَ فِی الْسَّمَائِ وَذِکْرُکَ فِی الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تھا (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہیہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
Musnad Ahmad
9164
۔ (۹۱۶۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسٍ فِیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَاَبِی سَمُرَۃُ جَالِسٌ اَمَامِی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَیْسَا مِنَ الْاِسْلَامِ، وَاِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ اِسْلَامًا، اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۲۰)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے اور میرے باپ سمرہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
Musnad Ahmad
9263
۔ (۹۲۶۳)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلَامِ، وَکاَنَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی زندگی بقدر ضرورت روزی پر مشتمل ہو اور وہ قناعت کرے۔