TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طلاق کا بیان - طلاق کا بیان - Book 123 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 123 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 25 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

25 Hadith · 8 Chapters
غلام کی طلاق کا بیان
۔ (۷۱۶۷)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ اَنَّ اَبَا حَسَنٍ مَوْلٰی اَبِیْ نَوْفَلٍ اَخْبَرَہُ اَنَّہُ اسْتَفْتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فِیْ مَمْلُوْکٍ تَحْتَہُ مَمْلُوْکَۃٌ فَطَلَّقَھَا تَطْلِیْقَتَیْنِ ثُمَّ عُتِقَا ھَلْ یَصْلَحُ لَہُ اَنْ یَخْطُبَھَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَضٰی بِذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱)
۔ ابو حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ ایک غلام ہے، اس کی بیوی بھی لونڈی ہے، وہ اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ دونوں آزاد ہو جاتے ہیں توکیا اب اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو منگنی کا پیغام بھیجے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا:ہاں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن معتب، قال احمد: لا اعرفہ، وذکرہ النسائی فی الضعفائ، وقال: لیس بالقوی، أخرجہ ابوداود: ۲۱۸۷، والنسائی: ۶/ ۱۵۴(انظر: ۲۰۳۱)
7167
Zaeef
غلام کی طلاق کا بیان
۔ (۷۱۶۸)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ مَوْلٰی بَنِیْ نَوْفَلٍ یَعْنِی اَبَا الْحَسَنِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ عَبْدٍ طَلَّقَ اِمْرَاَتَہُ بِطَلِقَتَیْنِ ثُمَّ عُتِقَا اَیَتَزَوَّجُہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ عَمَّنْ؟ قَالَ: افْتٰی بِذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) قَالَ اَبِیْ: قِیْلَ لِمَعْمَرٍ یَا اَبَا عُرْوَۃَ! مَنْ اَبُوْ حَسَنٍ ھٰذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَۃً عَظِیْمَۃً۔ (مسند احمد: ۳۰۸۸)
۔ (دوسری سند) ابو حسن سے ہی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا، جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہوں، پھر وہ دونوں آزاد ہو جائیں،تو کیاوہ اس لونڈی کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کسی نے کہا: تم یہ کس سے بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی چیز کا فتویٰ دیا تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں:میرے باپ اما م احمد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: معمر سے پوچھا گیا: یہ ابو حسن کون ہے؟ اس نے ایک بڑی بھاری چٹان اٹھائی ہے (یعنی بے بنیاد سی بات کی ہے)۔
Takhreej
(۷۱۶۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یَنْکِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَیْنِ وَیُطَلِّقُ تَطْلِیْقَتَیْنِ۔ … غلام دو عورتوں سے طلاق کر سکتا ہے اور دو طلاقیں دے سکتا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۲۰۶۷، دارقطنی: ۲/ ۲۴۲، بیہقی: ۷/ ۴۲۵)
7168
Zaeef
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
۔ (۷۱۶۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ، عَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰی یَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوْہِ حَتّٰی یَعْقِلَ))۔ (مسند احمد: ۲۵۲۰۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاـ: تین قسم کے افراد مرفوع القلم ہیں(یعنی گناہ کی سزا سے بری ہیں): ایک نابالغ بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، دوسرا سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے اور تیسرا پاگل شخص، جب تک اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو جائے۔
Takhreej
(۷۱۶۹) اسنادہ جید، أخرجہ ابوداود: ۴۳۹۸، والنسائی: ۶/ ۱۵۶، وابن ماجہ: ۲۰۴۱، (انظر: ۲۴۶۹۴)
Explanation
فوائد:…امام ابن حبان نے کہا: مرفوع القلم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے واقع ہونے والا شرّ نہیں لکھا جاتا، نہ کہ خیر (یعنی اگر بچہ اور پاگل نیکی کاکام کریں تو ان کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے)۔
7169
Sahih
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
۔ (۷۱۷۰)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُجُوِّزَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ) لِاُمَّتِیْ عَمَّا حَدَّثَتْ فِیْ اَنْفُسِہَا اَوْ وَسْوَسَتْ بِہِ اَنْفُسُہَا مَالَمْ تَعْمَلْ بِہِ اَوْ تَکَلَّمْ بِہِ))۔ (مسند احمد: ۷۴۶۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔
Takhreej
(۷۱۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۲۸، ۶۶۶۴، و مسلم: ۱۲۷ (انظر: ۷۴۷۰)
Explanation
فوائد:…اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر طلاق کا وسوسہ یا خیال پیدا ہو جائے، لیکن اس کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو وہ واقع نہیں ہو گی۔
7170
Sahih
بیوی کو میراث سے محروم کرنے والے، مریض اور مذاق سے طلاق دینے والا کا بیان
۔ (۷۱۷۱)۔عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا۔)) فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَہْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَائَہُ وَقَسَّمَ مَالَہُ بَیْنَ بَنِیْہِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ، فقَالَ: اِنِّیْ لَأَظُنُّ الشَّیْطَانَ فِیْمَا یَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِکَ فَقَذَفَہُ فِیْ نَفْسِکَ وَلَعَلَّکَ أَنْ لَاتَمْکُثَ اِلَّا قَلِیْلًا، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَائَکَ وَلَتَرْجِعْنَ فِیْ مَالِکَ أَوْ لَاُوَرِّثُہُنَّ مِنْکَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبَرِکَ فَیُرْجَمُ کَمَا رُجِمَ قَبْرُ اَبِیْ رِغَالٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ںتھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۷۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۱۲۸، وابن ماجہ: ۱۹۵۳ (انظر: ۴۶۳۱)
7171
Sahih