۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بنوعجلان کی ایک انصاری خاتون سے شادی کی، وہ اس کے پاس گیا اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اس عورت کو کنوارا نہیں پایا، جب ان دونوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا، اس لڑکی نے جوابا کہا: میں تو کنواری ہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو حق مہر بھی دلوایا۔
Takhreej
(۷۲۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لتدلیس محمد بن اسحاق، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۷۰ (انظر: ۲۳۶۷)
Explanation
فوائد:…پردۂ بکارت کے پھٹ جانے کی بنا پر نہ لعان درست ہے اور نہ اس وجہ سے برائی کی تہمت لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ پردہ بدکاری کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی متأثر ہو سکتا ہے۔
7205
Zaeef