TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے - علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے - طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے جہاں بیماری پیدا کی ہے، وہاں اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، پس علاج کیا کرو۔
Takhreej
(۷۶۲۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۱(انظر: ۱۲۵۹۶)
7621
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کا علاج ہے، جب دواء بیماری کے مطابق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کے حکم سے مریض صحت مند ہو جا تا ہے۔
Takhreej
(۷۶۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۴(انظر: ۱۴۵۹۷)
7622
Sahih
۔
۔ اسامہ بن شریک اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ بہتر اخلاق والا ہو۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج معالجہ کروا سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل علاج کروائو، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی ہے، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے اور شفاء بھی پیدا کی ہے، اسے جان لیا جس نے جان لیا اور اس سے بے خبر رہا ہے، جو بے خبر رہا ہے۔
Takhreej
(۷۶۲۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۵، وابن ماجہ: ۳۴۳۶، والترمذی: ۲۰۳۸ (انظر: ۱۸۴۵۶)
7623
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) شعبہ، زیاد بن علاقہ سے اور وہ سیدنا اسامہ بن شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ کے صحابۂ کرام بھی موجود تھے، وہ ایسے باادب بیٹھے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا اور وہاں بیٹھ گیا، ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج کروا سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں! علاج کرواؤ یا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، صرف بڑھاپے کا (اور ایک روایت کے مطابق موت کا بھی) کوئی علاج نہیں۔ جب سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بوڑھے ہو گئے تو وہ کہتے تھے: کیا اب تم میرا علاج کر سکتے ہو۔اس کے علاوہ دیہاتیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ فلاںفلاں چیز میں کوئی حرج ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے دین میں حرج رکھی ہی نہیں، مگر اس معاملہ میں حرج ہے جو مسلمان ظلم کرتا ہے، یہ حرج ہے، یہ ہلاکت ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے بہتر کیا چیز ہے، جو لوگوں کو عطا کی گئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔
Takhreej
(۷۶۲۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7624
Sahih
۔
۔ ایک صحابی سے سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ایک آدمی کی عیادت کی، جسے زخم لگا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو فلاں کا حکیم بلا کر لائو۔ لوگوں نے اس کو بلایا اور وہ آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اے اللہ کے رسول! کیا دوا کام آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! زمین میں جو بیماری بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاء بھی پیدا کی ہے۔
Takhreej
(۷۶۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۱(انظر: ۲۳۱۵۶)
7625
Sahih
۔
۔ عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الرحمن کے پاس آیا، وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے، میں نے کہا: تم اسے داغتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں یہ عرب والوں کا طریقۂ علاج ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کے ساتھ اس کی دواء بھی نازل کی ہے، تم میں سے جو آدمی اس سے نادان رہا ہے، وہ نادان رہا ہے اور جس نے اسے جان لیا ہے، سو اس نے جان لیا۔
Takhreej
(۷۶۲۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الحمیدی: ۹۰، والبیھقی: ۹/ ۳۴۳، وابن حبان: ۶۰۶۲، وابویعلی: ۵۱۸۳ (انظر: ۴۲۶۷)
Explanation
فوائد:… جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و دانائی کے تقاضے کے مطابق مختلف قسم کی بیماریاں نازل کی ہیں، وہاں اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے ان کے علاج کے اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں۔ عصرِ حاضر میں مختلف بیماریوں کے مختلف قسم کے علاج کی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں، جو سکون دہ بھی ہیں اور شافی بھی۔
7626
Sahih
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داغنے کے بجائے کپڑے سے سینکنا بہتر ہے، گلے میں انگلی مارکر دوائی لگانے کی بجائے ناک میں قطرہ ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے اور اب گلے میں پھونکیں مارنے کی بہ نسبت منہ کی ایک جانب سے دوائی ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے۔
Takhreej
(۷۶۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع من عائشۃ، ومغیرۃ الضبی روایتہ عن ابراہیم ضعیفۃ (انظر: ۲۵۳۷۱)
Explanation
فوائد:… کپڑنے سے سینکنے سے مراد یہ ہے کہ کپڑے کو گرم کر کے زخم پر رکھا جائے اور یہ عمل بار بار دوہرایا جائے۔
7627
Zaeef
۔
۔ ابو خذامہ، جو بنو حارث بن سعد بن مریم میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیں کہ ایک دوا کے ذریعہ ہم علاج کرواتے ہیں اور دم کے ذریعے دم کرواتے ہیں اوربچائو کے ذریعہ سے ہم بچائو اختیار کرتے ہیں (یعنی احتیاط کر لیتے ہیں، کیا یہ امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو ردّ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالی کی تقدیر کاحصہ ہیں۔
Takhreej
(۷۶۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۸، وابن ماجہ: ۳۴۳۷(انظر: ۱۵۴۷۲)
Explanation
فوائد:… کسی بیماری کا علاج کرنے یا کروانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، بیماری اللہ تعالی کی آزمائش ہے، ہمیشہ اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، اور اگر آدمی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا علاج کرے، ممکن ہے کہ شفا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شفا نہ ہو۔
7628
Zaeef