TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان - سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان - طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 24 Hadith
۔
۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقائوں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔
Takhreej
(۷۶۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۶، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۲۸۸۳)
Explanation
فوائد:… سینگی لگوانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قولی اور فعلی سنت ہے، اس سے جسم کا خراب اور فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم کو راحت ملتی ہے اورخون صاف ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، دوبارہ اس کا احیاء ہونا چاہئے۔
7645
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور ٹخنوں کے درمیان سینگی لگوائی۔
Takhreej
(۷۶۴۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی فی الشمائل : ۳۵۵، والطبرانی: ۱۲۵۸۴ (انظر: ۲۰۹۱)
7646
Sahih
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا سترہ انیس اکیس مہینہ کی جوتاریخ ہے یہ ایام سینگی لگوانے کے لیے نہایت موزوں اور بہتر ہیں اور فرمایا معراج کی رات جب مجھے لے جایا گیا تو میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا ہوں انہوں نے یہی کہا کہ اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! سینگی کو لازم پکڑو۔
Takhreej
(۷۶۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عباد بن منصور الناجی ضعیف، وقد دلّس ھذا الخبر فأسقط من اسنادہ اثنین من الرواۃ، أخرجہ الترمذی: ۲۰۵۳، وأخرج القطعۃ الثانیۃ ابن ماجہ: ۳۴۷۷ (انظر: ۳۳۱۶)
Explanation
فوائد:… لیکن سینگی لگواتے وقت چاند کی ان تاریخوں کا خیال رکھنا درست ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے:
7647
Zaeef
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم علاج کرتے ہو، اس میں سے بہترین ذریعۂ علاج وہ ہے جو تم سینگی لگوا کر اورعود ہندی استعمال کرکے کرتے ہو اور اپنے بچوں کو گلے میں انگلی مار کر تکلیف نہ پہنچائو۔
Takhreej
(۷۶۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۲۰۴۵)
Explanation
فوائد:… اگر بچے کے حلق کا کوا اتر جائے تو اسے انگلی سے چوکا دے کر اپنی جگہ پر نہ لایا جائے، کیونکہ اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی دوا دے کر اس کا علاج کر لیا جائے۔
7648
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان یعنی کمر کے اوپر والے حصے پر سینگی لگوائی۔
Takhreej
(۷۶۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۰، وابن ماجہ: ۳۴۸۳، والترمذی: ۲۰۵۱(انظر: ۱۲۱۹۱)
7649
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین جگہ پر سینگی لگواتے تھے، کندھو کے درمیان اور گردن کے دونوں جانبوں والی دور رگوں پر۔
Takhreej
(۷۶۵۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
7650
Sahih
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم علاج کرتے ہو، اس میں سے اگر کوئی بہترین طریقۂ علاج ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۷، وابن ماجہ: ۳۴۷۶ (انظر: ۸۵۱۳)
7651
Sahih
۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۱۲۱۶، والطبرانی فی الکبیر : ۶۷۸۵، والحاکم: ۴/ ۲۰۸، والنسائی فی الکبری : ۷۵۹۶ (انظر: ۲۰۰۹۶)
7652
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مقنع کی تیمار داری کی اور اس سے کہا: میں اس وقت تک نہیں جائوں گا، جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا،کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سینگی لگوانے سے شفا حاصل ہوتی ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۷، ومسلم: ۲۲۰۵(انظر: ۱۴۵۹۸)
7653
Sahih
۔
۔ سیدہ سلمیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جس نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سردرد کی شکایت کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا کہ سینگی لگائو۔ اور جس نے بھی پائوں میں درد کی شکایت کی ہے، آپ نے اسے مہندی کا لیپ کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۷۶۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۸ (انظر: ۲۷۶۱۷)
7654
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائے، یہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رضاعی بھائی تھا یا یہ ابھی نابالغ بچے تھا۔
Takhreej
(۷۶۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۶(انظر: ۱۴۷۷۵)
Explanation
فوائد:… درج بالا اور دیگر کئی احادیث میں سینگی لگانے کا حکم اور ترغیب دلائی گئی ہے۔
7655
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے علاج کے طریقوں میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں ہے یا آگ سے داغ دینے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو، البتہ میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۷۶۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۸۳، ۵۷۰۲، ومسلم: ۲۲۰۵ (انظر: ۱۴۷۰۱)
7656
Sahih
۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔
Takhreej
(۷۶۵۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۷۶۵، والطبران فی الاوسط : ۹۳۳۵ (انظر: ۱۷۳۱۵)
7657
Sahih
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔
Takhreej
(۷۶۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۸۰، ۵۶۸۱ (انظر: ۲۲۰۸)
Explanation
فوائد:… ظاہری طور پر یہ روایت موقوف ہے، لیکن آخری جملہ دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع روایت ہے، بہرحال صحیح بخاری اور سنن ابن ماجہ میں یہ پوری روایت مرفوع ثابت ہے۔
7658
Sahih
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ کے پائوں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں تھے۔
Takhreej
(۷۶۵۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۴/ ۳۲۰، والحاکم: ۴/ ۴۱۶، وابن حبان: ۶۰۸۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۲۷۵ (انظر: ۴۰۵۴)
7659
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔
Takhreej
(۷۶۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۱۹ (انظر: ۱۲۴۱۶)
7660
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے بازو کی رگ پر تیر لگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ان کے بازو پر داغا جائے۔
Takhreej
(۷۶۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۷(انظر: ۱۴۲۵۲)
7661
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا، جس نے ان کی رگ کو کاٹ کر اس کو داغ دیا،ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔
Takhreej
(۷۶۶۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7662
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ ان کو داغا، پھر جب اس پر ورم آ گیا تو آپ نے دوسری بار داغا۔
Takhreej
(۷۶۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۸(انظر: ۱۴۳۴۳)
7663
Sahih
۔
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حلق کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا اور فرمایا: میں اپنے دل میں سعد یا اسعد بن زرراہ کے بارے میں کوئی حرج نہیں چھوڑنا چاہتا۔
Takhreej
(۷۶۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو الزبیر المکی مدلس وقد عنعن (انظر: ۱۶۶۱۸)
7664
Zaeef