TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان - وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 9 · 5 Hadith
۔ (۶۹۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَکَ عَلٰی قَدَمِہِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۱۵)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔
693
Sahih
۔ (۶۹۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ، فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: (( اِرْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۶۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۳ (انظر: ۱۳۴)
694
Sahih
۔ (۶۹۵)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ وَفِیْ ظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ قَدْرُ الدِّرْہَمِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُعِیْدَ الْوُضُوئَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۶)
خالد بن معدان ایک صحابیِ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔
Takhreej
(۶۹۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۵ (انظر: ۱۵۴۹۵)
Explanation
فوائد:… وضو میں موالاۃ ضروری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو لگاتار اور پے در پے دھویا جائے۔ اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جب آدمی وضو سے فارغ ہو تو اس کے سارے اعضا گیلے ہونے چاہئیں، یہ درست نہیں ہے کہ بیچ میں اتنا وقفہ ڈال دیا جائے کہ جب آدمی پاؤں دھونے سے فارغ ہو تو اس کا چہرہ خشک ہو چکا ہو۔ مذکورہ بالا احادیث کی یہی فقہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس بنا پر دیا کہ متعلقہ صحابی کے اعضا خشک ہو چکے تھے۔ اگر بندے کو اس حال میں کسی عضو کے خشک رہ جانے کا پتہ چلے کہ سارے اعضائے وضو ابھی تک تر ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً خشک جگہ کو تر کر دے، ایسی صورت میں دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درج ذیل دو احادیث سے بھی اس اجتہاد کا استدلال کرنا ممکن ہے: (۱)غسل جنابت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا غسل کے آخر میں پاؤں دھو کر وضو مکمل کرنا اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
695
Sahih
۔ (۶۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ رَوْحِ نِ الْکَلَاعِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّوْمِ فَتَرَدَّدَ فِیْ آیَۃٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّہُ یُلَبَّسُ عَلَیْنَا الْقُرآنُ، اِنَّ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا لَا یُحْسِنُوْنَ الْوُضُوئَ، فَمَنْ شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا فَلْیُحْسِنِ الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۹)
سیدنا ابو روح کلاعی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تردّد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہٰذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔
Takhreej
(۶۹۶) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۵۶(انظر: ۱۵۸۷۴)
696
Sahih
۔ (۶۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔وَفِیْہِ: ((اِنَّمَا لَبَّسَ عَلَیْنَا الشَّیْطَانُ الْقِرَائَ ۃَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ یَأتُونَ الصَّلٰوۃَ بِغَیْرِ وُضُوئٍ، فَاِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: شیطان اس وجہ سے ہم پر قراء ت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔
Takhreej
(۶۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… چونکہ عہد ِ نبوی میں پانی کی بہت کمی تھی، اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جانا ممکن تھا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے بعض مقتدیوں کی اس سستی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس سے ان لوگوں کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لے لینا چاہیے، جن کے آگے پیچھے برے لوگ بسیرا کرتے ہیں اور وہ ہر وقت گپوں اور اول فول بکنے میں مصروف رہتے ہیں، اگر کسی کا مقصد ایمان کی سلامتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بدوں سے دور ہو جائے اور نیکوں کے قریب ہو جائے۔
697
Sahih