مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان - مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 9 of پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
فوائد:… جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو سیدہ عائشہ ؓکی طرف اپنے سر مبارک کو جھکاتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر دھوتیں اور کنگھی کرتیں تھیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہی ہوتے تھے، یہ حدیث آ گے آ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح ہی وضو کر لیا، بہرحال وضو کرنے والے کے اعضاء سے گرنے والا پانی پاک ہوتا ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے کا ارادہ کرتے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت سے ہوتے، تو نماز والا وضو کرتے تھے۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سوتے تھے۔
Takhreej
(۷۲۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ہم میں سے کوئی آدمی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَنَامُ، وَیَتَوَضَّأُ اِنْ شَائَ۔)) … جی ہاں، وہ سو سکتا ہے، البتہ اگر وہ چاہے تو وضو کر لے۔ (صحیح ابن خزیمہ: ۱/ ۱۰۶، صحیح ابن حبان: ۴/۱۵) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنبی کے لیے سونے سے پہلے وضو کرنا مستحب ہے، جمہور اہل علم کی بھی یہی رائے ہے۔
سیدنا براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤتو وضو کرو، اپنے دائیں پہلو پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ…۔
فوائد:… پوری دعا کے ساتھ پوری حدیث یوں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آپ سونے لگیں تو وضوء کریں اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا پڑھیں‘ اگر آپ اسی رات کو فوت ہو گئے تو فطرت (دین اسلام) پر فوت ہوں گے اور اگر زندہ رہے تو (اس دعا کی وجہ سے) خیر وبھلائی کو پا لیں گے: اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔… (اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) یہ دعا سب سے آخرمیں پڑھنی ہے۔ (بخاری‘ مسلم) ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَاتَ طَاہِراً بَاتَ فِی شِعَارِہِ مَلَکٌ، لَایَسْتَیْقِظُ سَاعَۃً مِنَ اللَّیْلِ إِلاَّ قَالَ الْمَلَکُ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِکَ فُـلَانٍ، فَإِنَّہُ بَاتَ طَاہِراً۔)) … جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے (یعنی وضو کر کے سوتا ہے)، ایک فرشتہ اس کے تحتانی لباس میں رات گزارتا ہے، جب بھی وہ بندہ رات کی کسی گھڑی میں بیدار ہوتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے فلاں بندے کو بخش دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری۔ (ابن حبان: ۱۶۷، صحیحہ: ۲۵۳۹) یہ نیک اعمال کی برکات ہیں کہ سو جانے کے بعد وضو تو برقرار نہیں رہتا، لیکن اس کے اچھے اثرات باقی رہتے ہیں، سونے سے پہلے وضو کر لینا فضیلت والا عمل ہے۔