TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان - ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 9 · 6 Hadith
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Takhreej
(۷۱۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸(انظر: ۲۱۹۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا واجب تھا، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امت کا شروع سے ایک ہی حکم تھاکہ ایک وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھی جا سکتی تھیں، بہرحال نیا وضو کر لینا فضیلت والا عمل ہے۔
715
Sahih
۔ (۷۱۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنْتُمْ کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ۔ (مسند أحمد:۱۲۳۷۱)
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ میں (عمرو بن عامر) نے کہا: اور تم صحابہ لوگ کیسے کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب تک ہم بے وضو نہ ہوجاتے تھے، اس وقت تک ایک ہی وضو سے نمازیں پڑھتے رہتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۴ (انظر: ۱۲۳۴۶)
716
Sahih
۔ (۷۱۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ یَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اِنَّکَ صَنَعْتَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ؟ قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۵۴)
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ والے دن ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں ادا کیں، سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کہا: آج آپ نے ایسا عمل کیا ہے جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔
Takhreej
(۷۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۷(انظر: ۲۲۹۶۶)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ سے پہلے غزوۂ خیبر کے موقع پر بھی ایک وضو سے ایک سے زائد فرضی نمازیں ادا کی تھیں، سیدنا سوید بن نعمان ؓنے یہ حدیث بیان کی، ممکن ہے کہ سیدنا عمرؓ کو اس صورت کا علم نہ ہو سکا ہو۔
717
Sahih
۔ (۷۱۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَؓأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَہُ بِکُوْزٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا یَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَائٌ تَوَضَّأْ بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَالِکَ کَانَتْ سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۵۰)
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
Takhreej
(۷۱۸) اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن یحییٰ الضبی۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲،وابن ماجہ: ۳۲۷ (انظر: ۲۴۶۴۳)
Explanation
فوائد:… لیکن یہ بات درست ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر وقت باوضو رہنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے خارج ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کھانا پیش کر دیا گیا، لوگوں نے کہا کہ کیا ہم وضو کا پانی لے آئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِنَّمَا اُمِرْتُ بِالْوُضُوْئِ اِذَا قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) … مجھے صرف وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نماز ادا کرنے لگوں۔
718
Zaeef
۔ (۷۱۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا فِیْ رِوَایَۃٍ أُخْرٰی، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ تَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۷۶)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۴ (انظر: ۲۵۵۶۱)
719
Sahih
۔ (۷۲۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِی لَأَمَرْتُہُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوئٍ وَمَعَ کُلِّ وُضُوئٍ بِسِوَاکٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الآخِرَۃَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے، ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دے دیتا۔
Takhreej
(۷۲۰) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الترمذی بذکر السواک فقط: ۲۲(انظر: ۷۵۱۳)
Explanation
فوائد:… ہمارے حق میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، البتہ باوضو ہونے کے باوجود ہر نماز کے لیے از سرِ نو وضو کر لینا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے، نیا وضو کرنے سے نماز کے حسن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
720
Sahih