TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Book 144 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 144 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 55 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

55 Hadith · 10 Chapters
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: ذُکِرَ لَہَا أَ نَّ نَاسًا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّۃً أَ وْ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وْا وَلَمْ یَقْرَئُ وْا، کُنْتُ أَ قُومُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ التَّمَامِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ اللَّیْلَۃَ التَّمَامَ) فَکَانَ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ، فَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ، وَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۱۶)
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔
Takhreej
(۸۳۶۶) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۳۱۰ (انظر: ۲۴۶۰۹)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَ خْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَ تْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَ بُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکٰی لَنَا اِبْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
8366
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۷)۔ عَنِ ابْنِ أَ بِی مُلَیْکَۃَ أَ نَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَ عْلَمُہَا إِلَّا حَفْصَۃَ سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیقُونَہَا قَالَتْ: {اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ} تَعْنِی التَّرْتِیلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۸۳)
۔ امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۳۶۷) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۶۴۵۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} (سورۂ مزمل: ۴) … قرآن مجید کو صاف صاف اور عمدہ طریقہ پر پڑھا کرو۔
8367
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۸)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہٗمَدًّا،وَفِیْ لَفْظٍ: کَانْتَ قِرَائَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَدًّا یَمُدُّ بِہَا مَدًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔
Takhreej
(۸۳۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۴۵ (انظر: ۱۲۱۹۸)
Explanation
فوائد:… فَرَجَّعَ : بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمانا، اس سے ایک خاص قسم کا حسن اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔
8368
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ یَقُولُ: قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ فِی مَسِیرِہِ سُورَۃَ الْفَتْحِ عَلَی رَاحِلَتِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً: نَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ وَہُوَ فِی مَسِیرٍ لَہُ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ، قَالَ: فَرَجَّعَ فِیہَا قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَوْلَا أَ نْ أَ کْرَہَ أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۶)
۔ سیدنا معاویہ بن قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیںیہ اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں ابن جابان نے کہا آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۸۳۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۴۰، ومسلم: ۷۹۴ (انظر: ۲۰۵۴۲)
Explanation
فوائد:… آہ آہ کے الفاظ صحیح بخاری میںیوں ہیں: آء آء آئ۔یہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ آواز کو گلے میں گھمانے کا انداز ہے، تجوید کا ماہر آدمی عملی طور پر آپ کو بتا سکتا ہے۔
8369
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۷۰)۔ حَدَّثَنَا شَبَّابَۃُ وَاَبُوْ طَالِبٍ بْنُ جَابَانَ الْقَارِیُّ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، قَالَ ابْنُ جَابَانَ فِیْ حَدِیْثِہٖ: آہ آہ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔
Takhreej
(۸۳۷۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
8370
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقْرَأُیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، فَلَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَرَأَ سُورَۃَ الْفَتْحِ، قَالَ یَعْنِیْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ قُرَّۃَ : لَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مُغَفَّلٍ کَیْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ بَہْزٌ: وَغُنْدَرٌ قَالَ: فَرَجَّعَ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۱۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح تک ایک آیت ہی دہراتے رہے۔
Takhreej
(۸۳۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۲۸۱، ۴۸۳۵، ۵۰۳۴، ومسلم: ۷۹۴(انظر: ۱۶۷۸۹)
Explanation
فوائد:… مذکورہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدۃ: ۱۱۸]آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پورے قیام میں یہی آیت پڑھتے رہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے عجیب انداز میں عاجزی کا اظہار کیا گیا ہے۔
8371
Sahih
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
۔ (۸۳۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّدَ آیَۃً حَتّٰی اَصْبَحَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور ہر رات کو قرآن مجید کی تکمیل کرتا تھا،جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ جب تو لمبی عمر پائے گا تو تو اکتا جائے گا، اس لیے ایک مہینہ میں ایک دفعہ قرآن مکمل کر لیا کر۔ لیکن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیس دن میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے استفادہ کرنے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کیا، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سات دن میں قرآن ختم کرلیا کر، لیکن اس سے کم دنوںمیں نہیں۔
Takhreej
(۸۳۷۲) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۱۵۹۳ /۲)
8372
Sahih
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
۔ (۸۳۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِہِ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنِّی أَ خْشٰی أَ نْ یَطُولَ عَلَیْکَ زَمَانٌ أَ نْ تَمَلَّ، اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی، أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اقْرَأْہُ فِی کُلِّ عِشْرِینَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ عَشْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ سَبْعٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی فَأَ بٰی۔ زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاقْرَئْ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِیْدَنَّ)) (مسند احمد: ۶۵۱۶)
۔ (دوسری سند )سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو فرمایا ہر ماہ میں ختم کرو میں نے کہا مجھے زیادہ قوت ہے پچیس دنوں میں پڑھ لو میں نے کہا مجھ میں زیادہ قوت ہے کہا بیس دن میں پڑھ لو، میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔
Takhreej
(۸۳۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۸۰، ومسلم: ۱۱۵۹ (انظر: ۶۵۱۶)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے چالیس دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کرنے کا حکم دیا، اس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر چالیس دنوں میں کم از کم ایک بار قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنی چاہیے۔ جیسا کہ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں: ((وَلَانُحِبُّ لِلرَّجُلِ اَنْ یَاْتِیَ عَلَیْہِ اَکْثَرُ مِنْ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا وَلَمْ یَقْرَأِ الْقُرْآنَ بِھٰذَ الْحَدِیْثِ۔)) ہم اس حدیث کی روشنی میں کسی آدمی کے لیےیہ پسند نہیں کرتے کہ چالیس دن گزر جائیں اور اس نے مکمل قرآن مجید کی تلاوت نہ کی ہو۔ (ترمذی) امام احمد، امام اسحق بن راہویہ اور امام ابوعبید وغیرہ کا یہی خیال ہے کہ تین دنوں سے پہلے قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، لیکن کئی سلف صالحین سے اس سے کم مدت میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنا ثابت ہے۔ امام نووی نے کہا: راجح بات یہ ہے کہ اس میں شخصیات کا اعتبار کیا جائے گا، جو آدمی قرآن مجید کو سمجھتا ہواور دورانِ تلاوت اس پر غور و فکر کرتا ہو، اسی طرح جو آدمی حصولِ علم اور دین کے دوسرے اہم امور اور مسلمانوں کی عام مصلحتوں میں مصروف ہو، اس کے لیے مستحبّ یہ ہے کہ وہ اتنی تلاوت کر لیا کرے، جس میں غور و فکر اور تدبر برقرار ہے اور اس کے کام میں بھی حرج نہ ہو، لیکن جس آدمی کے ایسے مشاغل نہ ہوں، اس کو حسب ِ امکان کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے، بس ایک چیز کا خیال رکھے کہ اتنی زیادہ تلاوت نہ کرے کہ اکتا جائے۔ بہرحال ہمارا نظریہیہ ہے کہ تین دنوں سے کم مدت میں قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بڑی رغبت کے ساتھ عبادت کرنے والے تھے، وہ ہر رات کو قرآن مجید مکمل کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے دنوں کی حد مقرر کی توا نھوں نے آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اصرار کے ساتھ مزید دن کم کرنے کی درخواست بھی کی تھی، اس کے باوجود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فرمایا کہ جو آدمی اس کتاب کو تین دنوں سے کم مدت میںپڑھ لے گا، وہ اس کو نہیں سمجھے گا۔ جہاں اس حدیث میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل کے لیے مدت کا تعین کر دیا ہے، وہاں تین ایام سے کم ختم کرنے کی وجہ سے اس چیز کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تلاوت ِ قرآن سے مقصود قرآن فہمی ہے۔ لیکن عصر حاضر میںبالخصوص عجموں میں فہمِ قرآن کا جنازہ اٹھ چکا ہے، ہر بندہ خود بھی بغیر سوچے سمجھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے اور اپنی اولاد کو اسی انداز کا عادی بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید ایسے سنہری قوانین و ضوابط کا مجموعہ ہے، جن کی روشنی میں زندگی کو بہترین سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے اور قوانین کو بغیر سوچے سمجھے پڑھا نہیں جاتا، بلکہ ان کو سمجھ کر ان پر عمل کیا جاتا ہے۔قرآن مجید کو تین ایام سے کم مدت میں ختم کرنے سے اس لیے روکا گیا کہ قاری بغیر سمجھے تلاوت کرتا جائے گا، لیکن افسوس کہ ہم تین نہیں، تیسیا تین سو دنوں میں بھی ختم کر لیں، پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتا۔
8373
Sahih
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
۔ (۸۳۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَہٗفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اِبْنِیْ ھٰذَا یَقْرَئُ الْمُصْحَفَ بِالنَّہَارِ وَیَبِیْتُ بِاللَّیْلِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَنْقِمُ اَنَّ ابْنَکَ یَظَلُّ ذَاکِرًا وَیَبِیْتُ سَالِمًا)) (مسند احمد: ۶۶۱۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی اپنا بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا دن میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ بات پسند نہیںکرتا کہ تیرا بیٹا دن کو ذکر کرتا ہے اور رات کو سلامتی کے ساتھ سو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، وحییِّ بن عبد اللہ المعافری (انظر: ۶۶۱۴)
8374
Zaeef
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
۔ (۸۳۷۵)۔ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْیَانَ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَؤُا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُکُمْ، فَاِنِ اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۲)
۔ سیدنا جندب بن سفیان بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل (غور و فکر اور شوق کے ساتھ) مانوس رہیں، اس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کرو اور جب اکتاہٹ اور بوریت ہو جائے تو (تلاوت روک کر) کھڑے ہو جاؤ۔
Takhreej
(۸۳۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۶۱، ۷۳۶۴، ومسلم: ۲۶۶۷ (انظر: ۱۸۸۱۶)
Explanation
فوائد:… یعنی جب تک دل قرآن مجید کی طرف متوجہ رہے اور کلی طور پر اس کی قراء ت سے متفق رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت نیک لوگوں کا مشغلہ ہے، اس باب میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کی حد مقرر کی گئی ہے، بہرحال کم از کم تیس چالیس دنوں میں ا یک بار مکمل قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تین ایام میں، تلاوت کرتے وقت پورے شوق اور رغبت سے الفاظ پر توجہ کرنی چاہیے، اکتاہت اور بوریت کی صورت میں تلاوت بند کر لینی چاہیے۔
8375
Sahih
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
۔ (۸۳۷۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَرَاَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِیْ الدَّارِ دَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَاِذَا ضَبَابَۃٌ اَوْ سَحَابَۃٌ قَدْ غَشِیَتْہُ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَاْ فَلَانُ! فَاِنَّہَا السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ اَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔
Takhreej
(۸۳۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۱۴، ومسلم: ۷۹۵ (انظر: ۱۸۴۷۴)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: سکینت کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، راجح معنییہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہے اور اس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
8376
Sahih
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
۔ (۸۳۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَیَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَ نَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَ قْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَ ہُ فَرَأَ یْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَ رَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَ صْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ بھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے گا، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔
Takhreej
(۸۳۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۹۶، وعلقہ البخاری: ۵۰۱۸ بصیغۃ الجزم (انظر: ۱۱۷۶۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
8377
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ وَعُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَشَّرَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہٗاَنْیَقْرَئَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا اُنْزِلَ، فَلْیَقْرَئْ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۳۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے انہیںیہ خوشخبری سنائی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
Takhreej
(۸۳۷۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۸ (انظر: ۳۵)
8378
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ وَعُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَشَّرَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہٗاَنْیَقْرَئَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا اُنْزِلَ، فَلْیَقْرَئْ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۳۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں غَضًّا اَوْ رَطْبًا کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۸۳۷۹) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۶۹(انظر: ۳۶)
8379
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَقْرَاَ الْقُرْآنَ غَرِیْضًا (کَذَا قَالَ) کَمَا اُنْزِلَ فَلْیَقْرَاْہُ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح کہ وہ نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد یعنی عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
Takhreej
(۸۳۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۶۱۰۶، والبزار: ۲۶۸۲(انظر: )۹۷۵۴
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کو تروتازہ قرار دینے کی وجہ حدیث نمبر (۸۴۴۹)میں بیان کی گئی ہے۔
8380
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۸۱)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو فَذُکِرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنَّ ذَاکَ لَرَجُلٌ لَا أَ زَالُ أُحِبُّہُ أَ بَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَ رْبَعَۃٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِہِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَی أَ بِی حُذَیْفَۃَ،۔)) قَالَ یَعْلَی اَحَدُ الرُّوَاۃِ : وَنَسِیتُ الرَّابِعَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۳)
۔ مسروق ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے کہا: میں اس وقت سے اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ حدیث سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو: ابن ام عبد، معاذ، مولائے ابی حذیفہ سالم۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے کا نام بھول گیا۔
Takhreej
(۸۳۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۶۰، ومسلم: ۲۴۶۴(انظر: ۶۵۲۳)
Explanation
فوائد:… چوتھے صحابی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔ کسی سے محبت کرنے کے لیے صحابۂ کرام کے معیار پر غور کریں۔
8381
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِسْتَقْرِئُ وا الْقُرْآنَ مِنْ اَرْبَعَۃٍ، مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید سیکھو: عبداللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب ۔
Takhreej
(۸۳۸۲) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… چار صحابۂ کرام کی بڑی منقبت کا بیان ہے کہ سب سے عظیم کلام کی تعلیم کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بیشمار ساتھیوں میں صرف چار کا نام پیش کیا۔
8382
Sahih
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
۔ (۸۳۸۳)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعَۃُ نَفَرٍ کُلُّہُمْ مِنَ الْاَنْصَارِ: اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَاَبُوْ زَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۷۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں چار افراد نے مکمل قرآن مجید حفظ کیا تھا، یہ سارے کے سارے انصار میں سے تھے: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔
Takhreej
(۸۳۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۰۳، ومسلم: ۲۴۶۵ (انظر: ۱۳۴۴۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچائوں میں سے تھے۔
8383
Sahih
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
۔ (۸۳۸۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا مَرَّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ،وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔
Takhreej
(۸۳۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۲(انظر: ۲۳۲۶۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر توجہ کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے کہ حسب ِ امکان آیات کے تقاضے بھی پورے کرتے جاتے۔ اس موضوع پر صرف یہی حدیث صحیح ہے کہ رحمت، عذاب اور تسبیح والی آیات پر مطلوبہ ذکر کرنا چاہیے، مقتدی کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت پر یہ دعائیں نہ کرے، کیونکہ قراء ت کے وقت مقتدی کے لیے خاموش رہنے کا عام حکم ہے، ما سوائے سورۂ فاتحہ کے، امام اور منفرد کو اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
8384
Sahih
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
۔ (۸۳۸۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ سَمِعَہُ مِنْ شَیْخٍ فَقَالَ مَرَّۃً سَمِعْتُہُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ أَعْرَابِیٍّ، سَمِعْتُ أَ بَاہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَبَلَغَ {فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} فَلْیَقُلْ: آمَنَّا بِاللّٰہِ، وَمَنْ قَرَأَ {وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ} فَلْیَقُلْ: بَلٰی وَأَ نَا عَلَی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ، وَمَنْ قَرَأَ {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} فَلْیَقُلْ: ((بَلٰی۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ: فَذَہَبْتُ أَ نْظُرُ ہَلْ حَفِظَ وَکَانَ أَ عْرَابِیًّا فَقَالَ: یَا ابْنَ أَ خِی أَ ظَنَنْتَ أَ نِّی لَمْ أَ حْفَظْہُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً، مَا مِنْہَا سَنَۃٌ إِلَّا أَ عْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۸۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میںکہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلائوں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔
Takhreej
(۸۳۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الراوی عن ابی ھریرۃ ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۸۷، والترمذی: ۳۳۴۷(انظر: ۷۳۹۱)
8385
Zaeef

Chapters

10
01
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
11 Hadith
02
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
8 Hadith
03
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
7 Hadith
04
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
4 Hadith
05
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
2 Hadith
06
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
6 Hadith
07
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
2 Hadith
08
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
3 Hadith
09
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
5 Hadith
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.