قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: ذُکِرَ لَہَا أَ نَّ نَاسًا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّۃً أَ وْ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وْا وَلَمْ یَقْرَئُ وْا، کُنْتُ أَ قُومُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَیْلَۃَ التَّمَامِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْمُ اللَّیْلَۃَ التَّمَامَ) فَکَانَ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ، فَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ، وَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۱۶)
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔
Takhreej
(۸۳۶۶) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۳۱۰ (انظر: ۲۴۶۰۹)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَ خْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَ تْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَ بُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکٰی لَنَا اِبْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
8366
Sahih