TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8502 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
{فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِنْ رَاْسِہٖ…} کی تفسیر
۔ (۸۵۰۲)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَ بِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَ نْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} [البقرۃ: ۱۹۶]۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)
۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوا لے اور روزوں کا، یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)
8502
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۵۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۱۴، ۱۸۱۶، ۴۵۱۷، ۶۷۰۸، ومسلم: ۱۲۰۱(انظر: ۱۸۱۰۱)

Related Chapters

737
1
Chapter: What Has Been Related About: And For Those Upon Whom It Is Difficult.
باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
5
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

125
Musnad Ahmad
4272
۔ (۴۲۷۲)عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)
۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔
Musnad Ahmad
77
۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Musnad Ahmad
205
۔ (۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ)۔أَیْ عَنْ یَحْیٰی بْنِ یَعْمَرَ وَ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ (ؓ) فَذَکَرْنَا الْقَدْرَ وَمَا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، فَقَالَ لَنَا: اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ فَقُوْلُوْا: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِیْئٌ وَأَنْتُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ أَنَّہُمْ بَیْنَمَاہُمْ جُلُوْسٌ أَوْ قُعُوْدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہُ رَجُلٌ یَمْشِیْ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الشَّعْرِ عَلَیْہِ ثِیَابٌ بِیْضٌ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ مَا نَعْرِفُ ہٰذَا وَ مَا ہٰذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آتِیْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَجَائَ فَوَضَعَ رُکْبَتَیْہِ عِنْدَ رُکْبَتَیْہِ وَ یَدَیْہِ عَلَی فَخَذَیْہِ،(وَسَاقَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ فِی الْبَابِ الثَّانِیْ مِنْ کِتَابِ الْاِیْمَانِ وَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْدَ أَنْ ذَہَبَ السَّائِلُ) عَلَیَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبُوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا، فَمَکَثَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ عَنْ کَذَا وَ کَذَا؟۔)) قَالَ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ جَائَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔)) قَالَ: وَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ ہُوَ ہٰکَذَا یَعْنِیْ کَمَا قَرَأْتَ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴)
۔ (چوتھی سند)یحییٰ بن یعمر اور حمید حِمْیری کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو ملے اور تقدیر کے موضوع پر بات کی اور لوگوں کا نظریہ بھی ذکر کیا، انھوں نے ہمیںکہا: جب تم ان لوگوںکی طرف لوٹو تو ان کو تین بار کہنا کہ ابن عمر تم سے اور تم اس سے بری ہو پھر انھوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی پیدل چلتے ہوئے آ گیا، وہ خوبصورت چہرے والا اور خوبصورت بالوں والا تھا، اس نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ نہ تو ہم اس آدمی کو جانتے ہیں اور نہ یہ مسافر لگ رہا ہے، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوںکے پاس رکھ دیئے اور اپنے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی رانوں پر رکھ دیئے، (پھر کتاب الایمان کے دوسرے باب میں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ سائل کے چلے جانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے، لیکن ان کو کوئی چیز نظر ہی نہ آئی، پھر وہ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم جانتے ہو کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کرنے والا کون تھا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، جو تم کو دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔ پھر جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔ یحییٰ نے کہا: وہ اسی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح تم نے مجھے بیان کیا ہے۔
Musnad Ahmad
215
۔ (۲۱۵)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا وَفِیْ یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ بِہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَامِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ اِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔)) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا!فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) {أَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی} (مسند أحمد: ۶۲۱)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے ربّ سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا۱۰)
Musnad Ahmad
219
۔ (۲۱۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ قَتَادَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَہْرِہِ وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ فِی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰؤُلَائِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((عَلَی مَوَاقِعِ الْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۱۰)
سیدنا عبد الرحمن بن قتادہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لئے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لئے ہیں او رمیں کوئی پروا نہیں کرتا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تقدیر کے مطابق۔
Musnad Ahmad
229
۔ (۲۲۹)۔عَنْ عُمَرَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُجَالِسُوْا أَہْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوْہُمْ۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ مَرَّۃً: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۰۶)
سیدنا عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو۔
Musnad Ahmad
261
۔ (۲۶۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ لُقْمَانَ کَانَ یَقُوْلُ: یَا بُنَیَّ!لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاہِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ أَوْ تُمَارِیَ بِہِ السُّفَہَائَ وَتُرَائِیَ بِہِ فِی الْمَجَالِسِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔
Musnad Ahmad
285
۔ (۲۸۵)۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ: حَدَّثَنِیْ نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِیْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ہَانِیئٌ الْأَعْوَرُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ ہُوَ ابْنُ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَحَدَّثْتُ بِہِ أَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فَاسْتَحْسَنَہُ وَقَالَ: زَادَ فِیْہِ رَجُلًا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۵)
۔ (امام احمد کے بیٹے) ابو عبدالرحمن عبداللہ کہتے ہیں: … مطرف نے سیدنا عمران بن حصین ؓ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انھوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبد اللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔
Musnad Ahmad
320
۔ (۳۲۰)۔عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (الْأَشْجَعِیِّؓ) أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ نَظَرَ اِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ یُرْفَعَ۔))، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ زَیَادُ بْنُ لَبِیْدٍ: أَیُرْفَعُ الْعِلْمُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰہِ وَقَدْ عَلَّمْنَاہُ أَبْنَائَ نَا وَنِسَائَ نَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّکَ مِنْ أَفْقَہِ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) ثُمَّ ذَکَرَضَلَالَۃَ أَھْلِ الْکِتَابَیْنِ وَعِنْدَہُمَا مَا عِنْدَہُمَا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلَقِیَ جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (ؓ) بِالْمُصَلَّی فَحَدَّثَہُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: ذَہَابُ أَوْعِیَتِہِ، قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ أَیُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ یُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: الْخَشُوْعُ حَتَّی لَا تَکَادُ تَرٰی خَاشِعًا۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۰)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس ؓ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان کو سیدنا عوف ؓ کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انھوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔