TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 320 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 7 in this chapter
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
۔ (۳۲۰)۔عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (الْأَشْجَعِیِّؓ) أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ نَظَرَ اِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ یُرْفَعَ۔))، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ زَیَادُ بْنُ لَبِیْدٍ: أَیُرْفَعُ الْعِلْمُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰہِ وَقَدْ عَلَّمْنَاہُ أَبْنَائَ نَا وَنِسَائَ نَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّکَ مِنْ أَفْقَہِ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) ثُمَّ ذَکَرَضَلَالَۃَ أَھْلِ الْکِتَابَیْنِ وَعِنْدَہُمَا مَا عِنْدَہُمَا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلَقِیَ جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (ؓ) بِالْمُصَلَّی فَحَدَّثَہُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: ذَہَابُ أَوْعِیَتِہِ، قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ أَیُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ یُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: الْخَشُوْعُ حَتَّی لَا تَکَادُ تَرٰی خَاشِعًا۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۰)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس ؓ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان کو سیدنا عوف ؓ کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انھوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔
320
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۲۰) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۵۳ (انظر: ۲۳۹۹۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …قرآن مجید، تفاسیر، احادیث، تشریحات اور مفتیانِ امت کے فتاوی جات، ان چیزوں کا لائبریریوں میں موجود ہونا اور بات ہے اور لوگوں کا شرعی علم اور اس کا فہم حاصل کر کے لوگوں کی اصلاح کرنا اور بات ہے۔ حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔

Related Chapters

553
1
Chapter: What Has Been Related About Knowledge Leaving
باب: علم کے ختم ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
Musnad Ahmad
3
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
4
باب: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
24)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head, That It Is To Begin With The Front Of The Head To Its Rear.
باب: سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کرنے اور پچھلے حصہ تک لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
(56)Chapter: What Has Been Related About Wudu For Breaking Wind
باب: ہوا خارج ہونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(84)Chapter: [What Has Been Related] About Al-Madhi That Touches The Garment
باب: کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(85)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mani That Touches The Garment
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Forgetting The rime Of Asr
باب: عصر کے وقت کو بھول جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Sleeping Past The Salat
باب: نماز سے سو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Subh [(Fajr) Prayer]
باب: نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For Zuhr And Asr
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Isha Prayer
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Sleeps Past Al-Witr Or Forgets It
باب: وتر پڑھے بغیر سو جانے یا وتر کے بھول جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: [What Has Been Related About About] The Recitation During The Two Eid
باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of Walking To The Masjid And What Rewards Are Written For Each Step One Takes
باب: پیدل مسجد جانے اور ہر قدم پر اجر لکھے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: When You Pay The Zakat You Have Fulfilled What Is Required Of You
باب: زکاۃ ادا کرنے سے اپنے اوپر عائد فریضہ کے ادا ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Clarifying Al-Fajr
باب: صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Obligation Of Hajj While One Has The Provisions And The Means Of Conveyance
باب: سفر کے خرچ اور سواری ہونے سے حج کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Leaving For Mina And Staying There
باب: منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About What To Say When Coming Home After Hajj And Umrah
باب: حج یا عمرہ سے لوٹتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Haste For The Funeral (Procession)
باب: جنازہ تیزی سے لے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Sitting Before The Deceased Is Placed In The Grave
باب: جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Blood Money, How Many Camels Is It?
باب: دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Mawadih [Wounds that expose a bone]
باب: موضحہ (ہڈی کھل جانے والے زخم) کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About 'The Blood Of A Muslim Man Is Not Lawful Except For One Of Three Cases'
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Not Cutting The Hand For (Date) Fruits Or Palm Marrow
باب: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Hands No Being Cut In Battles
باب: دوران جنگ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Developing Gray Hair In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Standing Firm During The Time Of Fighting
باب: جنگ میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور ثابت قدم رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: علم فرائض سکھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been Related About The Disappearance of Trust
باب: امانت کے اٹھا لیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: The Virtue Of Seeking Knowledge
باب: علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Concealing Knowledge
باب: علم چھپانے کی مذمت
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: About One Who Seeks The World With His Knowledge
باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Superiority Of Fiqh Over Worship
باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

124
Musnad Ahmad
1144
۔ (۱۱۴۴)۔عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِیْنَ صَلَّیْنَا الظُّہْرَ، فَدَعَا الْجَارِیَۃَ بِوَضُوْئٍ فَقُلْنَا لَہُ: أَیُّ صَلَاۃٍ تُصَلِّیْ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ، یَتْرُکُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ فِیْ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ أَوْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ صَلّٰی لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۲۲)
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوںکے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔
Musnad Ahmad
1919
۔ (۱۹۱۹) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی فِیْ الصَّلاَۃِ عَنْ ثَلاَثٍ، نَقْرِالْغُرَابِ، وَاِفْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ یُّوْطِنَ الرَّجُلُ الْمُقَامَ الْوَاحِدَ کَإِ یْطَانِ الْبَعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۱۸)
سیدناعبدالرحمن بن شبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں تین چیزوں سے منع کیا ہے: کوّے کے ٹھونگے سے، درندے کی طرح (ہاتھوںکو) بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی اونٹ کی طرح (مسجد میں) ایک جگہ مقرر کرلے۔
Musnad Ahmad
2695
۔ (۲۶۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُھَیْرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ الْبَدْرِیِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیِّدُ الْأَیَّامِ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الْأَضْحٰی وَفِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ، وَأَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْأَرْضِ، وَفِیْہِ تَوَفَّی اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْأَلُ الْعَبْدُ فِیْہَا شَیْئًا اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِیَّاہُ، مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَائٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِیَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُنَّ یُشْفِقْنَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۳)
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کاسوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
Musnad Ahmad
2751
۔ (۲۷۵۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ شَیْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ وَالْطِّیبُ وَالسِّوَاکُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶۴)
ایک انصاری بزرگ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا ہر مسلمان پر حق ہے۔
Musnad Ahmad
5390
۔ (۵۳۹۰)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، وَالنَّبِیُّ فِی مَجْلِسٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَقَامِ، فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّی نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللّٰہُ لِلنَّبِیِّ وَالْمُؤْمِنِینَ مَکَّۃَ لَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنِّی وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ہَاہُنَا فِی قُرَیْشٍ مُقْبِلًا مَعِی وَمُدْبِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ)) فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَہُ ہٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُولُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ۔)) ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَۃَ مَقَالَتَہُ ہٰذِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْہَبْ فَصَلِّ فِیہِ، فَوَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ! لَوْ صَلَّیْتَ ہَاہُنَا لَقَضٰی عَنْکَ ذٰلِکَ کُلَّ صَلَاۃٍ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ)) (مسند أحمد: ۲۳۵۵۶)
۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔
Musnad Ahmad
10665
۔ (۱۰۶۶۵)۔ حَدَّثَنَاإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَطِیَّۃَ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، جَمَعَ نِسَائَ الْأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَ عَلَیْہِ السَّلَامَ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْکُنَّ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللّٰہِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللّٰہِ وَقَالَ: ((تُبَایِعْنَ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَزْنِینَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَکُنَّ، وَلَا تَأْتِینَ بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُنَّ وَأَرْجُلِکُنَّ، وَلَا تَعْصِینَہُ فِی مَعْرُوفٍ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ! فَمَدَدْنَا أَیْدِیَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ، وَمَدَّ یَدَہُ مِنْ خَارِجِ الْبَیْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ! وَأَمَرَنَا بِالْعِیدَیْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعُتَّقَ وَالْحُیَّضَ، وَنَہٰی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَا جُمُعَۃَ عَلَیْنَا، وَسَأَلْتُہَا عَنْ قَوْلِہِ: {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: نُہِینَا عَنِ النِّیَاحَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۸)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ جا کر دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کہا، ان عورتوں نے سلام کا جواب دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: ہم اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کے قاصد کو مرحبا اور خوش آمدید کہتی ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ان امور پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گی،تم از خود کوئی بات بنا کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی اور نوحہ نہیں کرو گی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے گھر کے اندر سے اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے اور انھوں نے باہر ہی سے اپنا بڑھایا، ہاتھ ملائے بغیر ہی محض اشارے سے بیعت ہوئی۔ پھر انھوں نے فرمایا: یا اللہ! گواہ رہنا۔ انھوں نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عیدین کے موقعہ پر نوجوان لڑکیوں کو اور حیض والی خواتین کو بھی باہر، عیدگاہ کی طرف عید کے لیے لے جایا کریں اور انھوں نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، نیز فرمایا کہ ہمارے لیے جمعہ کی حاضری ضروری نہیں۔ اسمٰعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے دریافت کیا کہ حدیث میں وارد لفظ {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لفظ کے ذریعے ہمیںنوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
11292
۔ (۱۱۲۹۲)۔ عَنْ أَبِی عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ،یَقُوْلُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ بَرَکَ بِہِ بَعِیْرٌ قَدْْ أَزْحَفَ بِہِ، فَمَرَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہٗ: ((مَالَکَیَا جَابِرُ؟)) فَأَخْبَرَہُ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبَعِیْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِرْکَبْ یَا جَابِرُ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ لَا یَقُوْمُ، فَقَالَ لَہٗ: ((إِرْکَبْ۔)) فَرَکِبَجَابِرٌالْبَعِیْرَ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَعِیْرَ بِرِجْلِہِ، فَوَثَبَ الْبَعِیْرُ وَثْبَۃً لَوْ لَا أَنَّ جَابِراً تَعَلَّقَ بِالْبَعِیْرِ لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِہِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِجَابِرٍ: ((تَقَدَّمْ یَا جَابِرُ الْآنَ عَلٰی أَھْلِکَ، إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَجِدْھُمْ قَدْیَسَّرُوْا لَکَ کَذَا وَکَذَا)) حَتّٰی ذَکَرَ الْفُرُشَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لأمْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۷۰)
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا اونٹ تھک ہار کر اور چلنے سے عاجز ہو کر بیٹھ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتائی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے اتر کر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ کی طرف گئے اور فرمایا: جابر! سوار ہو جائو۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سوار تو ہو جائو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اونٹ پر سوار ہوگئے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پائوں اونٹ کو مارا اوروہ اچھل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اونٹ کو قابو کرکے پکڑ نہ لیتے تو اوپر سے نیچے جا گرتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اب تم چلو اور اپنے اہل خانہ میں پہنچو۔ تم گھر جا کر دیکھو گے کہ وہ تمہارے لیے فلاں فلاں چیز تیار کر چکے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بستروں تک کا بھی ذکر کیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (گھر میں) ایک بستر مرد کے لیے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
77
۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Musnad Ahmad
205
۔ (۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ)۔أَیْ عَنْ یَحْیٰی بْنِ یَعْمَرَ وَ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ (ؓ) فَذَکَرْنَا الْقَدْرَ وَمَا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، فَقَالَ لَنَا: اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ فَقُوْلُوْا: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِیْئٌ وَأَنْتُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ أَنَّہُمْ بَیْنَمَاہُمْ جُلُوْسٌ أَوْ قُعُوْدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہُ رَجُلٌ یَمْشِیْ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الشَّعْرِ عَلَیْہِ ثِیَابٌ بِیْضٌ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ مَا نَعْرِفُ ہٰذَا وَ مَا ہٰذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آتِیْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَجَائَ فَوَضَعَ رُکْبَتَیْہِ عِنْدَ رُکْبَتَیْہِ وَ یَدَیْہِ عَلَی فَخَذَیْہِ،(وَسَاقَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ فِی الْبَابِ الثَّانِیْ مِنْ کِتَابِ الْاِیْمَانِ وَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْدَ أَنْ ذَہَبَ السَّائِلُ) عَلَیَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبُوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا، فَمَکَثَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ عَنْ کَذَا وَ کَذَا؟۔)) قَالَ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ جَائَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔)) قَالَ: وَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ ہُوَ ہٰکَذَا یَعْنِیْ کَمَا قَرَأْتَ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴)
۔ (چوتھی سند)یحییٰ بن یعمر اور حمید حِمْیری کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو ملے اور تقدیر کے موضوع پر بات کی اور لوگوں کا نظریہ بھی ذکر کیا، انھوں نے ہمیںکہا: جب تم ان لوگوںکی طرف لوٹو تو ان کو تین بار کہنا کہ ابن عمر تم سے اور تم اس سے بری ہو پھر انھوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی پیدل چلتے ہوئے آ گیا، وہ خوبصورت چہرے والا اور خوبصورت بالوں والا تھا، اس نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ نہ تو ہم اس آدمی کو جانتے ہیں اور نہ یہ مسافر لگ رہا ہے، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوںکے پاس رکھ دیئے اور اپنے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی رانوں پر رکھ دیئے، (پھر کتاب الایمان کے دوسرے باب میں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ سائل کے چلے جانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے، لیکن ان کو کوئی چیز نظر ہی نہ آئی، پھر وہ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم جانتے ہو کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کرنے والا کون تھا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، جو تم کو دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔ پھر جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔ یحییٰ نے کہا: وہ اسی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح تم نے مجھے بیان کیا ہے۔