TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے

Chapter 8 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 13 · 10 Hadith
۔ (۹۲۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ: ((اِسْتَحْیُوْا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، حَقَّ الْحَیَائِ۔)) قَالَ: قَلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَسْتَحِی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، قَالَ: ((لَیْسَ ذٰلِکَ، وَلٰکِنَّ مَنِ اسْتَحْیٰ مِنَ اللَّہِ حَقَّ الْحَیَائِ فَلْیَحْفَظِ الرَّاْسَ وَمَاحَویٰ، وَالْبَطْنَ وَمَا وَعیٰ وَلْیَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلیٰ، وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَۃَ، تَرَکَ زِیْنَۃَ الدُّنْیَا، فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ، فَقَدِ اسْتَحْیَا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَقَّ الْحَیَائِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرماؤ، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بیشک ہم اس سے شرماتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاملہ اس طرح نہیں ہے، جیسے تم نے سمجھ رکھا ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کما حقہ شرمانا چاہتا ہو تو وہ سر کی اور ان چیزوں کی حفاظت کرے، جن کو سر نے سمیٹا ہوا ہے اور حفاظت کرے پیٹ کی اور ان چیزوں کی، جن پر پیٹ مشتمل ہے اور موت اور بوسیدگی کو یاد کرے اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے، وہ دنیا کی زینت چھوڑ دے، جس نے ایسے کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے شرما گیا، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۲) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۸ (انظر: ۳۶۷۱)
9222
Sahih
۔ (۹۲۲۳)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹، ومسلم: ۳۵(انظر: ۹۷۱۰)
9223
Sahih
۔ (۹۲۲۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْبَذَائُ مِنَ الْجَفَائِ، وَالْجَفَائُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیائ، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لے جانے والا) ہے اوربد کلامی و بد زبانی، اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہے اوراکھڑ مزاجی آگ میں(لے جانے والی) ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۰۰۹(انظر: ۱۰۵۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں جہاں شرم و حیا کو سراہا گیا اور ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، وہاں بدکلامی اور بداخلاقی کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے۔
9224
Sahih
۔ (۹۲۲۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاکَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْئٍ قَطُّ اِلاَّ شَانَہُ، وَلا کَانَ الْحَیَائُ فِی شَیْئٍ قَطُّ اِلاَّ زَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدزبانی اور بدگوئی جس چیز میں ہو گی، اس کو عیب دار بنا دے گی اور حیا جس چیز میں ہو گا، اس کو خوبصورت بنا دے گا۔
Takhreej
(۹۲۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۸۵،و الترمذی: ۱۹۷۴ (انظر: ۱۲۶۸۹)
9225
Sahih
۔ (۹۲۲۶)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ اُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۱)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عطاء لم یسمع من یعلی، وابن ابی لیلی ضعیف (انظر: ۱۷۹۶۸)
9226
Zaeef
۔ (۹۲۲۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۵)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیاسارے کا سارا خیر و بھلائی ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۸۵۴،و الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۵۰۲(انظر: ۱۹۸۱۷)
9227
Sahih
۔ (۹۲۲۸)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً یَعِظُ اَخَاہُ فِی الْحَیَائِ، فَقاَلَ: ((اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا کے بارے کچھ نصیحت کر رہا تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان میں سے ہے۔
Takhreej
(۹۲۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۱۸، ومسلم: ۵۹ (انظر: ۴۵۵۴)
9228
Sahih
۔ (۹۲۲۹)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اَلْحَیَائُ وَالْعِیُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْبَذَائُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۶۸)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا اور کلام پر عدم قدرت ایمان کے دو شعبے ہیں اوربد کلامی اور کلام پر قدرت نفاق کے دو شعبے ہیں۔
Takhreej
(۹۲۲۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ العی والبیان ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ بین حسان بن عطیۃ وبین ابی امامۃ، أخرجہ الترمذی: ۲۰۲۷(انظر: ۲۲۳۱۲)
9229
Sahih
۔ (۹۲۳۰)۔ عَنْ قَتاَدَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا السَّوَّارِ الْعَدَوِیَّیُحَدِّثُ، اَنَّہُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنِ نِ الْخُزَاعِیَّیُحَدِّثُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((اَلْحَیَائُ لا یَاْتِی اِلاَّ بِخَیْرٍ۔)) فَقاَلَ بُشَیْرُ بْنُ کَعْبٍ: مَکْتُوْبٌ فِی الْحِکْمَۃِ: اِنَّ مِنْہُ وَقَارًا وَمِنْہُ سَکِیْنَۃً، فَقَالَ عِمْرَانُ: اُحَدِّثُکَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتُحَدِّثُنِی عَنْ صُحُفِکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۶۸)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا صرف خیر وبھلائی کو لاتا ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا: حکمت میں لکھا ہوا ہے کہ حیا کی بعض صورتیں باعث ِ وقار اور بعض باعث ِ سکینت ہوتی ہیں، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہا ہوں اور تو اپنے صحیفوں سے بیان کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۱۷، ومسلم: ۳۷ (انظر: ۱۹۸۳۰)
9230
Sahih
۔ (۹۲۳۱)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلَالٍ، عَنْ بُشَیْرِ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہُ۔)) فَقَالَ: بُشَیْرٌ، فَقُلْتُ: اِنَّ مِنْہُ ضَعْفًا، وَاِنَّ مِنْہُ عِجْزًا، فَقَالَ: اَحَدِّثُکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وََتَجِیْئُنِی بِالْمُعَارِضِ! لا اُحَدِّثُکَ بِحَدَیْثٍ مَا عَرَفْتُکَ، فَقَالُوْا: یَا اَبَا نُجَیْدٍ! اِنَّہُ طَیِّبُ الْھَوٰی، وَاِنَّہُ وَاِنَّہُ، فَلَمْ یَزَالُوْا بِہٖحَتّٰی سَکَنَ وَحَدَّثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۱۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا سارے کا سارا خیر و بھلائی ہی ہے۔ بُشَیر نے کہا: حیا کی بعض صورتوں میں کمزوری اور بعض میں عاجزی ہوتی ہے، لیکن انھوں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتا ہوں اور تم احادیث کی مخالف چیزیںپیش کرتے ہو، آئندہ میں جب تک تجھے پہچانتا رہوں گا، ایک حدیث بھی بیان نہیں کروں گا، لیکن لوگوں نے کہا: یہ اچھی طبیعت کا آدمی ہے اور اس میں فلاں فلاں خوبی بھی ہے، بہرحال لوگ اس کی صفات شمار کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمران سکون میں آگئے اور احادیث بیان کرنے لگے۔
Takhreej
(۹۲۳۱) تخریج: أخرجہ: مسلم: ۳۷(انظر: ۱۹۹۷۲)
Explanation
فوائد:… اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ حیا سے مراد وہ شرم و جھجک اور وقار وسنجیدگی نہیں جس کا تعین موجودہ معاشرہ کرتا ہے، شریعت کی روشنی میں حیا سے مراد اخلاق حسنہ کا وہ پہلو ہے جو برے اقوال و افعال سے اجتناب کرنے اور کسی مستحق کے حق میں کوتاہی برتنے سے باز رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس مفہوم میں حیا کو ایمان کی ایک شاخ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ایسا حیا خیر ہی خیر ہے، جو انسان کو دھوکہ، فریب دہی اور جعل سازی وغیرہ جیسے غلط کاموں سے محفوظ ومامون رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا، خیر وبھلائی کا ہی نام ہے۔ (بخاری:۶۱۱۷ ، مسلم: ۳۷) معلوم ہوا کہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کو حیا کہتے ہیں، لہٰذا مسلمان کو مجسمۂ حیا ہو نا چاہئے، وہ اپنے تہذیب وتمدن، کلچر و ثقافت، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، نقل و حرکت، بول چال، خورد ونوش، میل ملاپ، دوستی و دشمنی، خوشی وغمی، غرضیکہ تمام معاملات میں شرم و حیا کا پیکر بن کر سامنے آئے۔ حیا، حسنِ اخلاق کا اتنا اہم پہلو ہے کہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کو بحال رکھا گیا۔ سیدنا ابو مسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((آخِرُمَا أدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الأوْلٰی: إذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ۔)) (صحیحہ:۶۸۴)… پہلی نبوت کے کلام سے لوگوں کو آخری بات یہ ملی ہے کہ جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھرے۔ شریعت مطہرہ میں جس حیا کی تعریف کی گئی ہے، حافظ ابن حجر نے اس کی توضیحیوں کی ہے: وَفِیْ الشَّرْعِ: خُلُقٌ یَبْعَثُ عَلٰی اجْتِنَابِ الْقَبِیْحِ وَیَمْنَعُ مِنَ التَّقْصِیْرِ فِیْ حَقِّ ذِیْ الْحَقِّ۔ (فتح الباری: ۱/۷۲) … شریعت میں (حیا سے مراد)وہ خصلت ہے جو قبیح چیز سے اجتناب کرنے اور کسی حقدار کے حق میں کمی کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔ اس مفہوم میں حیا ایسی عظیم صفت ہے، جو منکرات و سیئات سے پرہیز کرنے اور تزکیہ نفس میں مؤمن کی سب سے بڑی معاون ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی پاسداری کرنے پر ابھارتی ہے اور ان میںکسی قسم کی کم و کاست کرنے سے روکتی ہے۔ مذکورہ حدیث میں …مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی سے مراد یہ ہے تمام انبیا و رسل کی شریعتوں میں شرعی حیا کی اہمیت بحال رہی۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں باحیا ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، یعنی جب کوئی انسان حیائے شرعی کو ترک کر دیتا ہے تو وہ طبعی طور پر ایسے دہانے پر کھڑا ہو جاتاہے،جہاں ہر قسم کی برائی کا ارتکاب ممکن ہوتا ہے۔ اس حدیث پر اسلام کا مدار ہے، کیونکہیہ حیا ہی ہے کہ جس کی بنا پر مومن فرض اور مستحب کو ترک کرنے سے اور حرام اور مکروہ کا ارتکاب کرنے سے شرماتا ہے۔ نیزیہ بھی اشارہ ملتا ہے جو آدمی استطاعت کے باوجود کوئی نیکی کرنے یا کسی برائی سے باز آنے کے سلسلے میں لوگوں سے شرم محسوس کرتا ہے، تو اسے حیادار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ وہ بزدل اور ضعیف الایمان ہے، جو شریعت کی روشنی میں بے حیا ہے۔
9231
Sahih