TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توکل کی ترغیب دلانے کا بیان

Chapter 12 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 13 · 8 Hadith
۔ (۹۲۵۲)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ خَطَّابٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْاَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا۔))(مسند احمد: ۲۰۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ اس طرح بھروسہ کرو، جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا، جیسے وہ پرندے کو رزق دیتا ہے، جو صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو پیٹ بھرا ہوا۔
Takhreej
(۹۲۵۲) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۲۳۴۴، وابن ماجہ: ۴۱۶۴(انظر: ۲۰۵)
9252
Sahih
۔ (۹۲۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (( لَوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ (وَفِی رِوَاَیۃٍ لَوْ اَنَّکُمْ تَوَکَّلْتُمْ) عَلیٰ اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، اَلَا تَرَوْنَ اَنَّھَا تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا!۔)) (مسند احمد: ۳۷۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکّل کرو، جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تم اس طرح روزی دے گا، جیسے وہ پرندے کو روزی دیتا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ پرندہ صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو سیرو سیراب۔
Takhreej
(۹۲۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… توکل کا مطلب ہے جائز اسباب و وسائل استعمال کر کے اپنے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پرکیا جائے، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہیں ہو گی، اسباب و وسائل بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ بہرحال ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے، کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے، جیسے پرندے گھونسلوں کے اندر نہیں بیٹھے رہتے، بلکہ تلاشِ رزق میں باہر نکلتے اور گھومتے پھرتے ہیں اور تب اللہ تعالیٰ ان کو رزق دیتا ہے۔ آجکل اکثرو بیشتر تاجروں اور دوکانداروں کو دیکھا گیاہے کہ وہ اپنی تجارت اور دوکانداری میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ نماز سمیت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے کئی حقوق کا خیال نہیں رکھتے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بعض لوگ پیسے کی ہوس میں پڑ کر حلال و حرام کی تمیز ختم کر دیتے ہیں اور مختلف حربے استعمال کر کے حرام کو جائز کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ انتہائی ضعیف الایمان ہو چکے ہیں، ان کو چاہیے کہ کاروبار کو نہیں، اللہ تعالیٰ کو روزی رساں سمجھیں اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس پر توکل کرنے کا صحیح حق ادا کریں۔ شیخ الاسلام صابونی نے کیا خوب اشعار کہے ہیں: تَوَکَّلْ عَلَی الرَّحْمٰنِ فِیْ کُلِّ حَاجَۃٍ اَرَدْتَّ فَاِنَّ الــلّٰــہَ یَقْضِیْ وَ یَقْدِرُ مَتٰی مَا یُرِدْ ذُوْ الْعَرْشِ اَمْرًا بِعَبْدِہِ یُصِبْہُ وَ مَــــــا لِلْـعَبْدِ مَا یَتَخَیَّرُ وَ قَدْ یَھْلِکُ الْاِنْسَانُ مِنْ وَجْہٍ اَمِنَہٗوَیَنْجُوْ بِاِذْنِ اللّٰہِ مِنْ حَیْثُیَحْذَرُ تو ہر اس ضرورت میں رحمن پر توکل کر جس کا تونے ارادہ کر لیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور مقدار مقرر کرتا ہے۔ جب عرش والا اپنے بندے کے لیے کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس کو اس تک پہنچا دیتاہے اور بندے کے لیے وہ کچھ نہیں ہے، جس کا وہ ارادہ کرتاہے۔ بعض اوقات انسان اس صورت میںہلاک ہو جاتا ہے، جس کے بارے میں وہ امن میں ہوتا ہے اور اللہ کے حکم سے وہاں سے نجات پا جاتا ہے، جہاں سے ڈر رہا ہوتا ہے۔
9253
Sahih
۔ (۹۲۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَزَلَ بِہٖحَاجَۃٌ، فَاَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ، کَانَ قَمِنًا مِنْ اَنْ لاَّ تَسْہُلَ حَاجَتُہُ، وَمَنْ اَنَزَلَھَا بِاللّٰہِ، آتاَہُ اللّٰہُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ، اَوْ بِمَوْتٍ آجِلٍ۔)) (مسند احمد: ۳۶۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی ضرورت پڑی اور اس نے اس کو لوگوں پر پیش کر دیا تو وہ اس چیز کا زیادہ لائق ہو گا کہ اس کی ضرورت آسانی سے پوری نہ ہو اور جس نے اس حاجت کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو اللہ تعالیٰیا تو اس کو جلدیرزق دے گا اور پھر تاخیر سے آنے والی موت دے دے گا۔
Takhreej
(۹۲۵۴) تخریج: اسنادہ حسن أخرجہ ابویعلی: ۵۳۱۷، والطبرانی فی الکبیر : ۹۷۸۵، والحاکم: ۱/ ۴۰۸ (انظر: ۳۶۹۶)
Explanation
فوائد:… اگلی روایت کے الفاظ معنی کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہیں۔
9254
Sahih
۔ (۹۲۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَاَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ، لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُہُ، وَمَنْ اَنْزَلَھَا بِاللّٰہِ، عَزَّوَجَلَّ، اَوْشَکَ اللّٰہُ لَہُ بِالْغِنَی، اِمَّا اَجَلٌ عَاجِلٌ، اَوْ غِنًی عَاجِلٌ۔)) (مسند احمد: ۳۸۶۹)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا اور پھر اس نے اس فاقے کو لوگوں پر پیش کر دیا تو اس کا فاقہ پورا نہیں ہو گا اور جس نے اس کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو وہ جلد ہی اس کو غنی کر دے گا، جلدی موت کی صورت میںیا جلدی غنی کی صورت میں۔
Takhreej
(۹۲۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جو ذات پوری مخلوق کی حاجات و ضروریات پوری کرنے پر قادر بھی ہے اور اپنی عطا کا دروازہ بھی بند نہیںکرتا، وہی اس صفت کے لائق ہے کہ حاجات و ضروریات میں اسی کو یاد کیا جائے۔ بادشاہوںکے پاس آنے والے ایک آدمی نے وہب بن منبہ نے کہا: وَیْحَکَ أَتَأْتِیْ مَنْ یُغْلِقُ عَنْکَ بَابَہٗوَیُوَارِیْ عَنْکَ غِنَاہُ وَتَدَعُ مَنْ یَفْتَحُ لَکَ بَابَہٗنِصْفَاللَّیْلِ وَ نِصْفَ النَّھَارِ وَیَظْھَرُ لَکَ غِنَاہُ … تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو اس کے پاس آتا ہے، جو اپنا دروازہ تجھ سے بند کر لیتا ہے اور اپنے غِنٰی کو تجھ سے چھپاتا ہے اور تو اس کو چھوڑ دیتا ہے، جو نصف رات کو بھی تیرے لیے دروازہ کھولتا ہے اور نصف دن کو بھی اور تیرے لیے اپنے غِنٰی کا اظہار بھی کرتاہے؟ دراصل انسان اپنی مصلحتوں اور مضرتوں کو سمجھنے سے عاجز ہے، اس کا کام کوشش کرنا ہے، لہٰذا اس کو سمجھنا چاہیے کہ ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ صرف یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے سوال کرنا شروع کر دیا جائے، بلکہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پورے یقین کے ساتھ پکارا جائے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے شیخ محمود سبکی (المنھل العذب: ۹/ ۲۸۳) کے کلام کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا: اَجَلٌ عَاجِلٌ (جلد موت) کے دو مفہوم ہیں: (۱) محتاج کا کوئی قریبی فوت ہو جائے گا، جس کا یہ وارث بنے گا۔ (۲) محتاج خود فوت ہو جائے گا اور سرے سے مال سے مستغنی ہو جائے گا۔ غِنًی عَاجِلٍ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کسی نہ کسی طریقے سے خوشحال اور غنی کر دے گا۔ درج ذیل آیت میں اسی حدیث کا مصداق بیان کیا گیا ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَیَرْزُقُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} (سورۂ طلاق: ۲، ۳)… اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے (ابتلا و آزمائش سے) نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اسے کوئی وہم و گمان نہیں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۷۸۷) اس فرمان نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں یہ ترغیب ہے کہ حاجت و ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے اور ہر ممکنہ صورت میںلوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچا جائے، اسی میں زندگی کا لطف اور مزہ ہے۔ آج کل لوگوں نے اپنا معیارِ زندگی اپنی آمدن سے بلند کر دیا ہے، اب اس کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی قسم کا حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ہمیں چاہیے کہ اسبابِ زندگی کے مطابق اپنے قدم پھیلائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے رہیں۔ اگر صبر و قناعت ہو تو سالن کی بجائے چٹنی اور اچار اور پراٹھوں کی بجائے سوکھی روٹی کھا کر، دس بارہ کی بجائے تین چار سوٹوں پر گزارا کر کے اور مہمانوںکو مہنگے اور پیاس نہ بجھانے والے مشروبات کی بجائے عام مشروبات پلا کر بھی اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے اور جیب کے مطابق زندگی کا سرکل بھی چلایا جا سکتا ہے۔
9255
Sahih
۔ (۹۲۵۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُرِیَ الْاُمَمَ بِالْمَوْسِمِ، فَرَاثَتْ عَلَیْہِ اُمَّتُہُ، قَالَ: ((فَاُرِیْتُ اُمَّتِی، فَاَعْجَبَنِی کَثْرَتُھُمْ، قَدْ مَلَئُوْا السَّھْلَ وَ الْجَبَلَ، فَقِیْلَ لِی: اِنَّ مَعَ ھٰؤُلائِ سَبْعِیْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوَنَ، وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) قَالَ عُکَاشَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِی مِنْھُمْ، فَدَعَا لَہُ، ثُمَّ قَامَ، یَعْنِی آخَرَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِی مَعَھُمْ قاَلَ: ((سَبَقَکَ بِھَا عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حج کے زمانے میں امتیں دکھائی گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت تاخیر سے دکھائی گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میری امت مجھے دکھائی گئی تو اس کی کثرت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا، ہموار جگہ کیا پہاڑ کیا، ہر جگہ کو بھرا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے بھی ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، دم نہیں کرواتے، برا شگون نہیں لیتے اور اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے دعا کی، اتنے میں ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
Takhreej
(۹۲۵۶) تخریج: حدیث صحیح، ولہ شاھد عن ابن عباس عند البخاری ومسلم، أخرجہ ابویعلی: ۵۳۳۹، والطیالسی: ۳۵۲، والبزار: ۳۵۳۹ (انظر: ۳۸۱۹)
Explanation
فوائد:… دم کروانا اور داغ لگوانا جائز ہے، لیکن ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اتنا زیادہ توکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے جائز اسباب بھی استعمال نہیں کرتے۔
9256
Sahih
۔ (۹۲۵۷)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اُھْدِیَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثُ طَوَائِرَ، فَاَطْعَمَ خَادِمُہُ طَاِئرًا، فَلَمَّا کَانَ فِی الْغَدِ اَتَتْہُ بِہٖ،فَقَالَلَھَا: ((اَلَمْاَنْھَکِاَنْتَرْفَعِی شَیْئًا، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْتِی بِرِزْقِ کُلِ غَدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۷۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے میں تین پرندے پیش کیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک پرندہ اپنے خادم کو کھلا دیا، اگلے دن خادمہ نے ایک پرندہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تجھے اس چیز سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چیز اگلے دن کے لیے نہ رکھا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر دن کا رزق عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ھلال بن سوید، قال البخاری: روی عن انس لا یدخر شیء لغد ولا یتابع علیہ، وعدّ ہ العقیلی وابن عدی فی الضعفائ، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۲۳، والبیھقی فی الشعب : ۱۳۴۷ (انظر: ۱۳۰۴۳)
9257
Zaeef
۔ (۹۲۵۸)۔ عَنْ سَلاَّمٍ اَبِی شُرَحْبِیْلَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبَّۃَ وَسَوَائَ ابْنَیْ خَالِدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَا یَقُوْلَانِ اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَعْمَلُ عَمَلاً اَوْ یَبْنِی بَنَائً فَاَعَنَّاہُ عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا وَقَالَ: ((لَا تَیْاَسَا مِنَ الْخَیْرِ (وَفِی رَوَایَۃٍ مِّنَ الرِّزْقِ) مَا تَھَزَّزَتْ رُؤْسُکُمَا، اِنَّ الْاِنْسَانَ تَلِدُہُ اُمُّہُ اَحْمَرَ لَیْسَ عَلَیْہِ قِشْرَۃٌ، ثُمَّ یُعْطِیْہِ اللّٰہُ وَیَرْزُقُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۰)
۔ سیدنا حَبّہ اور سیدنا سواء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کام کر رہے تھے یا کوئی عمارت بنا رہے تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہمارئے لیے دعا کی اور فرمایا: جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں گے، اس وقت تک تم نے خیر اور رزق سے ناامید نہیں ہونا، بیشک جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو اس پر باریک لباس تک نہیں ہوتا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۲۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ھلال بن سوید، قال البخاری: روی عن انس لا یدخر شیء لغد ولا یتابع علیہ، وعدّ ہ العقیلی وابن عدی فی الضعفائ، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۲۳، والبیھقی فی الشعب : ۱۳۴۷ (انظر: ۱۳۰۴۳)
9258
Zaeef
۔ (۹۲۵۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: مَرَّ بِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُحْصِی شَیْئًا وَاَکِیْلُہُ، قَالَ: ((یَا اَسْمَائُ! لَا تْحْصِی فَیُحْصِی اللّٰہُ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَمَا اَحْصَیْتُ شَیْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِی وَلَا دَخَلَ عَلَیَّ، وَمَا نَفِذَ عِنْدِیْ مِنْ رِزْقِ اللّٰہِ اِلاَّ اَخَلَفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱۰)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کوئی چیز گن رہی تھی اور اس کا ماپ کررہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسمائ! گنا نہ کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر گننا شروع کر دے گا۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد میرے پاس جو رزق آیا اور جو خرچ ہوا، میں نے کبھی کسی چیز کو شمار نہیں کیا اور جس دن اللہ تعالیٰ کا جو رزق خرچ ہوا، اس نے اس کا متبادل عطا کر دیا۔
Takhreej
(۹۲۵۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۲۴۱(انظر: ۲۶۹۷۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے صدقہ کرنا اور یہ امید رکھنا کہ وہ اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے گا، اگر مسلمان عملی طور پر یہ نظریہ قائم کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ظن کے مطابق اس کو عطا کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کے بارے میں سب سے پر اثر آیتیہ ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ} … اورجواللہسےڈرےگاوہاسکےلیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (سورۂ طلاق:۲، ۳)
9259
Sahih