۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔
فوائد:… غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، صورتحال یہ تھی کہ پردہ کرنے کے لیے بعض لوگ بعض کی اوٹ میں چھپ رہے تھے اور ایک قاری ہم پر تلاوت کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کا کلام سن رہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، تاکہ اپنے نفس کو ان میں شمار کروائیں، پس قاری نے تلاوت بند کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک قاری ہم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنایا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح حلقہ بنا لو۔ پس لوگ گھوم کر حلقے میں بیٹھ گئے، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فقیروں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، تم مالدار لوگوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو گے۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! دیکھ، مسجد میں کون آدمی سب سے زیادہ رفعت والا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا، اچانک ایک آدمی نظر آیا، اس نے عمدہ پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی تھی، میں نے کہا: یہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اب دیکھ، مسجد میں کون سا آدمی سب سے کم درجہ ہے؟ میں نے دیکھا، ایک آدمی نے چیتھڑے پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: جییہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ (کم درجہ) آدمی روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس (رفعت والے) زمین بھر افراد سے بہتر ہو گا۔
Takhreej
(۹۳۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۲۲، والبزار: ۳۹۷۹ (انظر: ۲۱۴۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا، پس وہاں کے اکثر لوگوں کو فقیر دیکھا ، پھر جب میں نے جہنم میں جھانکا تو وہاں کے اکثر لوگوں کو مالدار اور عورتیں پایا۔
Takhreej
(۹۳۲۳) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ الاغنیائ ، أخرجہ ابن حبان: ۷۴۸۹ (انظر: ۶۶۱۱)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنی لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اس طرح وہ اجر میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی روزہ رکھتے ہو، نماز پڑھتے ہو اور حج کرتے ہو۔ میںنے کہا: جی وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری اندر بھی صدقہ کی صورتیں موجود ہیں، مثلا راستے سے ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے، راستے کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، زائد طاقت کے ساتھ کمزور کی مدد کر دینا صدقہ ہے، واضح الفاظ ادا نہ کر سکنے والے کی طرف سے وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے جماع کر لینے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی شہوت کو پورا کریں اوراس میں ہمارے لیے اجر بھی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتلا کہ اگر تو اس عضو خاص کو حرام کام پر لگا دے تو کیا تو گنہگار ہو گا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم شرّ سے بچ کر ثواب کی نیت کرتے ہو، اور کہ خیر والا کام کر کے ثواب کی نیت نہیں کرتے۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔
فوائد:… سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اسْتَعِدَّ لِلْفَاقَۃِ۔)) تو پھر فقر و فاقہ کے لیے تیار ہوجائو۔ (مسند بزار: ۴/۲۲۹/۳۵۹۵، صحیحہ:۲۸۲۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین پیروکاروں میں غریب اور فقیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اہل کتاب کے مذہبی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ انبیا و رسل کی اطاعت کرنے والوں کا حال بھییہی تھا۔ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تلک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں کی اکثریت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا رہی۔
قارئین کرام! بلا شک و شبہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس نعمت کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہی دولت ان کے لیے اسلام سے غفلت برتنے کا سبب بن گئی اور ان کے مزاج تبدیل ہو گئے اور علم
شریعت سے جاہل ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی مرضی اور سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے جن لوگوں نے جانوںکے نذرانے پیش کیے، طویل طویل سفر کیے، علم شریعت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا، قرآن مجید کو سمجھنے، اسے یاد کرنے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کے لیے خوب تگ و دو کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کا عملی اور علمی دفاع کیا، چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد کا تعلق غریبوں سے رہا ہے۔
اگر آج بھی جائزہ لیا جائے تو جو لوگ جہاد کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے، شرعی تعلیمات کی تبلیغ کرنے، قرآن مجید حفظ کرنے، مساجد کی صفائی کرنے اور ان میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور خلقِ خدا کی خدمت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی اکثریتکا تعلق غربت سے ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ہم کسی مخصوص امیریا غریب فرد پر نہیں، بلکہ ماحول پر بحث کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں، جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، پس دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں عام لوگ مساکین تھے اور مرتبے والوں کو (جنت سے باہر) روک لیا گیا تھا، البتہ جہنمیوں کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ان کو جہنم میں لے جایا جائے، پھر میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں سے عام خواتین تھیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا اور اس میں فقراء کی اکثر تعداد دیکھی، پھر میں نے آگ میں اوپر سے دیکھا اور اس میں اکثر تعداد عورتوں کی دیکھی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مؤمن جنت کے دروازے پر ملیں گے، ایک مالدار ہو گا اور دوسرا فقیر، وہ دنیا میں دوست ہوں گے، پس فقیر کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور مالدار کو اتنی دیر کے لیے روک لیا جائے گا، جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر جب اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہ فقیر اس کو ملے گا تو وہ کہے گا: اے میرے بھائی! کس چیز نے تجھے روک لیا تھا؟ اللہ کی قسم! تجھے اتنی دیر کے لیے روکا گیا کہ مجھے تو تیرے بارے میں ڈر محسوس ہونے لگا، وہ کہے گا: اے میرے بھائی! مجھے تیرے بعد ایسی جگہ پر روک لیا گیا، جو بڑی ہولناک اور مکروہ تھی اور تیرے پاس پہنچنے تک مجھ سے اس قدر پسینہ نکلا کہ اگر حَمْض پودا کھانے والے ایک ہزار اونٹ اس کو پینے کے لیے آتے تو وہ سیراب ہو کر واپس جاتے۔
Takhreej
(۹۳۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، دوید مجھول، وسلم بن بشیر، قال الحسینی: مجھول، وقال ابن معین: لیس بہ بأس (انظر: ۲۷۷۰)
Explanation
فوائد:… حَمْض : یہ ایک ساق پر کھڑا ہونے والا نمکین اور ترش پودا ہوتا ہے اور مویشیوں کے لیے ایسے ہی خوش گوار چارہ ہوتا ہے، جیسے انسان کے لیے پھل، یہ پودا کھانے سے جانوروں کو پیاس لگتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث پر غور کیا جائے، ان میں کسی خاص فقیر اور کسی خاص امیر کو موضوع نہیں بنایا گیا۔
حقیقتیہ ہے کہ مال و دولت ایک نعمت ِ عظمی ہے،لیکن اس نعمت کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل کام ہے اور عملی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جوں جوں سرمایہ بڑھتا جائے گا، مزاج میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ کسی کی رائے کی روشنی میں نہیں، شرعی نصوص کی روشنی میں کیا جائے گا کہ سرمایہ دار پر کون کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں، صرف ایک مثال پر غور کریں:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فضیلت والے امتی ہیں، عظمت و منقبت میں سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، دوسرا نقطہ ذہن نشین کریں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بیس اکیس سالہ اسلام دشمنی کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، لیکنیہ بھی اللہ کریم کا فضل ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہو
گئی، ہر مسلمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بطورِ صحابی قبول کرے، لیکن جب سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اسلام دشمنی اور اذیتوں کو سامنے رکھ کر یہ تبصرہ کیا کہ اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا ، ان کی مراد یہ تھی کہ ابو سفیان قبولیت ِ اسلام سے پہلے قتل ہو جاتا تو بہتر تھا، حقیقت میں تو یہ تبصرہ شرعی اصولوں کے مطابق مناسب نہیں تھا، اسی بنا پر جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اِن فقیر صحابہ سے صرف یہ کہا کہ کیا تم یہ بات قریشکے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو (کچھ تو خیال کرو)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بات انتہائی مناسب تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فقیر صحابہ کا خیال کر کے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو وعید سناتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف اس چیز کا خیال رکھا گیا کہ کہیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فقیروں اور غریبوں کے حقوق کیسے ہیں۔ کیا آج ان کی ادائیگی کی جا رہی ہے؟ صرف صدقہ و خیرات کرنے سے یہ حق ادا نہیں ہو گا، صدقہ تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بڑا کرتے تھے، ہمارا معاشرہ اسلامی نہیں رہا، ہم اسلامی تعلیمات کو اپنے لیے باعث ِ ناز نہیں سمجھتے، اسلام صرف نماز کی ادائیگی اور حج و عمرہ کے سفروں کا نام نہیں ہے، اسلام کی سب سے بڑی خوبییہ ہے کہ دل کو ہر قسم کی آلائش سے پاک کر کے اس میں ایسی طہارت لانا چاہتا ہے کہ جس کی وجہ سے ہر اسلامی حکم کو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
لیکن ہائے افسوس! ہمارے معاشرے میں احترام و اکرام، مودّت و محبت اور دوستی و یاری کا معیار کسی کا ایمان و ایقان اور اسلام و استسلام نہیں رہا، بلکہ ہم یا تو اپنے بڑوں کییاریوں کو برقرار رکھیں گے یا پھر کسی کے مال و منال اور جاہ و منصب کو کسوٹی بنائیں گے۔ فقر و فاقہ اور تنگ دستی و بدحالی میں مبتلا لوگوں سے ملاقات کرتے وقت تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ کا اظہار نہیں ہو سکتا، لیکن جب کوئی دنیا دار اور جاگیر دار ہمارے گھرکا رخ کرے گا تو اس کا استقبال کرنے کے لیے تو گلاب کی پتیاں بکھیر دی جائیں گی،
پرتکلف انداز اختیار کیا جائے گا اور حیثیت سے بڑھ کر اس کی ضیافت کی جائے گی۔ بہرحال ایسا کرنا کسی انسان کا بحیثیت ِ انسان کوئی کمال نہیں ہے، بحیثیت ِ مسلمان تو کجا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گزرے ہوئے زمانے کی بات ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تھے، (یعنی ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی)، ایک دن وہ آدمی سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی پر داخل ہوا، جبکہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، خوش ہو جاؤ، بس ابھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رزق آیا، پھر اس شخص نے اس خاتون کو ترغیب دلائی اور کہا: تو ہلاک ہو جائے، اگر تیرے پاس کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر؟ اس نے کہا: جی بالکل، لیکن تھوڑی دیر، ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں، لیکن پھر جب بھوک کا وقفہ زیادہ ہوا تو اس نے کہا: او تو مر جائے، کھڑی ہو ، کوئی روٹی تلاش کر کے میرے سامنے پیش کر، میں تھک چکا ہوں اور مجھ پر مشکل بن رہی ہے، اس نے کہا: جی ابھی تنور کھانے پکانے کے قابل ہوتا ہے، جلدی نہ کرو، پھر جب خاوند تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا اور اس عورت نے سمجھا کہ وہ پھر بات کرے گا تو اب کی بار وہ خود سے ہی کہنے لگی کہ اگر میں کھڑی ہو کر اپنے تنور کو دیکھ ہی لوں (کیا پتہ کہ واقعی اس میں کوئی چیز پک رہی ہو)، پس وہ اٹھی اور اپنے تنور کو اس حال میں پایا کہ وہ بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی دونوں چکیاں غلہ پیس رہی تھیں، پس وہ چکی کی طرف گئی اور اس کا جائزہ لیا اور تنور سے بکری کی دستیاں نکالیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ دونوں چکیوں سے آٹا نکال لیتی اور ان کا جائزہ نہ لیتی تو وہ قیامت کے دن تک غلہ پیستی رہتیں۔
Takhreej
(۹۳۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب (انظر: ۹۴۶۴)
۔ (دوسری سند) راوی کہتا ہے: ایک آدمی اپنے اہل کے پاس آیا، جب اس نے ان کی حاجت کو دیکھا تو وہ دوسری مخلوق کی طرف نکل گیا، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو وہ چکی کی طرف گئی اور اس کو سیدھا کیا اور تنور کی طرف جا کر اس کو آگ لگائی اور پھر کہا: اے اللہ! ہمیں رزق دے، پس اس نے دیکھا کہ ٹب بھرا ہوا ہے، پھر اس نے تنور کی طرف دیکھا تو وہ بھی بھرا ہوا ہے، اُدھر سے جب خاوند لوٹا تو اس نے کہا: کیا میرے جانے کے بعد کوئی چیز ملی ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے (بہت کچھ مل گیا ہے)۔ پھر وہ چکی کی طرف گیا اور …۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو نہ اٹھاتا تو وہ قیامت کے دن تک چلتی رہتی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔
Takhreej
(۹۳۳۰) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر ابی بکر بن عیاش، فمن رجال البخاری، وھو لہ اغالیط نص علیہ بعض اھل العلم، منھم الامام احمد، وھذا الحدیث قد تفرد بہ، وقد سلف الحدیث الآن بالطریق الأول، أخرجہ البزار: ۳۶۸۷، والطبرانی فی الاوسط : ۵۵۸۴ (انظر: ۱۰۶۵۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا درج ذیل آخری جملہ دوسرے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔
۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۹۳۳۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۴۱ (انظر: ۲۳۱۵۷)
Explanation
فوائد:… تقوی و پرہیزگاری کے بغیر مالداری ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے، ہر کوئی سرمایہ دار ہونے کو اعزاز اور کامیابی کی علامت سمجھتا ہے، لیکن اس کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل بات ہے۔
اسلام اور ہدایت جیسے عظیم احسانات کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی رشک نہیں ہے، مگر دو آدمیوں پر، ایک وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو حق میں خرچ کرنے کی بھرپور توفیق دی ہو، اور دوسرا وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور دانائی سے نوازا ہو تو وہ اور اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بس تکبر اور اسراف نہیں ہونا چاہیے۔
Takhreej
(۹۳۳۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۸۱۹، وابن ماجہ: ۳۶۰۵، والنسائی: ۵/ ۷۹،وعلقہ البخاری فی اول کتاب اللباس (انظر: )
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظرآئے۔
۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔
فوائد:… خالص اور انتہائی سرخ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا اس پوشاک کے سرخ ہونے سے مراد ہلکا سرخ ہے، یا وہ جس میں کسی اور رنگ کی ملاوٹ بھی ہو۔
۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔
Takhreej
(۹۳۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… بندے کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کیسے استعمال کرنا چاہیے، ملاحظہ ہوحدیث نمبر (۹۲۳۹)
۔ ابو الاحوص کے باپ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، جو سب سے بلند ہے، دوسرا خرچ کرنے والے کا ہاتھ، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نیچے ہے اور تیسرا سوالی کا ہاتھ، جو سب سے نیچے ہے، پس تو ضرور ضرور زائد مال خرچ کر دے اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جا۔
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے تو زیادہ تر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے اور یہ مال د دولت شیریں اور سر سبز و شادات یعنی پر کشش ہے، پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور ایک دوسرے کی تعریف سے بچو، کیونکہیہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
Takhreej
(۹۳۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۴۳ (انظر: ۱۶۸۴۶)
Explanation
فوائد:… مسند احمد محقق کے لحاظ سے حدیث کی ابتدائی عبارت کا مفہوم یہ واضح ہوتا ہے: معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کم ہی کچھ بیان کرتے تھے اور جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث کم ہی بیان کرنا چھوڑتے تھے… (عبداللہ رفیق)