TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9375 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۳۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحُمّٰی مِنْ کَیْرِ جَھَنَّمَ، فَمَا اَصَابَ الْمُؤُمِنَ مِنْھَا کَانَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۸)
۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی دھونکنی ہے،جو مؤمن بھی بیمار ہو گا، یہ اس کے حق میں جہنم والے حصے کے عوض میں ہو گا۔
9375
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۳۷۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۴۶۸(انظر: ۲۲۱۶۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اگلی حدیث سے مزید وضاحت ہو رہی ہے۔

Related Chapters

145
1
Chapter: What Has Been Related About What Is Sufficient And Being Patient With It
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب
Jam e Tirmazi
2
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
4
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
5
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
6
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
7
Chapter: Encouragement to live in Al-Madinah and to be patient on bearing its distress and hardships
مدینہ میں رہنے کی ترغیب اور اس کی تنگ دستی اور سختیوں پر صبر کرنا
Sahih Muslim
8
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Patience Is To Be Observed At The First Stroke Of Calamity
باب: صبر وہ ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو
Jam e Tirmazi
11
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Patience
باب: صبر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been Related About Encouraging (To Make) The Will
باب: وصیت کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: (What Has Been Related) About Having Patience With Afflictions
باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
بَاب التَّوَكُّل وَالصَّبْر
توکل اور صبر کا بیان
Mishkat
21
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
Musnad Ahmad
23
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
24
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
25
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
26
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
27
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
Musnad Ahmad
29
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
Musnad Ahmad
30
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
باہمی صلح جوئی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
32
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
33
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
34
بخار اور اس کے علاج کا بیان
Musnad Ahmad
35
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
36
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
Musnad Ahmad
37
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
40
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
42
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
43
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
44
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
Musnad Ahmad
45
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
46
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
47
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
48
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
49
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
50
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

125
Musnad Ahmad
5009
۔ (۵۰۰۹)۔ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِیِّ، صَاحِبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ وَرَہْطًا مَعَہُ إِلَی رَجُلٍ مِنْ عُذْرَۃَ، فَقَالَ: ((إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَی فُلَانٍ فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ۔)) فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی إِذَا تَوَارَوْا مِنْہُ، نَادَاہُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِی أَثَرِہِمْ فَرَدُّوہُمْ ثُمَّ قَالَ: ((إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَیْہِ فَاقْتُلُوہُ، وَلَا تُحْرِقُوہُ بِالنَّارِ، فَإِنَّمَا یُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۳۱)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک لشکر سمیت عُذرہ قبیلے کے ایک آدمی کی طرف بھیجا اور فرمایا: اگر تم نے فلاں پر غلبہ پا لیا تو اس کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پس وہ چل پڑے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اوجھل ہونے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس بلا لیا اور پھر فرمایا: اگر تم نے اس آدمی پر غلبہ پا لیا تو اس کو قتل کرنا، آگ کے ساتھ جلانا نہیں ہے، کیونکہ آگ کا ربّ ہی ہے، جو آگ کے ذریعے عذاب دے سکتا ہے۔
Musnad Ahmad
5216
۔ (۵۲۱۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤُمِنَۃً فَھِیَ فِدَاؤُہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۴)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مومن گردن کو آزاد کیا، تو یہ جہنم سے اس کا فدیہ ہو گا۔
Musnad Ahmad
8685
۔ (۸۶۸۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: {وَہُمْ فِیہَا کَالِحُوْنَ} [المؤمنون: ۱۰۴] قَالَ: ((تَشْوِیہِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُہُ الْعُلْیَا حَتّٰی تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِہِ، وَتَسْتَرْخِی شَفَتُہُ السُّفْلٰی حَتّٰی تَضْرِبَ سُرَّتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ۔}… ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ کی تفسیریہ ہے کہ آگ انہیں بھون ڈالے گی، اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سرکے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک جائے گا، یہاں تک کہ ناف سے جا ٹکرائے گا۔
Musnad Ahmad
9045
۔ (۹۰۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ، یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰییُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۵۱)
۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
Musnad Ahmad
9395
۔ (۹۳۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھُنَّ: ((مَا مِنْکُنَّ امْرَاَۃٌیَمُوْتُ لَھَا ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ اِلَّا کَانُوْا لَھَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: الخ (مسند احمد: ۱۱۳۱۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔
Musnad Ahmad
9880
۔ (۹۸۸۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ اَخِیْہِ فِیْ الْغِیْبَۃِ، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعْتِقَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو آگ سے آزاد کر دے۔
Musnad Ahmad
10445
۔ (۱۰۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ سَیَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ اَبُوْخُزَاعَۃَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّیْ رَأَیْتُہُیَجُرُّ أَمْعَائَہُ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، یہ خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاںگھسیٹ رہا تھا۔
Musnad Ahmad
29
۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
30
۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔