TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل - نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل - Book 161 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 161 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 24 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

24 Hadith · 3 Chapters
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، یَرْفِعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرِ الْکَبِیْرَ، ویَرْحَمِ الصَّغِیْرَ، وَیَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَیَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں نہیں ہے، جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پرشفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔
Takhreej
(۹۵۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۱(انظر: ۲۳۲۹)
9544
Sahih
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۵)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْقَائِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْمُدْھِنِ فِیْھَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَالْوَاقِعُ فِیْھَا) کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فِی الْبَحْرِ فَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَسْفَلَھَا وَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَعَلَاھَا، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا یَصْعَدُوْنَ فَیَسْتَقُوْنَ الْمَائَ فَیَصُبُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا: لَا نَدَعُکُمْ تَصْعَدُوْنَ فَتُؤُذُوْنَنَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا: فَاِنَّا نَنْقُبُھَا مِنْ اَسْفَلِھَا فَنَسْتَقِیْ، قَالَ: فَاِنْ اَخَذُوْا عَلٰی اَیْدِیْھِمْ فَمَنَعُوْھُمْ نَجَوْا جَمِیْعًا وَاِنْ تَرَکُوْھُمْ غَرَقُوْا جَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۱)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور ان کو پھلانگنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے، جنھوںنے سمندری سفر کرنے کے لیے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، بعض اس کے نچلے حصے میں آ گئے اور بعض اوپر والے حصے میں، نچلے حصے والے پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے کی طرف چڑھتے تھے اور اوپر والوں پر پانی گر جاتا تھا، پس انھوں نے کہا: ہم تم کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے کہ تم اوپر چڑھتے رہو اور ہمیں تکلیف دو، یہ سن کر نیچے والوں نے کہا: تو پھر ہم پانی حاصل کرنے کے لیے نیچے سے سوراخ کر لیتے ہیں، پس اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو ایسا کرنے سے روک لیا تو وہ سارے کے سارے نجات پا جائیں گے اور اگر انھوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو سار غرق ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۹۵۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸۶(انظر: ۱۸۳۶۱)
Explanation
فوائد:… اہل علم کو ان کی ذمہ داری سمجھانے کے لیے بڑی واضح مثال بیان کی گئی ہے، جبکہ حدیث میں بیان کی گئی مثال کا انجام غرق تھا اور تبلیغ کی ذمہ داری ادا نہ کرنے والوں کا انجام ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
9545
Sahih
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیْلَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتٰی نَدَعُ الُاِئْتَمَارَ باِلْمَعْرُوْفِ وَالْنَھْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: ((اِذَا ظَھَرَ فِیْکُمْ مَاظَھَرَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذَا کَانَتِ الْفَاحِشَۃُ فِیْ کِبَارِکُمْ وَالْمُلْکُ فِیْ صِغَارِکُمْ، وَالْعِلْمُ فِیْ رِذَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۴۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۱۵ (انظر: ۱۲۹۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ تینوں نحوستیں امت ِ مسلمہ میں پائی جا رہی ہیں۔
9546
Sahih
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ اَنْ قَدْ حَفَزَہُ شَیْئٌ، فَتَوَضَّاَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ اَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُہُیَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مُرُوْا باِلْمَعْرُوْفِ، وَانْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، مِنْ قَبْلِ اَنْ تَدْعُوْنِیْ فَـلَا اُجِیْبُکُمْ، وَتَسْاَلُوْنِیْ فَـلَا اُعْطِیْکُمْ، وَتَسْتَنْصِرُوْنِیْ فَـلَا اَنْصُرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۹۵۴۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۰۴ (انظر: ۲۵۲۵۵)
Explanation
فوائد:… اس دنیا میں خیر و بھلائی کو عام کرنے کے لیے اور شرو معصیت کو ختم کرنے کے لیے انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع کیا گیا، جو بالآخر حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ختم ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بند ہو گیا، لیکن انبیائے کرام کی ذمہ داری علمائے اسلام کو سونپ دی گئی، جبکہ اس دنیا میں سعادت مند وہی ہیں، جن کو امورِ خیر کو عام کرنے اور شرّ کا وجود ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
9547
Sahih