TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9820 - مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 13 in this chapter
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۲۰)۔ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ اَصْرَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ، فَقِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَکَ دِیْنَارًا اَوْ دِرْھَمًا، فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ، صَلُّوْا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
9820
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۸۲۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۱۱۵۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔ تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس آدمی کے بارے میں دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔ اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی… اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹) اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔

Related Chapters

502
1
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
Musnad Ahmad
2
40)Chapter: [What Has Been Related] About Using a Towel after Wudu
باب: وضو کے بعد رومال سے بدن پونچھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take The Choicest Wealth For Charity
باب: صدقے میں عمدہ مال لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Zakat On Acquired Wealth Until The Hawl Has Passed
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Zakat On The Orphan's Wealth
باب: یتیم کے مال کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: There Is A Duty On Wealthy Aside From Zakat
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About A Will For Third And A Fourth
باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been related about the child the bed belong to
باب: بچہ شوہر یا مالک کا ہو گا
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About 'The Dweller Of A Town Is Not To Sell On Behalf Of The Bedouin'
باب: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Was Been Related About The False Oath To Deprive The Muslim Of His Wealth
باب: جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Rich Person's Procrastination (Paying Debt) Is Oppression
باب: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Severe Threat For One Who Is Awarded A Judgement For Something That Is Not His To Take
باب: قاضی کے فیصلے کی بنا پر دوسرے کا مال لینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Father Can Take From The Wealth Of His Son
باب: باپ بیٹے کے مال میں سے لے سکتا ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About When One's Property Has Been Broken, What Is The Judgement For Him For The Property Of The One Who Broke It?
باب: جس کی کوئی چیز توڑ دی جائے تو توڑنے والے کے مال سے اس کا تاوان لیا جائے گا
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About One Who Owned A Mahram (A Close Relative)
باب: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About: For How Much (Wealth) Is The Thief's Hand Cut Off ?
باب: کتنے مال کی چوری میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The One Who Steals From The Spoils Of War, And What Is To Be Done To Him
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Spoils Of War
باب: مال غنیمت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: The Shares Given For The Horse
باب: (مال غنیمت میں سے) گھوڑے کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Does The Slave Recieve A Share ?
باب: مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: About It being Disliked To Sell The Spoils Of War Until It Has Been Distributed
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Ghulul
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About What Is Lawful From The Wealth Of Ahl Adh-Dhimmah
باب: ذمی کے مال سے کتنا لینا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Looting Being Disliked
باب: لوٹ کے مال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Code Words
باب: شعار (یعنی جنگ میں کوڈ لفظ کے استعمال) کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Al-Fay' (Spoils of War)
باب: مال فے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Skins Of Dead Animals When They Are Tanned
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Iron Ring
باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: مال وارثوں کا ہے اور دیت عصبہ پر ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been Related About Willing One Third
باب: ایک تہائی مال کی وصیت کے جواز کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What has been Related That The Prophet (s.a.w) did not Leave A Will
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے (کوئی مالی) وصیت نہیں کی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been Related About whoever claims His Wala' to be For Other Than His Mawali, Or Claims Someone Else Other Than His Father
باب: آزاد کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو مالک بنانے اور دوسرے کے باپ کی طرف نسبت کرنے والے کا بیان​
Jam e Tirmazi
46
باب: خاتمہ والے اعمال معتبر ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What has been Related About the Prohibition of Blood and Wealth
باب: مسلمان کی جان اور مال کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About If the Son of Adam had two valleys of wealth, He Would Desire A Third
باب: آدمی کے پاس دو وادی بھر مال ہو تو وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہو گا
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
6034
۔ (۶۰۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصَلِّیْ عَلٰی رَجُلٍ عَلَیْہِ دَیْنٌ، فَأُتِیَ بِمَیِّتٍ فَسَأَلَ: ((ھَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، دِیْنَارَانَ، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَقَالَ أَبُوْقَتَادَۃَ: ھُمَا عَلَیَّیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فصَلّٰی عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۶)
۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، ایک دفعہ آپ کے پاس ایک میت لائی گئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ دو دینار کامقروض ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ اتنے میں سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! وہ میرے ذمہ ہیں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرفتوحات کے دروازے کھولے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، اس لیے اب جو قرض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اورجو مال چھوڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثاء کاہوگا۔
Musnad Ahmad
10060
۔ (۱۰۰۶۰)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ وَتَرَکَ دِیْنَارَیْنِ اَوْ دِرْھَمَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ،صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Musnad Ahmad
920
۔ (۹۲۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔أَنَّ ثُمَامَۃَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِیَّ أَسْلَمَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُنْطَلَقَ بِہِ اِلٰی حَائِطِ أَبِیْ طَلْحَۃَ فَیَغْتَسِلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((قَدْ حَسُنَ اِسْلَامُ صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۷۳)
۔ (دوسری سند) جب سیدنا ثمامہ بن اثال حنفی ؓمسلمان ہوئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ ان کو سیدنا ابو طلحہ ؓ کے باغ میں لے جایا جائے، تاکہ یہ غسل کر لیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا ہو گیا ہے۔
Musnad Ahmad
3155
۔ (۳۱۵۵) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا َٔنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ تُوُفِّی بِخَیْبَرَ، وَأَنَّہُ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) قَالَ: فَتَغَیَّرَتْ وَجُوْہُ الْقَوْمِ لِذَالِکَ فَلَمَّا رَأَی الَّذِی بِہِمْ قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ غَلَّ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا فِیْہِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْیَہُوْدِ مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۶)
سیّدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان خیبر میں فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں (مالِ غنیمت میں سے) خیانت کی ہے۔ پھر ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی ملے، جو دو درہموں کے برابر تھے۔
Musnad Ahmad
6026
۔ (۶۰۲۶)۔ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُتِیَ بِجَناَزَۃٍ فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟۔)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((نُصَلِّیْ عَلَیْہِ۔)) ثُمَّ أُتِیَ بِأُخْرٰی، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالُوْا: لا، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، ثَلَاثَۃَ دَنَانِیْرَ، قَالَ: فَقَالَ بِأَصَابِعِہِ: ((ثَلَاثَ کَیَّاتٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ أُتِیَ بِالثَّالِثَۃِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لا، قَالَ: ((فَصَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یُقَالُ لَہُ اَبُوْ قَتَادَۃَ): عَلَیَّ دَیْنُہُ،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۲۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا اس میت نے کوئی قرضہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ایک اورجنازہ لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کچھ قرض چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پھر فرمایا: کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیوں پر شمارکرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ مقروض تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ مقروض تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
Musnad Ahmad
6035
۔ (۶۰۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا شَہِدَ جَنَازَۃً سَأَلَ: ((عَلٰی صَاحِبِکُمْ دَیْنٌ؟)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ لَہُ وَفَائٌ؟۔)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، صَلّٰی عَلَیْہِ، وَإِنْ قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْفُتُوْحَ، قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ، فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی جنازہ میں شرکت کرتے توپو چھتے: تمہارے اس ساتھی پر کوئی قر ض تو نہیں ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں ہے، تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پو چھتے: تو کیا اس نے قرض پورا کرنے کے لیے کچھ مال بھی چھوڑ اہے؟ اگرلوگ کہتے کہ جی ہاں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ کہتے کہ اس نے کوئی مال نہیںچھوڑا تو آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: خود اپنے ساتھی پرنماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوں، اس لیے جوقر ض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو مال چھو ڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثا ء کا ہوگا۔
Musnad Ahmad
6500
۔ (۶۵۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ السَّائِبِ أَنَّہُ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِیْرِہِ تَحْرِیْکَ شَیْئٍ فَنَظَرْتُ فَاِذَا حَیَّۃٌ فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: مَا لَکَ؟ قُلْتُ: حَیَّۃٌ ھَاھُنَا، فَقَالَ: فَتُرِیْدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أُرِیْدُ قَتْلَہَا، فَاَشَارَ لِیْ إِلٰی بَیْتٍ فِیْ دَارِہِ تِلْقَائَ بَیْتِہِ، فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِیْ کَانَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْاَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَھْلِہِ وَکَانَ حَدِیْثَ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَاَذِنَ لَہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَأَھَّبَ بِسَلَاحِہِ مَعَہُ فَأَتٰی دَارَہُ فَوَجَدَ اِمْرَ أَتَہُ قَائِمَۃً عَلٰی بَابِ الْبَیْتِ فَأَشَارَ اِلَیْہَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتّٰی تَنْظُرَ مَا اَخْرَجَنِیْ، فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَاِذَا حَیَّۃٌ مُنْکَرَۃٌ فَطَعَنَہَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِہَا فِی الرُّمْحِ تَرْتَکِضُ، ثُمَّ قَالَ: لَا اَدْرِیْ أَیُّہُمَا کَانَ اَسْرَعَ مَوْتًا، اَلرَّجُلُ أَوِ الْحَیَّۃُ، فَأَتٰی قَوْمُہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَرُدَّ صَاحِبَنَا، قَالَ: ((اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِکُمْ۔)) مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ اَسْلَمُوْا فَاِذَا رَأَیْتُمْ اَحَدًا مِنْہُمْ فَحَذِّرُوْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوْہُ فَاقْتُلُوْہُ بَعْدَ الثَّالِثَۃِ۔)) (مسند احمد:۱۱۳۸۹)
۔ ابو سائب کہتے ہیں: میںسیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادیہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرے گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈرائو آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔
Musnad Ahmad
8339
۔ (۸۳۳۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَ نَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ، فَقَالَ: ((اَیُّکُمْیُحِبُّ أَ نْ یَغْدُوَ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِیقِ فَیَأْتِیَ کُلَّ یَوْمٍ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِزَہْرَاوَیْنِ، فَیَأْخُذَہُمَا فِی غَیْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: کُلُّنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَلَأَ نْ یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَتَعَلَّمَ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَ رْبَعٌ خَیْرٌ مِنْ أَ رْبَعٍ، وَمِنْ أَ عْدَادِہِنَّ مِنْ الْإِبِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۳)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایکیہ چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چاور سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔
Musnad Ahmad
9305
۔ (۹۳۰۵)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِذَا صَلَّی بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِھِمْ فِی الصَّلَاۃِ لِمَا بِھِمْ مِنَ الْخَصَاصَۃِ، وَھُمْ مِنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ، حَتّٰییَقُوْلَ الْاَعْرَابُ: اِنَّ ھٰؤُلائِ مَجَانِیْنُ، فَاِذَا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ انْصَرَفَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ لَھُمْ: ((لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَالَکَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَاَحْبَبْتُمْ لَوْ اَنَّکُمْ تَزْدَادُوْنَ حَاجَۃً وَفَاقَۃً۔)) قاَلَ فَضَالَۃُ: واَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۵)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔