TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو - اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 15 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 23 · 11 Hadith
۔ (۹۸۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیْہِ مَا یُحِبُّ فَاِنّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ، ثُمَّ تَلَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ، حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوتُوْا اَخَذْنَاھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُبْلِسُوْنَ۔} (مسند احمد: ۱۷۴۴۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیںکہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔
Takhreej
(۹۸۰۰) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۷۳۱۱)
Explanation
فوائد:… ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قابل قدر نعمتیں اس کے لیے وبال کے اسباب پیدا کر دیں۔ صرف مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ اعمالِ صالحہ سے اس چیزکا اندازہ ہوتا ہے۔
9800
Sahih
۔ (۹۸۰۱)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ الّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ، وَلَمْ یُقَدِّمُ مِنْہُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Takhreej
(۹۸۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی حصبۃ او ابن حصبۃ، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۳۳۴۱ (انظر: ۲۳۱۱۵)
9801
Zaeef
۔ (۹۸۰۲)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ اَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ، فَیَشْھَدُ الصَّلَاۃَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَتَتَعَذَرُّ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْھَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْھَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ، فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۰۷۸)
۔ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمر مولی غفرۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۲۲۹، ۳۲۳۰ (انظر: ۲۳۶۷۸)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جوں جوں مال بڑھتا ہے، آدمی توں توں خیر سے دور ہوتا رہتا ہے ، اکثریت کا حال یہی ہے، الا ما شاء اللہ۔
9802
Zaeef
۔ (۹۸۰۳)۔ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یُوْشِکُ اَنْ یَغْلِبَ عَلَی الدُّنْیَا لُکْعُ بْنُ لُکَعٍ، وَاَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَیْنَ کَرِیْمَتَیْنِ، وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۱)
۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا ۔
Takhreej
(۹۸۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۰۵۱ (انظر: ۲۳۶۵۱)
Explanation
فوائد:… لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔ دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
9803
Sahih
۔ (۹۸۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ مُوْسٰی قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ! لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ خَلَقْتَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہُ کَأَنْ لَّمْ یَرَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ کافر ہے، لیکن تو دنیا میں اس کو وسعت عطا کر رہا ہے، اتنے میں جہنم سے ایک دروازہ کھولا گیا اور کہا گیا: اے موسی! یہ ٹھکانہ ہے، جو میں نے اس کے لیے تیارکر رکھا ہے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم! جب سے تو نے اس بندے کو پیدا کیا، اگر اس وقت سے قیامت کے دن تک ساری دنیا اس بندے کو مل جائے اور پھر اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو گویا کہ اس بندے نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔
Takhreej
(۹۸۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم (انظر: ۱۱۷۶۷)
9804
Zaeef
۔ (۹۸۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلَکَ المُثْرُوْنَ۔))، قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: حَتّٰی خِفْنَا اَنْ یَکُوْنَ قَدْ وَجَبَتْ، فَقَالَ: اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَقَلِیْلٌ مَا ھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۱۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مالدار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ بالآخر ہم ڈر گئے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ چیز تو واجب ہو چکی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کیا، جبکہ ایسا کرنے والے کم ہیں۔
Takhreej
(۹۸۰۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ مختصرا: ۴۱۲۹ (انظر: ۱۱۴۹۱)
Explanation
فوائد:… مال داروں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کثیر مقدار میں صدقہ کریں، اس ضمن میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوانح عمری لائق مطالعہ ہے۔
9805
Sahih
۔ (۹۸۰۶)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُکَثِّرِیْنَ ھُمُ الْاَرْزَلُوْنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: ھُمُ الْاَقَلُّوْنَ) اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقِیْلَ مَاھُمْ) قَالَ: کَامِلٌ بِیَـدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے سب سے زیادہ ذلیل ہوں گے (یا ایک روایت کے مطابق) کم عمل والے ہوں گے، مگر وہ جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کرتا ہے۔ کسی نے کہا: وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کامل راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا کہ وہ مال دائیں طرف، بائیں طرف اور اپنے سامنے ڈالتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۸۳۲۳)
9806
Sahih
۔ (۹۸۰۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَمَا اَخْشٰی الْخَطَاَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمَـدَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۲/۵۳۴، وابن حبان: ۳۲۲۲ (انظر: ۸۰۷۴)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ فقر کی مضرّت ، غِنٰی کی مضرّ ت سے کم ہے، کیونکہ فقر کی تکلیف کا تعلق دنیا سے ہے اور غِنٰی اکثر و بیشتر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَلَّا ٓ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی} … ہر گز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی وہ ہوگیا ہے۔ (سورۂ علق: ۶، ۷)
9807
Sahih
۔ (۹۸۰۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْاَخْرَمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا الضَّیْعَۃَ فَتَرْغَبُوْا فِیْ الدُّنْیَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَبِرَاذَانَ مَابِرَاذَانَ! وَبِالْمَدِیْنَۃِ مَابِالْمَدِیْنَۃِ! (مسند احمد: ۴۰۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟
Takhreej
(۹۸۰۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابویعلی: ۵۲۰۰، وابن حبان: ۷۱۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۴۱ (انظر: ۴۰۴۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ کوئی مسلمان مال و دولت کی کثرت کی خاطر اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ امورِ دین سے ہی غافل ہو جائے ، جیسا کہ اکثر مال داروں کو دیکھا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حدیث کے آخر میں یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انھوں نے خود تو دو جائدادیں بنا لی ہیں، ایک مدینہ میں ہے اور ایک براذان ہے۔
9808
Sahih
۔ (۹۸۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَیْئٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّبَقُّرِ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ، فَقَالَ اَبُوْحَمْزۃَ وَکَانَ جَالِسًا عِنْدَہُ: نَعَمْ، حَدَّثَنِیْ اَخْرَمُ الطَّائِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَکَیْفَ بِاَھْلِ بَرَاذَانَ، وَاَھْلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَھْلٍ بِکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاَبِی التَّیَّاحِ، مَاالتَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْـکَـْثرَۃُ۔ (مسند احمد: ۴۱۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا: کثرت۔
Takhreej
(۹۸۰۹) تخریج: ھذا الحدیث لہ اسنادان، وکلاھما ضعیف، علتھما الاضطراب والجھالۃ، أخرجہ الطیالسی: ۳۸۰ (انظر: ۴۱۸۱)
9809
Zaeef
۔ (۹۸۱۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخْبَرَہُ، اَنَّ عَمْرَوبْنَ عَوْفٍ، وَھُوَ حلِیْفُ بَنِیْ عَامِرٍ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَھِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْبَرَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ اِلَی اْلبَحْرَیْنِ،یَاْتِیْ بِجِزْیَتِھَا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ صَالَحَ اَھْلَ الْبَحْرَیْنِوَاَمَّرَ عَلَیْھِمُ الْعَلائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوْا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآھُمْ، فَقَالَ: ((اَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ اَنَّ اَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَائَ بِشْیْئٍ؟)) قَالُوْا :اَجَلْ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((فَاَبْشِرُوْا، وَاَمِّلُوْا مَایَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا، وَتُلْھِیْکُمْ کَمَا اَلْھَتْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۶)
۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جائے اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔
Takhreej
(۹۸۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۶۱ (انظر: ۱۷۲۳۴)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں ہے کہ دنیوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں کو اس نعمت نے دھوکہ دیا ہے، لیکن سرمایہ دار اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۲۶۳، ۹۲۷۵)۔
9810
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.