TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان - مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 23 · 13 Hadith
۔ (۹۸۱۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَسْاَلُہُ، فَجَعَلَ یَنْظُرُ اِلٰی رَاْسِہِ مَرَّۃً وَاِلٰی رِجْلَیْہِ اُخْرٰی، ھَلْ یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ الْبُؤْسِ شَیْئًا ، ثُمَّ قَالَ لَہُ عُمَرُ:کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ: اَرْبَعُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ لَابْتَغِیَ الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، فَقَالَ عُمَرَ: مَاھٰذَا؟ فَقُلْتُ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَا اُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ: فَمُرْ بِنَا اِلَیْہِ قَالَ: فَجَائَ اِلٰی اُبَيٍّ، فَقَالَ: مایَقُوْلُ ھٰذَا؟ قَالَ اُبَيٌّ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَفَاُثْبِتُھَا؟ قَالَ: فَاَثْبِتْھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۸)
۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوںنے کہا: جی کر دو۔
Takhreej
(۹۸۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۱۱۱۱)
9811
Sahih
۔ (۹۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مَالًا، لَاَحَبَّ اَنَّ لَہُ اِلَیْہِ مِثْلَہُ، وَلَا یَمْلَاُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَاللّٰہُ یَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَـلَا اَدْرِیْ اَمِنَ الْقُرْآنِ ھُوَ اَمْ لَا؟ (مسند احمد: ۳۵۰۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔
Takhreej
(۹۸۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۳۶، ۶۴۳۷، ومسلم: ۱۰۴۹ (انظر: ۳۵۰۱)
9812
Sahih
۔ (۹۸۱۳)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ شَیْئًا اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ؟ قَالَتْ: کَانَ اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ، تَمَثَّلَ ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَایَمْلَاُ فَمَہُ اِلَّا التُّرْابُ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ اِلَّا لِاِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، وَیَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے کی توبہ کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۳) تخریج: ضعیف الا قولہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَاُ فَمَہُ اِلَّا التُّرْابُ فانہ صحیح بالشواھد، مجالد ضعیف، أخرجہ البیھقی بی شعب الایمان : ۱۰۲۸۰، والبزار فی مسندہ : ۳۶۴۰ (انظر: ۲۴۲۷۶)
9813
Zaeef
۔ (۹۸۱۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فَـلَا اَدْرِیْ اَشَیْئٌ نَزَلَ عَلَیْہِ اَمْ شَیْئٌیَقُوْلُہ؟ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغٰی لَھُمَا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۵۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۴۸(انظر: ۱۲۲۲۸)
9814
Sahih
۔ (۹۸۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنّٰی مِثْلَہُ، ثُمَّ تَمَنّٰی مِثْلَہُ حَتّٰییَتَمَنّٰی اَوْدِیَۃً، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۳۶۳۶، وابویعلی: ۱۸۹۹، وابن حبان: ۳۲۳۲(انظر: ۱۴۶۶۵)
9815
Sahih
۔ (۹۸۱۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقَدْ کُنَّا نَقْرَاُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی اِلَیْھِمَا آخَرَ، وَلَا یَمْلَاُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، ویَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۹۵)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۰۳۲(انظر: ۱۹۲۸۰)
Explanation
فوائد:… انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔
9816
Sahih
۔ (۹۸۱۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْشَیْخُیَکْبَرُ، وَیَضْعَفُ جِسْمُہُ، وَقَلْبُہُ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَیْنِ، طُوْلِ العُمُرِ وَالْمَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔
Takhreej
(۹۸۱۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ ومختصرا منہ البخاری: ۶۴۲۰، ومسلم: ۱۰۴۶ (انظر: ۸۴۲۲)
9817
Sahih
۔ (۹۸۱۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَھْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقٰی مِنْہُ اثْنَتَانِ، اَلْحِرْصُ، وَالْاَمَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔
Takhreej
(۹۸۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۲۱، ومسلم: ۱۰۴۷ (انظر: ۱۲۱۴۲)
Explanation
فوائد:… ادھیڑ عمری میں بھییہ شعور نہیں آتا کہ دنیائے فانی سے روانگی کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے، لہٰذا ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول ہو جانا چاہیے، بس دنیا کی طرف سے ملنے والا پروٹوکول اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی اس کا چسقا نہیں بھول پاتا۔
9818
Sahih
۔ (۹۸۱۹)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ اَفَسَدَلَھَا، مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۳۷۶(انظر: ۱۵۷۸۴)
Explanation
فوائد:… مال اور شرف کی حرص بندے کے دین میں فساد برپا کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ جائز طریقے سے دنیوی مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اندر اتنی عاجزی و انکساری پیدا کر لے کہ وہ اس چیز کا طلبگار نہ رہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں۔
9819
Sahih
۔ (۹۸۲۰)۔ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ اَصْرَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ، فَقِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَکَ دِیْنَارًا اَوْ دِرْھَمًا، فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ، صَلُّوْا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Takhreej
(۹۸۲۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۱۱۵۵)
Explanation
فوائد:… جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔ تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس آدمی کے بارے میں دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔ اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی… اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹) اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
9820
Sahih
۔ (۹۸۲۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((یَاعَبْدَ اللّٰہِ! کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ، وَاعْدُدْ نَفْسَکَ فِیْ الْمَوْتٰی۔)) (مسند احمد: ۴۷۶۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کے ایک حصے کو پکڑا اور فرمایا: اے عبدا للہ! دنیا میں ایسے ہو جا، جیسے تو اجنبییا مسافر ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔
Takhreej
(۹۸۲۱) تخریج: صحیح لغیرہ ، أخرجہ الترمذی: ۲۳۳۳، وابن ماجہ: ۴۱۱۴، وقولہ کن فی الدنیا کأنک غیریب او عابر سبیل أخرجہ البخاری: ۴۶۱۶ (انظر: ۴۷۶۴)
Explanation
فوائد:… ذہن نشین رہے کہ یہ مثال اس دور میں پیش کی گئی جب سفر کرنے کا سب سے بڑا سبب اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے تھے، یہ سواریاں دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مہینوں کی مسافتیں پیدل طے کرنا پڑتی تھیں۔ بحری سفر کرنے والے کشتیاںیا پانی میں نہ ڈوبنے والی کوئی چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ دور دور کے سفروں میں سرائے اور ہوٹلوں کی سہولتیں دستیاب نہ تھیںیا بہت کم تھیں۔ مسافروں کو بعض سفروں میںپینے کا پانی بھی اپنے ہمراہ اٹھانا پڑتا تھا۔ پڑاؤ کے دوران چٹانوں، ریت اور مٹی پر سونا پڑتا تھا۔ پگڈنڈیوں، صحراؤں اور کچی سڑکوں پر مشتمل راستے ہوتے تھے، بلکہ بسا اوقات مسافروں کو راستہ بھی خود ایجاد کرنا پڑتاتھا۔ یہ انداز سفر اور طرزِ حیات عہدِ قدیم سے اس سائنسی دور، جس کی ابتدا تقریباً دو صدیاں پہلے ہوئی، تک جاری رہا۔ احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں مستقبل میں جس دور کی پیشین گوئی کیگئی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بالآخر یہ جدید دور ختم ہو جائے اور از سرِ نو پرانے والا دیسی زمانہ شروع ہو جائے گا۔ ممکن ہے کہ موجودہ ترقییافتہ دور میں ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں اور عمدہ لائنوں اور شاہراہوں پر ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹر کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے اور دورانِ سفر جگہ جگہ پر عمدہ ریسٹورینٹ، سرائے اور ہوٹلیں پانے والے اس مثال کی دقت اور مقصود کو نہ سمجھ پائیں۔ اگرچہ آج بھی مسافر تھوڑا سا سازو سامان اور معمولی نقدی کے ہمراہ سفر کرنے کا قائل ہے، ہر کوئی اپنے شہر تک پہنچنے کے لیے جلدی کرتا ہے، ایک سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہوتے، ہر مسافر دوسرے ہر فرد سے خوف اور وحشت محسوس کرتا ہے، ہر کسی کو ڈاکوؤں، چوروں اور حادثات کا خطرہ ستائے رکھتا ہے اور انہی وجوہات کی بنا پر دورانِ سفر اچھے اور صاف ستھرے لباس ، وضع قطع اور میک اپ وغیرہ کرنے پر وہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کا اہتمام حضر میں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض خواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران حال و بے حال اور اپنے آپ سے تنگ ہوتے ہیں، لیکن جونہی ان کی منزل قریب آ رہی ہوتی ہے، وہ اپنے لباس اور جسم کو سنوارنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں یہی نقطہ سمجھایا گیا کہ کسی مسافر کا دل سفر میں ، وہ جیسا بھی ہو، نہیں لگتا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک دنیا کا ایک سفر سمجھیں اور اس سفر میں دل نہ لگائیں اور اس کو قرآن و حدیث کی ہدایات کے مطابق عبور کر کے اپنے اصلی وطن جنت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ حافظ ابن حجرl نے کہا: اَوْ بمعنی بَلْ ہے، یعنی: دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی ہو، بلکہ مسافر ہو۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عابد و زاہد کو پہلے اس اجنبی اور پردیسی سے تشبیہ دی، جس کی کوئی جائے پناہ اور گھر نہیں ہوتا، پھر بات کو آگے بڑھایا اور مسافر سے تشبیہ دی، کیونکہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ اجنبی آدمی کو پر دیس میں رہائش کے لیے کوئی نہ کوئی گھر مل ہی جاتا ہے، لیکن جس مسافر نے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنا ہو، جبکہ اس کے راستے میں ہلاکت گاہ وادیاں، بے آب و گیاہ مہلِک صحرا اور ڈاکو اور چور بھی ہوں، تو اس کی صورتحال یہ ہو گی کہ وہ دورانِ سفر کہیں بھی لمحہ بھر کے لیے قیام نہیں کرے گا، اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کرتے تھے: اگر شام ہو جائے تو صبح کی انتظار نہ کیا کر اور اگر صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کیا کر اور بیماری کے لیے اپنی صحت میں سے اور موت کے لیے اپنی زندگی میں سے کچھ لے لے۔ نیز وہ یہ بھی کہا کرتے تھے: اپنے آپ کو قبرستان والے مردوں میں شمار کر۔ معنییہ ہوا: اے مسافر! چلتا رہ اور سست نہ پڑ، اگر تو نے سستی کی توراستے میں ہی رہ جائے گا، مہلک وادیوں میں ہلاک ہو جائے گا (اور اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ پائے گا)۔ ابن بطال نے کہا: اجنبی اور پردیسی آدمی دوسرے لوگوں سے بے تکلفی اختیار نہیں کرتا، بلکہ وہ ان سے وحشت زدہ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کم تر اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔ مشکل ہی ہے کہ دورانِ سفر اسے کوئی ایسا آدمی مل جائے، جس سے وہ مانوس ہو جائے۔ یہی معاملہ مسافر کا ہے کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق سفر پر روانہ ہوتا ہے، اپنے ساتھ کم سے کم وزن والا سامان لے کر جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سواری ہونی چاہیے کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ بے تکلفی اختیار نہ کرے، اس سے زیادہ مانوس نہ ہو، اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سامانِ دنیا ہونا چاہیے کہ کسی کے سامنے دست ِ سوال پھیلائے بغیر دنیا کے ایام بیت جائیں)۔ اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنی چاہیے اور گزر بھر، ضرورت بھر اور بقدر کفاف چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس طرح مسافر کوصرف اتنے ساز و سامان اور زادِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس سے اس کا سفر طے ہو جائے اور وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے، اسی طرح مومن کو اتنے دنیوی سازو سامان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کا سفر طے ہو جائے۔ دوسرے شارحین نے کہا: یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے، اس کو حقیر سمجھنے اور اس میں ضرورت بھر اسبابِ زندگی پر قناعت کرنے کی بنیاد ہے۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ دنیا کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرو، اس کو اپنا (مستقل) وطن نہ سمجھو ، اس میںاپنی بقا کے بارے میں مت سوچو اور اس سے اتنا تعلق رکھو، جتنا کہ کسی دوسرے وطن میں پردیسی آدمی کا ہوتا ہے۔ بعض نے کہا: مسافر اپنے وطن تک پہنچنے کے لیے راستے پر چل رہا ہوتا ہے۔ دنیا میں بندہ بھی اس آدمی کی طرح ہے، جس کو اس کے آقا نے کسی حاجت کے لیے دوسرے وطن میں بھیجا ہو، اس کی صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ حاجت پوری کر کے اپنے وطن کی طرف لوٹنے میں جلدی کرتا ہے اور کسی دوسری غیر متعلقہ چیز میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا، (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ اس کے آقا یعنی ربّ تعالیٰ نے اسے دنیا میں توشۂ آخرت کی تیاری کے لیے بھیجا، اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے دورانیے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال ذخیرہ کرے اور پھر یہاں سے روانہ ہو کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جائے)۔ کسی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ جس طرح پردیسی آدمی غیر وطن میں عارضی سکونت اختیار کرتا ہے،اپنے مقصد کی تکمیل کی کوشش میں رہتا ہے اور اس کا دل اپنے وطن کے ساتھ معلّق رہتا ہے اور واپس جانے کی سوچتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں آخرت کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے اصل وطن (جنت) کی طرف لوٹ جانے کی سوچ میں رہے۔ یا جس طرح مسافر کسی سرائے میں مستقل سکونت اختیار نہیں کرتا، بلکہ اپنے شہر پہنچنے کے لیے سفر جاری رکھتا ہے، اسی طرح مومن دنیا میں اپنے وطن جنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اعمال صالحہ کا سفر جاری رکھتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۲۸۱) اللہ تعالیٰ شارحین احادیث ِ نبویہ کی مساعی ٔ جمیلہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت نازل فرمائے۔ (آمین)
9821
Sahih
۔ (۹۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا غَزَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْبَرَ فَاَصَابَہُ مِنْ سَھْمِہِ دِیْنَارَانِ، فاَخَذَھُمَا الْاَعْرِابِیُّ فَجَعَلَھُمَا فِیْ عَبَائَ تِہِ وَخَیَّطَ عَلَیْھِمَا وَلَفَّ عَلَیْھِمَا، فَمَاتَ الْاَعْرَابِیُّ، فَوَجََدُوْا الدِّیْنَارَیْنِ، فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میںجہاد کیا، جب اس کو اپنے حصے کے دو دینار ملے تو اس نے ان کو اپنی چادر میں رکھا اور سلائی کر کے لپیٹ دیا اور پھر وہ بدّو فوت ہو گیا، جب لوگوں کو اس کے دینار ملے اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، والاحادیث فی ھذا المعنی ثابتۃ،منھا الحدیث الآتی (انظر: ۸۶۷۸)
9822
Zaeef
۔ (۹۸۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَحِقَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدٌ اَسْوَدُ فَمَاتَ فَاُوْذِنَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْظُرُوْا ھَلَ تَرَکَ شَیْئًا؟)) فَقَالُوْا: تَرَکَ دِیْنَارَیْنِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا اور پھر فوت ہو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا وہ کوئی چیز چھوڑ کر فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی اس نے دو دینار چھوڑے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۲، وابویعلی: ۴۹۹۷ (انظر: ۳۸۴۳)
Explanation
فوائد:… ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۸۲۰)
9823
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.