قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا آپ غیرت نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور یہ اس کی غیرت کا ہی تقاضا ہے کہ اس نے گندے کاموں اور بدکاریوں سے منع کر دیا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی غیرت کرتاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مؤمن وہ کام نہ کرے،جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن، مؤمن، غیرت کرتاہے، غیرت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت کرتاہے۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی دیکھ لیا تو میں اس پر سیدھی تلوار چلاؤں گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کی غیرت سے تعجب ہو رہا ہے، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی گندے کاموں اور بدکاریوں کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو عذر زیادہ پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰنے رسولوں کو خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
۔ (دوسری سند) عبید اللہ قواریری کہتے ہیں: یہ حدیث جہمیہ پر سب سے زیادہ سخت ہے: اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو۔
Takhreej
(۹۶۶۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جہمیہ سے مراد جہنم بن صفوان کے پیروکار ہیں، ان کا ایک نظریہیہ تھا کہ انسان نہ کسی چیز پر قدرت رکھتا ہے اور نہ وہ استطاعت سے متصف ہے، بلکہ وہ اپنے اقوال و افعال میں تقدیر کے سامنے مجبور ہے، اس معاملے میں اس کا ذاتی اختیار کوئی نہیں ہے۔
جہمیہ انسان کو مجبور محض سمجھتے ہیں۔ اگر آدمی مجبور محض ہو تو نہ اس کی تعریف ہوسکتی ہے اور نہ اسے جنت کی خوشخبری دینے کا کوئی فائدہ ہے۔ جبکہ حدیث میں اللہ کی طرف سے جنت کے وعدہ کا تذکرہ ہے۔ اس لیےیہ حدیث ان کے جبریہ نظریہ کے سخت خلاف ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
۔ سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے، جو قریب آ گئی ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلقہ بنا کر دکھایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جب کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی ہو ں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں جب برائی عام ہو جائے گی۔
فوائد: … یاجوج و ماجوج کا ظہوراس وقت ہو گا، جب عیسی علیہ السلام دوبارہ زمین میں اتریں گے، سوراخ کھلنے سے مراد یہ ہے کا یاجوج مأجوج کا زمانہ قریب آ چکا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب زمیں میں برائی ظاہر ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب زمین والوں پر نازل کر دے گا۔ سیدہ نے کہا: اور ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، لیکن پھر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۹۶۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام المرأۃ التی روی عنھا الحسن بن محمد، ولاضطرابہ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۲۳، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۸۹۱ (انظر: ۲۴۱۳۳)
Explanation
فوائد:… جب کسی معاشرے میں شرّ کی مقدار بڑھ جائے تو چند افراد کی نیکیوں کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ پوری قوم کو ہلاک کر دیا جاتا ہے، ہاں نیکوں کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پا لیں گے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر، اس کو لکھنے والے پر، تل بھرنے والی پر، تل بھروانے والی پر، حلالہ کرنے والے پر، جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور صدقہ یا زکوۃ روکنے والے پر لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے بھی منع کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۶۶۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۰۷۷، ابن ماجہ: ۱۹۳۵، والترمذی: ۱۱۱۹ (انظر: ۸۴۴)
Explanation
فوائد:… تل بھرنے سے مراد خواتین کا اپنے جسم میں تل بھرنا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے۔ تین طلاق والی عورت کو اس کے خاوند کے لیے حلال کرنے کی نیت سے جو نکاح کیا جاتا ہے، اس کو حلالہ کہتے ہیں، جو کہ لعنتی عمل ہے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے جو باتیں ارشاد فرماتے تھے، ان میں ایک بات یہ ہوتی تھی: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جواباً اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق بیان کرنے والے بیان کرتے، ایک صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے کہا: گزشتہ رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا اور کہا: چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا، ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا آدمی بڑا پتھر لے کر اس کے پاس کھڑا تھا، وہ اس کو یہ بڑا پتھر مارتا تھا اور اس کا سر کچل دیتا تھا، پتھر لڑھک جاتا تھا، جب وہ اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور واپس آتا تو اس آدمی کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو چکا ہو تا تھا، پھر وہ اس کے ساتھ وہی کچھ کرتا، جو پہلی دفعہ کیا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں ان کے ساتھ چل پڑا، پھر ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا شخص لوہے کا کنڈا لے کر کھڑا تھا، وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا اور اس کی باچھ، نتھنوں اور آنکھوں کو گدی تک چیر دیتا، پھر وہ چہرے کی دوسری جانب جاتا اور یہی کاروائی کرتا، اتنے میں پہلی جانب صحیح ہو جاتی، پھر وہ اس کی طرف لوٹ آتا اور پہلی بار کی طرح ان کو پھر پھاڑ دیتا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں چل پڑا، پھر ایک تنور جیسی چیز کے پاس پہنچے، اس میں شور و غل اور آوازیں تھیں، پس میں نے اس میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ننگے تھے، ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ اٹھتا تھا، تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: یہکون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک نہر کے پاس پہنچے، خون کی طرح اس کا رنگ سرخ تھا، اس میں ایک آدمی تیر رہا تھا، وہ تیرتا تیرتا ایسے آدمی کے پاس آتا، جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے، جب وہ اس کے پاس پہنچتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا، پھر وہ تیرنا شروع کر دیتا اور پھر لوٹ آتا اور جب بھی وہ لوٹ کر آتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ میں پتھر ٹھونس دیتا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایسے آدمی کے پاس پہنچے جو بدترین شکل کا تھا، یوں سمجھیں کہ اگر تو دیکھتا تو اس کو سب سے مکروہ شکل والا پاتا، اس کے پاس آگ تھی، وہ آگ کو سلگا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم آگے چلے اور سبز گھاس والے ایک خوبصورت باغ میں پہنچے، اس میں موسم بہار کا ہر رنگ کا پھول تھا، اس باغ کے درمیان میں ایک اتنا دراز قد آدمی کھڑا تھا کہ قریب تھا کہ اس کے لمبے قد کی وجہ سے میں اس کا سر نہ دیکھ سکوں، اس کے ارد گرد بہت خوبصورت اور حسین بچے تھے، میں نے ان سے کہا: یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک بڑے اور پھیلے ہوئے درخت کے پاس پہنچے، وہ بہت بڑا اور خوبصورت درخت تھا، انھوں نے مجھے کہا: اس پر چڑھو، پس ہم اس میں چڑھے اور ایک ایسے شہر کے پاس پہنچے، جس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک چاندی کی، ہم شہر کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پس ہمارے لیے وہ دروازہ کھولا گیا، ہم اس میں داخل ہوئے، اس میں جو لوگ تھے، ان کا کچھ حصہ بڑا خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، پھر ان دونوں نے ان سے کہا: چلو اور اس نہر میں گر پڑو، ایک چھوٹی سی رواں انتہائی سفید نہر تھی، پس وہ گئے، اس نہر میں داخل ہوئے اور جب لوٹے تو ان کی بد صورتی ختم ہو چکی تھی اور وہ مکمل طور پر بہت خوبصورت بن چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ عدن جنت ہے اور یہ آپ کا مقام ہے، پھر میری نگاہ اوپر کو اٹھی، وہ سفید بادل کی طرح کا محل تھا، انھوں نے مجھے کہا: یہ آپ کا مقام ہے، میں نے ان سے کہا: اللہ تمہیں برکت دے، مجھے چھوڑو، تاکہ میں اس میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: اب نہیں، بہرحال آپ نے ہی اس میں داخل ہونا ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: آج رات سے تو میں نے بڑی عجیب چیزیں دیکھیں، اب یہ تو بتلاؤ کہ یہ چیزیں کیا تھیں؟ انھوں نے کہا: اب ہم آپ کو بتلانے لگے ہیں، جس آدمی کا سر کچلا جا رہا تھا، وہ ایسا شخص تھا، جس نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو چھوڑ دیا اور فرضی نمازوں سے بھی سویا رہا، جس آدمی کی باچھ، آنکھوںاور نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، وہ اپنے گھر میں جھوٹ بولتا اور وہ دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچ جاتا، جو ننگے مرد و زن کنویں جیسیچیز میں نظر آ رہے تھے، وہ زناکار تھے، جو آدمی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر ٹھونسا جا رہا تھا، وہ سود خور تھا، آگ کے پاس جو مکروہ شکل والا آگ کو سلگا رہا تھا، وہ جہنم کا منتظم داروغہ تھا، اس کا نام مالک ہے، باغ میں دراز قد آدمی ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد جو بچے نظر آ رہے تھے، وہ وہ تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے تھے۔ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی، مشرکوں کے بچے بھی تھے، وہ لوگ جن کا کچھ حصہ خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، وہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے نیک عمل بھی کیے تھے اور برے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا۔
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور اپنے چہرے کے ساتھ ہمارے طرف متوجہ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا، اس دن ہم نے کہا: جی ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے، دو آدمی میرے پاس آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک کھلی اور ہموار زمین کی طرف لے گئے، پھر مجھے ایک آدمی کے پاس سے گزارا، …۔ راوی نے سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: پس میں ان کے ساتھ چلا اور دیکھا کہ تنور کے ڈیزائن پر بنا ہوا ایک گھر تھا، اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا تھا، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی تو وہ اتنے بلند ہوتے تھے کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں گے، لیکن جب وہ آگ بجھتی تو وہ نیچے پہنچ جاتے۔ مزید اس روایت میں ہے: پس میں چلا، خون کی ایک نہر تھی، اس میں ایک آدمی تھی اور نہر کے کنارے پر ایک شخص تھا اور اس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے، پس نہر والا آدمی جب متوجہ ہوتا اور نکلنے کے قریب ہو جاتا تو وہ آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا، جس کی وجہ سے وہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاتا۔ مزید اس میں ہے: پس میں آگے چلا اور دیکھا کہ سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بڑا درخت تھا، اس کے تنے کے پاس ایک بزرگ اور اس کے ارد گرد بچے تھے اور ان کے قریب ایک آدمی تھا، اس کے سامنے آگ تھی، وہ اس کو سلگا رہا تھا، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا، وہ بہت خوبصورت گھر تھا، اس میںبزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا کر آگے لے گئے اور ایک ایسے گھر میں داخل کر دیا، جو پہلے گھر کی بہ نسبت زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بزرگ اور بچے تھے۔ پھر مجھے کہا: جس گھر میں آپ پہلے داخل ہوئے، وہ عام مؤمنوں کا گھر تھا اور دوسرا شہداء کا گھر تھا اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: اپنے سر کو بلند کرو، پس میں نے اپنا سر بلند کیا، بادلوں کی طرح کی چیز نظر آئی، پھر انھوں نے مجھے کہا: اور وہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا: تو پھر مجھے چھوڑو، تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: جی ابھی تک آپ کے ذمے کچھ عمل باقی ہیں، آپ نے ان کو پورا نہیں کیا، اگر آپ ان کو پورا کر چکے ہوتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔
Takhreej
(۹۶۷۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محرمات سے بچے اور کثرت سے استغفار کرے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔
Takhreej
(۹۶۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، دراج بن سمعان ضعیف فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۷۸، وابن حبان: ۵۶۷۸ (انظر: ۱۱۲۳۰/۱)
Explanation
فوائد:… مشاہدہ یہی ہے کہ کسی بندے کا نیک عمل مخفی نہیں رہتا، وہ عامل کی زندگی میں لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے، یا اس کی وفات کے بعد، جب نیک شخصیات کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کو اس کی برائیوں کا علم نہ ہو سکے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات کو ترک کرنا اور محرمات وممنوعات کا ارتکاب کرنابغاوت اور سرکشی کہلاتاہے۔ جو اونٹ جس مالک کا کھاتا ہے اگر اسی کے سامنے بدکنا شروع کر دے تو اس کا کیا علاج کیا جاتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ جو بچہ اپنے غیرت مند اور خیرخواہ باپ کے منصوبوں پر کراس لگاتا ہے، اسے کون سا انجام بھگتنا پڑتا ہے، ہر ایک کے لیے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھییہی ہے کہ جو بھی اس کے قوانین سے پہلو تہی اختیار کرے گا، اسے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی، لیکن جب سزا کا وقت آئے گا تو اس وقت کا پچھتاوا، اس وقت کاافسوس اور اس وقت کی حسرت کچھ کام نہ آئے گی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدبخت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کسی نے کہا: بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نہ کوئی اطاعت کا کام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نافرمانی کو ترک کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۶۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل ابن لھیعۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۹۸ (انظر: ۸۵۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
فوائد:… یہ حدیث زانی، شرابی، چور اور ڈاکو کے حق میں سخت وعید پر مشتمل ہے، مسلمانوں کو ایسے جرائم سے گریز کرنا چاہیے، جن کی بنا پر ایمان کی نفی کر دی جاتی ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹)… جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔
فوائد:… کبیرہ گناہ: ہر وہ گناہ جس کو شریعت میں کبیرہ قرار دیا گیا ہو، یا جس پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عذاب، غضب اور لعنت کی دھمکی دی ہو، یا جس پر دنیا میں حد لاگو ہوتی ہو، یا جس سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہو یا جس کے مرتکب کو فاسق قرار دیا گیا ہو۔
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔
فوائد:… جھوٹی گواہی کی مذمت، قباحت اور حرمت میں تاکید پیدا کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا گیا، جھوٹی گواہی خود بھی ایک جرم ہے اور کئی جرائم کا سبب بنتی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔
Takhreej
(۹۶۷۷) تخریج: صحیح دون قولہ: وما حلف حالف باللہ یمینا … وھذا اسناد ضعیف، ہشام بن سعد ضعّفہ یحییٰ القطان و احمد وابن معین والنسائی و ابن سعد وابن حبان وغیرھم أخرجہ الترمذی: ۳۰۲۰ (انظر: ۱۶۰۴۳)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کا عظیم نام لے کر جھوٹی قسم اٹھانے والا اپنے مذموم مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)
فوائد:… زنا کبیرہ گناہ اور بے غیرتی تو ہے ہی سہی، لیکن جب یہی فعل زیادہ حرمت والی سے کیا جائے گا تو اس کی قباحت و شناعت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسے ہمسائے کی بیوی۔ ایک ہمسائے کو دوسرے ہمسائے پر حسن ظن ہوتا ہے، اس بنا پر وہ اس کو اپنی عزتوں کا محافظ سمجھتا ہے اور ہمسائیوں کے حقوق بھی زیادہ ہیں، لیکنیہ برا فعل کرنے والے بدبخت نے کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھا۔