TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان

Chapter 3 of انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 30 · 6 Hadith
۔ (۱۰۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوْحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقَیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ھَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُوْلُ : نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ، فَیُقَالُ لَھُمْ: ھَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: مَا اَتَانَا مِنْ نَذِیْرٍ اَوْ مَا اَتَانَا مِنْ اَحَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوْحٍ: مَنْ یَشْھَدُ َلکَ فَیَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُمَّتُہُ قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلَہُ تَعَالٰی: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: اَلْوَسَطُ اَلْعَدْلُ قَالَ: فَیُدْعَوْنَ فَیَشْھَدُوْنَ لَہُ بِالْبَلَاغِ قَالَ: ثُمَّ اَشْھَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔
Takhreej
(۱۰۳۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۹، ۴۴۸۷ (انظر: ۱۱۲۸۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } … اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے (سورۂ بقرہ: ۱۴۳) یعنی تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہی دو گے، کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں،یہاں پر وَسَطًا کا معنی بہتر اور عمدہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط ِ عرب تھے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات پر یقین کر کے یہ شہادت دے گی کہ واقعی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، ایمان و ایقان ہو تو ایسا۔
10322
Sahih
۔ (۱۰۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفَوْعًا: ((اِنَّ اَھْلَ الْمَوْقِفِ یَاْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَانُوْحُ! اَنْتَ اَوَّلُ الرُّسُلِ اِلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ وَسَمَّاکَ اللّٰہُ عَبْدًا شَکُوْرًا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اِلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَیَقُوْلُ نُوْحٌ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاِنَّہُ کَانَتْ لِیْ دَعْوَۃٌ عَلٰی قَوْمِیْ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میدان حشر والے لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شکر گزار بندہ کہا ہے، پس اپنے ربّ کے ہاں ہمارے لیے سفارش تو کر دو، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنا غصے میں آئے گا، مجھے ایک دعا کا حق تھا، لیکن وہ میں نے اپنی قوم پر پورا کر لیا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، جاؤ تم چلے جاؤ کسی اور کے پاس۔
Takhreej
(۱۰۳۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴(انظر: ۹۶۲۳)
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل حدیث ہے، جس کے مطابق اہل موقف مختلف رسولوں کے پاس جائیں گے، تاکہ وہ حساب وکتاب شروع ہونے کی سفارش کریں، بالآخر محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ سے یہ سفارش کریں گے۔
10323
Sahih
۔ (۱۰۳۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ (یَعْنِیْ نُوْحًا): اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّیْ دَعَوْتُ بِدَعْوَۃٍ اَغْرَقَتْ اَھْلَ الْاَرْضِ وَاِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۲۴) تخریج: حسن لغیرہ، وھو حدیث طویل، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۱۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۱۳۵، وروی نحو ھذا الحدیث الترمذی: ۳۱۴۸ (انظر: ۲۵۴۶)
10324
Sahih
۔ (۱۰۳۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُفِّفَ عَلٰی دَاوُدَ علیہ السلام القَّرَائَۃُ، وَ کَانَ یَاْمُرُ بِدَابَّتِہِ فَتُسْرَجُ، وَ کَانَ یَقْرَاُ الْقُرْآنَ قَبْلَ اَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُہُ، وَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّا مِنْ عَمَلِ یَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام پر تلاوت کو آسان کر دیا گیا تھا، وہ اپنی سواری کے بارے میں حکم دیتے، پس اس پر زین کسی جاتی، لیکن اس عمل سے پہلے وہ زبور کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۷۳، ۳۴۱۷ (انظر: ۸۱۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے لیے وقت کو مختصر کر دیتے ہیں،یعنی ایسی خاص توفیق سے نوازتے ہیں کہ وہ تھوڑے وقت میں بڑا عمل کر لیتے ہیں۔ باقاعدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اس برکت کو محسوس کرتے ہیں، نبی کی تو شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ پہلےیہ حدیث ِ مبارکہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوشع علیہ السلام کی نماز عصر کی خاطر سورج کو روک لیا تھا، وہ جو چاہتا ہے، کر دیتا ہے، کون سا اس نے کسی کو جواب دینا ہے۔ واقعۂ معراج پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے زمان و مکاں کو مختصر کر دیا۔
10397
Sahih
۔ (۱۰۳۹۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ صَوْتَ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ وَ ھُوَ یَقْرَاُ فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آواز سنی، جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو موسی کو تو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۹۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۸۱ (انظر: ۲۵۳۴۳)
10398
Sahih
۔ (۱۰۳۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍیَقْرَئُ فَقَالَ: ((لقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ علیہ السلام (وَفِیْ لَفْظٍ) لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۹۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۸۰، وابن ماجہ: ۱۳۴۱ (انظر: ۸۸۲۰)
Explanation
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری جن کا نام عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
10399
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.