TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قصہ گوہ لوگوں کا بیان

Chapter 1 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 17 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۰۴۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا کَعْبٌ یَقُصُّ فَقَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: کَعْبٌ یَقُصُّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ، اَوْ مَاْمُوْرٌ، اَوْ مُخْتَالٌ۔)) قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ کَعْبًا فَمَا رُؤِیَیَقُصُّ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۴)
۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔
Takhreej
(۱۰۴۲۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۸۰۵۰)
10422
Sahih
۔ (۱۰۴۲۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُرَائٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو قصے بیان نہیں کرتا، مگر امیر،یا ما مور، یا ریاکار۔
Takhreej
(۱۰۴۲۳) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۵۳ (انظر: ۶۶۶۱)
10423
Sahih
۔ (۱۰۴۲۴)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِّیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ (وَ فِیْ لَفْظٍ) لَایَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُتَکَلِّفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۹۴)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۴۲۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۳۸۸۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مذہب، حکومت کی ذمہ داری ہے، جیسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں دیکھا گیا، ان زمانوں میں خطیب، امام، مفتی، قاضی اور والی کا تقرر یا اس کی معزولی حاکم وقت کی طرف سے ہوتی تھی۔ جہاں حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی، وہاں متعصب فرقہ وارانہ ماحول ہو گا اور اسلام کے محاسن منظرِ عام پر نہیں آسکیں گے۔ تکبر اور تکلف کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو امیر کے حکم کے بغیر تقاریر شروع کر دیتاہے، اس کا مقصد ریاکارییا تکبر یا ریاست کا حصول ہوتا ہے، اگر اس کا مقصد اسلام کی تبلیغ ہو تو وہ حاکم سے اجازت لے۔
10424
Sahih
۔ (۱۰۴۲۵)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: اِنَّہُ لَمْ یَکُنْیُقَصُّ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ لَا اَبِیْ بَکْرٍ، وَ کَانَ اَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ، اِسْتَاْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنْ یَقُصَّ عَلَی النَّاسِ قَائِمًا فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۶)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔
Takhreej
(۱۰۴۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل بقیۃ بن الولید الحمصی، فھو مدلس تدلیس التسویۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۶۵۶(انظر: ۱۵۷۱۵)
10425
Zaeef
۔ (۱۰۴۲۶)۔ حَدَّثَنَا ھَاشِمٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ کُرْدُوْسَ بْنَ قَیْسٍ، وَ کَانَ قَاصَّ الْعَامَّۃِ بِالْکُوْفَۃِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ بَدْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ اَقْعُدَ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ: اَیُّ مَجْلِسٍ تَعْنِیْ؟ قَالَ: کَانَ قَاصًّا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۹۵)
۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔
Takhreej
(۱۰۴۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، لجھالۃ کردوس بن قیس، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۳۱۹ (انظر: ۱۵۹۰۰)
10426
Zaeef
۔ (۱۰۴۲۷)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ، سَمِعْتُ مُصْعَبَ نِ الزُّبَیْرِیَّ قَالَ: جَائَ اَبُوْطَلْحَۃَ الْقَاصُّ عَلٰی مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّ قَوْمًا قَدْ نَھَوْنِیْ اَنْ اَقُصُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ صَلَی اللّٰہُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ وَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہِ وَ عَلَی اَزْوَاجِہِ فَقَالَ مَالِکٌ: حَدِّثْ بِہٖوَقُصَّبِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۰۵)
۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔
Takhreej
(۱۰۴۲۷) تخریج: ھذا الاثر مقطوع (انظر: ۱۶۵۸۸
Explanation
فوائد:… مؤطا امام مالک (۱/ ۱۶۵) میں مرفوع حدیثیوں ہے: سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((قُوْلُوا: اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) … تم اس طرح کہو: اے اللہ! تو رحمت بھیج محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر، آپ کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے رحمت کی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، اور تو برکت نازل فرما محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بیشک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۹، صحیح مسلم: ۴۰۷، واللفظ للامام مالک)
10427
Sahih
۔ (۱۰۴۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی قَاصٍّ یَقُصُّ فَاَمْسَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُصَّ فَلاَنْ اَقْعُدَ غُدْوَۃً اِلٰی اَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ، وَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۰۹)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے، وہ قصہ گوئی کر رہا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر رک گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصہ گوئی کرو، اگر میں نماز فجر سے طلوع آفتا ب تک ایسی مجلس میں بیٹھوں تو یہ مجھے چار گردنیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا، اگر میں عصر سے غروب ِ آفتاب تک بیٹھوں تو یہ عمل بھی مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۴۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل ابی الجعد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۰۱۳ (انظر: ۲۲۲۵۴)
10428
Zaeef

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.