TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی

Chapter 6 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 17 · 2 Hadith
۔ (۱۰۴۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَکُوْنَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْاَرُزِّ فَلْیَکُنْ مِثْلَہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَ مَا صَاحِبُ فَرَقِ الْاَرُزِّ؟ قَالَ: ((خَرَجَ ثَلَاثَۃٌ فَغَیَّمَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَائُ فَدَخَلُوْا غَارًا فَجَائَتْ صَخْرَۃٌ مِنْ اَعْلَی الْجَبَلِ حَتّٰی طَبَّقَتِ البَابَ عَلَیْھِمْ فَعَالَجُوْھَا فَلَمْ یَسْتَطِیْعُوْھَا، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِیْ أَمْرٍ عَظِیْمٍ فَلْیَدْعُ کُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ لَعَلَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَنْ یُّنْجِیَنَا مِنْ ھٰذَا(فَقَالَ أَحَدُھُمْ:) اَللّٰھُمَّ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّہُ کَانَ لِیْ أَبَوَانِ شَیْخَانِ کَبِیْرَانِ وَکُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَھُمَا فَأَجِْیْئُھُمَا وَقَدْ نَامَا، فَکُنْتُ أَبِیْتُ قَائِمًا وَحِلَابُھُمَا عَلٰییَدِیْ أَکْرَہُ أَنْ أَبْدَأَ بِاَحَدٍ قَبْلَھُمَا أَوْ أَنْ اُوْقِظَھُمَا مِنْ نَوْمِھِمَا، وَصِبْیَتِیْیَتَضَآغَوْنَ حَوْلِیْ، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ اِنَّمَا فَعَلْتُہُ مِنْ خَشْیَتِکَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَۃُ، قَالَ: وَقَالَ الثَّانِی: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّہُ کَانَتْ لِیْ اِبْنَۃُ عَمٍّ لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْھَا، فَسُمْتُھَا نَفْسَھَا فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! دُوْنَ مِائَۃِ دِیْنَارٍ فَجَمَعْتُھَا وَدَفَعْتُھَا اِلَیْھَا حَتّٰی اِذَا جَلَسْتُ مِنْھَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ، فَقَالَتْ: اِتَّقِ اللّٰہَ وَلَاتَفُضِّ الْخَاتَمَ اِلَّا بِحَقِّہِ، فَقُمْتُ عَنْھَا، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّمَا فَعَلْتُہُ مِنْ خَشْیَتِکَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَزَالَتِ الصَّخْرَۃُ حَتّٰی بَدَتِ السَّمَائُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنَّیْ کُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِیْرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ، فَلَمَّا أَمْسٰی عَرَضْتُ عَلَیْہِ حَقَّہُ فَأَبٰی أَنْ یَّأْخُذَہُ وَذَھَبَ وَتَرَکَنِیْ، فَتَحَرَّجْتُ مِنْہُ وَثَمَّرْتُہُ لَہُ وَأَصْلَحْتُہُ حَتَّی اشْتَرَیْتُ مِنْہُ بَقَرًا وَرَاعِیَھَا فَلَقِیَنِیْ بَعْدَ حِیْنٍ، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہِ وَأَعْطِنِیْ أَجْرِیْ وَلَا تَظْلِمْنِیْ، فَقُلْتُ: انْطَلِقْ اَلٰی ذٰلِکَ الْبَقَرِ وَرَاعِیْھَا فَخُذْھَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہَ وَلَاتَسْخَرْ بِیْ، فَقُلْتُ: اِنِّیْ لَسْتُ أَسْخَرُ بِکَ، فَانْطَلَقَ فَاسْتَاقَ ذٰلِکَ، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّیْ اِنَّمَا فَعَلْتُہُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِکَ خَشْیَۃً مِنْکَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَتَدَحْرَجَتِ الصَّخْرَۃُ فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۹۷۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک فرق چاول والے آدمی کی طرح ہونے کی طاقت رکھتا ہے، پس چاہیے کہ وہ اس کی طرح ہو جائے۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک فرق چاول والے آدمی کا کیا قصہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد سفر پر نکلے، آسمان ابر آلودہوگیا، اس لیے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے، لیکن ہوا یوں کہ پہاڑ کے اوپر والے حصے سے ایک چٹان گری اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا، انھوں نے اس کو ہٹانے کی کوشش تو کی، لیکنیہ ان کے بس کا کام نہیں تھا، پھر بعض افراد نے بعض سے کہا: تم بڑی مصیبت میں پڑ گئے ہو، اب ہر آدمی سب سے بہترین عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اس مصیبت سے نجات دے، پس ان میں ایک نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بڑی عمر کے ہو گئے تھے، میں ان کے لیے دودھ دوہ کر ان کو پلاتا تھا، ایک دن جب میں ان کا دودھ لے کر آیا تو وہ سوچکے تھے، میںنے ان کے انتظار میں کھڑے ہو کر رات گزار دی، جبکہ ان کا دودھ اٹھایا ہوا تھا، میں اس چیز کو ناپسند کرتا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو پلاؤں یا ان کو جگاؤں اور حال یہ تھا کہ میرے بچے بھوک کی وجہ سے میرے ارد گرد چلاتے رہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری خشیت کی وجہ سے کیا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس اس کا یہ کہنا تھا کہ چٹان کچھ حد تک سرک گئی، دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی، وہ تیری مخلوق میں مجھے سب سے پیاری لگتی تھی، میں نے اس سے اس کے نفس کا سودا کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! سو دیناروں سے کم پر کچھ نہیں ہو گا، پس جب میں نے یہ مقدار جمع کر کے اس کو دی اور اس سے برائی کرنے کے لیے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ، پس یہ سننا تھا کہ میں اس سے کھڑا ہو گیا، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری خشیت کی وجہ سے کیا ہے تو اس چٹان کو ہم سے دور کر دے، پس چٹان تھوڑی سی مزید سرک گئی اور ان کو آسمان نظر آنے لگا، اب تیسرے فرد نے کہا: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں ایک فرق چاول کے عوض ایک مزدور رکھا، جب شام ہوئی تو میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا، لیکن اس نے کسی وجہ سے اپنا حق وصول کرنے سے انکار کر دیا اور مجھے چھوڑ کر چل دیا، پس میں نے اس سے حرج محسوس کیا اور اس کے اس سرمائے کو ثمر آور بنایا اور اس کی اصلاح کی،یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں اور ان کا چرواہا خرید لیا، جب وہ کچھ عرصے کے بعد ملا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور میری مزدوری مجھے دے دے اور مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے کہا: ان گائیوں اور چرواہے کی طرف جا اور ان کو لے جا، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، میں نے کہا: بیشک میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، پس وہ چلا اور ان کو ہانک کر لے گیا، پس اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری خوشنودی تلاش کرنے کے لیےیہ کام کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس چٹان لڑھک گئی اور وہ باہر نکل کر چلنے لگے۔
Takhreej
(۱۰۴۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: من استطاع منکم ان یکون مثل صاحب فرق الارز فلیکن مثلہ ، وھذا اسناد ضعیف، لضعف عمر بن حمزۃ العمری، أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۲۱۵، ۲۳۳۳، ۳۴۶۵، ۵۹۷۴، ومسلم: ۲۷۴۳، ولیس فی روایات الشیخین ذکر الجملۃ الضعیفۃ ولا فی اسانیدھما عمر بن حمزۃ العمری (انظر: ۵۹۷۳)
10437
Sahih
۔ (۱۰۴۳۸)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ الرَّقِیْمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ثَلَا ثَۃً کَانُوْا فِیْ کَھْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلٰی بَابِ الْکَھْفِ فَأَوْصَدَ عَلَیْھِمْ، قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ: تَذَاکَرُوْا، أَیُّکُمْ عَمِلَ حَسَنَۃً لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِرَحْمَتِہِ یَرْحَمُنَا! فَقَالَ رَجُلٌ مِنْھُمْ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً، کَانَ لِی أُجَرَآئٌ یَعْمَلُوْنَ، فَجَائَ عُمَّالٌ لِیْ، فَاسْتَأجَرْتُ کُلَّ رَجُلٍ مِنْھُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُوْمٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلٌ ذَاتَ یَوْمٍ وَسْطَ النَّھَارِ فَاسْتَأْجَرْتُہُ بِشَطْرِ أَصْحَابِہٖ،فَعَمِلَفِی بَقِیَّۃِ نَھَارِہِ کَمَا عَمِلَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْھُمْ فِی نَھَارِہِ کُلِّہِ فَرَأَیْتُ عَلَیَّ فِی الذِّمَامِ أَنْ لاَّ أَنْقُصَہُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِہٖأَصْحَابَہُ،لِمَاجَھِدَفِیْ عَمَلِہِ، فَقَال رَجُلُ مِنْھُمْ: أَتُعْطِی ھٰذَا مِثْلَ مَا أَعْطَیْتَنِیْ، وَلَمْ یَعْمَلْ اِلَّا نِصْفَ نَھَارٍ، فَقُلْتُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! لَمْ أَبْخَسْکَ شَیْئًا مِنْ شَرْطِکَ وَ اِنَّمَا ھُوَ مَالِیْ، اَحْکُمُ فِیْہِ مَا شِئْتُ۔ قَالَ: فَغَضِبَ وَذَھَبَ وَتَرَکَ اَجْرَہٗ۔قَالَ: فَوَضَعْتُحَقَّہُفِی جَانِبٍ مِنَ الْبَیْتِ مَاشَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ مَرَّتْ بِی بَعْدَ ذٰلِکَ بَقَرٌ،فَاشْتَرَیْتُ بِہٖفَصِیْلَۃً مِنَ البَقَرِ فَبَلَغْتْ مَاشَائَ اللّٰہُ فَمَرَّ بِی بَعْدَ حِیْنٍ شَیْخاً ضَعِیْفًا لَا أَعْرِفُہُ، فَقَالَ: إِنَّ لِیْ عِنْدَکَ حَقًّا، فَذَکَّرَنِیْہِ حَتّٰی عَرَفْتُہُ، فَقُلْتُ: إِیَّاکَ أَبْغِی، ھٰذَا حَقُّکَ فَعَرَضْتُہُ عَلَیْہِ جَمِیْعَھَا! فَقَالَ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! لَا تَسْخَرْ بِی! إِن لَّمْ تَصَدَّقْ عَلَیَّ فَأَعْطِنِیْ حَقِّی، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَسْخَرُبِکَ، إِنَّھَا لَحَقُّکَ، مَا لِیْ مِنْھَا شَیْئٌ، فَدَفَعْتُھَا إِلَیْہِ جَمِیْعاً۔ اَللَّھُمَّ! اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنّا! قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتّٰی رَأَوْا مِنْہُ وَأَبْصَرُوْا۔ قَالَ الآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً کَانَ لِی فَضْلٌ، فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّۃٌ، فَجَائَ تْنِی امْرَأَۃٌ تَطْلُبُ مِنِّی مَعْرُوْفاً، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ مَا ھُوَ دُوْنَ نَفْسِکِ! فَأَبَتْ عَلَیَّ فَذَھَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَکَّرَتْنِیْ بِاللّٰہِ، فَأَبَیْتُ عَلَیْھَا وَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ مَاھُوَ دُوْنَ نَفْسِکِ! فَأَبَتْ عَلَیَّ وَذَھَبَتْ، وَذَکَرَتْ لِزَوْجِھَا، فَقَالَ لَھَا: أَعْطِیْہِ نَفْسَکِ! وَاَغْنِیْ عِیَالَکِ فَرَجَعَتْ اِلَیَّ فَنَاشَدَتْنِیْ بِاللّٰہِ فَأَبَیْتُ عَلَیْھَا وَقُلْتُ: وَاللّٰہِ!مَاھُوَدُوْنَ نَفْسِکِ! فَلَمَّا رَأَتْ ذَالِکَ أَسْلَمَتْ إِلٰیَّ نَفْسَھَا، فَلَمَّا تَکَشَّفْتُھَا وَھَمَمْتُ بِھَا، اِرْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِی فَقُلْتُ: مَاشَأْنُکِ؟ قَالَتْ: أَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ! فَقُلْتُ لَھَا: خِفْتِہِ فِی الشِّدَّۃٍ، وَلَمْ أَخَفْہُ فِی الرَّخَائِ! فَتَرَکْتُھَا وَأَعْطَیْتُھَا مَا یَحُقُّ عَلَیَّ بِمَا تَکَشَّفْتُھَا، اَللّٰھُمَّ! إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ، فَافْرُجْ عَنَّاقَالَ: فَانْصَدَعَ حَتّٰی عَرَفُوْا وَتَبَیَّنَ لَھُمْ۔ قَالَ الآخَرُ: عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً کَانَ لِی أبَوْانِِ شَیْخَانِ کَبِیْرَانِ، وَکَانَ لِی غَنَمٌ فَکُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَیَّ وَأَسْقِیْھِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی غَنَمِیْ قَالَ: فأَصَابَنِییَوْمُ غَیْثٍ حَبَسَنِیْ فَلَمْ أَبْرَحْ حَتّٰی أَمْسَیْتُ فَأَتَیْتُ أَھْلِیْ، وَأَخَذْتُ مَحْلَبِیْ، فَحَلَبْتُ غَنَمِیْ قَائِمَۃً فَمَضَیْتُ إِلٰی أَبَوَیَّ،فَوَجَدتُّھُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَیَّ أَنْ أُوْقِظَھُمَا، وَشَقَّ أَنْ أَتْرُکَ غَنَمِیْ، فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا، وَمَحْلَبِی عَلٰییَدِی حَتّٰی أَیْقَظَھُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَیْتُھُمَا، اَللّٰھُمَّ! إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّا! قَالَ النُّعْمَانُ: لَکَاَنِّی أَسْمَعُ ھٰذِہِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَ الْجَبَلُ: طَاقٌ، فَفَرَّجَ اللّٰہُ عَنْھُمْ فَخَرَجُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غار والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک غار میں تین آدمیوں نے پناہ لی، پہاڑ کا کچھ حصہ غار کے دروازہ پر گرا اور اس کا راستہ بند کر دیا۔ ایک نے کہا: یاد کرو، تم میں سے کس نے نیک عمل کیا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بسبب ہم پر رحم کر دے۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی، (اس کی تفصیلیہ ہے کہ) میرے کچھ مزدور کام کرتے تھے، میرے عمال میرے پاس آئے، میں نے ہر ایک کو معین مزدوری دی۔ ایک دن ایک آدمی نصف النھار کے وقت میرے پاس آیا، میں نے اسے مزدوری پر تو لگا دیا، لیکن (نصف دن) کی وجہ سے دوسرے مزدوروں کی مزدوری کے نصف کے بقدردینے کا طے کیا ، لیکن اس نے اس نصف دن میں اتنا کام کیا، جو دوسروں نے پورے دن میں کیا تھا، اس لیے میں نے اپنی ذمہ داری سمجھی کہ اسے اس کے ساتھیوں کی طرح پوری اجرت دوں، کیونکہ اس نے اپنا کام کرنے میں پوری محنت کی ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے (اعتراض کرتے ہوئے) کہا: کیا تو اس کو وہی اجرت دے رہا ہے جو مجھے دی، حالانکہ اس نے نصف دن کام کیا ہے؟میں نے کہا: اللہ کے بندے! جو کچھ تجھ سے تیرے بارے میں طے ہوا تھا، اس میں میں نے کوئی کمی نہیں کی،یہ میرا مال ہے، میں جیسے چاہوں اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہوں۔ (میری اس بات سے) اسے غصہ آیا اور وہ اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں اس کا حق رکھ دیا، پھر ایک دن میرے پاس سے گائے گزری، میں نے اس کی اجرت والے مال سے دودھ چھڑایا ہوا گائے کا بچہ خرید لیا، (اس کی نسل بڑھتی رہی اور) گائیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایکدن وہی مزدور میرے پاس سے گزرا، وہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا، اس لئے میں نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے کہا: میرا حق تیرے پاس ہے، جب اس نے مجھے یاد کرایا تو بات میری سمجھ میں آ گئی۔ میں نے کہا: میں تو تیری ہی تلاش میں تھا، میں نے اس پر (ساری گائیں) پیش کرتے ہوئے کہا: یہ تیرا حق ہے۔ اس نے کہا: او اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، اگر میرے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتا تو میرا حق تو مجھے دے دے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تیرا ہی حق ہے، اس میں کوئی چیز میری نہیں ہے، سو میں نے وہ سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی ہے تو اس سے ہمارے لئے گنجائش پیدا کر۔ (اس دعا کی وجہ سے) پتھر اتنا ہٹ (یا پھٹ) گیا کہ باہر کا ماحول انھیں نظر آنے لگ گیا۔ دوسرے نے کہا: میں نے بھی ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی۔ (تفصیلیہ ہے کہ) میرے پاس زائد از ضرورت مال تھا، لوگ شدت میں مبتلا ہو گئے، ایک عورت میرے پاس کچھ مال طلب کرنے کے لئے آئی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس نے (ایسا کرنے سے) انکار کر دیا اور وہ چلی گئی، پھر وہ لوٹ آئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیا، لیکن میں انکار پر تلا رہا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس نے میرے مطالبے کا انکار دیا اور چلی گئی۔ اس نے یہ بات اپنے خاوند کو بتلائی تو اس نے کہا: تو اسے اپنا نفس دے دے (یعنی اسے زنا کرنے دے) اور (کچھ لے کر) اپنے بچوں کی ضرورت پورا کر۔ وہ آئی اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی، لیکن میں نے (پہلے کی طرح) انکار ہی کیا اور کہا: پہلے اپنا نفس فروخت کرنا ہو گا (یعنی اپنی عزت لٹانی ہو گی) ۔ جب اس نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا۔ جب میں نے اسے ننگا کیا اور بدکاری کا ارادہ کر لیا تو اس پر میرے نیچے کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے اسے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں جہانوں کے پالنہار اللہ سے ڈر رہی ہوں۔ میں نے اسے کہا: تو تنگدستی کے باوجود اس سے ڈرتی ہے اور میں تو خوشحالی میں بھی نہیں ڈرتا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا اور اسے ننگا کرنے کے جرم میں جو کچھ مجھ پر عائد ہوتا تھا، میں نے اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی تھی تو آج اس (چٹان) کو ہٹا دے۔ (اس دعا کی وجہ سے) وہ مزید ہٹ گئی، حتی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے لگ گئے۔ تیسرے نے کہا: میں نے بھی ایک نیکی کی تھی۔ (اس کی تفصیلیہ ہے کہ) میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے پاس بکریاں تھیں۔ میں اپنے والدین کو کھانا کھلاتا اور دودھ پلاتا تھا اور پھر اپنی بکریوں کی طرف لوٹ جاتا تھا۔ ایک دن بارش نے مجھے (وقت پر) لوٹنے سے روک لیا، وہیں شام ہو گئی۔ جب میں گھر پہنچا، برتن لیا، بکریوں کا دودھ دوہا اور اپنے والدین کے پاس لے کر گیا، لیکن وہ (میرے پہنچنے سے پہلے) سو چکے تھے۔ ایک طرف ان کو بیدار کرنا مجھ پر گراں گزر رہا تھا اور دوسری طرف بکریوں کو (یوں ہی بے حفاظت چھوڑ آنا) پریشان کر رہا تھا۔ بہرحال میں برتن تھامے ان کے انتظار میں بیٹھا رہا، حتی کہ وہ صبح کو بیدار ہوئے اور میں نے ان کو دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیرے لئے کی تھی تو (اس چٹان کو) ہٹا دے۔ سیدنا نعمان کہتے ہیں: گویا کہ میں یہ الفاظ اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن رہا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس (پتھر کو غار کے دہانے سے) ہٹا دیئے اور وہ نکل گئے۔
Takhreej
(۱۰۴۳۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البزار: ۳۱۷۸، والطبرانی فی الدعائ : ۱۹۱ (انظر: ۱۸۴۱۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی ذات کا وسیلہ پکڑنا ایک بدعی عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر کوئی شرعی دلیل نہیںہے اور یہ خیر القرون کے تعامل کے خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی اور صفاتِ علیا کا وسیلہ پکڑنا، (۲) اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا اور (۳) نیک لوگوں سے دعا کروانا۔ ان تین کے علاوہ وسیلہ کی مزید صورتیں بدعت کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، مثلا: والدین کی خدمت کو ہر دوسرے رشتہ دار اور دوستوں پر ترجیح دینا، اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گناہ سے رک جانے کا فضیلت والا عمل ہونا، مزدوروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا اور کسی کا حق رہ جانے کی صورت میں اسے بہترین طریقے سے ادا کرنا، انبیائے کرام کے معجزات کی طرح اولیاء کی کرامات کا برحق ہونا، اخلاص اور خشوع و خضوع اور الحاح و زاری سے کی گئی دعا کا قبول ہونا، مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا۔
10438
Sahih

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.