TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے

Chapter 5 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 17 · 3 Hadith
۔ (۱۰۴۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَتَکَلَّمْ فِیْ الْمَھْدِ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، وَ کَانَ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ رَجُلٌ عَابِدٌ یُقَالُ لَہُ: جُرَیْجٌ فَاَبْتَنٰی صَوْمَعَۃً وَتَعَبَّدَ فِیْھَا، قَالَ: فَذَکَرَ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَیَوْمًا عِبَادَۃَ جُرَیْجٍ فَقَالَتْ بَغِیٌّ مِنْھُمْ: لَئِنْ شِئْتُمْ لَاُصِیْبَنَّہُ، قَالُوْا: قَدْ شِئْنَا، قَالَ: فَاَتَتْہُ فَتَعَرَّضَتْ لَہُ فَلَمْ یَلْتَفِتْ اِلَیْھَا فَاَمْکَنَتْ نَفْسَھَا مِنْ رَاعٍ کَانَ یُؤْوِیْ غَنَمَہُ اِلٰی اَصَلِ صَوْمَعَۃِ جُرَیْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوْا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَیْجٍ، فَاَتَوْہُ فَاسْتَنْزَلُوْہُ فَشَتَمُوْہُ وَضَرَبُوْہُ وَ ھَدَمُوْا صَوْمَعَتَہُ، فَقَالَ: مَا شَاْنُکُمْ؟ قَالُوْا: اِنَّکَ زَنَیْتَ بِھٰذِہِ الْبَغِیِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَ اَیْنَ ھُوَ؟ قَالُوْا: ھَا ھُوَ ذَا؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی وَ دَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْغُلَامِ فَطَعَنَہُ بِاِصْبَعِہِ وَ قَالَ: بِاللّٰہِ یَاغُلَامُ! مَنْ اَبُوْکَ؟ قَالَ: اَنَا ابْنُ الرَّاعِیْ، فَوَثَبُوْا اِلٰی جُرَیْجٍ فَجَعَلُوْا یُقَبِّلُوْنَہُ وَ قَالُوْا: نبَنِیْ صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْ ذٰلِکَ، ابْنُوْھَا مِنْ طِیْنٍ کَمَا کَانَتْ، قَالَ: وَ بَیْنَمَا اِمْرَاَۃٌ فِیْ حِجْرِھَا ابْنٌ تُرْضِعُہُ اِذْ مَرَّ بِھَا رَاکِبٌ ذُوْ شَارَۃٍ فَقَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَ ھٰذَا، قَالَ: فَتَرَکَ ثَدْیَھَا وَ اَقْبَلَ عَلَی الرَّاکِبِ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ مِثْلَہُ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ اِلَی ثَدْیَھَایَمُصُّہُ، (قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ : فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْکِیْ عَلٰی صَنِیْعِ الصَّبِیِّ وَ وَضَعَ اِصْبَعَہُ فِیْ فَمِہِ فَجَعَلَ یَمُصُّھَا) ثُمَّ مَرَّ بِاَمَۃٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: فَتَرَکَ ثَدْیَھَا وَ اَقْبَلَ عَلَی الْاَمَۃِ، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: فَذٰلِکَ حِیْنَ تَرَاجَعَا الْحَدِیْثَ فَقَالَت: حَلْقَی مَرَّ الرَّاکِبُ ذُوْ الشَّارَۃِ فَقُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَہُ فَقُلْتَ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ مِثْلَہُ وَ مَرَّ بِھٰذِہِ الْاَمَۃِ فَقُلْتُ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَھَا فَقُلْتَ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: یَا اَمَّتَاہْ! اِنَّ الرَّاکِبَ ذُوْالشَّارَۃِ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَۃِ، وَ اِنَّ ھٰذِہِ الْاَمَۃَیَقُوْلُوْنَ زَنَتْ وَ لَمْ تَزْنِ وَ سَرَقَتْ وَ لَمْ تَسْرِقْ وَ ھِیَ تَقُوْلُ: حَسْبِیَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے، (۱) عیسی بن مریم، (۲)بنو اسرائیل میں جریج نامی ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس نے گرجا گھر بنایا اور اس میں عبادت کی، ایک دن بنو اسرائیل نے جریج کی عبادت کا ذکر کیا، لیکن ان کی ایک زانیہ عورت نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کو آزمائش میں ڈالتی ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں، پس وہ خاتون آئی، اس کے درپے ہوئی، لیکن جب اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، تو اس نے اس چرواہے کو اپنے ساتھ زنا کرنے کا موقع دیا، جو اپنی بکریوں کو جریج کے گرجا گھر کے ساتھ بٹھاتا تھا، پس وہ حاملہ ہو گئی، پھر جب اس نے بچہ جنم دیا اور لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس سے ہے تو اس بدکار خاتون نے کہا: یہ جریج کا ہے، (یعنی جریج نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا)، پس لوگ جریج کے پاس آئے، اس کو نیچے اتار کر برا بھلا کہا، اس کی پٹائی کی اور اس کا گرجا گھر گرا دیا، اس نے پوچھا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: تو نے فلاں زانیہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اب اس نے بچہ بھی جنم دیا ہے، جریج نے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: وہ یہ ہے، پس جریج کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور دعا کی، پھر اس بچے کی طرف آئے، اس کو اپنی انگلی ماری اور کہا: اللہ کی قسم! اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میں چرواہے کا بیٹا ہوں، یہ سن کر لوگ جریج پر ٹوٹ پڑے اور اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سونے سے تیرا گرجا گھر بنائیں گے، لیکن اس نے کہا: مجھے سونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، تم اس کو پہلے کی طرح مٹی سے بنا دو۔ (۳) ایک خاتون اپنی گودی میں ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے حسن و جمال والا ایک سوار گزرا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے، بچے نے ماں کا پستان چھوڑ دیا اور سوار کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر وہ پستان کو چوسنے لگ گیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کے کیے کو بیان کیا اور اپنی انگلی کو منہ میں ڈال کر چوسا۔ اتنے میں اسی خاتون کے پاس سے ایک ایسی لونڈی کو گزارا گیا، جس کی پٹائی کی جا رہی تھی، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا، بچے نے اس کا پستان چھوڑا اور لونڈی کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اسی کی طرح کا بنانا، پھر جب انھوں نے بات کو دوہرایا تو اس خاتون نے اپنے بیٹے سے کہا: میں سر منڈی، حسن و جمال والا سوار گزرا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر جب اس لونڈی کو گزارا گیا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا بنانا، اب کی بار اس بچے نے کہا: اے میری ماں! وہ حسن و جمال والا سوار سرکشوں میں سے ایک سرکش تھا اور یہ لونڈی، لوگ کہتے تھے: اس نے زنا کیا ہے، جبکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا، لوگ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، جبکہ اس نے چوری نہیں کی تھی، اور وہ کہہ رہی تھی: اللہ مجھے کافی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری۳۴۳۶، ومسلم: ۲۵۵۰ (انظر: ۸۰۷۱)
10434
Sahih
۔ (۱۰۴۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمْ یَتَکَلَّمْ فِیْ الْمَھْدِ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَ صَبِیٌّ کَانَ فِیْ زَمَانِ جُرَیْجٍ وَ صَبِیٌّ آخَرُ،… فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ((وَ اَمَّا جُرَیْجٌ فَکَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ کَانْتَ لَہُ اُمٌّ وَ کَانَ یَوْمًایُصَلِّیْ اِذَا اشْتَاقَتْ اِلَیْہِ اُمُّہُ فَقَالَت: یَاجُرَیْجُ! فَقَالَ:یَا رَبِّ! الصَّلَاۃُ خَیْرٌ اَمْ اُمِّیْ آتِیْھَا، ثُمَّ صَلّٰی؟ وَ دَعَتْہُ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ دَعَتْہُ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ وَ صَلّٰی، فَاشْتَدَّ عَلٰی اُمِّہِ و قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اَرِجُرَیْجًا الْمُوْمِسَاتِ! ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَۃً لَہُ وَ کاَنْتَ زَانِیَۃٌ مِنْ بَنِیْ اسرائیل…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۸۰۵۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے: (۱) عیسی بن مریم علیہ السلام ، (۲) جریج کے زمانے کا ایک بچہ اور (۳) ایک اور بچہ، ……،پھر باقی حدیث ذکر کی، اس میںکچھ تفصیلیوں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جریج بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس کی ماں بھی حیات تھی، ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اُدھر ماں کو اپنے بیٹے کا اشتیاق پیدا ہوا اور اس نے کہا: اے جریج! اس نے نماز کے اندر ہی کہا: اے میرے ربّ! اب نماز بہتر ہے یا اپنی ماں کے پاس چلا جاؤں؟ پھر اس نے نماز جاری رکھی، ماں نے دوبارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا، ماں نے سہ بارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا اور نماز جاری رکھی،یہ چیز ماں پر بڑی گراں گزری، چنانچہ اس نے کہا: اے اللہ! زانی عورتوں سے جریج کا واسطہ پڑے، پھر وہ اپنے گرجا گھر کی طرف چڑھا اور بنی اسرائیل کی زانی عورت، ……۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۱۰۴۳۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10435
Sahih
۔ (۱۰۴۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ رَجُلٌ فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ تَاجِرًا، وَ کَانَ یَنْقُصُ مَرَّۃً وَ یَزِیْدُ اُخْرٰی قَالَ: مَا فِیْ ھٰذِہِ التِّجَارَۃِ خَیْرٌ اَلْتَمِسُ تِجَارَۃً ھِیَ خَیْرٌ مِنْ ھٰذِہِ، فَبَنٰی صَوْمَعَۃً وَ تَرَھَّبَ فِیْھَا، وَ کَانَ یُقَالُ لَہُ: جُرِیْجٌ…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ (مسند احمد: ۹۶۰۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کا ایک آدمی تاجر تھا، کبھی اس کا مال کم ہو جاتا اور کبھی زیادہ، بالآخر اس نے کہا: اس تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے، میں اس سے بہتر کوئی اور تجارت تلاش کرتا ہوں، پس اس نے ایک گرجا گھر بنایا اور رہبانیت اختیارکر کے اس میں بیٹھ گیا، اس کو جریج کہا جاتا تھا، ……۔
Takhreej
(۱۰۴۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10436
Sahih

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.