۔ (۱۰۴۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ کَانْ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیَقْرِی الضَّیْفَ وَیَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: ((اِنَّ أَبَاکَ أَرَادَ شَیْئًا
فَأَدْرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۱)
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا اور دیگر کوئی امور سر انجام دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے جس چیز کا ارادہ کیا، اس کو پا لیا۔
Takhreej
(۱۰۴۴۷) تخریج: حسن، أخرجہ ابوداود الطیالسی: ۱۰۳۳ ، وابن حبان: ۳۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۲۴۷ (انظر: ۱۹۳۷۴)
Explanation
فوائد:… حاتم کی سخاوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں تھا، بلکہ شہرت طلبی تھا،اوروہ پورا ہو چکا ہے، ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں اور قابل مذمت ہوتا ہے۔
10447
Sahih