TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12826 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
۔ (۱۲۸۲۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیْ ئُ الْفِتْنَۃُ مِنْ ھٰہُنَا مِنَ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۴)
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔
12826
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۸۲۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… مشرق سے مراد عراق ہے، بعض روایات میں عراق کا تعین کیا گیا ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث ہیں: سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اور فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَکَّتِنَا، اَللّٰھُمَّ باَرِکْ لَنَا فِي مَدِیْنَتِنَا، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَباَرِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِي عِرَاقِنَا۔ فَاعْرَضَ عَنْہُ، فَرَدَّدَھَا ثَلَاثاً، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُوْلُ الرَّجُلُ: وَفِیْ عِرَاقِنَا، فَیُعْرِضُ عَنْہُ، فَقَالَ: ((بِھَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَفِیْھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانُ۔)) … اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدّ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے عراق میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے تین دفعہ کہا کہ ہمارے عراق میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر دفعہ اعراض کیا۔ پھر فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور یہاں سے شیطان کے سر کا کنارہ ابھرے گا۔ (أخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط : ۱/ ۲۴۶/ ۱/ ۴۲۵۶، وبلفظ: نجدنا مکان عراقنا أخرجہ البخاری: ۱۰۳۷، ۷۰۹۴، الصحیحۃ:۲۲۴۶) معجم اوسط کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عراق کا نام لے کر اس کے لیے دعا کا مطالبہ کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مِنْ ثَمَّ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَتَھِیْجُ الْفِتَنُ۔)) … وہاں سے تو شیطان کا سینگ نمودار ہو گا اور فتنے ابلیں گے۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا قَالَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا فَأَظُنُّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) … یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا،اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: اور ہمارے نجد میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اور ہمارے نجد میں، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، کیونکہ پہلا فتنہ مشرق سے ہی ابھرا اور مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اسی طرح شیعیت اور خارجیت جیسی بدعتیں بھی اسی جہت کی پیداوار ہیں، امام بخاری (۷/۷۷) اورامام احمد (۲/۸۵، ۱۵۳) نے بیان کیا کہ ابن ابی نعیم نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک عراقی آدمی نے ان سے سوال کیا کہ اگر محرِم آدمی مکھی مار دے تو (وہ کیا کفارہ ادا کرے گا)۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: عراقیو! تم مکھی کو قتل کرنے والے محرِ م کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تم نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نواسے(سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو قتل کر دیا، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔)) … یہ (حسن و حسین) تو دنیا میں میری دو کلیاں (یا گلدستے) ہیں۔ ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ شیعوں نے جلیل القدر صحابہ پر طعن کیا، بطورِ مثال سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، جن کی براء ت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ایک متعصب شیعہ عبد الحسین نے پوری جرأت، بے شرمی اور چالاکی کے ساتھ اپنی کتاب (المراجعات: ص: ۲۳۷) میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر طعن کرنے کے لیے اور احادیث کے سلسلے میں ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کئی فصلیں قائم کیں۔ اس نے یا تو ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا، ان میں سے بعض ضعیفہ (۴۹۶۳، ۴۹۷۰) میں مذکورہ ہیں یا پھر احادیث ِ صحیحہ کی تحریف کی اور ان کے ایسے مفاہیم بیان کیے، جن کی ان روایات میں کوئی گنجائش نہ تھی، … …۔ (صحیحہ: ۲۴۹۴) حافظ ابن حجر نے کہا: (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ احادیث بیان کیں) اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق پہلا فتنہ یہیں ابھرا، جو مسلمانوںمیں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اور یہی چیز ہے جس سے شیطان خوش ہوتا ہے، اسی طرح کئی بدعتوں کی جائے ظہور بھی یہی ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸) تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق سے بہت سے فتنے رونما ہوئے، جنگِ نہروان، واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں،پھر تاتاریوں کے خونریز معرکے، اسی طرح گمراہ فرقوں یعنی خوارج، شیعہ، معتزلہ، جہمیہ، مرجیہ وغیرہ کا ظہور بھی کوفہ، بصرہ اور بغداد،جو عراق کے مشہور شہر ہیں، سے ہوا۔ بارہ سو سال تک تمام مسلمانوں کا متفقہ طور پر یہی مؤقف رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے۔ اہم تنبیہ بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے ان احادیث کا مفہوم بگاڑ کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔ جواباً درج ذیل نکات پر غور کریں: (۱) کوئی شک نہیں کہ اس موضوع سے متعلقہ احادیث میں نجد کے الفاظ کا ذکر بھی ہے، جبکہ نجد کا لغوی معنی بلندی اور رفعت ہے، گویا سطح مرتفع اور بلند زمین کو نجد کہا جاتا ہے اور عرب میں بہت سارے نجد ہیں، ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ حموی نے معجم البلدان میں درج ذیل نجد شمار کیے ہیں: نجدألوذ، نجد أجا، نجد برق، نجد خال، نجد الشری، نجد عفر، نجد العقاب، نجد کبکب، نجد مریع، نجد الیمن لیکن جب بعض احادیث میں نجد کے بجائے عراق کا تعین کر دیا گیا ہے تو اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، جبکہ تاریخی طور پر عراق ہی فتنوں کی آماجگاہ رہا ہے اور اب بھی امریکہ کے تسلط کے وجہ سے فتنے میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ امت ِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ (آمین) (۲) اس موضوع سے متعلقہ اور دیگر احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجاز، شام اور یمن کے لیے خیر و برکت کی دعا کی ہے اور ان علاقوں کو اسلام و ایمان کا مرکز قرار دیا ہے، ایک حدیث کا ذکر اوپر بھی گزرا ہے، اور محمد بن عبد الوہاب کا تعلق نجد یمن سے ہے، نہ کہ نجد عراق سے، احادیث ِ مبارکہ کے مطابق تو محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعائے خیر کے مستحق ٹھہرتے تھے، لیکن معترضین نے نجد والی احادیث کو ان پر فٹ کر کے علم حدیث اور تاریخ و جغرافیہ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کر دیا۔ (۳)عملی طور پر عراق ہی فتنوں اور آزمائشوں کا گڑھ رہا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ (۴) نیز شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: سنت کے مخالف اور توحید سے منحرف بعض لوگ جزیرۂ عرب میں دعوتِ توحید کی تجدید کرنے والے امام محمد بن عبد الوہاب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ پر طعن کرتے ہیں، یہ لوگ اپنی جہالت یا تجاہل کی وجہ سے اس حدیث ِ مبارکہ سے نجد کے علاقے مراد لے کر اس امام کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ مختلف طرق سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد عراق کا علاقہ ہے، امام خطابی اور حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے قدیم علما نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی آدمی فی نفسہ نیک او رصالح ہو، لیکن اس کا تعلق مذموم علاقوں سے ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے ہی مذمت کے لائق سمجھا جائے۔ جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام کے علاقوں کی تعریف کی گئی ہے، لیکن ان میں سکونت اختیار کرنے والے کئی لوگ فاسق اور فاجر بھی ہیں، اسی طرح عراق کی مذمت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں کا ہر باسی ہی قابل مذمت ہے، بلکہ اس میں کئی عالم اور نیکوکار لوگ نظر آئیں گے۔ جب سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کر جانے کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: اَمَّا بَعْدُ؛ فَاِنَّ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ لَاتُقَدِّسُ اَحَدًا، وَاِنَّمَا یُقَدِّسُ الْاِنْسَانَ عَمَلُہٗ۔ … کوئی مقدس سر زمین کسی کو پاک نہیں کرتی، بلکہ ہر انسان کو اس کا (نیک) عمل پاک کرتاہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۶) حافظ ابن حجر نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے حق میں دعا نہ کی، تاکہ یہ لوگ اس شرّ سے باز آنے کی کوشش کریں، جس کا ظہور ان کے علاقے سے ہو گا، … (قرن الشیطان کا راجح معنی یہ ہے کہ اس سے مراد) شیطان اور ان اسباب کی قوت ہے، جن کے ذریعے وہ گمراہی پھیلاتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸) عبد الرحمن مبارکپوری نے کہا: حسی زلزلے مراد ہیں یا معنوی، جو دلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور فتنوں سے مراد وہ مصیبتیں اور آزمائشیں ہیں، جو دین کے ضعف اور قلت کا سبب بنیں گی، …۔ قرن الشیطان سے مراد اس شیطان کے اعوان وانصار اور اس کی جماعت یا اس کی قوت اور اسبابِ ضلالت ہیں، …۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ جہت مشرق سے فتنوں اور بدعتوںکا ظہور ہو گا اور ایسے ہی ہوا، جنگ جمل اور جنگ صفین اسی سمت میں لڑی گئیں، پھر یہیں سے خوارج کاظہور ہوا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۸۱)

Related Chapters

18
1
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
2
Chapter: What has been Related About The Description Of The Renegades
باب: خوارج کی پہچان
Jam e Tirmazi
3
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
Musnad Ahmad
4
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
5
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
Musnad Ahmad
6
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
Musnad Ahmad
7
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
8
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
Musnad Ahmad
9
روافض کا بیان
Musnad Ahmad
10
(51) CHAPTER. Closing the door of the Kabah and (the permissibility) of offering Salat (prayer) at any place in it.
کعبہ کا دروازہ اندر سے بند کر لینا اور اس کے ہر کونے میں نماز پڑھنا جدھر چاہے
Sahih Bukhari
11
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers atop one’s mount when travelling, no matter what direction it is facing
سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھنے کا جواز‘سواری کا رخ چاہے جدھر بھی ہو
Sahih Muslim
12
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and to those for whose faith there is fear if they are not given anything, and putting up with the one who asks rudely due to ignorance, and the Khawarij and rulings regarding them
جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت
Sahih Muslim
13
Chapter: The Khawarij and their attributes
خوارج اور ان کی صفات
Sahih Muslim
14
Chapter: Exhortation to kill the Khawarij
خوارج کو قتل کرنے کی ترغیب
Sahih Muslim
15
Chapter: Exhortation to kill the Khawarij
خوارج (انسانی )مخلوق اور خلائق (انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق )میں سب سے برے ہیں
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Fighting Against The Khawarij.
باب: خوارج کے قتل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Fighting With The Thieves.
باب: خوارج سے قتال کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
خوارج کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
1938
۔ (۱۹۳۸) عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی بَعِیْرِہ فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھَکَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ وَیُومِیئُ بِرَأْسِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّیْ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) وَھُوَ مُوَجِّہٌ حِیْنَئِذٍ إِلَی الْمَشْرِقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۹۷)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (کسی کے لئے کام) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔
Musnad Ahmad
12716
۔ (۱۲۷۱۶)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْإِیمَانُ فِی أَہْلِ الْحِجَازِ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَائُ فِی الْفَدَّادِینَ فِی أَہْلِ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۲)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور شدت اہل مشرق کے اونٹوں کے مالکوں میں ہے۔
Musnad Ahmad
12976
۔ (۱۲۹۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ: ثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ: ثَنَا عَامِرٌقَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ، فَاَتَیْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ فَحَدَّثَتْنِیْ اَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ حَدِیْثَہَا فِی النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی وَزَوَاجَہَا بِاُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ (تَقَدَّمَ ذٰلِکَ فِیْ بَابِ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ) قَالَ: فَلَمَّا اَرَدْتُّ اَنْ اَخْرُجَ قَالَتْ: اِجْلِسْ حَتّٰی اُحَدِّثَکَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا مِنَ الْاَیَّامِ فَصَلّٰی صَلاَۃَ الْھَاجِرَۃِ ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَقَالَ: ((اِجْلِسُوْا اَیُّہَاالنَّاسُ فَاِنِّیْ لَمْ اَقُمْ مَقَامِیْ ہٰذَا لِفَزَعٍ وَلٰکِنَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَتَانِیْ فَاَخْبَرَنِیْ خَبََرًا مَنَعَنِیْ الْقَیْلُوْلَۃُ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّۃِ الْعَیْنِ فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَنْشُرَ عَلَیْکُمْ فَرَحَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَھْطًا مِنْ بَنِیْ عَمِّہٖرَکِبُوْاالْبَحْرَفَاَصَابَتْہُمْرِیْحٌ عَاصِفٌ فَاَلْجَاَتْہُمُ الرِّیْحُ اِلٰی جَزِیْرَۃٍ لَایَعْرِفُوْنَہَا فَقَعَدُوْا فِیْ قُوَیْرِبِ السَّفِیْنَۃِ حَتّٰی خَرَجُوْا اِلَی الْجَزِیْرَۃِ فَاِذَا ھُمْ بِشَیْئٍ اَھْلَبَ کَثِیْر الشَّعْرِ، لَا یَدْرُوْنَ اَرَجُلٌ ھُوَ اَوْ اِمْرَاَۃٌ فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ قَالُوْا: اَلَا تُخْبِرُنَا قَالَ: مَا اَنَا بِمُخْبِرِکُمْ وَلَابِمُسْتَخْبِرٍکُمْ وَلٰکِنَّ ہٰذَا الدَّیْرَ قَدْ رَھِقْتُمُوْہُ فَفِیْہِ مَنْ ھُوَ اِلٰی خَبَرِکُمْ بِالْاَشْوَاقِ اَنْ یُخْبِرَکُمْ وَیَسْتَخْبِرَکُمْ ، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَاالْجَسَّاسَۃُ،فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی اَتَوُا الدَّیْرَ فَاِذَا ھُمْ بِرَجُلٍ مُوَثَّقٍ شَدِیْدِ الْوَثَاقِ مُظْہِرِ الْحُزْنِ کَثِیْرِ التَّشَکِّیْ، فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ، فَرَدَّ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: مِمَّنْ اَنْتُمْ؟ قَالُوْا: مِنَ الْعَرَبِ۔ قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ اَخَرَجَ نَبِیُّہُمْ بَعْدُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا فَعَلُوْا؟ قَالُوْا: خَیْرًا آمَنُوْا بِہٖوَصَدَّقُوْہُ؟قَالَ: ذٰلِکَخَیْرٌ لَّھُمْ وَکَانَ لَہُ عَدُوٌّ فَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ قَالَ: فَالْعَرَبُ الْیَوْمَ اٰلِہُہُمْ وَاحِدٌ وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ وَکَلِمُتُہُمْ وَاحِدَۃٌ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ؟ قَالُوْا: صَالِحَۃٌیَشْرَبُ مِنْہَا اَھْلُھَا لِشَفَتِہِمْ وَیَسْقُوْنَ مِنْہَا زَرْعَہُمْ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَیْنَ عُمَّانَ وَبَیْسَانَ؟ قَالُوْا: صَالِحٌ یُطْعِمُ جَنَاہُ کُلَّ عَامٍ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَیْرَۃُ الطَّبْرِیَّۃُ؟ قَالُوْا: مَلْاٰی۔ قَالَ: فَزَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ حَلَفَ لَوْ خَرْجْتُ مِنْ مَّکَانِیْ ہٰذَا مَا تَرَکْتُ اَرْضًا مِنْ اَرْضِ اللّٰہِ اِلَّا وَطَئْتُہَا غَیْرَ طَیْبَۃَ، لَیْسَ لِیْ عَلَیْہَا سُلْطَانٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ غَیْرَمَکَّۃَ وَطَیْبَۃَ )۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلٰی ہٰذَا انْتَہٰی فَرْحِیْ ثَلَاثَ مِرَارٍ، اِنَّ طَیْبَۃَ الْمَدِیْنَۃُ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلٰی الدَّجَّالِ اَنْ یَّدْخُلَھَا۔)) ثُمَّ حَلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ! مَالَھَا طَرِیْقٌ ضَیِّقٌ وَلَا وَاسِعٌ فِیْ سَہْلٍ وَلاَ فِیْ جَبَلٍ اِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ شَاھِرٌ بِالسَّیْفِ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا یَسْتَطِیْعُ الدَّجَّالُ اَنْ یَّدْخُلَہَا عَلٰی اَھْلِہَا۔)) قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِیْتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، فَحَدَّثْتُہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ بْنِ قَیْسٍ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی اَبِیْ اَنَّہُ حَدَّثَنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَذَکَرْتُ لَہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی عَائِشَۃَ اَنَّہَا حَدَّثَتْنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہَا قَالَتْ: ((اَلْحَرَمَانِ عَلَیْہِ حَرَامٌ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۹۲)
عامر شعبی کہتے ہیں: میںمدینہ منورہ میں آیا اور سیدنافاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے بیان کیا عہد رسالت میں ان کے شوہرنے انکو طلاق دے دی تھی، پھر اس کے بعد نفقہ و رہائش اور سیدہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی شادی کا واقعہ بیان کیا، ( بَابُ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ میں اس حدیث کا ذکر ہو چکا ہے۔) عامر کہتے ہیں: میں نے جب وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھ سے کہاـ: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لئے گئے اور نمازِظہر پڑھا کر وہیں بیٹھ گئے اور لوگ آپ کی حالت و کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: لوگو بیٹھ جاؤ،میں اس وقت کسی پریشا نی کیو جہ سے یہاں سے کھڑا نہیں ہوا، بات یہ ہے کہ تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر مجھے ایک بات بتائی ہے ، مجھے اس کی وجہ سے اس قدر خوشی اور راحت ہوئی کہ میں قیلولہ بھی نہیں کر سکا ، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نبی کی خوشی والی بات سنو، اس نے مجھے بتلایا ہے کہ اس کے چچا کے بیٹوں کی ایک جماعت سمندری سفر کر رہی تھی، تیز ہوا چلنے لگی، وہ ہوا انہیں ایک جزیرے کی طرف لے گئی، ان کی اس جزیرہ سے کوئی واقفیت نہیں تھی، وہ لوگ طوفان کے دوران کسی ایک چھوٹی کشتی پر بیٹھ کر جزیرہ کی طرف جا پہنچے، وہاں انہیں ایک عجیب چیز نظر آئی، اس پر بال ہی بال تھے، وہ تو یہ بھی نہیں پہچان سکے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، ان لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم ہمیں کچھ بتاؤ گی؟ وہ بولی: نہیں، میں نہ تمہیں کچھ بتاتی ہوں، اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں،یہ راہبوں کی خانقاہ ہے،اب تم اس کے قریب تو پہنچ چکے ہو اور اس میں ایک ایسا شخص ہے کہ وہ تمہاری باتیں سننے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے، وہ تمہیں کچھ باتیں بتائے گا اور کچھ تم سے پوچھے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسَہ ہوں، پھر وہ لوگ چلے گئے اور اس خانقاہ میں پہنچ گئے، وہاں ایک شخص بڑی مضبوط بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، اس پر غم و حزن نمایاں تھا اور وہ تکلیف کی شکایت کا اظہار کرتا تھا، انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب ہیں، اس نے پوچھا: عرب کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کا نبی ظاہر ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انھوںنے اس کے ساتھ کیا کیا؟ انھوں نے کہا: اچھا رویہ ہے، وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس نے کہا: ان کے لیے یہی بات بہتر ہے، اس کا ایک دشمن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو اس پر غالب کر دیا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا اب ان سب عربوں کا معبود ایک ہے، نیز کیا ان کا دین اور کلمہ بھی ایک ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: زغر والے چشمے کے بارے میں بتلاؤ، وہ کس حالت میں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ٹھیک ہے، لوگ اس سے پانی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان والی کھجوروں کی کیا حالت ہے؟انہوںنے کہا: وہ ٹھیک ہیں، ہر سال ان کے پھل کھائے جاتے ہیں۔ اس نے پوچھا:بحیرہ ٔ طبریہ کی صورتحال کیسی ہے؟ انہوںنے کہا: وہ بھی بھرا ہوا ہے۔ یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، پھر اس نے قسم اٹھا کر کہا: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل آؤںتو طیبہ(یعنی مدینہ منورہ) اور مکہ مکرمہ کے علاوہ ساری زمین پر چلوں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو میری خوشی کی انتہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا، بے شک طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اللہ تعالیٰ نے دجال پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو سکے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلف اٹھا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! مدینہ منورہ کی طرف آنے والے میدانی اور پہاڑی کشادہ اور تنگ ہر راستے پر اللہ کا فرشتہ قیامت تک تلوار لیے کھڑا ہے، دجال کسی راستے سے مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ عامر شعبی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات محرر بن ابو ہریرہ سے ہوئی، میںنے انہیں سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث بیان کی، تو انہوںنے کہا: میں گواہی دیتا کہ میرے والد نے بھی یہ حدیث مجھے اسی طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مشرق کی جہت میں ہے۔ عامر کہتے ہیں: پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی،میںنے ان کو بھی سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ حدیث اس طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یہ دونوں حرم، دجال پر حرام ہیں۔