TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان

Chapter 73 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 73 of 113 · 7 Hadith
۔ (۱۲۳۵۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذَہَبَۃٍ فِی أَدِیمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِہَا، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَرْبَعَۃٍ بَیْنَ زَیْدِ الْخَیْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَۃَ بْنِ عُلَاثَۃَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَیْلِ شَکَّ عُمَارَۃُ، فَوَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ وَالْأَنْصَارُ وَغَیْرُہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا تَأْتَمِنُونِی وَأَنَا أَمِینُ مَنْ فِی السَّمَائِ، یَأْتِینِی خَبَرٌ مِنَ السَّمَائِ صَبَاحًا وَمَسَائً۔)) ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَیْنَیْن، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ، نَاشِزُ الْجَبْہَۃِ، کَثُّ اللِّحْیَۃِ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((وَیْحَکَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَتَّقِیَ اللّٰہَ أَنَا؟)) ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَالَ خَالِدٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَلَعَلَّہُ یَکُونُیُصَلِّی)) فَقَالَ: إِنَّہُ رُبَّ مُصَلٍّ یَقُولُ بِلِسَانِہِ مَا لَیْسَ فِی قَلْبِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَہُمْ۔)) ثُمَّ نَظَرَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: ((ہَا إِنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ ہٰذَا قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِِِِِ)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((یَقْتُلُونَ أَہْلَ الْإِسْلَامِ، وَیَدَعُونَ أَہْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَکْتُہُمْ لَأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمن سے رنگے ہوئے چمڑے میں بند سونا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیجاہے، جسے ابھی مٹی سے صاف نہیںکیا گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ سونا زید خیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل یہ شک اس حدیث کے ایک راوی عمارہ کو ہے (صحیح علقمہ بن علاثہ ہے کیونکہ عامر کئی سال پہلے کا فوت ہو چکا ہے)، میں تقسیم فرمایا: تو بعض صحابہ اور انصار وغیرہ کو یہ کافی محسوس ہوا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے امین،دیانت دار نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اللہ کا امین ہوں اور میرے پاس صبح شام آسمان سے خبریں آتی ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس تقسیم پر قریش اور انصار کے کچھ لوگ غضناک ہوئے، انہوںنے کہا:آپ اہل نجد کے بڑے بڑے لوگوں کو عطیات دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںان کی دل جوئی کرتا ہوں، اس کے بعدایک آدمی آپ کے پاس آیا، اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی اونچی،داڑھی گھنی،چادر خوب اونچی اور سرمنڈا ہواتھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریں، دوسری روایت میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا: تم پر افسوس ہے کہ تمام روئے زمین والوں میں سے میں سب سے زیاد ہ اس بات کا حقدار نہیں کہ اللہ سے ڈروں؟ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا، یہ سارا ماجرا دیکھ کر خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میںاس کی گردن نہ اڑادوں؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں!شاید یہ نماز پڑھتا ہو۔ تو خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بعض نماز ی اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں: جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں،تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایاگیا کہ میں لوگوں کے دلوں اور ان کے پیٹوں کو چیر چیر کر دیکھوں۔ وہی آدمی پیٹھ موڑ کر جا رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوںکو کچھ نہیں کہیں گے، اگر میں نے ان کو پایا تو ان کو یوں قتل کر وں گا جس طرح قوم عاد کو قتل کیا گیا تھا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
Takhreej
(۱۲۳۵۳) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۳۴۴، ۴۶۶۷، ومسلم: ۱۰۶۴(انظر: ۱۱۶۴۸)
12353
Sahih
۔ (۱۲۳۵۴)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ، وَہُوَ یَنْطَلِقُ إِلَی الصَّلَاۃِ، فَقَضَی الصَّلَاۃَ،وَرَجَعَ عَلَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ یَقْتُلُ ہٰذَا؟)) فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ یَدَیْہِ فَاخْتَرَطَ سَیْفَہُ وَہَزَّہُ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، کَیْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ؟ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ یَقْتُلُ ہٰذَا؟)) فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَیْہِ وَاخْتَرَطَ سَیْفَہُ وَہَزَّہُ حَتّٰی أُرْعِدَتْیَدُہُ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَیْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَوْ قَتَلْتُمُوہُ لَکَانَ أَوَّلَ فِتْنَۃٍ وَآخِرَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۳)
مسلم بن ابی بکرہ اپنے سے والد بیان کرتے ہیں: کہ ایک آدمی سجدہ کی حالت میں تھا کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پا س سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس وقت نماز کے لیے تشریف لے جارہے تھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ادا کرنے کے بعد واپس ہوئے تووہ ابھی تک سجدہ ہی میں تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے کون قتل کرے گا،؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اپنے بازوں سے آستین اوپر کو چڑھائی اور تلوار نکال کر اسے لہرایا، پھر کہا: اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہوں، میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ میں ہے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں، پھر اس نے اپنے آستین چڑھا لیے اور تلوار نکال کر اس قدر لہرایا کہ اس کا ہاتھ کانپنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروںجو سجدہ کی حالت میں ہے اور وہ اللہ کی توحید اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۵۴) تخریج: رجالہ رجال الصححیح، لکن فی متنہ نکارۃ، وقد تفرد بہ مسلم بن ابی بکرۃ عن ابیہ، وعثمان الشحام عن مسلم بن ابی بکرۃ، وعثمان وثقہ غیر واحد، لکن قال فیہ یحیی القطان: تعرف وتنکر، ولم یکن عندی بذاک، وقال النسائی: لیس بالقوی، وقال فی موضع آخر: لیس بہ بأس، اخرجہ ابن ابی عاصم فی السنۃ : ۹۳۸ (انظر: ۲۰۴۳۱)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۲۹۹) میں اس حدیث کے شواہد ذکر کیے اور یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، یہ ذوا لخویصرہ یا ابن ذو الخویصرۃ تھا، یہ وہی آدمی تھا، جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا،
12354
Sahih
۔ (۱۲۳۵۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی مَرَرْتُ بِوَادِی کَذَا وَکَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْہَیْئَۃِیُصَلِّی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اذْہَبْ إِلَیْہِ فَاقْتُلْہُ۔))قَالَ: فَذَہَبَ إِلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا رَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ کَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ فَرَجَعَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُمَرَ: ((اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) فَذَہَبَ عُمَرُ فَرَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِی رَآہُ أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: فَکَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی رَأَیْتُہُیُصَلِّی مُتَخَشِّعًا فَکَرِہْتُ أَنْ أَقْتُلَہُ، قَالَ: (یَا عَلِیُّ! اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) قَالَ: فَذَہَبَ عَلِیٌّ فَلَمْ یَرَہُ فَرَجَعَ عَلِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّہُ لَمْ یُرَہْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہَذَا وَأَصْحَابَہُ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَعُودُونَ فِیہِ حَتَّییَعُودَ السَّہْمُ فِی فُوقِہِ، فَاقْتُلُوہُمْ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۳۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا فلاں وادی میں گزر ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل آدمی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کردو۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی طرف واپس گئے تو اسے اسی حالت میں پایا، آپ نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا،آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آگئے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کرآؤ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہا ں گئے، تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے دیکھا تھا، انہوں نے بھی اسے قتل کر ناٹھیک نہ سمجھا، انہوں نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے انتہائی خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا اس لیے اس کو قتل کرنا ٹھیک نہ سمجھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے تو آپ نے اسے وہاں نہ دیکھا، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! وہ مجھے تو نظر نہیں آیا، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت خوب کریں گے، مگر وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا اور یہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے کمان میں سے تیر نکل جاتا ہے، یہ دین میں واپس نہیں آئیں گے حتی کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، تم انہیں قتل کر دینا، یہ تمام لوگوںمیں سے بد ترین لوگ ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۳۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو رؤبۃ شداد بن عمران القیسی مجھول الحال (انظر: ۱۱۱۱۸)
12355
Zaeef
۔ (۱۲۳۵۶)۔ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِی الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِیدُ بْنُ کِلَابٍ اللَّیْثِیُّ، حَتّٰی أَتَیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَیْہِ بِیَدِہِ، فَقُلْنَا لَہُ: ہَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَیُکَلِّمُہُ التَّمِیمِیُّیَوْمَ حُنَیْنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍیُقَالُ لَہُ: ذُو الْخُوَیْصِرَۃِ، فَوَقَفَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُعْطِی النَّاسَ، قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قَدْ رَأَیْتَ مَا صَنَعْتَ فِی ہٰذَا الْیَوْمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ، فَکَیْفَ رَأَیْتَ؟)) قَالَ: لَمْ أَرَکَ عَدَلْتَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((وَیْحَکَ إِنْ لَمْ یَکُنِ الْعَدْلُ عِنْدِی فَعِنْدَ مَنْ یَکُونُ؟)) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا نَقْتُلُہُ؟ قَالَ: ((لَا، دَعُوہُ فَإِنَّہُ سَیَکُونُ لَہُ شِیعَۃٌ،یَتَعَمَّقُونَ فِی الدِّینِ حَتّٰییَخْرُجُوا مِنْہُ، کَمَا یَخْرُجُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ،یُنْظَرُ فِی النَّصْلِ فَلَا یُوجَدُ شَیْئٌ، ثُمَّ فِی الْقِدْحِ فَلَا یُوجَدُ شَیْئٌ، ثُمَّ فِی الْفُوقِ فَلَایُوجَدُ شَیْئٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ۔)) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمٰنِ: أَبُو عُبَیْدَۃَ ہٰذَا اسْمُہُ مُحَمَّدٌ ثِقَۃٌ، وَأَخُوہُ سَلَمَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، لَمْ یَرْوِ عَنْہُ إِلَّا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ، وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَہُ، وَمِقْسَمٌ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ، وَلِہٰذَا الْحَدِیثِ طُرُقٌ فِی ہٰذَا الْمَعْنَی، وَطُرُقٌ أُخَرُ فِی ہٰذَا الْمَعْنَی صِحَاحٌ، وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی أَعْلَمُ۔ (مسند احمد: ۷۰۳۸)
مقسم ابو القاسم مولی عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ میں اور تلید بن کلاب لیثی روانہ ہوئے اور ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے، وہ اپنے جوتے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ا ن سے کہا: کہ کیا آ پ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حنین کے دن اس وقت موجود تھے، جب ایک تمیمی آپ سے محو کلام تھا؟ انہوںنے کہا: ہاں، بنوتمیم کاایک آدمی آیا تھا، جسے ذوالخویصر، کہا جاتا ہے: وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر کھڑا ہوگیا، آپ اس وقت لوگوں میں عطیات تقسیم فرمارہے تھے، اس نے کہا: اے محمد آپ آج جو کام کر رہے ہیں، میں نے دیکھ لیا ہے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں تم نے کیا دیکھا ہے؟ اس نے کہا:میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا، اس کی اس بات پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میرے پاس عدل نہیں تو اور کس کے پاس ہوگا؟ تو عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے گزارش کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ نے فرمایا: نہیںاسے چھوڑ دو، کچھ لوگ اس کے معاون ہوںگے اور وہ دین میں اس حد تک گہرائی میں جائیں گے کہ دین میں سے یوںنکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر نکل جاتا ہے، تیرکو اچھی طرح دیکھیں تو اس کے کسی بھی حصہ پر خون کا نشان تک نہیں ہوتا، وہ خون اور گو بر کے درمیان سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ابوعبدالرحمن نے کہا ہے: اس حدیث کے راوی ابو عبیدہ کا نام محمد ہے اور وہ ثقہ راوی ہے اس کے بھائی سلمہ بن محمد بن عمار سے صرف علی بن زید نے روایت حدیث کی ہے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں، مقسم بھی مقبول راوی ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق صحیح ہیں۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Takhreej
(۱۲۳۵۶) تخریج: صحیح (انظر: ۷۰۳۸)
12356
Sahih
۔ (۱۲۳۵۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ: ((سَبَقَ الْفَرَثَ وَالدَّمَ۔)) مِنْہُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِی إِحْدٰییَدَیْہِ أَوْ قَالَ إِحْدٰی ثَدْیَیْہِ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَۃِتَدَرْدَرُ،یَخْرُجُونَ عَلٰی حِینِ فَتْرَۃٍ مِنَ النَّاسِ، فَنَزَلَتْ فِیہِمْ: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ} الْآیَۃَ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: أَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَشْہَدُ أَنَّ عَلِیًّا حِینَ قَتَلَہُ وَأَنَا مَعَہُ جِیئَ بِالرَّجُلِ عَلَی النَّعْتِ، الَّذِی نَعَتَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۵۸)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں میں ایک آدمی سیاہ فام ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی مانند ہوگا، یا یوں فرمایا کہ اس کا ایک باز و گوشت کے لوتھڑے کی مانند ہوگا اور حرکت کرتا ہوگا، یہ لوگ ایک زمانے1 میں نکلیں گے، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ}… اور ان میں کچھ لوگ صدقات کی تقسم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے قتل کیا تو میں اس وقت ان کے ساتھ تھا اور وہ آدمی ویسا ہی تھاجیسا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان فرمایا تھا۔
Takhreej
(۱۲۳۵۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۶۱۰، ومسلم: ۱۰۶۴(انظر: ۱۱۵۳۷)
12357
Sahih
۔ (۱۲۳۵۸)۔ عَنْ شَرِیکِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ: کُنْتُ أَتَمَنّٰی أَنْ أَلْقٰی رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُحَدِّثُنِی عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِیتُ أَبَا بَرْزَۃَ فِییَوْمِ عَرَفَۃَ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَرْزَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُہُ فِی الْخَوَارِجِ، فَقَالَ: أُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَیَّ وَرَأَتْ عَیْنَایَ، أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ، فَکَانَ یَقْسِمُہَا، وَعِنْدَہُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَبْیَضَانِ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَتَاہُ مِنْ قِبَلِ وَجْہِہِ، فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ، یَا مُحَمَّدُ! مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْیَوْمِ فِی الْقِسْمَۃِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَضَبًا شَدِیدًا، ثُمَّ قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَا تَجِدُونَ بَعْدِی أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَیْکُمْ مِنِّی۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ، کَاَنَّ ہٰذَا مِنْہُمْ، ہَدْیُہُمْ ہٰکَذَا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، لَا یَرْجِعُونَ إِلَیْہِ، وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی صَدْرِہِ، سِیمَاہُمْ التَّحْلِیقُ، لَا یَزَالُونَیَخْرُجُونَ حَتّٰییَخْرُجَ آخِرُہُمْ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَاقْتُلُوہُمْ، قَالَہَا ثَلَاثًا، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ، قَالَہَا ثَلَاثًا۔)) وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۱)
شریک بن شہاب کہتے ہیں: میںتمنا کیا کرتا تھاکہ میری کسی ایسے صحابی سے ملاقات ہو جو مجھے خوارج کے متعلق بتلائے، اتفاق سے میری ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرفہ کے دن ملاقات ہوگئی، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تھے، میںنے کہا: اے ابو برزہ! آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خوراج کے متعلق بیان فرمایا ہو، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دینار لا ئے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، ایک سیاہ فام اور گنجاآدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھڑا تھا،جس نے دو سفید کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے ! آگے حدیث ۱۲۳۶۸ میں آرہاہے کہ لوگوں کے اختلاف و افتراق کے وقت یہ گروہ وجود میں آئے گا۔ (عبداللہ رفیق) درمیان سجدوں کے نشانات تھے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کی طرف سے آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی چیز نہ دی، پھروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کی طرف سے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہ دیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے آج کی تقسیم میں انصاف بالکل نہیں کیا، اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غضبناک ہوئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، یہ آدمی گویا انہی لوگوں میں سے ہے وہ ایسے ہوں گے کہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ اس سند کے ایک راوی حما د نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان کیاکہ: وہ لوگ دین کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے، وہ دین سے نکلتے جائیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی (دجال کے ساتھ) نکلے گا، تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا۔ یہ بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا: وہ سب لوگوں سے بدترین ہوں گے۔ یہ بات بھی آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔
Takhreej
(۱۲۳۵۸) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: حتی یخرج آخرھم ، اخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱۹(انظر: ۱۹۷۸۳)
12358
Sahih
۔ (۱۲۳۵۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ فَکَانَ یَقْسِمُہَا، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۰۶)
سیدناابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دینار لائے گئے، اس سے آگے ابو بزرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۵۹) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ البزار: ۱۸۵۲ (انظر: ۲۰۴۳۴)
Explanation
فوائد:… خوارج کون تھے؟ نیز ان کے نظریات کیا تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۲۸۲۷) والا اور اس سے پہلے والا باب۔
12359
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.